🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31232 ترقیم الشثری: -- 32617
٣٢٦١٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان بن سعيد عن ابي الجحاف عن (١) موسى بن عمير عن ابيه قال: امر الحسين مناديا فنادى، فقال: لا (يقبلن) (٢) رجل معي عليه دين، فقال رجل: ضمنت امراتي ديني، فقال: ما ضمان امراة؟ قال: ونادى في الموالي: فإنه بلغني انه لا يقتل رجل لم يترك وفاء إلا دخل النار (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [ب]: (يقاتلن)، وفي [أ، هـ]: (يقتلن).
(٣) مجهول؛ لجهالة موسى بن عمير وأبيه.

حضرت عمیر سے روایت ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک منادی کو حکم دیا کہ یہ اعلان کر دے: کہ میرے ساتھ وہ آدمی نہ آئے جس پر قرضہ ہو، ایک آدمی نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو اپنے قرض کا ضامن بناتا ہوں، آپ نے فرمایا عورت کے ضمان کا کیا حاصل ہے؟ راوی فرماتے ہیں کہ آپ نے آزاد شدہ غلاموں میں یہ منادی کروائی کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ جو آدمی ایسی حالت میں قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال چھوڑا ہو جس سے قرضہ ادا کیا جاسکے وہ آدمی جہنم میں جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32617]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32617، ترقيم محمد عوامة 31232)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31233 ترقیم الشثری: -- 32618
٣٢٦١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال حدثنا سفيان عن (الزبير) (١) (بن) (٢) عدي قال: قال لي إبراهيم: إياك ان تقتل مع (قتيبة) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (الزهري).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [هـ]: (قصبة).

حضرت زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابراہیم نے فرمایا کہ تم اس بات سے بچو کہ تم فتنے کے ساتھ قتل کیے جاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32618]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32618، ترقيم محمد عوامة 31233)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31234 ترقیم الشثری: -- 32619
٣٢٦١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت مسعرا يذكر عن إبراهيم بن محمد ابن المنتشر ان مسروقا كان يركب كل جمعة بغلة له، ويجعلني خلفه، فياتي كناسة بالحيرة قديمة، فيحمل عليها بغلته ثم يقول: الدنيا تحتنا.
ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ مسروق رضی اللہ عنہ ہر جمعے اپنے خچر پر سوار ہوتے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھاتے پھر مقام حیرہ کے گندگی کے ڈھیر پر آتے اور اس پر اپنے گدھے کو کھڑا فرماتے اور پھر کہتے ہیں کہ دنیا ہمارے نیچے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32619]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32619، ترقيم محمد عوامة 31234)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31235 ترقیم الشثری: -- 32620
٣٢٦٢٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت حميد بن (عبد الله) (١) الاصم يذكر عن ام راشد جدته قالت: كنت عند ام هانئ فاتاها علي (فدعت) (٢) له بطعام، (قال) (٣) : ونزلت فلقيت رجلين في الرحبة فسمعت احدهما يقول لصاحبه: بايعته ايدينا ولم تبايعه قلوبنا، قالت: فقلت: من هذان الرجلان؟ قالوا: طلحة والزبير، (قلت) (٤) : (فإني) (٥) سمعت احدهما يقول لصاحبه: بايعته (ايدينا ولم تبايعه) (٦) قلوبنا، فقال علي: ﴿فمن نكث فإنما ينكث على نفسه ومن اوفى بما عاهد عليه الله (فسيؤتيه) (٧) اجرا عظيما﴾ [الفتح: ١٠] (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: (عبد الرحمن)، وسيأتي ١٥/ ٧٣، و ١٢٥: (عبد اللَّه)، وهو كذلك في كتب التراجم، وسيأتي ١٥/ ٢٦٢ برقم [٤٠٥٨٠].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فدعى).
(٣) في [هـ]: (قالت).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط]: (قال)، وفي [هـ]: (قالت).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [جـ، م]: (فستؤتيه)، وفي [هـ]: (فسيؤتيه اللَّه).
(٨) مجهول؛ لجهالة أم راشد.

حضرت ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں امّ ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ ان کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے ان کو کھانے کی دعوت دی اور فرمانے لگیں کہ میں میدان کی طرف اتری اور میں نے دو آدمی دیکھے تو میں نے ان میں سے ایک کو سنا کہ دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ دو آدمی کون ہیں؟ لوگ کہنے لگے طلحہ اور زبیر، فرماتی ہیں کہ میں نے ان کو یہی کہتے ہوئے سنا کہ اس آدمی سے ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص نے عہد شکنی کی ا س کی عہد شکنی کا نقصان اسی کو ہوگا اور جس نے اس وعدے کو پورا کیا جس کو اس نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا تو عنقریب وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32620، ترقيم محمد عوامة 31235)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31236 ترقیم الشثری: -- 32621
٣٢٦٢١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (جعفر) (١) عن ابيه عن علي بن حسين قال: حدثني ابن (عباس) (٢) قال: ارسلني علي إلى طلحة والزبير يوم الجمل، قال: فقلت لهما: إن اخاكم،، ايقرئكما السلام، ويقول لكما: هل وجدتما علي في حيف (في حكم) (٣) او في (استئثار في فيء) (٤) او في كذا؟ (او في كذا) (٥) (قال: فقال الزبير) (٦) : لا، ولا في واحدة منهما، ولكن مع الخوف شدة المطامع (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ط، ك، هـ]: (أبي جعفر)، وانظر: فضائل الصحابة لأحمد (١٠١٥)، وتاريخ دمشق ١٨/ ٤١٠.
(٢) في [أ، ط، هـ]: (عثمان).
(٣) زيادة من [جـ، ك، م]: (في حكم).
(٤) في [ط]: (استيثار عن فيء).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) في [جـ، م]: (قال: فقال: ابن الزبير)، وفي [ك]: (قال: قال: ابن الزبير).
(٧) صحيح.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف جنگ جمل کے دن قاصد بنا کر بھیجا، میں نے ان دونوں سے کہا، آپ کے بھائی آپ کو سلام کہتے ہیں اور آپ سے فرماتے ہیں کہ کیا آپ کو مجھ پر کسی معاملے کے فیصلے میں ظلم کرنے پر ناراضگی ہے یا کسی مال غنیمت پر اپنا قبضہ کرنے کے بارے میں یا فلاں فلاں بات میں؟ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے، بلکہ کچھ ایسا خوف ہے جس کے ساتھ سخت نوع کی طمع جمع ہوگئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32621]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32621، ترقيم محمد عوامة 31236)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31237 ترقیم الشثری: -- 32622
٣٢٦٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن ابي (صادق) (١) عن (حنش) (٢) الكناني عن (عليم) (٣) الكندي عن سلمان قال: (ليحرقن) (٤) هذا البيت على يد رجل من آل الزبير (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (طارق).
(٢) في [هـ]: (حسن).
(٣) في [أ، هـ]: (علم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (ليخربن).
(٥) ضعيف؛ حنش بن المعتمر ضعيف على الأرجح، أخرجه عبد الرزاق (٩١٨٤)، والأزرقي ١/ ١٩٧، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢١.

حضرت علیم کندی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ یہ بیت اللہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی آل میں سے ایک آدمی کے ہاتھوں جلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32622]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32622، ترقيم محمد عوامة 31237)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31238 ترقیم الشثری: -- 32623
٣٢٦٢٣ - [حدثنا ابو بكر بن عياش عن ابي حصين قال: ما اريت رجلا هو (اسب) (١) منه يعني ابن الزبير] (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (أشد).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ح، ط، هـ].

حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص برا بھلا کہنے والا نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32623]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32623، ترقيم محمد عوامة 31238)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31239 ترقیم الشثری: -- 32624
٣٢٦٢٤ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن الاجلح قال: قلت لعامر: إن الناس يزعمون ان الحجاج مؤمن، فقال: وانا (اشهد) (١) انه مؤمن بالطاغوت كافر بالله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: (شاهد).
اجلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے عرض کیا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حجّاج مؤمن ہے؟ فرمایا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ وہ طاغوت و شیطان پر ایمان لانے والا ہے اور اللہ کے احکام کا انکار کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32624، ترقيم محمد عوامة 31239)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31240 ترقیم الشثری: -- 32625
٣٢٦٢٥ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن عاصم قال: ما رايت ابا وائل (سب) (١) دابة قط إلا الحجاج مرة واحدة، فإنه ذكر بعض صنيعه فقال: اللهم اطعم الحجاج (طعاما) (٢) من ضريع لا يسمن ولا يغني من جوع، قال: ثم تداركها بعد فقال: إن كان ذلك اب إليك، فقلت: اتشك في الحجاج؟ قال: و (نعد) (٣) ذلك ذنبا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (ساب).
(٢) زياد من [ك، م]: (طعامًا).
(٣) في [م]: (تعد).

حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو وائل رحمہ اللہ کو کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے زمین پر چلنے والے کسی ذی روح کو برا بھلا کہا ہو سوائے حجاج کے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس کی بدعملیوں کا ذکر کر کے فرمایا اے اللہ! حجاج کو ضریع نامی جھاڑ میں سے کھلا ایسا کھانا جو نہ فربہ کرے اور نہ بھوک مٹائے، فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے بطور تدارک کے فرمایا: اگر آپ اس بات کو پسند فرمائیں، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو حجاج کے بارے میں ابھی تک شک ہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات کے اضافے کو گناہ سمجھتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32625]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32625، ترقيم محمد عوامة 31240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31241 ترقیم الشثری: -- 32626
٣٢٦٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت ابي (يقول) (١) : قال: بلغ علي بن ابي طالب ان طلحة يقول: إنما بايعت واللج (٢) على قفاي، فارسل ابن عباس فساله، قال: فقال اسامة: اما اللج على قفاه فلا، ولكن (قد) (٣) بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا ان يقتلوه، قال: ⦗١٢٣⦘ فخرج صهيب وانا إلى جنبه (فالتفت) (٤) إلي فقال: قد علمت ان ام عوف (حائنة) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك، م].
(٢) أي: السيف.
(٣) زيادة (قد) من: [م، ك].
(٤) في [ك]: (والتفت).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (خائنة)، وأم عون حائنة، أي: أن الجرادة مهلكة، وهو مثل يضرب للأمر القليل يكون به العطب.
(٦) صحيح.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ میری گدّی پر تلوار رکھی ہوئی تھی، آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے ان سے اس بات کی حقیقت پوچھی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گدّی پر تلوار تو نہیں تھی لیکن دراصل بات یہ ہے کہ انہوں ایسی حالت میں بیعت کی ہے کہ وہ مجبور کیے گئے تھے، چناچہ لوگ ان پر پل پڑے قریب تھا کہ ان کو جان سے مار ڈالتے، فرماتے ہیں کہ پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور میں ان کے پہلو میں تھا، انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا تم جانتے ہو کہ ٹڈّی ہلاک ہو کر ہی رہتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32626]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32626، ترقيم محمد عوامة 31241)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں