🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

108. ما قالوا: في الرجل إذا بخل بماله أو جبن عن العدو وعن الليل أن يقومه (و) ما يدعو به
جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30344 ترقیم الشثری: -- 31708
٣١٧٠٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زبيد عن (مرة) (١) قال: قال عبد الله: من جبن منكم عن العدو ان يجاهده، والليل ان يكابده، وضن بالمال ان ينفقه فليكثر من: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله اكبر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قرة).
(٢) صحيح.

حضرت مرّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص عاجز ہو دشمن سے جہاد کرنے سے اور رات کو مشقت برداشت کرنے سے اور بخل کی وجہ سے مال بھی خرچ نہ کرسکتا ہو تو وہ کثرت سے ان کلمات کا ورد کرے، اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31708، ترقيم محمد عوامة 30344)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30345 ترقیم الشثری: -- 31709
٣١٧٠٩ - حدثنا شبابة عن شعبة عن ابي التياح عن (مورق) (١) العجلي عن عبيد ابن عمير قال: إن عجزتم عن الليل ان تكابدوه وعن العدو ان تجاهدوه وعن المال ان تنفقوه، فاكثروا من سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر، (فإنهن) (٢) احب إلي من جبلي ذهب وفضة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بورق).
(٢) في [ك]: (فهن).

حضرت مورّق عجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا: اگر تم لوگ عاجز ہو راتوں کو مشقت برداشت کرنے سے اور دشمن سے جہاد کرنے سے، اور مال کے خرچ کرنے سے تو کثرت کے ساتھ ان کلمات کا ورد کرو: اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، پس یہ کلمات میرے نزدیک سونے اور چاندی کے پہاڑ سے بھی زیادہ پسندیدہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31709، ترقيم محمد عوامة 30345)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30346 ترقیم الشثری: -- 31710
٣١٧١٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن العوام انه سمع إبراهيم التيمي يقول: إذا قال: الحمد لله وسبحان الله، قالت الملائكة: وبحمده، فإذا قال: سبحان الله وبحمده، قالت الملائكة: رحمك الله، فإذا قال: الله اكبر، قالت الملائكة: كبيرا، فإذا قال: الله اكبر كبيرا، قالت الملائكة: يرحمك الله، فإذا قال: الحمد لله، قالت الملائكة: رب العالمين، وإذا قال: رب العالمين، قالت الملائكة: رحمك الله.
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم التیمی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب بندہ کہتا ہے! سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ تمام عیوب سے پاک ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں: اور اس کی تعریف کے ساتھ۔ پس جب بندہ کہتا ہے۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، تو فرشتے کہتے ہیں: اللہ تجھ پر رحم فرمائے: پس جب بندہ کہتا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، تو فرشتے کہتے ہیں: بہت بڑا، پس جب بندہ کہتا ہے: اللہ سب بڑوں سے بڑا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں: اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتے کہتے ہیں: تمام جہانوں کا پالنے والا بھی۔ اور جب بندہ یوں کہتا ہے، تمام جہانوں کا پالنے والا بھی تو فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31710، ترقيم محمد عوامة 30346)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30347 ترقیم الشثری: -- 31711
٣١٧١١ - حدثنا حسين بن علي الجعفي عن إسرائيل عن زياد (١) (المصغر) (٢) عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ لابي بكر:"الا ادلك على صدقة تملا ما بين السماء والارض: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله اكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله، في يوم ثلاثين مرة" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (عن).
(٢) في [أ، هـ]: (مسعر)، وفي [س]: (المسفر).
(٣) مرسل؛ الحسن تابعي.

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے ارشاد فرمایا: کیا میں ایسے صدقہ کی طرف تمہاری راہنمائی نہ فرماؤں جو آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے؟ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ دن میں تیس مرتبہ ان کلمات کا پڑھنا آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31711، ترقيم محمد عوامة 30347)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30348 ترقیم الشثری: -- 31712
٣١٧١٢ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابن عجلان عن عبد الجليل عن خالد بن ابي عمران قال: قال رسول الله ﷺ:"خذوا جنتكم" قالوا: يا رسول الله من عدو حضر؟ قال:"لا، بل من النار"، قلنا ما جنتنا من النار؟ قال:"سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله اكبر، (ولا حول ولا قوة إلا بالله) (١) ، فإنهن ياتين يوم القيامة مقدمات ومعقبات ومجنبات وهن الباقيات الصالحات" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) مرسل؛ خالد أبو عمران تابعي.

حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی ڈھالیں پکڑ لو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کس موجود دشمن کے مقابلہ میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں بلکہ جہنم سے بچنے کے لیے۔ ہم نے عرض کیا: جہنم سے بچانے والی ڈھال کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ پس یہ کلمات آئیں گے قیامت کے دن آگے ہوں گے اور پیچھے ہوں گے اور بچانے والے ہوں گے۔ پس یہ کلمات باقی رہنے والے اور اچھے ہیں۔ (اور وہ باقیات اور صالحات ہیں) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31712]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31712، ترقيم محمد عوامة 30348)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30349 ترقیم الشثری: -- 31713
٣١٧١٣ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) عن سعيد بن جبير قال: راى عمر بن ⦗٣٢٣⦘ الخطاب إنسانا يسبح بتسابيح (معه) (٢) فقال عمر ﵀: إنما يجزيه من ذلك ان يقول: سبحان الله ملء السماوات (وملء) (٣) الارض، (وملء) (٤) ما شاء من شيء بعد، ويقول: (الحمد لله ملء السموات وملء الارض وملء ما شاء من شيء بعد، ويقول) (٥) : الله اكبر ملا السماوات وملء الارض و (ملء) (٦) ما شاء من شيء بعد (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عن وفاء)، وفي [هـ]: (وفا).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) في [هـ]: (ملأ).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) في [أ، هـ]: (ملأ).
(٧) منقطع؛ سعيد بن جبير لم يسمع عمر.

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو جو مختلف تسبیحات کر رہا تھا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: اللہ اس پر رحم فرمائے۔ بیشک اس کے لیے کافی ہے کہ یوں کہے؛ اللہ پاک ہے آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے! اللہ سب سے بڑا ہے آسمانوں اور زمین، اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31713]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31713، ترقيم محمد عوامة 30349)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30350 ترقیم الشثری: -- 31714
٣١٧١٤ - حدثنا ابن فضيل عن الاعمش عن عبد الملك بن ميسرة قال: اجتمع ابن مسعود وعبد الله بن عمرو (فقال) (١) ابن مسعود: لان اقول إذا خرجت (حتى) (٢) ابلغ حاجتي: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله اكبر، احب إلي من ان احمل على (عددهن) (٣) من الجياد في سبيل الله، وقال عبد الله بن عمرو: لان اقولهن احب إلي من ان انفق عددهن دنانير في سبيل الله ﷿ (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قال).
(٢) في [هـ]: (حين).
(٣) في [ط]: (ددهن).
(٤) منقطع؛ عبد الملك بن ميسرة لم يدرك ذلك.

حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں ان کلمات کو پڑھتا ہوں جب بھی کبھی نکلتا ہوں یہاں تک کہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤں۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ میرے نزدیک یہ کلمات زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے ان کی تعداد کے بقدر گھوڑوں اور سوار ہونے سے اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک ان کلمات کا پڑھنا اللہ کے راستہ میں ان کی تعداد کے بقدر دینار خرچ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31714]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31714، ترقيم محمد عوامة 30350)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں