🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. ما قالوا فيها يخبره النبي ﷺ (من) الرؤيا
وہ روایات جو اسلاف سے منقول ہیں ان خوابوں کے بارے میں جو نبی کریمعلیہ السلام بیان فرما دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31126 ترقیم الشثری: -- 32508
٣٢٥٠٨ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا (عوف) (١) عن ابي رجاء قال: حدثنا سمرة بن جندب قال: كان رسول الله ﷺ (مما) (٢) يقول لاصحابه:"هل راى احد منكم رؤيا" فيقص عليه ما شاء الله ان يقص، فقال لنا ذات غداة:"إني اتاني الليلة آتيان او اثنان -الشك من هوذة- (فقالا) (٣) لي: انطلق، فانطلقت معهما، ⦗٧٥⦘ وإنا اتينا على رجل مضطجع وإذا آخر قائم عليه بصخرة (وإذا هو يهوي بالصخرة) (٤) لراسه فيثلغ (٥) راسه فيتدهده الحجر هاهنا فياخذه ولا يرجع إليه [حتى (يصح) (٦) راسه] (٧) كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به مثل المرة الاولى، قال: قلت لهما: سبحان الله ما هذا؟ فقالا لي: انطلق (٨) ، فانطلقنا حتى اتينا على رجل مستلق لقفاه فإذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد وإذا هو ياتي احد شقي وجهه فيشرشر (شدقه إلى) (٩) قفاه وعينه إلى قفاه ومنخره إلى قفاه، ثم يتحول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ذلك فما يفرغ منه حتى (يصبح) (١٠) ذلك الجانب كما كان، ثم يعود عليه فيفعل به كما (فعل) (١١) في المرة الاولى، فقلت لهما: سبحان الله ما هذا؟ قال: (قالا) (١٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى اتينا على مثل بناء التنور، قال: فاحسب انه قال: سمعنا فيه لغطا واصواتا، (فانطلقنا) (١٣) فإذا فيه رجال ونساء عراة، وإذا هم ياتيهم (لهب) (١٤) من اسفل منهم، فإذا اتاهم ذلك (اللهب) (١٥) ⦗٧٦⦘ ضوضوا، قال: قلت لهما: ما هؤلاء؟ قال: قالا لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا حتى اتينا على نهر حسبت انه قال: احمر مثل الدم، فإذا في النهر رجل يسبح، وإذا على شاطئ النهر رجل قد جمع عنده حجارة كثيرة، وإذا ذلك السابح يسبح ما (سبح) (١٦) ثم ياتي ذلك الذي قد جمع (١٧) الحجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرا فيذهب فيسبح ما (سبح) (١٨) ، ثم ياتي ذلك الذي كلما رجع فغر له فاه فالقمه الحجر، قال: قلت: ما هذا؟ (قال) (١٩) : (قالا) (٢٠) لي: انطلق انطلق، قال: فانطلقنا فاتينا على رجل كريه المرآة كاكره ما انت راء رجلا مرآة وإذا هو عند نار يحثها ويسعى حولها، قال: قلت لهما: ما هذا؟ (قال) (٢١) : (قالا) (٢٢) لي: انطلق انطلق، فانطلقنا حتى اتينا على روضة (معتمة) (٢٣) فيها (من) (٢٤) كل نور الربيع، وإذا بين ظهراني الروضة رجل طويل لا اكاد ارى راسه طولا في السماء، وإذا حول الرجل (من اكثر) (٢٥) ولدان رايتهم قط، (واحسنه) (٢٦) قال: قلت لهما: ما هذا وما هولاء؟ قال: ⦗٧٧⦘ (قالا) (٢٧) لي: انطلق (انطلق) (٢٨) ، فانطلقنا فانتهينا إلى (درجة) (٢٩) عظيمة لم ار قط درجة اعظم منها ولا احسن، قال: (قالا) (٣٠) لي: ارق فيها، فارتقيتها فانتهينا إلى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، قال: فاتينا باب المدينة فاستفتحناها ففتح لنا فدخلناها، فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كاحسن ما انت راء، وشطر كاقبح ما انت راء، قال: (قالا) (٣١) لهم: اذهبوا فقعوا في ذلك النهر، قال: فإذا نهر معترض يجري كان ماءه (المحض) (٣٢) بالبياض قال: فذهبوا فوقعوا فيه ثم رجعوا إلينا وقد ذهب السوء عنهم وصاروا في احسن صورة، قال: (قالا) (٣٣) (لي) (٣٤) : هذه جنة عدن، وها هو ذاك منزلك، قال: [ (فسما) (٣٥) بصري صعدا فإذا قصر مثل الربابة البيضاء، قالا لي: هذاك منزلك، قال] (٣٦) : قلت لهما: بارك الله فيكما ذراني (فلادخله) (٣٧) ، قال: قالا لي: اما الآن فلا وانت داخله، قال: قلت لهما: إني قد رايت هذه الليلة عجبا فما هذا الذي رايت؟ قال: قالا: اما إنا سنخبرك، اما الرجل الاول الذي اتيت عليه يثلغ راسه بالحجر فإنه رجل ياخذ القرآن وينام عن الصلاة ⦗٧٨⦘ المكتوبة، واما الرجل الذي اتيت (عليه) (٣٨) يشرشر شدقه وعينه (٣٩) ومنخره إلى قفاه فإنه رجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق، واما الرجال والنساء العراة الذين في مثل التنور فإنهم الزناة والزواني، واما الرجل الذي يسبح في النهر ويلقم الحجارة فإنه آكل الربا، واما الرجل الذي عند النار كريه المرآة فإنه مالك خازن جهنم، واما الرجل الطويل الذي في الروضة فإنه إبراهيم، واما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة"، قال: فقال بعض المسلمين: يا رسول الله واولاد المشركين؟ قال [رسول الله ﷺ:"واولاد المشركين] (٤٠) واما القوم الذين شطر منهم كاقبح ما رايت وشطر كاحسن ما رايت فإنهم قوم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا فتجاوز الله عنهم" (٤١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (عون).
(٢) سقط في: [ب].
(٣) في [هـ]: (فقال).
(٤) في [ط]: سقطة.
(٥) في [هـ]: زيادة (بها).
(٦) في [أ، ب]: (يصلح).
(٧) سقط من: [ك].
(٨) في [هـ]: زيادة (انطلق) مكررة.
(٩) زيادة من: [هـ].
(١٠) في [أ، ب]: (يصح).
(١١) في [أ، ب، ط، هـ]: (يفعل).
(١٢) في [ط]: (قال).
(١٣) في [ك]: (فاطلعنا).
(١٤) في [هـ]: (لهيب).
(١٥) في [ط]: (اللهيب).
(١٦) في [ط، هـ]: (يسبح).
(١٧) في [ك]: زيادة (عنده)، وفي [جـ]: (هذه).
(١٨) في [ط، هـ]: (يسبح).
(١٩) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢٠) سقط من: [ب].
(٢١) سقط من: [جـ، ك].
(٢٢) في [ط]: (قال).
(٢٣) في [هـ]: (معشبة).
(٢٤) في [ط]: (عن).
(٢٥) في [ط]: (أكثر من).
(٢٦) في [أ، ط، هـ]: (وأحسبه).
(٢٧) في [ط]: (قال).
(٢٨) سقط في: [ب، جـ].
(٢٩) في [هـ]: (دوحة).
(٣٠) كذا في: [أ، ب]، وفي بقية النسخ: (قال).
(٣١) في [ط]: (قال).
(٣٢) أي: اللبن الخالص لا ماء معه، وفي [هـ]: (لمحض).
(٣٣) في [ط]: (قال).
(٣٤) سقط من: [ط].
(٣٥) في [هـ]: (فبينما).
(٣٦) سقط من: [جـ، ح، ط].
(٣٧) في [ط]: (فلأ دخل).
(٣٨) سقط من: [أ، ب، ط].
(٣٩) في [هـ]: زيادة (إلى قفاه).
(٤٠) زائدة من: [هـ].
(٤١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٠٩٦)، ومسلم (٢٢٧٥)، وأحمد (٢٠٠٩٤).

حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس آپ پر جو اللہ تعالیٰ چاہتا بیان کیا جاتا، ایک صبح آپ نے ہم سے فرمایا: بیشک میرے پاس آج رات دو آدمی آئے، راوی نے آتیان کا لفظ بیان کیا یا اثنان کا، ان دو آدمیوں نے مجھ سے کہا چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ ہم ایک آدمی کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے سرہانے ایک چٹان اٹھائے کھڑا تھا، اچانک اس نے اس کے سر پر چٹان پھینک کر اس کا سر کچل دیا، پس پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا گیا، وہ آدمی جا کر اس پتھر کو اٹھاتا ہے اور ابھی اس لیٹے ہوئے آدمی کے پاس نہیں پہنچتا کہ اس کا سر پہلے کی طرح صحیح سلامت ہوجاتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ پہلے والا عمل دہراتا ہے، آپ فرماتے ہیں میں نے کہا سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے چلو۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس پہنچے جو گدّی کے بل لیٹا ہوا ہے، اور دوسرا آدمی اس کے قریب لوہے کا آنکڑا اٹھائے کھڑا ہے اور وہ اس لیٹے ہوئے آدمی کے ایک کلّے کے قریب آ کر اس کے کلّے کو گدّی تک چیر دیتا ہے اور اس کی آنکھ کو بھی گدّی تک چیردیتا ہے اور گلے کو بھی گدّی تک چیر دیتا ہے، پھر دوسری جانب آتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی فعل کرتا ہے، وہ اس دوسرے سے کلّے سے فارغ نہیں ہوتا کہ پہلی جانب پہلے کی طرح صحیح و تندرست ہوجاتی ہے، پھر وہ دوسری مرتبہ وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا، میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا: سبحان اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک تنور جیسی عمارت کے پاس پہنچے، راوی فرماتے ہیں کہ غالباً آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نے اس تنور میں شوروغل کی آوازیں سنیں، ہم نے اس عمارت میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں، اور نیچے سے آگ کے شعلے آتے ہیں، پس جب ان کے پاس آگ کے شعلے آتے ہیں تو وہ چیخ و پکار کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے ان دونوں سے کہا یہ کون لوگ ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہر پر پہنچے، راوی کہتے ہیں کہ غالباً آپ نے فرمایا: کہ وہ سرخ رنگ کی نہر تھی، خون جیسے رنگ کی، وہاں یہ دیکھا کہ نہر کے اندر ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے ایک آدمی ہے جس نے اپنے ارد گرد بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں وہ تیرنے والا اپنی بساط کے مطابق تیرتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچتا ہے جس نے اپنے گرد پتھر اکٹھے کر رکھے ہیں اور اس کے سامنے پہنچ کر اپنا منہ کھولتا ہے چناچہ وہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ہے، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ کیا ہے؟ وہ مجھ سے کہنے لگے آپ چلے چلیے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک نہایت بد صورت شخص کے پاس پہنچے، ایسا بد صورت کہ کسی نے اس جیسا بدصورت نہیں دیکھا ہوگا، اور ہم نے دیکھا کہ اس کے پاس آگ ہے جس کو وہ بھڑکا رہا ہے اور اس کے گرد چکّر لگا رہا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: چلے چلیے۔ چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم پہنچے ایک باغ میں، جس کے اندر موسم بہار کے ہمہ اقسام کے پھول نکل رہے تھے، اور ہم نے باغ کے درمیان ایک لمبے قد کے آدمی کو دیکھا، میں آسمان کی طرف اس کے سر کی اونچائی کو ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں پا رہا تھا، اور میں نے دیکھا کہ اس آدمی کے گرد بہت زیادہ تعداد میں اور بہت خوب رو بچے تھے، آپ نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے کہا کہ یہ شخص کون ہے؟ اور یہ بچے کون ہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چلیے۔ الغرض ہم چلے اور ایک بڑی سیڑھی کے پاس پہنچے، میں نے اس سے پہلے اس سے بڑی اور اس سے اچھی سیڑھی نہیں دیکھی، آپ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیے، میں اس پر چڑھا اور ہم ایک شہر میں پہنچے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ ہم شہر کے دروازے پر آئے، اور ہم نے دورازہ کھلوانا چاہا تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، چناچہ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمیں کچھ لوگ ملے جن کے جسم کا ایک حصّہ نہایت خوبصورت اور دوسرا حصّہ نہایت بدصورت، آپ فرماتے ہیں کہ میرے دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں غوطہ لگاؤ میں نے دیکھا تو ایک نہر چل رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید تھا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ گئے اور اس نہر میں کود گئے، پھر وہ ہمارے پاس ایسی حالت میں لوٹے کہ ان سے برائی جاتی رہی، اور وہ خوب صورت شکل میں بدل گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں کہنے لگے یہ جنّتِ عدن ہے، اور یہ دیکھیے یہ آپ کا گھر ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میری نظر اوپر کی طرف پڑی تو میں نے دیکھا کہ سفید بادل جیسا ایک [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32508]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32508، ترقيم محمد عوامة 31126)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31127 ترقیم الشثری: -- 32509
٣٢٥٠٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن (سلمة) (١) عن عاصم ابن بهدلة عن المسيب بن رافع عن خرشة بن الحر قال: قدمت المدينة فجلست إلى مشيخة في المسجد اصحاب رسول الله ﷺ، قال: فجاء شيخ متوكئ على عصى له، فقال: القوم من سره ان ينظر إلى رجل من اهل الجنة فلينظر إلى هذا، قال: فقام خلف سارية فصلى ركعتين، فقمت إليه فقلت له: قال بعض القوم: كذا وكذا، فقال: (٢) الجنة لله يدخلها من يشاء، (و) (٣) إني رايت على عهد ⦗٧٩⦘ رسول الله ﷺ رؤيا، رايت كان رجلا (ياتي) (٤) فقال لي: انطلق فذهبت معه فسلك (بي) (٥) في (منهج) (٦) عظيم، (فعرضت) (٧) (لي) (٨) طريق عن يساري فاردت ان اسلكها فقيل: إنك (لست) (٩) من اهلها، ثم عرضت لي طريق عن يميني فسلكتها حتى (١٠) انتهيت إلى (جبل) (١١) (مزلق) (١٢) ، فاخذ بيدي [ (فادخلني) (١٣) فإذا انا على ذروته فلم اتقار ولم اتماسك، وإذا عمود من حديد في ذروته حلقة من ذهب، فاخذ بيدي] (١٤) (فزجل بي) (١٥) (حتى) (١٦) (اخذت) (١٧) بالعروة فقال: استمسك، فقلت: نعم، فضرب العمود برجله (فاستمسكت) (١٨) بالعروة، فقصصتها على رسول الله ﷺ فقال:"رايت خيرا، اما (المنهج) (١٩) العظيم فالمحشر، واما ⦗٨٠⦘ (الطريق) (٢٠) التي (عرض) (٢١) عن يسارك فطريق (اهل) (٢٢) النار ولست من اهلها، واما (الطريق) (٢٣) التي عرضت عن يمينك فطريق اهل الجنة، واما (الجبل) (٢٤) الزلق فمنزل الشهداء، واما العروة التي استمسكت بها فعروة الإسلام، فاستمسك بها حتى تموت" قال: فانا ارجو ان اكون من اهل الجنة، (قال) (٢٥) : فإذا (هو) (٢٦) عبد الله بن سلام (٢٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مسلمة).
(٢) في [هـ]: زيادة (الحمد للَّه).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [هـ]: (أتاني)، وفي [ب]: (يأتيني).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [أ، ب، ط]: (نهج).
(٧) في [أ، ب، ط]: (فعرض).
(٨) في جميع النسخ سوى [هـ]: (له).
(٩) في [ك]: (ليس).
(١٠) في [هـ]: زيادة (إذا).
(١١) في [أ، ب، جـ، ط]: (رجل).
(١٢) في [هـ]: (زلق).
(١٣) في [هـ]: (فرجل بي).
(١٤) سقط من: [أ، ب، ط].
(١٥) في [أ، ب، ط]: (فأدخلني)، وفي [ب، ك]: (فدخل بي)، وانظر: سنن النسائي (٧٦٣٣)، وسنن ابن ماجه (٣٩٢٠)، ومسند عبد بن حميد (٤٩٧).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [ك]: (آخذه).
(١٨) في [أ، ب، جـ، ك]: (واستمسكت)، وفي [ط]: (واستمسك).
(١٩) في [ك]: (النهج).
(٢٠) في [أ، ب، ط]: (الطارق).
(٢١) في [هـ]: (عرضت).
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].
(٢٣) في [هـ]: (الطرق).
(٢٤) في [أ]: (خبل).
(٢٥) سقط من: [ك].
(٢٦) في [ب]: (هي).
(٢٧) صحيح؛ عاصم ثقة في غير زر وشقيق، وأخرجه مسلم (٢٤٨٤)، وأحمد (٢٣٧٩٠)، وأصله عند البخاري (٧٠١٤).

حضرت خرشہ بن حرّ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں مسجد میں کچھ عمر رسیدہ لوگوں کے پاس بیٹھ گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ لاٹھی ٹیکتے ہوئے تشریف لائے، لوگوں نے کہا جس کو خواہش ہو کہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے وہ ان کو دیکھ لے، راوی فرماتے ہیں کہ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دو رکعتیں پڑھیں، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ بعض لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ جنت میں تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے داخل فرمائیں گے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ چلیے، میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ایک بڑے راستہ کی طرف لے گیا، میرے بائیں جانب ایک اور راستہ پھیل گیا، میں نے چاہا کہ اس راستے پر چلوں تو کہا گیا کہ تو اس راستے والوں میں سے نہیں ہے، پھر میرے دائیں جانب ایک راستہ پھیل گیا، میں اس راستے پر چل پڑا یہاں تک کہ میں ایک چکنے پہاڑ پر پہنچا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چڑھایا، یہاں تک کہ میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا لیکن میں ٹھہر نہیں پا رہا تھا اور میرے پاؤں نہیں جم رہے تھے، اس اثناء میں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا جس کے بالائی حصّے پر سونے کا ایک دائرہ تھا، اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دھکیلا یہاں تک کہ میں نے کڑے کو پکڑ لیا، اس نے کہا مضبوطی سے اس کو تھام لو، میں نے کہا ٹھیک ہے، اس نے ستون کو پاؤں سے ٹھوکر دی اور میں نے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیا، میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا، آپ نے فرمایا تم نے بھلائی کی چیز دیکھی ہے، بڑا راستہ تو میدانِ حشر ہے، اور وہ راستہ جو تمہارے بائیں جانب پھیلا وہ اہل جہنم کا راستہ ہے اور تم ان میں سے نہیں ہو، اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب پھیلا وہ اہل جنت کا راستہ ہے، اور چکنا پہاڑ شہداء کا مقام ہے، اور وہ کڑا جس کو تم نے تھاما تھا وہ اسلام کا کڑا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے، وہ بزرگ صحابی فرمانے لگے مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا، راوی فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ وہ صحابی عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32509، ترقيم محمد عوامة 31127)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31128 ترقیم الشثری: -- 32510
٣٢٥١٠ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان رسول الله ﷺ وقال:"رايت كاني في دار عقبة بن رافع واتينا برطب (من رطب) (٢) (ابن طاب) (٣) ، فاولت ان الرفعة لنا في الدنيا، والعاقبة في (الاخرى) (٤) ، وان ديننا قد طاب" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [ط]: (أرطاب)، وفي [ك]: (الرطاب)، وفي [هـ]: (الطاب).
(٤) في [جـ، و]: (الآخرة).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٧٠)، وأحمد (١٤٠٥٢).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں اور ہمارے پاس ابن طاب نامی شخص کی تازہ کھجوریں لائی گئیں، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ ہمارے لیے دنیا میں بلندی و رفعت ہے اور آخرت میں اچھا انجام ہے اور ہمارا دین پاکیزہ دین ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32510]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32510، ترقيم محمد عوامة 31128)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31129 ترقیم الشثری: -- 32511
٣٢٥١١ - حدثنا عفان قال حدثنا حماد بن سلمة عن ابي الزبير عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"رايت كاني في درع حصينة ورايت بقرة منحورة فاولت ان الدرع المدينة والبقر بقر" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٧٨٧)، والنسائي في الكبرى (٧٦٤٧)، والدارمي (٢١٥٩)، وابن سعد ٢/ ٤٥.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور گائے سے مراد آدمی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32511، ترقيم محمد عوامة 31129)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31130 ترقیم الشثری: -- 32512
٣٢٥١٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن انس ان رسول الله ﷺ قال:"رايت فيما يرى النائم كاني مردف كبشا وكان ضبة سيفي انكسرت، فاولت (اني) (١) اقتل صاحب الكتيبة" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أن).
(٢) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٨، والبزار (٢١٣١/ كشف)، وأحمد (١٣٨٢٥)، والطبراني (٢٥٩١)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٠٥.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب کی حالت میں دیکھا کہ میں ایک مینڈھے پر سوارہوں اور گویا کہ میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ میں علمبردار کو قتل کروں گا۔ عفان راوی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس جملے کے بعد بھی کچھ تھا لیکن مجھے بھول گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32512، ترقيم محمد عوامة 31130)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32513
٣٢٥١٣ - قال عفان: كان بعد هذا شيء لم ادر ما هو.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32513، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31131 ترقیم الشثری: -- 32514
٣٢٥١٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة قال: (اخبرنا) (٢) الاشعث بن عبد الرحمن (الجرمي) (٣) عن ابيه عن سمرة بن جندب ان رجلا قال لرسول الله ﷺ: رايت كان دلوا ادليت من السماء فجاء ابو بكر فاخذ (بعراقيها) (٤) فشرب (شربا) (٥) وفيه ضعف، [ثم جاء عمر فاخذ (بعراقيها) (٦) فشرب] (٧) حتى ⦗٨٢⦘ تضلع، (ثم جاء عثمان فاخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع) (٨) (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (أخبرنا).
(٢) في [ك]: (أنبأنا).
(٣) في [أ]: (الحرمي).
(٤) في [ط]: (براقها).
(٥) زيادة من: [جـ، ك].
(٦) في [أ، ك]: (براقها).
(٧) سقطة من: [أ، ب، ط].
(٨) سقط من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٩) صحيح؛ الأشعث ثقة، أخرجه (٢٠٢٤٢)، وأبو داود (٤٦١٣)، والطبراني (٦٩٦٥)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٢٦٩، والمزي ١٨/ ٢٨، والحربي في غريب الحديث ٣/ ١٠٠٨، وابن أبي عاصم في السنة (١١٤١)، والروياني (٨٦٣).

حضرت سمرہ بن جندب روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک ڈول اتارا گیا، حضرت ابوبکر آئے، انہوں نے اس ڈول کی رسّی کو پکڑا اور کچھ پانی پی لیا، لیکن ان میں کچھ کمزوری تھی، پھر حضرت عمر آئے، انہوں نے اس کی رسّی کو پکڑا اور پینے لگے یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر حضرت عثمان آئے اور انہوں نے بھی ڈول کی رسّی پکڑ کر پانی کھینچا اور پی لیا یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32514، ترقيم محمد عوامة 31131)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31132 ترقیم الشثری: -- 32515
٣٢٥١٥ - حدثنا ابو اسامة عن ابن مبارك عن يونس عن الزهري عن حمزة ابن عبد الله عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"رايت في المنام كان الري يجري بين ظفري او اظفاري" (١) (قالوا) (٢) : ما اولته؟ قال: العلم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (ثم أعطيت فضلي عمر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (قال).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨١)، ومسلم (٢٣٩١).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ناخنوں کے درمیان تری چل رہی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا کہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ آپ نے فرمایا: میں نے اس سے علم مراد لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32515، ترقيم محمد عوامة 31132)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں