مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
23. ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟
وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
ترقیم عوامۃ: 29902 ترقیم الشثری: -- 31261
٣١٢٦١ - حدثنا حسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن سهيل عن ابيه عن ابي عياش الزرقي قال: قال رسول الله ﷺ:"من قال حين يصبح: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كان له كعدل رقبة من ولد إسماعيل، وكتبت له بها (عشر) (١) حسنات، و (حطت) (٢) (بها عنه) (٣) عشر سيئات، ورفعت له بها عشر درجات، وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي، وإذا امسى مثل ذلك حتى يصبح" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (عشرة).
(٢) في [ك]: (حطة).
(٣) في [ط، هـ]: (عنه بها).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٥٨٣)، وأبو داود (٥٠٧٧)، وابن ماجه (٣٨٦٧)، والنسائي في الكبرى (٩٨٥٢)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٣٨١، والطبراني (٥١٤١)، وابن السني (٦٣)، والدولابي ١/ ٤٦.
حضرت ابو عیاش الزرقی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے: نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے جو تنہا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اس شخص کو حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اور اس شخص کے لیے اس عمل کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس گناہوں کو مٹا دیا جائے گا، اور اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے، اور وہ شخص شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اور جب شام کے وقت یہ کلمات کہے گا تو صبح تک یہ فوائد حاصل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31261]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31261، ترقيم محمد عوامة 29902)
ترقیم عوامۃ: 29903 ترقیم الشثری: -- 31262
٣١٢٦٢ - حدثنا حسن بن موسى عن حماد بن سلمة عن سهيل عن ابيه عن ابي هريرة قال: كان النبي ﷺ يقول إذا اصبح:"اللهم بك اصبحنا وبك امسينا، وبك نحيا وبك نموت، وإليك المصير" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٨٦٤٩)، وأبو داود (٥٠٦٨)، والترمذي (٣٣٩١)، وابن ماجه (٣٨٦٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٨)، وابن حبان (٩٦٥)، والبخاري في الأدب المفرد (١١٩٩)، وابن السني (٣٥)، والبغوي (١٣٢٥).
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ کلمات کہا کرتے تھے: اے اللہ! تجھ سے ہم نے صبح کی اور تجھ سے ہم نے شام کی، اور تیری وجہ سے ہم زندہ ہیں، اور تیرے حکم سے ہی ہم مریں گے، اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31262]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31262، ترقيم محمد عوامة 29903)
ترقیم عوامۃ: 29904 ترقیم الشثری: -- 31263
٣١٢٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثني) (١) (فطر) (٢) قال: حدثني عبد الله ابن عبيد بن عمير عن رجل من اصحاب محمد قال: من قال حين يصبح: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، بيده الخير وهو على كل شيء قدير، عشر مرات، رفع له عشر درجات ومحي عنه عشر سيئات وبرئ يؤمئذ (من) (٣) النفاق حتى يمسي، (وإن) (٤) قال حين يمسي كان مثل ذلك وبرئ من النفاق حتى يصبح (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (حدثنا).
(٢) في [ب]: (فطرة).
(٣) في [هـ]: (عن).
(٤) في [هـ]: (فإن).
(٥) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک شخص نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات پڑھے گا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو تنہا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اسی کے قبضہ میں بھلائی ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تو اس کے دس درجہ بلند کیے جاتے ہیں، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جاتی ہیں، اور وہ شخص اس دن شام تک نفاق سے بری ہوجاتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ کلمات کہے گا، تو اتنا ہی ثواب ملے گا، اور صبح تک نفاق سے بری ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31263]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31263، ترقيم محمد عوامة 29904)
ترقیم عوامۃ: 29905 ترقیم الشثری: -- 31264
٣١٢٦٤ - حدثنا حسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد بن (حيان) (١) عن ابي (زرعة) (٢) (بن) (٣) عمرو بن (جرير) (٤) عن ابي هريرة عن كعب ⦗١٦٠⦘ قال: اجد في (التوراة) (٥) (من) (٦) قال (إذا اصبح) (٧) : اللهم إني اعوذ باسمك وبكلماتك التامة [من الشيطان (الرجيم) (٨) ، اللهم إني اعوذ باسمك وبكلماتك التامة من (عذابك) (٩) وشر عبادك، اللهم إني اسالك باسمك وكلماتك التامة] (١٠) من خير ما تسال ومن خير ما تعطي ومن خير ما تبدي ومن خير ما تخفي، اللهم إني اعوذ (١١) وباسمك وبكلماتك التامة من شر ما تجلى به النهار، لم (تطق) (١٢) به الشياطين ولا (شيء) (١٣) يكرهه، وإذا قالهن إذا امسى كمثل ذلك غير انه يقول: من شر ما دجا به الليل (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (حبان).
(٢) في [ب]: (دراعة).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (عن).
(٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (جابر).
(٥) في [جـ]: (الوراء)، وفي [ط]: (التورية).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) في [أ، هـ]: (حين يصبح)، وفي [ب، ط]: (إذا يصبح).
(٨) في [ح، هـ]: (وشره).
(٩) سقط ما بين المعكوفين من: [ط].
(١٠) في [هـ]: (عبادك).
(١١) في [هـ]: زيادة (وبك).
(١٢) في [س]: (تطف).
(١٣) في [أ، ط، هـ]: (لشيء).
(١٤) صحيح إلى كعب.
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: میں نے تورات میں لکھا پایا تھا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے: اے اللہ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ کے عذاب سے اور آپ کے بندوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو آپ سے مانگی جاسکتی ہے، اور ہر اس خیر کا جو آپ عطا کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ ظاہر کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ چھپاتے ہیں، اے اللہ! میں آپ کی آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ہر اس شر سے جو دن میں ظاہر ہوتا ہے۔ تو شیطان اس شخص کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے، اور نہ ہی کوئی چیز اسے ناپسند لگے گی، اور جب ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا تب بھی یہ فوائد حاصل ہوں گے، مگر یہ کہ آخری جملہ کی بجائے یوں کہے: اور ہر اس چیز کے شر سے جس کو رات نے چھپایا ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31264، ترقيم محمد عوامة 29905)