مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟
وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
ترقیم عوامۃ: 29892 ترقیم الشثری: -- 31251
٣١٢٥١ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر قال: حدثني ابو عقيل عن سابق عن ابي سلام خادم رسول الله ﷺ (١) (عن) (٢) رسول الله ﷺ قال:" (ما) (٣) ⦗١٥٥⦘ من مسلم او إنسان او عبد يقول: حين يمسي وحين يصبح ثلاث مرات رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا إلا كان حقا على الله ان يرضيه يوم القيامة" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [هـ]: (أن).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) مجهول؛ لجهالة سابق، قيل وصوابه: (عن أبي سلام عن خادم النبي ﷺ)، أخرجه أحمد (١٨٩٦٨)، وابن ماجه (٣٨٧٠)، وأبو داود (٥٥٧٢)، والنسائي في الكبرى (٩٨٣٢)، والطبراني ٢٢/ (٩٢١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٧١)، والحاكم (١/ ٥١٨)، والبيهقي في الدعوات (٢٨)، والبغوي (١٣٢٤)، وابن السني (٦٨)، وابن عدي ٤/ ١٣٤٦، والروياني (٧٣٠)، وابن عساكر ٦٦/ ٢٧٦، وابن قانع ١/ ٣٢٦.
حضرت ابو سلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی بھی مسلمان یا انسان یا بندہ ایسا نہیں ہے جو صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہو: میں اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر راضی ہوں، مگر اللہ تعالیٰ پر اس بندے کا یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31251، ترقيم محمد عوامة 29892)
ترقیم عوامۃ: 29893 ترقیم الشثری: -- 31252
٣١٢٥٢ - حدثنا زيد حدثنا عبد الرحمن بن (شريح) (١) حدثني ابو هانئ عن ابي علي (الجنبي) (٢) قال: سمعت ابا سعيد الخدري يقول: قال رسول الله ﷺ:"من قال: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا، وجبت له الجنة" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سريح).
(٢) في [أ، ط]: (الحسيني)، وفي [هـ]: (الحسين).
(٣) حسن؛ أبي هانيء صدوق، أخرجه أبو داود (١٥٢٩)، والنسائي في الكبرى (٩٨٣٣)، وابن حبان (٨٦٣)، والحاكم ١/ ٥١٨، وعبد بن حميد (٩٩٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٢٥، وابن السني (٥)، وبنحوه عند مسلم (١٨٨٤)، وأحمد (١١١٠٢)، والبيهقي ٩/ ١٥٨.
حضرت ابو سعید الخدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص کہتا ہے: میں اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول مان کر راضی ہوں، تو اس شخص کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31252، ترقيم محمد عوامة 29893)
ترقیم عوامۃ: 29894 ترقیم الشثری: -- 31253
٣١٢٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن (المجبر) (١) عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار قال: قال رسول الله ﷺ:"من قال: حين يمسبى رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا، فقد اصاب حقيقة الإيمان" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (الخير).
(٢) مرسل، ضعيف جدًا؛ عطاء بن يسار تابعي، ومحمد بن عبد الرحمن المجبر متروك.
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص شام کے وقت کہے: میں اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول مان کر راضی ہوں، تحقیق اس شخص نے ایمان کی حقیقت کو پا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31253، ترقيم محمد عوامة 29894)
ترقیم عوامۃ: 29895 ترقیم الشثری: -- 31254
٣١٢٥٤ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن بكير بن الاخنس قال: من قال حين يمسي و (حين) (١) يصبح ثلاثا: اللهم إني امسيت اشهد، وإذا اصبح قال: اللهم اصبحت اشهد، (انه) (٢) ما (اصبح) (٣) بنا من عافية ونعمة فمنك وحدك لا شريك لك، فلك الحمد، لم (يسال) (٤) عن نعمة كانت في ليلته تلك ولا يومه إلا قد ادى شكرها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في [ك]: (أنها).
(٣) في [جـ، ك]: (أصبحت).
(٤) في [ك]: (يسل).
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت بکیر بن الاخنس نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا: اے اللہ! میں نے شام کی میں گواہی دیتا ہوں، اور صبح کے وقت یوں کہے: اے اللہ! میں نے صبح کی میں گواہی دیتا ہوں، یقینا آج کے دن ہم میں سے کسی پر جو عافیت اور نعمت ہے، وہ صرف آپ کی جانب سے ہے، اس کی نعمت و عافیت کی عطا میں اور کوئی آپ کا شریک نہیں ہے، سو آپ کے لیے ہی تعریف ہے، اس آدمی کے پاس اس رات اور اس دن میں جو کوئی نعمت ہوگی اس کا سوال نہیں کیا جائے گا، مگر یہ کہ اس بندے نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31254، ترقيم محمد عوامة 29895)
ترقیم عوامۃ: 29896 ترقیم الشثری: -- 31255
٣١٢٥٥ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن عبد الملك عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن عبيد بن عمير انه كان يقول إذا اصبح وامسى: اللهم إني اسالك عند (حضرة) (١) (صلاتك) (٢) وقيام دعاتك، ان تغفر لي وترحمني.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (حضرة).
(٢) في [ك]: (صلواتك).
حضرت عبد اللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر صبح و شام کے وقت یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں نمازوں کے حاضر ہونے کے وقت اور آپ کے پکارنے والوں کے قیام کے وقت کہ آپ میری مغفرت فرما دیں اور مجھ پر رحم فرما دیجیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31255، ترقيم محمد عوامة 29896)
ترقیم عوامۃ: 29897 ترقیم الشثری: -- 31256
٣١٢٥٦ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن تميم بن سلمة عن عبد الله بن (سخبرة) (١) عن ابن عمر انه كان يقول: إذا اصبح (او) (٢) امسى: اللهم اجعلني (من) (٣) افضل عبادك الغداة او الليلة نصيبا من خير (تقسمه) (٤) ، (ونور) (٥) تهدي ⦗١٥٧⦘ به، ورحمة تنشرها، و (رزق) (٦) تبسطه، و (ضر تكشفه) (٧) ، وبلاء ترفعه، وشرا تدفعه، وفتنة تصرفها (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (سبرة).
(٢) في [هـ]: (و).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٤) في [أ، ط]: (بقسمة).
(٥) في [ط]: (نورًا).
(٦) في [هـ]: (رزقًا).
(٧) في [جـ، ك]: (ضر نكشفه)، وفي [هـ]: (ضرًا تكشفه).
(٨) صحيح؛ أخرجه الطبراني (١٣٠٧٩)، ومسدد كما في المطالب (٣٤٠٤).
حضرت عبد اللہ بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح یا شام کے وقت یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے دن کو یا رات کو تیرے بندوں میں سب سے افضل و بہتر بنا دے، حصہ دیتے ہوئے اس خیر میں سے جس کو تو تقسیم کرتا ہے، اس نور سے جس کے ذریعہ تو ہدایت دیتا ہے، اور اس رحمت سے جس کو تو پھیلاتا ہے، اور اس رزق سے جس کو تو کشادہ کرتا ہے، اس تکلیف سے جس کو تو ہٹا دیتا ہے، اور اس بلاء سے جس کو تو رفع فرماتا ہے، اور اس شر سے جس کو تو دفع کرتا ہے، اور اس فتنہ سے جس کو تو پھیر دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31256، ترقيم محمد عوامة 29897)
ترقیم عوامۃ: 29898 ترقیم الشثری: -- 31257
٣١٢٥٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة قال: قلت لسعيد بن المسيب ما تقولون إذا اصبحتم وامسيتم مما تدعون به، قال: نقول: اعوذ (بوجه الله) (١) الكريم واسم الله العظيم وكلمة الله التامة من شر السامة واللامة ومن شر ما (جهلت) (٢) اي رب، وشر ما انت آخذ بناصيته ومن شر هذا اليوم وشر ما بعده، وشر (الدنيا) (٣) والآخرة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (باللَّه)، وفي [ز]: (بوجه).
(٢) في [هـ]: (وخلقت).
(٣) في [ط]: (الدنى).
حضرت عمرو بن مُرّہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے پوچھا: کہ آپ لوگ صبح و شام کے وقت کون سی دعا مانگتے ہو؟ وہ فرمانے لگے: ہم یوں دعا کرتے ہیں: میں پناہ پکڑتا ہوں اللہ کی ذات کے ساتھ جو بہت سخی ہے، اور اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت عظمت والا ہے، اور اللہ کے پورے پورے کلمہ کے ساتھ، موت اور نظر بد کے شر سے، اے میرے مالک! جس چیز سے میں ناواقف ہوں اس کے شر سے، اور جس کی پیشانی تو نے پکڑی ہوئی ہے اس کے شر سے، اور اس دن کے شر سے، اور جو کچھ اس دن کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا و آخرت کے شر سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31257، ترقيم محمد عوامة 29898)
ترقیم عوامۃ: 29899 ترقیم الشثری: -- 31258
٣١٢٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن ربعي عن رجل من (النخع) (١) عن ابيه عن سلمان قال: من قال إذا اصبح وإذا امسى: اللهم انت ربي لا شريك لك، واصبحنا واصبح الملك (لله) (٢) لا شريك [له غفر له ما احدث بينهما (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (النخعي).
(٢) في [أ، هـ]: (لك).
(٣) مجهول.
حضرت سلمان ارشاد فرماتے ہیں: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ کلمات کہے: اے اللہ! آپ میرے پالنے والے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک و سلطنت نے صبح کی، جس کا کوئی شریک نہیں، تو ان دونوں وقتوں کے درمیان اس نے جو گناہ کیے ہوں ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31258، ترقيم محمد عوامة 29899)
ترقیم عوامۃ: 29900 ترقیم الشثری: -- 31259
٣١٢٥٩ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور بن ربعي عن رجل من النخع عن سلمان قال: من قال إذا اصبح: اللهم انت ربي لا شريك] (١) لك كان كفارة لما ⦗١٥٨⦘ (احدث) (٢) بينهما (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعقوفتين من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (حدث).
(٣) مجهول، لإبهام الرجل.
حضرت سلمان ارشاد فرماتے ہیں: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے: اے اللہ! آپ میرے پالنے والے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، تو یہ کلمات کفارہ بن جائیں گے اس کے ان کاموں کے لیے جو اس نے صبح و شام کے درمیان کیے ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31259، ترقيم محمد عوامة 29900)
ترقیم عوامۃ: 29901 ترقیم الشثری: -- 31260
٣١٢٦٠ - حدثنا عبد الله بن نمير (١) عن موسى الجهني قال: حدثني رجل عن سعيد بن جبير قال: من قال: ﴿ (سبحان) (٢) الله حين تمسون و (سبحان الله) (٣) حين تصبحون﴾ حتى يفرع من الآية ثلاث مرات ادرك ما (فاته من ليلته، وإن قالها ليلا ادرك ما) (٤) فاته من يومه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: زيادة (حدثنا أبو الأحوص).
(٢) في [هـ]: (فسبحان).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) سقط من: [ط، هـ].
حضرت موسیٰ الجھنی ایک شخص کے حوالے سے حضرت سعید بن جُبیر کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: جو شخص تین مرتبہ اس آیت کو پڑھے گا: اللہ کی پاکی ہے جب تم شام کرتے ہو اور جب تم صبح کرتے ہو، جب وہ یہ آیت پڑھ لے گا، جو عمل اس سے گزری ہوئی رات میں رہ گیا تھا تو اس کے برابر ثواب پالے گا، اور اگر ان کلمات کو دن میں کہا تو جو عمل اس سے گزرے ہوئے دن میں رہ گیا تھا اس کے برابر ثوا ب پالے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31260]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31260، ترقيم محمد عوامة 29901)