🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. ما قالوا: في الرجل إذا أخذ مضجعه (و) أوى إلى فراشه، ما يدعو به؟
جن لوگوں نے کہا: جب آدمی اپنے بستر پر جائے اور بستر پر لیٹ جائے تو وہ کیا دعا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29906 ترقیم الشثری: -- 31265
٣١٢٦٥ - (١) حدثنا سفيان بن عيينة عن ابي إسحاق عن (٢) البراء قال: كان ⦗١٦١⦘ النبي ﷺ إذا اخذ مضجعه قال:"اللهم إليك اسلمت نفسي، ووجهت وجهي، وإليك فوضت امري، وإليك الجات ظهري، رغبة ورهبة إليك، لا ملجا ولا منجى منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي (انزلت) (٣) ، وبنبيك او رسولك الذي ارسلت (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (حدثنا أبو بكر).
(٢) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٣) في [ب]: (نزلت).
(٤) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالسماع عند الشيخين، أخرجه البخاري (٦٣١٣)، ومسلم (٢٧١٠).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تھے تو یہ دعا فرماتے: اے اللہ! میں نے اپنے نفس کو تیرے ہی تابع کیا، اور اپنا چہرہ تیری طرف ہی پھیرلیا، اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، نہ تجھ سے پناہ کی کوئی جگہ ہے اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری ہی طرف، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تو نے اتاری، اور تیرے نبی پر، یا تیرے رسول پر، جو تو نے بھیجا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31265، ترقيم محمد عوامة 29906)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29907 ترقیم الشثری: -- 31266
٣١٢٦٦ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن البراء قال: قال رسول الله ﷺ:" (١) يا فلان إذا اويت إلى فراشك فقل: اللهم اسلمت نفسي إليك، (ووجهت وجهي إليك) (٢) ، ووليت ظهري إليك -ثم ذكره نحوه- إلا انه قال: فإن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن اصبحت اصبحت خيرا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (لرجل).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) صحيح، أخرجه البخاري (٧٤٨٨)، ومسلم (٢٧١٠).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اے فلاں! جب تو اپنے بستر پر لیٹے تو یہ کلمات کہہ: ”اے اللہ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور اپنی پشت کو تیری طرف جھکایا۔“ پھر ما قبل جیسا مضمون ذکر فرمایا مگر یہ بھی فرمایا: پس اگر تو اس رات کو مرگیا تو تیری موت فطرت پر واقع ہوگی، اور اگر تو نے صبح کی تو پھر خیر کو پالے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31266، ترقيم محمد عوامة 29907)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29908 ترقیم الشثری: -- 31267
٣١٢٦٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن سعد بن عبيدة عن البراء بن عازب عن النبي ﷺ انه قال لرجل:"إذا اخذت مضجعك فقل: اللهم إني اسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك، وفوضت امري إليك، والجات ظهري (إليك) (١) (رغبة ورهبة) (٢) (إليك) (٣) ، لا منجى ولا ملجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي انزلت ونبيك الذي ⦗١٦٢⦘ ارسلت، فإن (مت مت) (٤) على الفطرة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ك]: (رهبة ورغبة).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) في [جـ، ك]: (مات، مات).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٤٨٨)، ومسلم (٢٧١٠).

حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ارشاد فرمایا: جب تو اپنے بستر پر لیٹے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: اے اللہ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور تیری طرف اپنا چہرہ کیا، اور تیری طرف اپنے معاملہ کو سپرد کیا، اور تیری طرف ہی اپنی پشت کو پھیرا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، اور نہ تجھ سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی تجھ سے پناہ کی کوئی جگہ ہے مگر تیری طرف، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو تو نے اتاری، اور میں ایمان لایا تیرے نبی پر جو تو نے بھیجا۔ پھر اگر تو اس رات کو مرگیا تو تیری موت فطرت پر واقع ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31267، ترقيم محمد عوامة 29908)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29909 ترقیم الشثری: -- 31268
٣١٢٦٨ - حدثنا عبيدة بن حميد عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا اخذ مضجعه قال:"اللهم باسمك اموت و (احيي) (١) وإذا قام قال: الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا وإليه النشور" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أحيا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٣٩٤)، وأحمد (٢٣٣٩١).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا فرماتے: اے اللہ! میں تیرے ہی نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں، اور جب نیند سے اٹھتے تو یہ دعا فرماتے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31268، ترقيم محمد عوامة 29909)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29910 ترقیم الشثری: -- 31269
٣١٢٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة قال: كان النبي ﷺ إذا نام قال:"باسمك (احيى) (١) واموت"، وإذا استيقظ قال:"الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (أحيا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣١٢)، وأحمد (٢٣٢٧١).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے وقت یہ دعا فرماتے: تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں۔ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے: سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا۔ اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31269، ترقيم محمد عوامة 29910)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29911 ترقیم الشثری: -- 31270
٣١٢٧٠ - حدثنا جرير عن منصور (او) (١) عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن حذيفة ان النبي ﷺ بمثله، الشك من جرير في عبد الملك او منصور (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣١٤)، وأحمد (٢٣٢٨٦).

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند کے ساتھ بھی نقل کیا گیا ہے۔ اور سند میں شک حضرت جریر کی طرف ہے جو عبد الملک یا منصور کے بارے میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31270، ترقيم محمد عوامة 29911)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29912 ترقیم الشثری: -- 31271
٣١٢٧١ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابيه قال: كنت قاعدا عند عمار فاتاه رجل فقال: الا اعلمك كلمات كانه يرفعهن إلى النبي ﷺ: إذا اخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم اسلمت (نفسي) (٢) إليك، (ووجهت ⦗١٦٣⦘ وجهي إليك) (٣) ، وفوضت امري إليك، والجات ظهري إليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، اللهم نفسي خلقتها لك محياها ولك مماتها، فإن (كفتها) (٤) فارحمها، وإن اخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [جـ، ك]: (وجهي).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ]، وسبق الخبر بإثباتها في ٩/ ٧١ برقم [٢٨٢٢١].
(٤) في [أ، هـ]: (كفيتها).
(٥) ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أبو يعلى (١٦٢٥)، وابن السني (٧٣٧)، وابن فضيل في الدعاء (٨٢).

حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا تھا کہ آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں۔ گویا وہ ان کلمات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب فرما رہے تھے۔ کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو ان کلمات کو کہہ لیا کر: اے اللہ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کیا، اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، اور میں نے اپنی پشت کو تیری طرف پھیرا، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو اتاری گئی ہے، اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جس کو بھیجا گیا ہے، اے اللہ! میرے نفس کو تو نے ہی پیدا فرمایا ہے، تیرے لیے ہی اس کی زندگی ہے اور تیرے لیے ہی اس کا مرنا ہے، پس اگر تو اس کو موت دے گا تو پھر اس پر رحم فرما، اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے گا تو ایمان کو باقی رکھ کر اس کی حفاظت فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31271، ترقيم محمد عوامة 29912)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29913 ترقیم الشثری: -- 31272
٣١٢٧٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الله بن ابي السفر قال: سمعت ابا بكر ابن ابي موسى يحدث عن البراء (١) ان النبي ﷺ كان إذا استيقظ قال:"الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا وإليه النشور"، -قال شعبة: هذا او نحوه- وإذا نام قال:"اللهم باسمك احيا وباسمك اموت" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ك]: (ابن عازب).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧١١)، وأحمد (١٨٦٨٦).

حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیدار ہوتے تو یہ دعا فرماتے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں: کہ یہی فرمایا یا اس جیسا فرمایا تھا۔ اور جب سوتے تو یہ دعا فرماتے: اے اللہ! آپ کے نام کے ساتھ ہی میں زندہ ہوتا ہوں اور آپ کے نام کے ساتھ ہی میں مرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31272، ترقيم محمد عوامة 29913)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29914 ترقیم الشثری: -- 31273
٣١٢٧٣ - حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان النبي ﷺ كان يدعو:"اللهم آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٥٢٢)، ومسلم (٢٦٩٠).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! ہمیں دنیا میں خوبی عطا فرما، اور ہمیں آخرت میں خوبی عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31273]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31273، ترقيم محمد عوامة 29914)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29915 ترقیم الشثری: -- 31274
٣١٢٧٤ - حدثنا عبد الله بن نمير حدثنا عبيد الله بن عمر عن سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ (قال) (١) :"إذا اراد احدكم ان يضطجع على فراشه فلينزع (داخلة) (٢) ازاره، ثم لينفض بها فراشه، فإنه لا يدري (ما) (٣) خلفه ⦗١٦٤⦘ عليه، ثم ليضطجع على شقه الايمن، ثم ليقل: باسمك ربي وضعت جنبي، وبك ارفعه، فإن امسكت نفسي فارحمها، وإن ارسلتها فاحفظها بما تحفظ به (٤) الصالحين" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فال).
(٢) في [ط]: (داخل).
(٣) في [ب]: (من).
(٤) في [هـ]: زيادة (عبادك)، وسبق الخبر في ٩/ ٧٣ برقم [٢٨٢٢٤] بإثباتها في بعض النسخ.
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٣٩٣)، ومسلم (٢٧١٤).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ اپنے زائد کپڑے اتار دے، پھر اپنے بستر کو اچھی طرح جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے اس بستر پر کیا تھا، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جائے۔ پھر یہ دعا پڑھے: میرے مالک تیرے نام کے ساتھ ہی میں اپنا پہلو رکھتا ہوں، اور تیرے نام کے ساتھ ہی میں اسے اٹھاتا ہوں، پس اگر تو نے میرے نفس کو روکا تو اس پر رحم فر ما، اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت فرما جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31274، ترقيم محمد عوامة 29915)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں