مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. في الجدات كم (ترث) منهن؟
اس بات کا بیان کہ کتنی دادیاں وارث ہوں گی؟
ترقیم عوامۃ: 31935 ترقیم الشثری: -- 33409
٣٣٤٠٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور قال: قال إبراهيم: جعل النبي ﷺ بين جدة من قبل امه وجدتين من قبل ابيه السدس (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ إبراهيم تابعي.
منصور حضرت ابراہیم کا فرمان نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نانی اور دو دادیوں کے درمیان مال کا چھٹا حصّہ تقسیم فرمایا، حضرت زائدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت منصور سے عرض کیا کہ باپ کی طرف سے دادیوں کا مطلب باپ کی ماں اور باپ کی نانی ہے؟ فرمایا! جی ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33409، ترقيم محمد عوامة 31935)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 33410
٣٣٤١٠ - قال زائدة: قلت لمنصور: التي من قبل ابيه ام ابيه (وابي امه؟) (١) قال: نعم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط في: [م]، والمراد: (أم أبي أبيه وأم أم أبيه).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33410، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31936 ترقیم الشثری: -- 33411
٣٣٤١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور قال: قال إبراهيم: إذا كانت الجدات من نحو واحد بعضهن اقرب سقطت القصوى.
منصور کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ جب دادیاں ایک جانب کی ہوں جن میں سے بعض بعض سے زیادہ قریب ہوں تو دور کی دادی محروم ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33411]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33411، ترقيم محمد عوامة 31936)
ترقیم عوامۃ: 31937 ترقیم الشثری: -- 33412
٣٣٤١٢ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: (يرث) (١) الجدات السدس، فإن كانت واحدة او اثنتين او ثلاثا فبينهن سهم، في قول علي وزيد إذا اجتمعن ثلاث جدات هن إلى الميت (شرع) (٢) سواء قال: بينهن (سهم) (٣) (سوا) (٤) (تكون) (٥) جدة (من) (٦) الام وجدة من الاب، ام ابيه وام امه، وفي قول عبد الله إذا اجتمعن ثلاث جدات كان بينهن السدس، وإن كان بعضهن اقرب نسبا، (إن) (٧) لم يكن بعضهن امهات بعض (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، م]: (ترث).
(٢) في [أ، ب]: (سرع).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [جـ، م].
(٥) في [أ، جـ، م]: (يكون).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٨) منقطع؛ إبراهيم لم يدركهم.
فضیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ دادیاں مال کے چھٹے حصّے کی وارث ہوں گی، پس اگر ایک یا دو یا تین ہوں تو ان کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ایک ہی حصّہ تقسیم ہوگا، اور جب تین دادیاں جمع ہوجائیں جن میں سے ہر ایک میت کے ساتھ رشتے میں برابر ہو تو ایک ہی حصّہ ان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، وہ دادیاں ماں کی نانی اور باپ کی ماں اور باپ کی نانی ہیں، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تین دادیاں جمع ہوجائیں تو ان کے درمیان مال کا چھٹا حصّہ تقسیم ہوگا اگرچہ ان میں سے کوئی دادی نسب میں میت کے زیادہ قریب نہ ہو اس طرح کہ ان میں سے کوئی دوسرے کی ماں نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33412، ترقيم محمد عوامة 31937)
ترقیم عوامۃ: 31938 ترقیم الشثری: -- 33413
٣٣٤١٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن اشعث عن الشعبي عن مسروق قال: جئن اربع جدات يتساوقن إلى مسروق فورث ثلاثا (و) (١) طرح (ام) (٢) ابي الام.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أو).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (ابن).
شعبی حضرت مسروق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں ان کے پاس چار برابر درجے کی دادیاں آئیں تو انہوں نے تین دادیوں کو وارث بنادیا اور ماں کی دادی کو محروم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33413، ترقيم محمد عوامة 31938)
ترقیم عوامۃ: 31939 ترقیم الشثری: -- 33414
٣٣٤١٤ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن ايوب عن ابي قلابة عن ابي المهلب ان جدتين (اتتا) (١) شريحا فجعل السدس بينهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (أتياه).
ابو المہلّب سے روایت ہے کہ دو دادیاں حضرت شریح کے پاس آئیں، آپ نے ان کے درمیان مال کے چھٹے حصّے کو تقسیم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33414، ترقيم محمد عوامة 31939)
ترقیم عوامۃ: 31940 ترقیم الشثری: -- 33415
٣٣٤١٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابن سيرين قال: كان عبد الله يورث الجدات وإن كن عشرا، ويقول: إنما هو سهم اطعمه إياهن رسول الله ﷺ (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، عبد اللَّه هو ابن مسعود كما في سنن الدارمي (٢٩٤٣)، وابن سيرين لم يسمع منه، وورد من حديث ابن سيرين مرسلًا أخرجه سعيد ١/ (٨٦)، وعبد الرزاق (١٩٠٩٣).
حضر ت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادیوں کو وارث بناتے تھے اگرچہ وہ دس ہوں، اور فرماتے تھے کہ یہ تو ایک حصّہ ہے جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33415، ترقيم محمد عوامة 31940)
ترقیم عوامۃ: 31941 ترقیم الشثری: -- 33416
٣٣٤١٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاشعث عن الشعبي قال: جاءت اربع جدات يتساوقن إلى مسروق، فورث ثلاثا وطرح واحدة ام ابي الام.
شعبی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس چار برابر درجے کی دادیاں آئیں تو انہوں نے تین دادیوں کو وارث بنادیا اور ماں کی دادی کو محروم فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33416، ترقيم محمد عوامة 31941)
ترقیم عوامۃ: 31942 ترقیم الشثری: -- 33417
٣٣٤١٧ - حدثنا يعلى عن يحيى عن القاسم قال: توفي رجل وترك (جدتيه ام امه وام ابيه) (١) فورث ابو بكر (ام امه) (٢) وترك الاخرى، فقال (٣) رجل من الانصار: لقد تركت امراة لو ان الجدتين ماتتا (وابنهما) (٤) حي ما ورث من التي ⦗٣٢٦⦘ ورثتها منه شيئا، وورث التي تركت ابن (ابنه) (٥) فورثها ابو بكر فشرك بينهما في السدس (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (جد أبيه امرأته وامرأته)، وفي [س]: (جد ابنة امرأته وامرأته).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (امرأته).
(٣) في [هـ]: زيادة (له).
(٤) في [ب]: (أبوهما) وغير واضحة في: [أ].
(٥) في [أ، ب]: (ابن أبيه)، ولعلها (أم أبيه).
(٦) منقطع؛ القاسم لم يدرك أبا بكر.
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فوت ہوا اور اس نے اپنی دو دادیاں یعنی نانی اور دادی چھوڑیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو وارث بنایا اور دوسری کو محروم فرما دیا، تو ایک انصاری نے کہا کہ اگر یہ دو دادیاں فوت ہوچکی ہوتیں اور ان کے بیٹے زندہ ہوتے تو جس دادی کو آپ نے وارث بنایا ہے اس کا بیٹا وارث نہ بنتا، اور جس کو آپ نے چھوڑ دیا ہے اس کا بیٹا وارث بنتا، چناچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو بھی وارث بنادیا اور ان کو مال کے چھٹے حصّے میں شریک فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفرائض/حدیث: 33417]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33417، ترقيم محمد عوامة 31942)