مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31222 ترقیم الشثری: -- 32607
٣٢٦٠٧ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه قال: كان قيس بن عبادة (١) مع (علي) (٢) على مقدمته، ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية ابى قيس ان يدخل، فقال لاصحابه: ما شئتم، إن شئتم جالدت بكم ابدا حتى يموت الاعجل، وإن شئتم اخذت لكم امانا، فقالوا (له) (٣) : خذ لنا امانا، فاخذ لهم ان لهم كذا وكذا ولا يعاقبوا بشيء، و (اني) (٤) رجل منهم، ولم ياخذ لنفسه (خاصة) (٥) شيئا، فلما (ارتحل) (٦) نحو المدينة ومضى باصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو: قيس بن سعد بن عبادة.
(٢) زيادة (علي) من [أ، جـ، ك].
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ك]: (أنا)، وفي [ط، هـ]: (أتى)، وفي [س]: (أبي).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (ارتحلوا).
(٧) صحيح.
حضرت عروہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے لشکر کے اگلے حصّے میں رہے تھے، اور ان کے ساتھ پانچ ہزار افراد تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا، پس جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت میں داخل ہوگئے تو قیس نے داخل ہونے سے انکار کردیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے والا مرجائے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کرلوں، وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کرلیں، چناچہ انہوں نے ان کے لئے کچھ شرائط اور معاوضے کے ساتھ صلح کرلی، اور شرط ٹھہرائی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے، اور یہ کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا، اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی، جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلے تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32607]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32607، ترقيم محمد عوامة 31222)
ترقیم عوامۃ: 31223 ترقیم الشثری: -- 32608
٣٢٦٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن ابي جعفر ان عليا بلغه عن المغيرة بن شعبة (شيء) (١) فقال: لئن اخذته (لاتبعته) (٢) احجاره (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [م]: (لأتبعنّه).
(٣) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا.
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوئی نامناسب بات پہنچی، آپ نے فرمایا اگر میں اس کی پکڑ کرنا چاہوں تو اس کے پتھراسی کو جا لگیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32608]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32608، ترقيم محمد عوامة 31223)
ترقیم عوامۃ: 31224 ترقیم الشثری: -- 32609
٣٢٦٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن ابي جعفر ان فلانا شهد عند عمر فرد شهادته (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عمر.
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی کو ردّ کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32609]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32609، ترقيم محمد عوامة 31224)
ترقیم عوامۃ: 31225 ترقیم الشثری: -- 32610
٣٢٦١٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت ابي يحدث انه سمع عمرو بن العاص قال لما مات عبد الرحمن بن عوف قال: اذهب ابن عوف (ببطنتك) (١) لم يتغضغض منها شيء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ببطنك)، وفي [هـ]: (بطنتك).
(٢) صحيح.
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی فرمایا: جاؤ اے ابن عوف اپنی شکم سیری کی عادت کو لے کر، تم نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32610]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32610، ترقيم محمد عوامة 31225)
ترقیم عوامۃ: 31226 ترقیم الشثری: -- 32611
٣٢٦١١ - حدثنا ابو اسامة عن ابي جعفر قال: سمع (ابن سيرين) (١) رجلا يسب الحجاج، فقال ابن سيرين: إن الله حكم عدل ياخذ للحجاج ممن ظلمه، كما ياخذ لمن ظلم (٢) الحجاج.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (ابن الزبير).
(٢) في [هـ]: زيادة (من).
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت محمد بن سیرین نے ایک آدمی کو دیکھا کہ حجاج کو برا بھلا کہہ رہا ہے آپ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والے ہیں اور عادل ہیں، حجاج کا بدلہ لیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے اس پر ظلم کیا جیسا کہ حجاج سے جن لوگوں پر اس نے ظلم کیا ہے ان کا بدلہ لیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32611]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32611، ترقيم محمد عوامة 31226)
ترقیم عوامۃ: 31227 ترقیم الشثری: -- 32612
٣٢٦١٢ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (١) سفيان قال: حدثني ابو الجحاف قال: اخبرني معاوية بن ثعلبة قال: اتيت محمد بن الحنفية فقلت: إن رسول المختار اتانا يدعونا، قال: فقال لي: لا تقاتل، إني لاكره ان (ابتر) (٢) هذه الامة امرها، او آتيها من غير وجهها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبو).
(٢) في [م]: (أيتنر)، وفى [ط]: (تبر).
معاویہ بن ثعلبہ فرماتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مختار کا قاصد ہمارے پاس آیا ہے وہ ہمیں بلاتا ہے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قتال مت کرو میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس امّت کے معاملے کو چھین لوں یا ان پر ناحق حکمرانی کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32612]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32612، ترقيم محمد عوامة 31227)
ترقیم عوامۃ: 31228 ترقیم الشثری: -- 32613
٣٢٦١٣ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن الحارث الازدي قال: قال ابن الحنفية: رحم الله امرءا اغنى نفسه وكف يده وامسك لسانه وجلس في بيته، له ما احتسب، وهو مع من احب.
حضرت حارث ازدی سے روایت ہے کہ محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائیں جو اپنے نفس کو غنی رکھے اور اپنا ہاتھ روک کر رکھے، اور اپنی زبان بند رکھے، اور اپنے گھر میں بیٹھ رہے کہ اس کے لئے جو اس نے کیا اور وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کے ساتھ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32613]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32613، ترقيم محمد عوامة 31228)
ترقیم عوامۃ: 31229 ترقیم الشثری: -- 32614
٣٢٦١٤ - حدثنا ابن فضيل عن رضي بن ابي عقيل عن ابيه قال: كنا على باب ابن الحنفية بالشعب فخرج ابن (له) (١) ذؤابتان فقال: يا معشر الشيعة، إن ابي ⦗١١٩⦘ يقرئكم السلام قال: فكانما كانت على رؤوسهم الطير، قال: إن ابي يقول: إنا لا نحب اللعانين ولا المفرطين ولا (المستعجلين) (٢) بالقدر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [جـ، م].
(٢) في [ك]: (المستعجلي).
ابو عقیل فرماتے ہیں کہ ہم ایک گھاٹی میں حضرت محمد ابن حنفیہ کے دروازے پر تھے، ان کا بیٹا گھر سے نکلا جس کے دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں اس نے کہا اے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی جماعت! میرے والد صاحب آپ کو سلام کہتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس طرح مؤدّب ہوگئے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، پھر اس نے کہا میرے والد صاحب فرماتے ہیں کہ ہم لعنت کرنے والوں، حد سے تجاوز کرنے والوں اور تقدیر کے فیصلے میں جلدی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32614]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32614، ترقيم محمد عوامة 31229)
ترقیم عوامۃ: 31230 ترقیم الشثری: -- 32615
٣٢٦١٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابيه عن منذر عن ابن الحنفية قال: لو ان عليا ادرك امرنا هذا كان هذا موضع (رحله) (١) -يعني الشعب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (رجله).
محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہماری اس حالت کو دیکھتے تو ان کے کجاوے کی جگہ یہ گھاٹی ہوتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32615]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32615، ترقيم محمد عوامة 31230)
ترقیم عوامۃ: 31231 ترقیم الشثری: -- 32616
٣٢٦١٦ - حدثنا محمد بن الحسن الاسدي عن شريك عن ابي إسحاق عن ابن الزبير قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا منهم: العنسي ومسيلمة (و) (١) المختار" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (هو).
(٢) ضعيف؛ لضعف محمد بن الحسن الأسدي، أخرجه أبو يعلى (٦٨٢٠)، وابن عدي ١٦/ ٧٣، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٧٣، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٤٨١، وابن الجوزي في العلل (٤٧٢).
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس جھوٹے ظاہر نہ ہوجائیں، انہی میں سے ہیں اسود عنسی، مسیلمہ اور مختار۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32616]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32616، ترقيم محمد عوامة 31231)