🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟
وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29884 ترقیم الشثری: -- 31241
٣١٢٤١ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت عمرو بن عاصم يحدث انه سمع ابا هريرة (يقول) (١) : إن ابا بكر قال للنبي ﷺ: اخبرني ⦗١٥١⦘ بشيء اقوله إذا اصبحت وإذا امسيت، قال:"قل: اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والارض، رب كل شيء ومليكه، اشهد ان لا إله إلا انت، اعوذ بك من (شر) (٢) نفسي، ومن الشيطان وشركه، قله إذا امسيت وإذا اصبحت وإذا اخذت مضجعك" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك]، وتقدم ٩/ ٧٢ برقم [٢٨٢٢٢] بإثباتها.
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٧٩٦١)، والترمذي (٣٣٩٢)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٩٥)، وابن حبان (٩٦٢)، وأبو داود (٥٠٦٧)، والحاكم ١/ ٥١٣، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٢)، والطيالسي (٩)، والدارمي (٢٦٨٩)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ٢٠، والخطيب ١١/ ١٦٧.

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز بتادیں جس کو میں صبح و شام کے وقت کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہا کرو: اے اللہ! غائب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک اور بادشاہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اور شیطان کے شر سے اور اس کے کارندوں کے شر سے، تم اس دعا کو صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھ لیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31241]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31241، ترقيم محمد عوامة 29884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29885 ترقیم الشثری: -- 31242
٣١٢٤٢ - حدثنا زيد بن الحباب العكلي حدثنا ابو (مودود) (١) قال: حدثني من سمع ابان بن عثمان قال: حدثني ابي عثمان انه سمع رسول الله ﷺ يقول:"من قال: إذا اصبح وإذا امسى ثلاث مرار بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم لم يصبه في يومه ولا في ليلته شيء" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مورود)، وفي [ك]: (مردود).
(٢) مجهول، لإبهام الراوي عن أبان، وورد الخبر بتسمية المجهول (محمد بن كعب) فصح الحديث، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في المسند (٥٢٨)، وأبو داود (٥٠٨٩)، والنسائي في الكبرى (٩٨٤٣)، وابن السني (٤٤)، وابن حبان (٨٥٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٠٧٣)، والطبراني في الدعاء (٣١٧)، والبزار (٣٥٧)، ورجح الدارقطني في السنن ٣/ ٨ الإسناد المجهول، وله طريق آخر برواية أبي الزناد عن أبان، أخرجه أحمد (٤٤٦)، والترمذي (٣٣٨٨)، والنسائي (١٠١٧٨)، وابن ماجه (٣٨٦٩)، والحاكم ١/ ٥١٤، والطيالسي (٧٩)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٦٠)، والضياء (٣١٠)، والبيهقي في الدعوات (٣٤)، والدولابي ١/ ٢٠، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٨٥، وابن عساكر ٦/ ١٤٩.

حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص صبح و شام میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا: شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ آسمان اور زمین کی کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی، اور وہ بہت سننے والا، خوب جاننے والا ہے، تو اس شخص کو اس دن اور رات میں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31242]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31242، ترقيم محمد عوامة 29885)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29886 ترقیم الشثری: -- 31243
٣١٢٤٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن بن عبيد الله عن إبراهيم ابن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ إذا امسى قال:"امسينا وامسى الملك لله والحمد لله (١) ، لا إله إلا الله وحده لا شريك له، اللهم إني اسالك من خير هذه الليلة وخير ما فيها، واعوذ بك من شرها وشر ما فيها، اللهم إني اعوذ بك من الكسل، والهرم، و (سوء) (٢) الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (و).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ط، ك].
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٣)، وأبو داود (٥٠٧١)، والترمذي (٣٣٨٩)، وأحمد (٤١٩٢).

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام ہوتی تو یہ دعا فرماتے: ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی، اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں نہیں ہے اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اے اللہ! میں آپ سے اس رات کی بھلائی کا اور جو بھلائی اس رات میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس رات کے شر سے اور جو شر اس رات میں موجود ہے اس سے، اے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے سے، اور تکبر اور دنیا کے فتنہ سے، اور قبر کے عذاب سے۔ اور حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں: کہ حضرت زبید نے مرفوعًا ان الفاظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے: نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور اس کی ذات ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31243]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31243، ترقيم محمد عوامة 29886)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31244
٣١٢٤٤ - وقال الحسن بن عبيد الله وزادني فيه زبيد عن إبراهيم بن سويد عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) عن عبد الله رفعه (٢) قال:"لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط]: (زبد).
(٢) في [هـ]: زيادة (أنه).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٢٣)، وأبو داود (٥٠٧١)، والترمذي (٢٣٩٠).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31244، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29887 ترقیم الشثری: -- 31245
٣١٢٤٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا اصبح قال: ["اصبحنا على فطرة الإسلام، وكلمة الإخلاص، ودين نبينا محمد، وملة ابينا إبراهيم حنيفا وما كان من المشركين" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عبد اللَّه بن عبد الرحمن بن أبزي صدوق، أخرجه أحمد (١٥٣٦٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨٢٩)، وابن السني (٣٤)، والطبراني في الدعاء (٢٩٤)، والدارمي (٢٦٨٨)، والبيهقي في الدعوات (٢٦)، والقزويني في التدوين ٤/ ٤٢.
حضرت عبد الرحمن بن أبزی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ دعا فرماتے: ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر، اور اخلاص سے بھرے کلمہ پر، اور ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر، اور ہمارے والد حضرت ابراہیم کی ملت حنیفہ پر، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31245، ترقيم محمد عوامة 29887)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29888 ترقیم الشثری: -- 31246
٣١٢٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا فائد ابو ورد حدثنا عبد الله بن ابي اوفى قال: كان النبي ﷺ إذا اصبح يقول] (١) :"اصبحنا واصبح الملك (لله) (٢) والكبرياء والعظمة، والخلق والامر، والليل والنهار، وما يضحى (فيهما لله) (٣) وحده، لا شريك له، اللهم اجعل اول هذا النهار صلاحا، واوسطه فلاحا، وآخره نجاحا، اسالك خير الدنيا يا ارحم الراحمين" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعقوفتين من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [ك]: (للَّه فيهما).
(٤) ضعيف جدًا؛ فائد متروك، أخرجه عبد بن حميد (٥٣١)، والطبراني في الدعاء (٢٩٦)، وابن السني (٣٨)، وابن المبارك في الزهد (١٠٨٥)، وابن عدي ٦/ ٢٦، والمقدسي في الترغيب في الدعاء (٨٩).

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فریایا کرتے تھے: ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی، اللہ کی کبریائی اور بڑائی نے، اور مخلوق اور معاملہ نے، اور دن اور رات نے، اور جو کچھ ان دونوں میں ہوتا ہے، اس اللہ کے لیے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ! تو اس دن کے اول حصہ کو درست بنا دے، اور اس کے درمیانی حصہ کو کامیابی بنا دے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں دنیا کی بھلائی کا، اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31246، ترقيم محمد عوامة 29888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29889 ترقیم الشثری: -- 31247
٣١٢٤٧ - حدثنا الفضل بن دكين حدثنا عبادة بن مسلم الفزاري حدثنا جبير بن ابي (سليمان) (١) بن جبير بن مطعم زعم انه كان جالسا مع عبد الله بن عمر فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول في دعائه (حين يمسي وحين يصبح) (٢) لم يدعه حتى فارق الدنيا او حتى مات:"اللهم إني اسالك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياي واهلي ومالي، (اللهم) (٣) استر (عوراتي) (٤) وآمن روعاتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي، واعوذ ⦗١٥٤⦘ بعظمتك ان اغتال من تحتي" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سلمان).
(٢) في [أ، ط]: (حين يصبح وحين يمسي).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [ز]: (عورتي).
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، والنسائي ٨/ ٢٨٢، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، والطبراني (١٣٢٩٦)، وعبد بن حميد (٨٣٧).

حضرت جبیر بن أبی سلیمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا تو آپ نے فرمایا: میں سنتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام یہ دعا فرمایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ دنیا چھوڑ گئے یا یوں فرمایا: یہاں تک کہ وصال فرما گئے: اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! میری پردہ داری فرما، اور میری گھبراہٹ کو بےخوفی و اطمینان سے بدل، اے اللہ! میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے دھنسنا، اور میں نہیں جانتا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ہے یا جُبیر کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31247، ترقيم محمد عوامة 29889)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31248
٣١٢٤٨ - قال جبير: وهو الخسف ولا ادري قول النبي ﷺ او قول جبير؟.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31248، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29890 ترقیم الشثری: -- 31249
٣١٢٤٩ - حدثنا وكيع عن عبادة عن جبير بن ابي سليمان عن ابن عمر عن النبي ﷺ بنحو منه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ ومن هذه الطريق أخرجه أحمد (٤٧٨٥)، والبخاري في الأدب المفرد (١٢٠٠)، وأبو داود (٥٠٧٤)، وابن ماجه (٣٨٧١)، وابن حبان (٩٦١)، والحاكم ١/ ٥١٧.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ما قبل جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد اس سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31249، ترقيم محمد عوامة 29890)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29891 ترقیم الشثری: -- 31250
٣١٢٥٠ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن منصور عن محمد بن المنكدر قال: حدثت ان رسول الله ﷺ كان يقول إذا اصبح:"بك اصبحنا، وبك (نحيا) (٢) ، وبك نموت، وإليك (النشور) (٣) "، وإذا امسى قال:" (اللهم) (٤) بك امسينا ويك نحيا وبك نموت، وإليك المصير" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عبيد).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط، هـ]: (المصير).
(٤) سقط من: [ب، هـ].
(٥) مرسل؛ محمد بن المنكدر تابعي.

حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں مجھے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یوں فرماتے تھے: اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہم صبح کرتے ہیں، اور تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہی ہم مریں گے، اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور جب شام ہوتی تو یوں دعا فرماتے: اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہم شام کرتے ہیں، اور تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں، اور تیرے نام کے ساتھ ہم مریں گے۔ اور تیری طرف ہی ٹھکانہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31250، ترقيم محمد عوامة 29891)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں