🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. كتاب ذكر الله ﷿
اللہ عزوجل کے ذکر کرنے کے ثواب کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30085 ترقیم الشثری: -- 31445
٣١٤٤٥ - حدثنا معاذ بن معاذ عن سليمان التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: لو بات رجل يعطي (القنيات) (١) البيض وبات آخر يقرا القرآن او يذكر الله لرايت ان ذلك -او قال: إن ذاكر الله- افضل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) جمع قناة، وهي الرمح، كما فسره في الدر المنثور ١/ ٣٦٤، قال: (يقصد قتال الأعداء)، وورد الأثر في كتاب الزهد لأحمد ص ١٥١ من زوائد عبد اللَّه، بلفظ: (يطاعن الأقران)، وانظر: الحلية ١/ ٢٠٤، وفسره جماعة بأن المراد الإماء المملوكات، انظر: الفائق ٣/ ٢٣٨، والنهاية ٤/ ١٣٥، وغريب الحديث لأبي عبيد ٤/ ١٣٢، ولسان العرب ١٣/ ٣٥٢، وفي [أ، ب، جـ]: (المنار)، وفي [جـ]: (المقان).
(٢) صحيح.

حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے ارشاد فرمایا: اگر ایک شخص اس حال میں رات گزارے کہ وہ غلام اور لونڈیوں کو آزاد کرے اور ایک دوسرا شخص اس حال میں رات گزارے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کرے یا اللہ کا ذکر کرے، تو میری رائے یہ ہے کہ یہ شخص، یا یوں فرمایا: اللہ کا ذکر کرنے والا افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31445]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31445، ترقيم محمد عوامة 30085)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30086 ترقیم الشثری: -- 31446
٣١٤٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابي هلال عن ابي (الوازع) (١) جابر (الراسبي) (٢) عن ابي (برزة) (٣) قال: لو ان رجلين (اقبل) (٤) احدهما من السوق في حجره دنانير يعطيها، والآخر يذكر الله، كان ذاكر الله افضل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (الوزاع).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط]: (الراسي).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (بردة)، وفي حاشية [ب]: (برز)، وسيأتي الخبر في كتاب الزهد، باب [٥٣] برقم [٣٧٧٨٢]، وانظر: مصادر التخريج وجامع العلوم والأحكام ص ٢٣٨.
(٤) سقط من: [جـ، ك].
(٥) حسن؛ أبو هلال صدوق، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٣.

حضرت ابو الوازع جابر الراسبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو برزہ نے ارشاد فرمایا: اگر دو آدمی ہوں ان میں سے ایک کی گود میں دینار ہوں جنہیں وہ لوگوں کو دے رہا ہو، اور دوسرا شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو اللہ کا ذکر کرنے والا افضل شمار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31446]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31446، ترقيم محمد عوامة 30086)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30087 ترقیم الشثری: -- 31447
٣١٤٤٧ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا مسعر قال: حدثني ثعلبة (٢) عن عمرو ابن (شعيب) (٣) عن عبد الله بن عمرو قال: لو ان رجلين اقبل احدهما من (المشرق) (٤) والآخر من المغرب، مع احدهما ذهب لا (يضع) (٥) منه شيئا إلا في حق والآخر يذكر الله حتى يلتقيا في طريق كان الذي يذكر الله افضلهما (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (بكير).
(٢) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: زيادة (بن عمرو)، وهو وهم، وثعلبة بن مالك وقيل ابن الحكم وقيل ابن عاصم أبو بحر، انظر: التاريخ الكبير ٢/ ١٧٤، والجرح والتعديل ٢/ ٤٦٣، وثعلبة صدوق.
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (سعيد).
(٤) في [أ، ب، ط]: (الشرق).
(٥) في [ط]: (يضيع).
(٦) منقطع؛ عمرو بن شعيب لم يسمع من جده عبد اللَّه بن عمرو.

حضرت عمرو بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ اگر دو آدمی ہوں ان میں سے ایک مشرق سے آیا ہو اور دوسرا مغرب سے آیا ہو، ان مں ا سے ایک کے پاس سونا ہو جسے وہ صرف حق کے کاموں میں خرچ کرے اور دوسرا شخص وہ اللہ کا ذکر کرے یہاں تک کہ ان دونوں کی راستہ میں ملاقات ہوجائے تو جو شخص اللہ کا ذکر کرنے والا تھا ان دونوں میں سے افضل شمار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31447]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31447، ترقيم محمد عوامة 30087)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30088 ترقیم الشثری: -- 31448
٣١٤٤٨ - حدثنا شريك عن محمد بن عبد الرحمن عن ابي جعفر قال: ما من شيء احب إلي من الشكر والذكر.
حضرت محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی چیز اللہ کے نزدیک شکر ادا کرنے اور ذکر کرنے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31448]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31448، ترقيم محمد عوامة 30088)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30089 ترقیم الشثری: -- 31449
٣١٤٤٩ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا عمار بن رزيق عن ابي إسحاق عن الاغر ابي مسلم عن ابي هريرة وابي سعيد يشهدان به على النبي ﷺ انه قال:"ما جلس قوم مسلمون مجلسا يذكرون الله فيه إلا حفتهم الملائكة وتغشتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة، وذكرهم الله فيمن عنده" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ عمار ثقة، أخرجه أحمد (٩٧٧٢)، ومسلم (٢٧٠٠)، وأصله عند البخاري (٦٤٠٨).
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان قوم نے مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر نہیں کیا مگر یہ کہ فرشتوں نے ان کو گھیر لیا اور رحمت نے ان کو ڈھانپ لیا اور ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور اللہ ان کا ذکر فرشتوں کی مجلس میں فرماتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31449]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31449، ترقيم محمد عوامة 30089)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30090 ترقیم الشثری: -- 31450
٣١٤٥٠ - حدثنا زيد بن الحباب اخبرني مالك بن انس قال: اخبرني سمي مولى ابي بكر عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من قال: في يوم مائة مرة لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كان له كعدل عشر رقاب وكتبت له مائة حسنة ومحي عنه مائة سيئة، و (كن) (١) (له) (٢) (حرزا) (٣) من الشيطان سائر (يومه) (٤) إلى الليل، ولم يات احد بافضل مما اتى به إلا من قال اكثر" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (وكان).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [جـ]: (حرزة).
(٤) في [هـ]: (يوم).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٢٩٣)، ومسلم (٢٦٩١).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات پڑھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو یہ اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے سو گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، اور یہ کلمات اس کے لیے سارا دن رات تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہیں، اور نہیں لائے گا قیامت کے دن اس سے افضل عمل کوئی بھی شخص مگر جس نے اس سے زیادہ مرتبہ ان کلمات کو پڑھا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31450]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31450، ترقيم محمد عوامة 30090)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30091 ترقیم الشثری: -- 31451
٣١٤٥١ - حدثنا عفان حدثنا ابان بن يزيد العطار حدثنا قتادة قال: (حدث) (١) ابو العالية الرياحي عن حديث سهيل بن حنظلة العبشمي انه (٢) قال:"ما اجتمع قوم ⦗٢٣١⦘ (قط) (٣) يذكرون الله إلا نادى مناد من السماء: قوموا مغفورا لكم، قد بدلت سيئاتكم حسنات" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (حدثت).
(٢) أي النبي ﷺ.
(٣) سقط من: [جـ، ك].
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٢٠٥، والطبراني في المعجم الكبير (٦٠٣٩)، والبيهقي في الشعب (٦٩٤).

حضرت سھیل بن حنظلہ العبشمی فرماتے ہیں کہ کوئی قوم بھی ہرگز اللہ کا ذکر نہیں کرتی مگر یہ کہ آسمان سے ایک منادی (فرشتہ) یہ آواز لگاتا ہے: تم بخشے بخشائے کھڑے ہو جاؤ تحقیق تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31451]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31451، ترقيم محمد عوامة 30091)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30092 ترقیم الشثری: -- 31452
٣١٤٥٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (منصور عن) (١) هلال بن يساف قال: كانت امراة من همدان تسبح وتحصيه بالحصى او النوى، فمرت على عبد الله، فقيل له: هذه المراة تسبح وتحصيه (بالحصى) (٢) او النوى، فدعاها فقال لها: انت التي تسبحين وتحصين؟ فقالت: نعم إني لافعل، فقال: الا ادلك على خير من ذلك تقولين: الله اكبر كبيرا، (والحمد لله كثيرا) (٣) ، وسبحان الله بكرة واصيلا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [ز]: (بالحصبا)، وانظر: الدر المنثور ٦/ ٦٢١.
(٣) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٤) صحيح؛ وهلال يروي عن عبد اللَّه بن عمرو بن العاص.

حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ قبیلہ ہمدان کی ایک عورت تھی جو اللہ کی پاکی بیان کرتی تھی اور اسے کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی تھی، پس وہ حضرت عبد اللہ کے پاس سے گزری، تو ان کو بتلایا گیا۔ کہ یہ عورت تسبیح پڑھتی ہے اور اس کو کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی ہے۔ تو حضرت عبد اللہ نے اس عورت کو بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تو ہی وہ عورت ہے جو تسبیح پڑھتی ہے اور شمار کرتی ہے؟ وہ کہنے لگی! جی ہاں! میں ہی ایسا کرتی ہوں، تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا: کیا مں اس سے بہتر فعل کی طرف تیری راہنمائی نہ کروں؟ تم اس طرح ذکر کیا کرو: اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں کثرت سے اللہ کے لیے ہیں، اور صبح و شام میں اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31452]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31452، ترقيم محمد عوامة 30092)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30093 ترقیم الشثری: -- 31453
٣١٤٥٣ - حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن الاغر (ابي مسلم) (١) عن ابي هريرة عن النبي ﷺ فيما يحدث عن ربه قال:"من ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، ومن ذكرني في ملإ من الناس ذكرته في ملإ (اطيب منهم واكثر) (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) في [جـ، ك]: (أكثر منهم وأطيب).
(٣) صحيح؛ سماع حماد بن عطاء قبل الاختلاط على الصحيح، والحديث أخرجه البخاري (٧٤٠٥)، ومسلم (٣٨٢٢).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث قدسی ارشاد فرمائی: کہ اللہ فرماتے ہیں! جو شخص مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں، اور جو شخص لوگوں کی مجلس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی مجلس میں یاد کرتا ہوں جو اس سے بڑی ہو اور اس سے پاکیزہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31453]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31453، ترقيم محمد عوامة 30093)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30094 ترقیم الشثری: -- 31454
٣١٤٥٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ابي عثمان عن (سلمان) (١) قال: إذا كان العبد يحمد الله في السراء ويحمده في الرخاء فاصابه ضر فدعا الله قالت الملائكة: صوت معروف من امرئ ضعيف (فيشفعون) (٢) له، فإذا كان العبد لا يذكر الله في السراء ولا يحمده في الرخاء فاصابه ضر فدعا الله قالت الملائكة: صوت منكر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سليمان).
(٢) في [ط]: (فيستعفون).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد ص ٣١٣، وابن فضيل في الدعاء (٨٥)، والبيهقي في الشعب (١١٤٠).

حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ارشاد فرمایا: جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کا ذکر کرتا ہے اور فراخی کی حالت میں اس کی حمد بیان کرتا ہے، پھر اسے کوئی تکلیف پہنچی تو اس نے اللہ سے دعا مانگی! تو فرشتے کہتے ہیں، کمزور بندے کی جانی پہچانی آواز ہے، پھر وہ اللہ کے سامنے اس بندے کی سفارش کرتے ہیں، اور جب کوئی بندہ خوشی کی حالت میں اللہ کو یاد نہیں کرتا اور فراخی کی حالت میں اس کی حمدبیان نہیں کرتا پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچی اور اس نے اللہ سے دعا مانگی تو فرشتے کہتے ہیں۔”بُری آواز ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31454]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31454، ترقيم محمد عوامة 30094)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں