🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31262 ترقیم الشثری: -- 32647
٣٢٦٤٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الربيع بن ابي صالح قال: لما قدم سعيد بن جبير من مكة إلى الكوفة لينطلق به إلى الحجاج إلى واسط، قال: (فاتيناه) (١) ونحن ثلاثة نفر او اربعة، فوجدناه في كناسة الخشب فجلسنا إليه فبكى رجل منا، فقال له سعيد: ما يبكيك؟ قال: ابكي للذي نزل بك من الامر، قال: فلا تبك فإنه قد كان سبق في علم الله يكون هذا ثم قرا: ﴿ما اصاب من مصيبة في الارض ولا في انفسكم إلا في كتاب من قبل ان نبراها إن ذلك على الله يسير﴾ [الحديد: ٢٢] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (فأتيته).
ربیع بن ابی صالح فرماتے ہیں کہ جب سعید بن جبیر مکہ سے کوفہ آئے تاکہ ان کو واسط میں حجاج کے پاس لے جایا جائے تو ہم تین یا چار آدمی ان کے پاس آئے تو ہم نے ان کو لکڑی کے ایک ڈھیر میں بیٹھا ہوا پایا۔ ہم ان کے پاس بیٹھے تو ہم میں سے ایک آدمی رو پڑا، سعید نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز رلاتی ہے؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مصیبت پر رو رہا ہوں، آپ نے فرمایا نہ روؤ کیونکہ اللہ کے علم میں پہلے سے یہ بات ہے کہ اس طرح ہوگا، پھر آپ نے پڑھا { مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الأَرْضِ، وَلاَ فِی أَنْفُسِکُمْ إلاَّ فِی کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَہَا إنَّ ذَلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیرٌ}(زمین میں اور تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے ہمارے اس زمین کو پیدا کرنے سے پہلے، بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32647]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32647، ترقيم محمد عوامة 31262)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31263 ترقیم الشثری: -- 32648
٣٢٦٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن ثابت بن (هرمز) (١) عن عباد قال: اتى المختار علي بن ابي طالب بمال من المدائن، وعليها عمه سعد بن مسعود قال: فوضع المال بين يديه وعليه مقطعة حمراء، قال: فادخل يده فاستخرج كيسا فيه نحو من خمس (عشرة) (٢) مائة، قال: هذا من اجور المومسات، قال: فقال علي: لا حاجة لنا في اجور المومسات، قال: وامر بمال ⦗١٣١⦘ المداين فرفع إلى بيت المال، قال: فلما ادبر قال له علي: (قاتله) (٣) الله، لو شق على قلبه لوجد ملآن من حب اللات والعزى (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في كتب الرجال: (هريمز)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ١٧١، والجرح والتعديل ٢/ ٤٥٨، والثقات ٦/ ١٢٤.
(٢) في [ط]: (عشر).
(٣) سقط من: [أ، هـ].
(٤) منقطع، وعباد ورد الخبر بدون ذكره في المقتنى ١/ ٦٤، والإصابة ٦/ ٣٤٩، والشعور بالعور ص ٢١٥.

عباد فرماتے ہیں کہ مختار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مدائن سے ما ل لے کر آیا اور مدائن پر اس کے چچا سعد بن مسعود حاکم تھے، راوی کہتے ہیں کہ اس نے ان کے سامنے مال رکھا اس پر سرخ رنگ کی چادر پڑی تھی، اس نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا اور ایک تھیلی اس میں سے نکالی جس میں تقریباً پندرہ سو درہم تھے، کہنے لگا کہ یہ زانیہ عورتوں کی اجرتیں ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں زانیہ عورتوں کی اجرتوں کی کوئی ضرورت نہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر مدائن کے مال کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا اور جب مختار چلا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کو غارت کرے اگر اس کا سینہ چیر کر دیکھا جائے تو لات اور عزّیٰ کی محبت سے بھرا ہوا ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32648]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32648، ترقيم محمد عوامة 31263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31264 ترقیم الشثری: -- 32649
٣٢٦٤٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا داود عن الحسن عن الزبير بن العوام في هذه الآية: ﴿واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم (خاصة) (١) ﴾ [الانفال: ٢٥] ، قال: لقد نزلت (وما) (٢) ندري من (يخلف) (٣) لها، قال: فقال بعضهم: يا ابا عبد الله، فلم جئت إلى البصرة؟ قال: ويحك إنا نبصر ولكنا لا نصبر (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (ولا).
(٣) في [ك]: (خلف).
(٤) منقطع؛ الحسن لم يسمع من الزبير، أخرجه أحمد (١٤٣٨)، والنسائي في الكبرى (١١٢٠٦)، وابن جرير في التفسير ١٣/ ٤٧٤، والبزار (٩٧٦)، والطيالسي (١٩٢).

حضرت حسن حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ { وَاتَّقُوا فِتْنَۃً لاَ تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً } نازل ہوئی اور ہم یہ نہیں جانتے کہ اس فتنے کا پیچھا کون کرے؟ راوی کہتے ہیں کہ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ! پھر آپ بصرہ کیوں آگئے؟ آپ نے فرمایا تیرا ناس ہو ہم خوب دیکھتے ہیں لیکن ہم صبر نہیں کر پاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32649]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32649، ترقيم محمد عوامة 31264)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31265 ترقیم الشثری: -- 32650
٣٢٦٥٠ - حدثنا (عفان قال: اخبرنا) (١) ابو عوانة عن المغيرة عن قدامة بن (عتاب) (٢) قال: رايت عليا يخطب فاتاه آت فقال: يا امير المؤمنين ادرك بكر بن وائل فقد ضربتها بنو تميم بالكناسة، قال علي: هاه، ثم اقبل على خطبته، ثم اتاه آخر فقال مثل ذلك، فقال: آه، ثم اتاه الثالثة او الرابعة فقال: ادرك بكر بن وائل، فقد ضربتها بنو تميم (هي) (٣) بالكناسة، فقال: (الا) (٤) صدقتني سن ⦗١٣٢⦘ (بكرك) (٥) يا شداد ادرك (بكر) (٦) بن وائل (وبني) (٧) تميم (فافرع) (٨) بينهم (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ط، هـ].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (غياث).
(٣) سقط من: [جـ، ك، م].
(٤) في [ك، م]: (آلآن).
(٥) في [أ، ح، ط، هـ]: (بكر).
(٦) سقط من: [ط].
(٧) في [أ، ب، ط]: (والي).
(٨) في [ط، ك، م]: (فافنرع)، وفي [هـ]: (فأقرع).
(٩) مجهول؛ قدامة بن عتاب مجهول.

قدامہ بن عتاب فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ فرما رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا اے امیر المؤمنین! بکر بن وائل کی مدد کو پہنچو کیونکہ ان کو مقام کُناسہ میں بنو تمیم نے مار ہی ڈالا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آہ لی اور پھر خطبے کی طرف متوجہ ہوگئے، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے بھی آہ کیا، پھر وہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آیا اور وہی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا کہ اے شداد! اب تو نے میرے ساتھ سچائی کا برتاؤ کیا، بکر بن وائل اور بنو تمیم کے پاس پہنچو اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32650]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32650، ترقيم محمد عوامة 31265)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31266 ترقیم الشثری: -- 32651
٣٢٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا العوام بن حوشب عن إبراهيم مولى صخر عن ابي وائل قال: بدث إلي الحجاج فقدمت عليه (الاهواز) (١) (قال) (٢) لي: ما معك من القرآن؟ قال: قلت: (معي) (٣) ما إن اتبعته كفاني، قال: إني اريد ان استعين بك على بعض عملي، قال: قلت: إن تقحمني اقتحم، وإن تجعل (معي) (٤) غيري خفت بطائن السوء، قال: فقال الحجاج: والله لئن قلت ذاك، إن بطائن السوء لمفسدة (للرجل) (٥) ، قال: قلت: ما زلت (اقحز منذ) (٦) الليلة على فراشي مخافة ان تقتلني، قال: وعلام (اقتلك) (٧) ، اما والله (لئن قلت) (٨) ذاك، إني (لاقتل) (٩) الرجل على امر قد كان من قبلي يهاب القتل على مثله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الأهوان).
(٢) في [ك، م]: (فقال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (في).
(٥) في [ط، هـ]: (الرجل).
(٦) أي: أقلق، وفي [هـ]: (أتخوف)، وفي [هـ]: (أفخز مذ)، وفي [أ]: (أتخوفه)، وفي [ط]: (أمخر منذ).
(٧) في [أ، ب، ط]: (قتلك).
(٨) في [أ، ب]: (لئن قتلت).
(٩) في [أ، ب، ط، هـ]: (لا أقتل)، وانظر: معرفة الثقات للعجلي ص ٤٦٠، وتاريخ دمشق لابن عساكر ٢٣/ ١٨٠.

ابو وائل فرماتے ہیں کہ میرے پا س حجاج کا پیغام آیا تو میں اس کے پاس اہواز گیا، ا س نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کتنا قرآن یاد ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ اگر میں اس کی پیروی کروں تو میرے لیے کافی ہے، و ہ کہنے لگا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض کاموں میں آپ سے مدد لوں، میں نے کہا اگر آپ مجھے اس کام میں جھونک دیں تو میں اتر جاؤں گا، اور اگر آپ میرے ساتھ کسی دوسرے آدمی کو بھی لگائیں گے تو مجھ برے راز دار کا خطرہ رہے گا، کہتے ہیں کہ اس پر حجاج نے کہا: بخدا آپ نے سچ فرمایا بیشک برے رازدان انسان کی بگاڑ کا سبب ہیں، میں نے کہا: میں رات بھر اپنے بستر پر اس بارے میں بےچین رہا کہ کہیں تم مجھے قتل نہ کر ڈالو، کہنے لگا کہ میں تمہیں کیوں قتل کروں گا؟ بخدا اگر آپ نے یہ کہہ ہی دیا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کسی بھی آدمی کو ایسے جرم پر قتل کرتا ہوں کہ مجھ سے پہلے لوگ بھی اس جیسی بات پر قتل کا خوف رکھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32651]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32651، ترقيم محمد عوامة 31266)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31267 ترقیم الشثری: -- 32652
٣٢٦٥٢ - حدثنا زيد بن حباب قال حدثنا محمد بن هلال القرشي قال: اخبرني ابي قال: سمعت ابا هريرة يقول لمروان وابطا بالجمعة: تظل عند (بنت) (١) فلان (تروحك) (٢) بالمرواح (وتسقيك) (٣) الماء البارد، وابناء المهاجرين يسلقون من الحر، لقد هممت اني افعل وافعل، (ثم) (٤) قال: اسمعوا (لاميركم) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (بيت).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (يروحك).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (يسقيك).
(٤) سقط (ثم) من: [ك].
(٥) في [ك]: (من أميركم).
(٦) مجهول؛ لجهالة هلال القرشي.

ہلال قرشی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان سے اس وقت یہ فرماتے سنا جبکہ مروان جمعہ کے لئے دیر سے پہنچا تھا، کہ تم فلاں کی بیٹی کے پاس پڑے رہتے ہو جو تمہیں پنکھے جھلتی اور ٹھنڈا پانی پلاتی ہے اور مہاجرین کی اولاد گرمی سے جلتی رہتی ہے میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ ایسا ایسا کروں گا، پھر لوگوں سے فرمایا کہ اپنے امیر کی بات سنو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32652]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32652، ترقيم محمد عوامة 31267)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31268 ترقیم الشثری: -- 32653
٣٢٦٥٣ - حدثنا حماد بن (اسامة) (١) قال: (حدثنا حماد بن زيد قال) (٢) : حدثنا (ابو نعامة) (٣) عمرو بن عيسى قال: قالت عائشة: اللهم ادرك خفرتك في عثمان وابلغ القصاص في (مذمم) (٤) وابد عورة (اعين: رجل) (٥) (من) (٦) بني تميم (ابو امراة فرزدق) (٧) (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (سلمة).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (معاوية).
(٤) في [أ، هـ]: (مدهم).
(٥) في [هـ]: (أعي الرجل).
(٦) في [هـ، م]: (في).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط، م]: (لو امراءة الفرزدق)، وفي [هـ]: (ابن امراءة الفرزدق).
(٨) منقطع؛ عمرو بن عيسى لا يروي عن عائشة.

ابو نعامہ عمرو بن عیسیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل فرماتے ہیں: اے اللہ! عثمان کے بارے میں اپنے وعدے کو پورا کردیجیے! اور ”مذمّم“ کو قصاص تک پہنچائیے! اور أَعْیَنْ کے عیوب کو ظاہر فرما دیجیے! أعین بنو تمیم کا ایک آدمی تھا اور فرزدق کی بیوی کا باپ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32653]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32653، ترقيم محمد عوامة 31268)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31269 ترقیم الشثری: -- 32654
٣٢٦٥٤ - (١) حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا معتمر عن ابيه قال: اخبرنا ابو نضرة ان ربيعة (كلمت) (٢) (طلحة) (٣) في مسجد بني سلمة (فقالت) (٤) : كنا في نحر العدو حتى (جاءتنا) (٥) بيعتك هذا الرجل ثم انت الآن تقاتله، او كما قالوا، فقال: إني ادخلت (الحش) (٦) ووضع على (عنقي) (٧) (اللج) (٨) فقيل: بايع وإلا (قتلناك) (٩) ، قال: فبايعت وعرفت انها بيعة ضلالة (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في [ك]: (من ذكر طلحة والزبير وعلي وعثمان).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (كلمة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ط، هـ]: (فقال).
(٥) (حشا) ورد في: [أ، ب].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (الحسن).
(٧) في [هـ]: (عتقي).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [أ، ط، هـ]: (قاتلناك).
(١٠) صحيح.

ابو نضرہ روایت کرتے ہیں کہ ربیعہ نے طلحہ رضی اللہ عنہ سے مسجدِ بنو سلمہ میں بات کی، اور کہا کہ ہم دشمن سے مقابلہ کر رہے تھے جب ہمیں آپ کی اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی خبر پہنچی، پھر اب آپ ان سے قتال کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایک تنگ جگہ میں داخل کر کے میری گردن پر تلوار رکھ دی گئی اور مجھ سے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بیعت کی کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے کہا کہ اہل عراق کے ایک منافق جبلہ بن حکیم نے حضرت زبیر سے کہا کہ آپ نے تو بیعت کرلی تھی؟ حضرت زبیر نے جواب دیا کہ میری گردن پر تلوار رکھ کر مجھے کہا گیا بیعت کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے، اس لیے میں نے بیعت کرلی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32654]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32654، ترقيم محمد عوامة 31269)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32655
٣٢٦٥٥ - قال التيمي: وقال وليد بن عبد الملك: إن منافقا من (منافقي) (١) اهل العراق جبلة بن (حكيم) (٢) قال (للزبير) (٣) : (إنك) (٤) قد بايعت، فقال الزبير: إن السيف وضع على عنقي (فقيل لي) (٥) : بايع وإلا (قتلناك) (٦) ، قال: فبايعت (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (منافق).
(٢) في [أ، ب، ط]: (حليم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (الزبير).
(٤) في [جـ، ك، م]: (فإنك).
(٥) في [ط]: (فقايل).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (قاتلناك).
(٧) صحيح.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32655، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31270 ترقیم الشثری: -- 32656
٣٢٦٥٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا معتمر عن ابيه عن ابي نضرة عن ابي سعيد ان ناسا كانوا عند فسطاط عائشة، فمر عثمان (ارى ذلك) (١) بمكة، قال ابو سعيد: فما بقي احد منهم إلا لعنه او سبه غيري، وكان فيهم رجل من اهل الكوفة، فكان عثمان على الكوفي (٢) اجرا منه على غيره، فقال: يا كوفي (اتشتمني) (٣) -اقدم المدينة- كانه يتهدده، قال: فقيل له: عليك بطلحة، قال: فانطلق معه طلحة حتى اتى عثمان قال عثمان: والله لاجلدنك مائة، قال طلحة: والله لا تجلده مائة إلا ان يكون زانيا، (فقال) (٤) : لاحرمنك عطاءك، قال: فقال طلحة: إن الله سيرزقه (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (إذا ذلك)، وفي [هـ]: (إذ ذاك)، وفي [جـ، م]: (إذى ذلك).
(٢) في [ط]: زيادة (في).
(٣) في [هـ]: (أشتهي)، وفي [أ]: (أتسبني).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك، م]: (وقال).
(٥) صحيح.

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ بہت سے لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمہ کے پاس تھے کہ ادھر سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، میرا خیال ہے کہ یہ مکہ کا واقعہ ہے، ابو سعید فرماتے ہیں کہ میرے علاوہ ان تمام آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت کی اور ان کو برا بھلا کہا، ان میں ایک آدمی اہل کوفہ میں سے تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسروں کے مقابلے میں اس کوفی پر زیادہ جرأت دکھائی اور کہا اے کوفہ والے! کیا تم مجھے گالیاں دیتے ہو؟ ذرا مدینہ آؤ، یہ بات آپ نے دھمکی کے انداز میں فرمائی، وہ آدمی مدینہ آیا، اس کو کہا گیا کہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو، کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا میں تمہیں سو کوڑے لگاؤں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم تم اس کو صرف زانی ہونے کی صورت میں ہی سو کوڑے لگا سکتے ہو، آپ نے اس سے فرمایا میں تجھ کو تیرے وظیفے سے محروم کروں گا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کو روزی دے دیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32656]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32656، ترقيم محمد عوامة 31270)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں