🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. في الرد واختلافهم فيه
ردّ کا بیان، اور اس بارے میں فقہاء کے اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31814 ترقیم الشثری: -- 33250
٣٣٢٥٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: اتي ابن مسعود في ام وإخوة لام فاعطى الإخوة للام الثلث، واعطى الام سائر المال، وقال: الام عصبة من لا عصبة له (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے ماں شریک بھائیوں کو ایک تہائی مال عطا فرمایا اور باقی مال ماں کو دے دیا اور فرمایا کہ ماں اس آدمی کا عصبہ ہے جس کا کوئی عصبہ نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33250، ترقيم محمد عوامة 31814)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31815 ترقیم الشثری: -- 33251
٣٣٢٥١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق قال: اتي عبد الله في ام واخوة لام، فاعطى الام السدس، والإخوة الثلث، ورد ما بقي على الام، وقال: الام عصبة من لا عصبة له، وكان ابن مسعود لا يرد على اخت لاب مع اخت لاب وام، ولا على ابنة ابن مع ابنة (صلب) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت من: [أ، ب].
(٢) صحيح.

حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ماں اور ماں شریک بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا تو آپ نے مال کا چھٹا حصّہ ماں کو دے دیا اور ایک تہائی مال بھائیوں کو دے دیا اور باقی مال ماں کو دے دیا۔ اور فرمایا ماں اس آدمی کی عصبہ ہے جس کا کوئی آدمی عصبہ نہ ہو، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقی بہن کے ہوتے ہوئے باپ شریک بہن پر مال لوٹانے کے قائل نہیں تھے اور نہ صلبی بیٹی کے ہوتے ہوئے پوتی پر مال لوٹایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33251، ترقيم محمد عوامة 31815)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31816 ترقیم الشثری: -- 33252
٣٣٢٥٢ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن مغيرة (والاعمش) (١) عن إبراهيم ان عليا كان يرد على كل ذي سهم إلا الزوج والمراة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ط، هـ].
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عليًا.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر حصہ دار پر مال لوٹانے کے قائل تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33252، ترقيم محمد عوامة 31816)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31817 ترقیم الشثری: -- 33253
٣٣٢٥٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور قال: بلغني عن علي انه كان يرد على كل ذي سهم إلا الزوج والمراة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول.
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر حصہ دار پر مال لوٹانے کے قائل تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33253، ترقيم محمد عوامة 31817)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31818 ترقیم الشثری: -- 33254
٣٣٢٥٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن جابر عن ابي جعفر ان عليا كان يرد على ذوي السهام من ذوي الارحام (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف منقطع؛ جابر هو الجعفي ضعيف، وأبو جعفر لم يدرك عليًا.
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ذوی الأرحام میں سے ان لوگوں پر بھی مال لوٹایا کرتے تھے جو وراثت میں حصے کے حق دار ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33254، ترقيم محمد عوامة 31818)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31819 ترقیم الشثری: -- 33255
٣٣٢٥٥ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي انه (ذكر عنده) (٢) قضاء قضى به ابو عبيدة بن عبد الله: انه اعطى (ابنة) (٣) (اخت) (٤) المال كله، فقال الشعبي: هذا قضاء عبد الله (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) في [أ، جـ، ح، ط، هـ]: (كره).
(٣) في [م]: (ابن).
(٤) في [هـ]: (أو أختًا).
(٥) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من ابن مسعود.

حضرت شیبانی سے روایت ہے کہ حضرت شعبی کے سامنے ایک فیصلے کا ذکر کیا گیا جو حضرت ابو عبیدہ بن عبد اللہ نے کیا تھا کہ انہوں نے بیٹی یا بہن کو پورا مال دے دیا حضرت شعبی نے فرمایا کہ یہی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33255، ترقيم محمد عوامة 31819)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31820 ترقیم الشثری: -- 33256
٣٣٢٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل عن عامر عن (عبد الله) (١) انه كان يرد على الابنة والاخت والام إذا لم تكن عصبة، وكان زيد لا يعطيهم إلا نصيبهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عبيد اللَّه).
(٢) صحيح.

حضرت عامر سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیٹی، بہن اور ماں پر مال لوٹا دیا کرتے تھے۔ جبکہ وہ عصبہ بھی نہ ہو، اور حضرت زید رضی اللہ عنہان کو صرف ان کو ان کا حصہ ہی دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33256، ترقيم محمد عوامة 31820)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31821 ترقیم الشثری: -- 33257
٣٣٢٥٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: كان عبد الله لا يرد على ستة: على زوج، ولا امراة، ولا جدة، ولا على اخوات لاب مع اخوات لاب وام، ولا على بنات ابن مع بنات صلب، ولا على اخت لام مع ام (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عبد اللَّه.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ چھ آدمیوں پر مال دوبارہ نہیں لوٹایا کرتے تھے: شوہر پر، بیوی پر، دادی پر، حقیقی بہنوں کے ہوتے ہوئے علّاتی بہنوں پر، حقیقی بیٹوں کے ہوتے ہوئے پوتیوں پر اور ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن پر، ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے عرض کیا کہ کیا دادی کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائیوں پر مال لوٹایا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اگر آپ چاہیں۔ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سب پر مال لوٹایا کرتے تھے سوائے شوہر اور بیوی کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33257، ترقيم محمد عوامة 31821)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33258
٣٣٢٥٨ - قال إبراهيم: فقلت لعلقمة: (ترد) (١) على الإخوة من الام مع الجدة؟ قال: إن شئت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يرد)، وفي [هـ]: (نرد).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33258، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33259
٣٣٢٥٩ - قال: وكان علي يرد على جميعهم إلا الزوج والمراة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عليًا.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33259، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں