🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31202 ترقیم الشثری: -- 32587
٣٢٥٨٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا ابو (محلم) (١) الهمداني عن عامر قال: اتى رجل معاوية فقال: يا امير المؤمنين عدتك التي وعدتني؟ (قال) (٢) : وما وعدتك؟ قال: ان تزيدني مئة في عطائي، قال: ما فعلت؛ قال: بلى، قال: من يعلم ذلك؟ قال: الاسود او ابن الاسود، قال: ما يقول هذا يا ابن الاسود؟ قال: نعم، قد زدته فامر له بها، ثم إن معاوية ضرب بيديه إحداهما على الاخرى، فقال: ما بي، مئة زدتها رجلا، ولكن بي غفلتي: ان ازيد رجلا من المهاجرين مئة ثم انساها، فقال له ابن الاسود: يا امير المؤمنين فهو (آمن) (٣) عليها، قال: نعم، (قال) (٤) : فوالله ما زدته شيئا، ولكنه لا يدعوني رجل إلى خير يصيبه من ذي ⦗١١٠⦘ سلطان إلا شهدت له به، ولا شر اصرفه عنه من ذي سلطان إلا شهدت له به (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (محكم).
(٢) في [ك، م]: (فقال).
(٣) في [أ، هـ]: (أمر).
(٤) سقط من: [ب، ط].
(٥) صحيح.

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے امیرالمؤمنین! میرے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں نے تجھ سے کیا وعدہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے وظیفے میں سو درہم کا اضافہ فرمائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے کوئی کام کیا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا اس بات کو کون جانتا ہے؟ اس نے کہا اسود، یا کہا ابن الأسود، آپ نے فرمایا اے ابن الاسود یہ کیا کہتا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اے امیرالمؤمنین آپ نے اس کے وظیفے میں اضافہ فرمایا تھا، آپ نے اس اضافے کے دینے کا حکم فرما دیا، پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مجھے اس بات کا غم نہیں کہ میں نے کسی آدمی کے لئے سو دراہم کے اضافے کا حکم دے دیا، بلکہ مجھے اپنی غفلت کا افسوس ہے کہ میں نے مہاجرین کے ایک آدمی کے وظیفے میں سو دراہم کا اضافہ کیا اور پھر میں ان کو بھول گیا، اس پر ابن الأسود نے فرمایا: اے امیرالمؤمنین! کیا ان دراہم کے بارے میں وہ بےخوف رہے گا؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! انہوں نے کہا اللہ کی قسم آپ نے اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں فرمایا، لیکن جو شخص مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے لئے ان پیسوں کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی رئیس سے ملیں گے تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں، اسی طرح جو شخص مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں اس کے لئے کسی شر کے دور کرنے کے بارے میں گواہی دوں جو اس کو کسی صاحب منزلت آدمی سے پہنچنے کا خوف ہو تو میں اس کے لئے گواہی دیتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32587]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32587، ترقيم محمد عوامة 31202)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31203 ترقیم الشثری: -- 32588
٣٢٥٨٨ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثني الوليد بن كثير عن وهب بن كيسان قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لما كان عام الجماعة بعث معاوية إلى المدينة (بسر) (١) بن ارطاة ليبايع اهلها على راياتهم وقبائلهم، فلما كان يوم جاءته الانصار جاءته بنو (سلمة) (٢) فقال: افيهم جابر؟ قالوا: لا، قال: فليرجعوا، فإني لست مبايعهم حتى يحضر جابر، قال: فاتاني، فقال: ناشدتك الله إلا ما انطلقت معنا فبايعت فحقنت دمك ودماء قومك، فإنك إن لم تفعل قتلت مقاتلتنا وسبيت ذرارينا، قال: (فاستنظرتهم) (٣) إلى الليل، فلما امسيت دخلت على ام سلمة زوج النبي ﷺ فاخبرتها الخبر، فقالت: يا ابن (اخي) (٤) انطلق فبايع واحقن دمك ودماء قومك، فإني قد امرت ابن اخي يذهب فيبايع (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (بشر).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (سليم).
(٣) في [أ، هـ]: (فاستنظرهم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (أم).
(٥) صحيح.

حضرت وھب بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جماعت کے سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت بسر بن ارطاۃ رحمہ اللہ کو مدینہ منورہ بھیجا تاکہ وہ اہل مدینہ سے ان کے جھنڈوں اور قبیلوں کے اعتبار سے بیعت کرلیں، سو جس دن ان کے پاس انصار کے آنے کا دن تھا اس روز ان کے پاس بنو سلمہ آئے، انہوں نے کہا کیا ان لوگوں میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں، انہوں نے کہا چلو واپس چلے جاؤ، میں اس وقت تک ان سے بیعت نہیں لوں گا جب تک ان کے اندر حضرت جابر نہیں ہوں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہ لوگ میرے پاس آئے اور کہا ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر بیعت کریں تاکہ آپ کا اور ہمارے خون محفوظ ہوجائیں، اور کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے لڑ سکنے والے لوگ قتل کردیئے جائیں گے اور ہمارے بچے قید ہوجائیں گے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے رات تک مہلت مانگی، جب رات ہوئی تو میں حضرت ام اسلمہ زوجہ النبی 5 کے پاس گیا اور ان کو ساری بات بتائی، انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے! جاؤ اور بیعت کرلو اور اپنا اور اپنی قوم کے خون کا تحفظ کرو، کیونکہ میں نے بھی اپنے بھتیجے کو بیعت کا حکم دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32588]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32588، ترقيم محمد عوامة 31203)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31204 ترقیم الشثری: -- 32589
٣٢٥٨٩ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من اهل العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك، فإني احمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، اما بعد فإن لاهل طاعة الله ولاهل (الخير) (١) علامة يعرفون بها (ويعرف) (٢) فيهم من: الامر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة الله، واعلم ⦗١١١⦘ انما مثل الإمام مثل السوق ياتيه (من) (٣) زكا فيه، فإن كان برا (جاءه) (٤) اهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه اهل الفجور بفجورهم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخبرة)، وفي [ط]: (الجبرة).
(٢) في [م]: (تعرف).
(٣) في [هـ]: (ما).
(٤) في [ك]: (فجاءه).
(٥) صحيح.

وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تو عراق کے ایک آدمی نے ان کی طرف خط لکھا: ”السلام علیکم! میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد! اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار بندوں اور اہل خیر کی کچھ علامتیں ہیں جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ چیزیں ان میں نظر آتی ہیں، امر بالمعروف، نھی عن المنکر، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجا لانا، اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے، کہ اس میں اسی طرح کے لوگ آتے ہیں جس طرح کی اس کے اندر چیزیں ہوتی ہیں، اگر وہ اہل خیر ہو تو اس کے پاس بھی نیک لوگ آتے ہیں اور اگر وہ فاجر ہو تو اس کے پاس بھی فاسق و فاجر لوگ اپنے فسق و فجور کے ساتھ آتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32589]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32589، ترقيم محمد عوامة 31204)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31205 ترقیم الشثری: -- 32590
٣٢٥٩٠ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن سعيد بن وهب قال: كنت عند عبد الله بن الزبير فقيل له: إن المختار يزعم انه يوحى إليه فقال صدق ثم تلى: ﴿ (هل) (١) انبئكم على من تنزل (الشياطين) (٢) (٢٢١) تنزل على كل افاك اثيم﴾ (٣) [الشعراء: ٢٢١ - ٢٢٢] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، ك، م].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.

حضرت سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ان سے کہا گیا کہ مختار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر وحی آتی ہے، آپ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: { ہَلْ أُنَبِّئُکُمْ عَلَی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِینُ تَنَزَّلُ عَلَی کُلِّ أَفَّاکٍ أَثِیمٍ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32590]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32590، ترقيم محمد عوامة 31205)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31206 ترقیم الشثری: -- 32591
٣٢٥٩١ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن الاعمش عن (شمر) (١) عن انس قال: إنها ستكون ملوك ثم الجبابرة ثم الطواغيت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (شريك).
(٢) منقطع؛ شمر لم يسمع من أنس.

حضرت شمر، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ پہلے بہت سے بادشاہ ہوں گے، پھر جابر حکمران ہوں گے پھر سرکش سلاطین آئیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32591]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32591، ترقيم محمد عوامة 31206)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31207 ترقیم الشثری: -- 32592
٣٢٥٩٢ - حدثنا ابو اسامة عن ليث عن ابي نضرة قال: كنا (نحدث) (١) ان بني (فلان) (٢) يصيبهم قتل شديد، فإذا كان ذلك هرب منهم اربعة رهط إلى الروم، فجلبوا الروم على المسلمين.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (نتحدث).
(٢) في [ط]: (قلا).

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں سے یہ بیان کیا جاتا تھا کہ فلاں قبیلے کے لوگوں مین سخت ترین خون ریزی کی جائے گی، چناچہ جب ایسا ہوا تو ان میں سے چار آدمی روم کی طرف بھاگ گئے اور رومیوں کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے پر آمادہ کر لائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32592]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32592، ترقيم محمد عوامة 31207)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31208 ترقیم الشثری: -- 32593
٣٢٥٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن عمر بن حمزة قال: خبرني (سالم) (١) قال: لما ارادوا ان يبايعوا ليزيد بن معاوية قام مروان فقال: سنة ابي بكر الراشدة المهدية، فقام عبد الرحمن بن ابي بكر فقال: ليس بسنة ابي بكر (٢) قد ترك ابو بكر الاهل والعشيرة و (الاصل) (٣) وعمد إلى رجل من بني عدي بن كعب (إذ) (٤) راى انه لذلك اهل، فبايعه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) في [ط، هـ]: (الأصيل).
(٤) في [أ، ب، ك، م]: (إن)، وفي [ط]: (إنه).
(٥) ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.

حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں سے یزید بن معاویہ کے لئے بیعت لی جا رہی تھی اس دوران مروان کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مثالی طریقہ ہے، حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ نہیں، اور انہوں نے تو اپنے اہل و عیال اور قبیلے کے لوگ چھوڑ دیے تھے، اور بنی عدی بن کعب کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اس کام کا سب سے زیادہ اہل ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32593]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32593، ترقيم محمد عوامة 31208)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31209 ترقیم الشثری: -- 32594
٣٢٥٩٤ - [حدثنا ابو اسامة عن المجالد عن عامر قال: قال محمد بن الاشعث: إن لكل شيء دولة، حتى ان للحمق (على الحلم) (١) دولة] (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (في العلم).
(٢) سقط الخبر من: [ط].

حضرت عامر رحمہ اللہ، حضرت محمد بن أشعث رحمہ اللہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ ہر چیز کا باری باری غلبہ آتا ہے یہاں تک کہ حماقت کو بھی عقل مندی پر غلبہ آیا کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32594]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32594، ترقيم محمد عوامة 31209)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31210 ترقیم الشثری: -- 32595
٣٢٥٩٥ - حدثنا ابو اسامة عن عمر بن حمزة قال: اخبرني سالم عن ابيه ان عمر لما نزع شرحبيل بن حسنة قال: (يا) (١) عمر عن سخطة (نزعتني) (٢) ، قال: لا، ولكنا راينا من هو اقوى منك فتحرجنا من الله ان (نتركك) (٣) ، وقد راينا من هو اقوى منك، فقال له شرحبيل: فاعذرني، فقام عمر على المنبر فقال: (إنا) (٤) كنا ⦗١١٣⦘ استعملنا شرحبيل (بن) (٥) حسنة، ثم (نزعناه) (٦) (من) (٧) غير سخطة وجدتها عليه، ولكنا راينا من هو اقوى منه، (فتحرجنا) (٨) من الله ان نقره وقد راينا من هو اقوى منه، فنظر عمر من العشي إلى الناس وهم يلوذون (بالعامل) (٩) الذي استعمل، (و) (١٠) شرحبيل (محتب) (١١) وحده، فقال عمر: (اما) (١٢) الدنيا فإنها لكاع (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ك]: (أخبرنا)، وفي [أ، ط، هـ]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (نزعني).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (نقره).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٥) في [هـ]: (من).
(٦) في [ط]: (نزعنا).
(٧) في [ك، م]: (عن).
(٨) في [ط]: (فتخرجنا).
(٩) في [أ، ط، هـ]: (العامل).
(١٠) في [ط]: (أو).
(١١) في [أ، ط، هـ]: (يجيء).
(١٢) في [أ، ط، هـ]: (ما).
(١٣) ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو معزول کردیا تو انہوں نے عرض کیا اے عمر رضی اللہ عنہ! کیا آپ نے مجھے کسی ناراضی کے سبب معزول کردیا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن ہم نے آپ سے زیادہ قوت والا ایک آدمی دیکھا ہے، حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ پھر مجھے معذور رکھو، چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہم نے شرحبیل بن حسنہ کو عامل بنایا تھا پھر ہم نے بغیر کسی ناراضی کے ان کو معزول کردیا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمیں ان سے قوی شخص مل گیا، ہمیں اللہ تعالیٰ سے خوف آیا کہ ہم ان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھیں جب کہ ہمیں ان سے زیادہ قوی شخص مل گیا ہے، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے وقت دیکھا کہ وہ جا رہے ہیں اس عامل کے پاس جس کو عامل بنایا گیا تھا اور حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہاکیلے ہاتھ باندھے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا دنیا تو کمینی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32595]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32595، ترقيم محمد عوامة 31210)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31211 ترقیم الشثری: -- 32596
٣٢٥٩٦ - حدثنا ابو اسامة عن عمر بن حمزة عن محمد الكاتب ان عمر كان يقول: لا يصلح هذا الامر إلا شدة في غير تجبر (ولين) (١) في غير وهن (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) مجهول؛ لجهالة محمد الكاتب.

حضرت محمد رحمہ اللہ کاتب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کام کی اصلاح سختی کرسکتی ہے مگر بغیر جبر کے، اور نرمی کرسکتی ہے مگر بغیر کمزوری کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32596]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32596، ترقيم محمد عوامة 31211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں