🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31242 ترقیم الشثری: -- 32627
٣٢٦٢٧ - (١) حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش قال: دخلنا على ابن ابي الهذيل فقال: قتلوا عثمان ثم (جاؤني) (٢) ، فقلت له: اتريبك نفسك؟.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: زيادة (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) في [ك، م]: (أتوني).

اعمش فرماتے ہیں کہ ہم ابن ابی ہذیل کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا پھر میرے پاس آئے تو میں نے کہا آپ کا دل آپ کو کچھ پریشان کر رہا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32627، ترقيم محمد عوامة 31242)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31243 ترقیم الشثری: -- 32628
٣٢٦٢٨ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن عنترة قال: سمعت ابا عبيدة يقول: كيف ارجو الشهادة بعد قولي: ارايت (اباك) (١) (يزجر) (٢) زجر الاعراب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (إياك).
(٢) في [أ، هـ]: (تزجر).

ہارون بن عنترہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں شہادت کی تمنا کیسے کروں میرے اس بات کے کہنے کے بعد کہ کیا تم نے اپنے باپ کو دیکھا ہے کہ اسے اعرابیوں کی طرح ڈانٹ پلائی جا رہی تھی؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32628، ترقيم محمد عوامة 31243)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31244 ترقیم الشثری: -- 32629
٣٢٦٢٩ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن عنترة عن سليم بن حنظلة قال: اتينا ابي بن كعب لنتحدث معه فلما قام يمشي (قمنا لنمشي) (١) معه، فلحقه عمر فرفع عليه الدرة، فقال: يا امير المؤمنين اعلم ما تصنع؟ قال: ما ترى: فتنة للمتبوع (مذلة) (٢) للتابع (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قمنا نمشي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (ذلة).
(٣) حسن؛ سليم بن حنظلة صدوق.

حضرت سلیم بن حنظلہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابی ّ بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تاکہ ان سے بات چیت کریں، جب آپ چلنے کے لئے کھڑے ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ چلنے کے لئے کھڑے ہوگئے، چناچہ ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے ان پر درّہ اٹھا لیا انہوں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا تم یہ دیکھ نہیں رہے؟ یہ چیز آگے چلنے والے کے لئے فتنہ ہے اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلّت کی بات ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32629، ترقيم محمد عوامة 31244)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31245 ترقیم الشثری: -- 32630
٣٢٦٣٠ - حدثنا ابن إدريس عن مسعر عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: جاء رجل إلى كعب بن عجرة فجعل يذكر عبد الله بن ابي وما نزل فيه ⦗١٢٤⦘ من القرآن (ويعيبه) (١) ، وكان بينه وبينه حرمة (وقرابة) (٢) ، وكعب ساكت، قال: فانطلق الرجل إلى عمر فقال: يا امير المؤمنين، الم تر اني ذكرت ما نزل في عبد الله بن ابي، فلم يكن من كعب، فالتقى عمر كعبا فقال: الم اخبر ان عبد الله بن ابي ذكر عندك فلم يكن منك، قال كعب: قد سمعت مقالته، فلما رايته (كانه) (٣) يعمد (مساءتي) (٤) (كرهت ان اعينه على مساءتي) (٥) ، قال: فقال عمر: وددت (ان) (٦) لو ضربت انفه، او وردت (ان) (٧) لو كسرت انفه (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (ويسبه).
(٢) في [جـ]: (قراه).
(٣) في [ط]: (كان).
(٤) في [ط]: (سماتي).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) في [هـ]: (أني).
(٨) صحيح.

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عبد اللہ بن اُبیّ کے بارے میں قرآن میں جو کچھ نازل ہوا بیان کرنے لگا اور اس کی عیب گوئی کرنے لگا، ان دونوں کے درمیان احترام اور قرابت داری کا معاملہ بھی تھا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ خاموشی سے سنتے رہے، اس کے بعد وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پاس گیا اور کہا اے امیر المومنین میں آپ کو بتاؤں کہ میں نے حضرت کعب کے سامنے عبد اللہ بن ابی ّ کے بارے میں جو قرآن میں نازل ہوا ہے بیان کیا لیکن انہوں نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ آپ کے پاس عبد اللہ بن ابی ّ کا ذکر کیا گیا آپ نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا؟ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس کی بات سن لی تھی جب میں نے دیکھا کہ وہ جان بوجھ کر میری عیب جوئی کرنا چاہ رہا ہے کہ تو میں نے نامناسب سمجھا کہ اپنے عیب پر اس کی مدد کروں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا ہوتا اگر تم اس کی ناک پر مار دیتے، یا فرمایا کہ اچھا ہوتا کہ تم اس کی ناک توڑ ڈالتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32630، ترقيم محمد عوامة 31245)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31246 ترقیم الشثری: -- 32631
٣٢٦٣١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن هارون بن ابي إبراهيم عن عبد الله بن عبيد بن عمير ان الاشتر وابن الزبير التقيا فقال ابن الزبير: ما ضربته (إلا) (١) ضربة حتى ضربني خمسا او ستا، ثم قال: فالقاني (برجلي) (٢) ، ثم قال: (اما والله) (٣) لولا قرابتك من رسول الله ﷺ ما تركت منك عضوا مع صاحبه، قال: وقالت عائشة: (واثكل) (٤) اسماء، قال: فلما كان بعد اعطت الذي بشرها انه حي عشرة آلاف (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (برجل).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [ب]: (وأثكل)، وفي [ط]: (فأثكل).
(٥) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ اشتر اور ابن زبیر کی ملاقات ہوئی، ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس کو ایک ہی ضرب لگائی تھی کہ اس نے مجھے پانچ یا چھ ضربیں لگائیں پھر مجھے میرے پاؤں کی طرف گرا دیا اور پھر کہا بخدا اگر تمہاری رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ داری نہ ہوتی تو میں تیرا جوڑ جوڑ علیحدہ کردیتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ نے یہاں تک فرما دیا تھا کہ ہائے اسماء کی بربادیِ! فرماتے ہیں کہ بعد میں جس آدمی نے انہیں میرے زندہ ہونے کی خبر دی انہوں نے اس کو دس ہزار درہم انعام میں عنایت فرمائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32631، ترقيم محمد عوامة 31246)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31247 ترقیم الشثری: -- 32632
٣٢٦٣٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابيه عن عبد الله بن ابي السفر عن الشعبي قال: ما علمت (ان) (١) احدا انتصف من شريح إلا اعرابي، قال له شريح: إن لسانك اطول من يدك، فقال الاعرابي: اسامري انت فلا تمس؟ قال له شريح: اقبل قبل امرك، قال: ذاك (اعملني) (٢) إليك، (قال) (٣) : فلما اراد ان يقوم قال له شريح: إني لم اردك بقولي، (قال) (٤) : ولا (اجترمت) (٥) عليك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (أهلني)، والمراد: أن هذا سبب قدومي عليك.
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك، م].
(٤) زيادة (قال) من: [جـ، ك، م].
(٥) أي: أسأت، وفي [هـ]: (اجتريت).

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ اس نے حضرت شریح سے انتقام لیا ہو سوائے ایک اعرابی کے، شریح نے اس سے فرمایا کہ تمہاری زبان تمہارے ہاتھ سے زیادہ لمبی ہے تو اعرابی نے کہا: کیا تم سامری ہو کہ تمہیں ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا؟ حضرت شریح نے فرمایا: اپنے معاملے کی ہوش لو، اس نے جواب دیا کہ میرا معاملہ ہی مجھے آپ کے پاس لایا ہے جب حضرت شریح رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے لگے تو فرمایا میں نے اپنی بات سے تمہیں مراد نہیں لیا تھا، اس اعرابی نے کہا کہ میں نے بھی آپ کا کوئی گناہ نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32632]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32632، ترقيم محمد عوامة 31247)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31248 ترقیم الشثری: -- 32633
٣٢٦٣٣ - حدثنا ابن إدريس عن الاعمش عن (شمر) (١) بن عطية ان ابن مخنف الازدي جلس إلى علي قال: فقال له (علي) (٢) : اقرا، فقرا سورة البقرة (فما) (٣) فرغ منها حتى (شق) (٤) علي، قال: فبعثه إلى (اصبهان) (٥) ، قال: فاخذ ما اخذ وحمل بقية المال إلى معاوية (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (شهر).
(٢) زيادة (علي) من: [جـ، ك، م].
(٣) في [أ، ب]: (فلما).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (سبق).
(٥) في [ط]: (أجهان).
(٦) منقطع؛ شمر لم يدرك ذلك.

شمر بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ابن مخنف ازدی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے آپ نے اس سے فرمایا پڑھو، اس نے سورة بقرہ شروع کردی، ان کے فارغ ہونے سے پہلے میں مشقت محسوس کرنے لگا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اصفہان کی طرف بھیجا، انہوں جتنا مال چاہا لے لیا اور باقی حضرت معاویہ کے پاس بھیج دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32633]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32633، ترقيم محمد عوامة 31248)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31249 ترقیم الشثری: -- 32634
٣٢٦٣٤ - حدثنا ابن إدريس عن عبد العزيز بن سياه عن حبيب بن ابي ثابت عن ثعلبة بن يزيد الحماني قال: سمعت عليا على هذا المنبر يقول: (١) ايها الناس ⦗١٢٦⦘ (اعينوني) (٢) على انفسكم، فإن كانت القرية ليصلحها السبعة، وإن كنتم لا بد منتهبيه (فهلم) (٣) حتى اقسمه بينكم، فإن القوم متى نزلوا بالقوم (يضربوا) (٤) وجوههم (عن) (٥) قريتهم (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (يا).
(٢) في [ط، هـ]: (أعينوا).
(٣) في [هـ]: (فهلموا).
(٤) في [أ، هـ]: (تضربوا).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (على).
(٦) ضعيف؛ لضعف ثعلبة بن يزيد الحماني.

حضرت ثعلبہ بن یزید حمّانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس منبر سے یہ فرماتے سنا! اے لوگو! اپنی جانوں پر میری مدد کرو تو پوری بستی کی اصلاح کے لئے سات آدمی کافی ہیں، اور اگر تم ضرور اس میں لوٹ مار مچانا ہی چاہتے ہو تو آؤ میں اس کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا ہوں، کیونکہ جب کوئی قوم کسی قوم کے پاس آ کر ٹھہرتی ہے تو ان کے چہروں کو ان کی بستی سے پھیر دیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32634]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32634، ترقيم محمد عوامة 31249)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31250 ترقیم الشثری: -- 32635
٣٢٦٣٥ - حدثنا ابن إدريس عن ليث قال: مر (ابن) (١) عمر بحذيفة فقال حذيفة: لقد جلس اصحاب رسول الله ﷺ مجلسا ما منهم من احد إلا اعطى من دينه إلا هذا الرجل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة (ابن) من: [م].
(٢) ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف ولم يدرك حذيفة.

حضرت لیث سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک مجلس میں بیٹھے ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے اپنا دین کچھ نہ کچھ دے نہ دیا ہو سوائے اس آدمی کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32635]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32635، ترقيم محمد عوامة 31250)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31251 ترقیم الشثری: -- 32636
٣٢٦٣٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن ابن ميناء عن المسور بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (احد) (٢) اصابعي في جرحه -هذه (او هذه) (٣) - وهو يقول: يا معشر قريش إني لا اخاف الناس عليكم، إنما (اخافكم) (٤) على الناس، وإني قد تركت فيكم اثنتين لم تبرحوا بخير ما لزمتموها: العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم على مثل ⦗١٢٧⦘ (مخرفة) (٥) (الغنم) (٦) إلا ان يعوج قوم فيعوج بهم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك، م]: (سعيد).
(٢) في [جـ، ك، م]: (إحدى).
(٣) زيادة (أو هذه) من: [جـ، ك، م].
(٤) في [أ، ط، هـ]: (أخاف).
(٥) في [م]: (مخرقة)، وفي [ك]: (محرمة)، وفي [أ، هـ]: (محرقة).
(٦) كذا في النسخ، وورد (النعم) في سنن البيهقي ١٠/ ١٣٤، وتاريخ واسط ص ٥٠، وغريب الحديث لأبي عبيد ١/ ٨١، والفائق ١/ ٣٦٠، والنهاية ٢/ ٢٤.
(٧) صحيح.

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان سنا جبکہ میری ایک انگلی پر یا یہ ان کے زخم پر تھی: کہ اے قریش کی جماعت! مجھے تم پر لوگوں کا خوف نہیں بلکہ مجھے لوگوں پر تمہارا خوف ہے، اور میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے عمل پیرا رہو گے بھلائی میں رہو گے، ایک فیصلے میں انصاف کرنا، دوسرے تقسیم میں انصاف کرنا اور میں تمہیں چوپایوں کے راستوں جیسے ایک وسیع اور نرم راستے پر چھوڑ رہا ہوں الّا یہ کہ کوئی قوم خود ہی ٹیڑھی ہوجائے تو ان کو ٹیڑھا کردیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32636]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32636، ترقيم محمد عوامة 31251)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں