مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32306 ترقیم الشثری: -- 33809
٣٣٨٠٩ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن ابي مالك الاشجعي عن ربعي عن حذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"فضلنا على الناس بثلاث: (٢) جعلت لنا الارض ⦗٤١٢⦘ كلها مسجدا، وجعلت لنا تربتها إذا لم نجد الماء طهورا، واوتيت هذه الآيات من ليت كنز تحت العرش من آخر سورة البقرة، لم يعط منهن احد قبلي، ولا (يعطى منه) (٣) احد بعدي" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة و).
(٣) في [هـ]: (يعطينه).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٢٢)، وأحمد (٢٣٢٥١).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں عطا کی گئیں ہیں، ہمارے لئے پوری زمین نماز کی جگہ بنادی گئی ہے، اور ہمارے لیے اس کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ہے جبکہ ہم پانی کو نہ پائیں، اور یہ آیات مجھے عرش کے نیچے خزانے کے کمرے سے عطا کی گئی ہیں یعنی سورة بقرہ کی آخری آیات، اس میں سے مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33809]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33809، ترقيم محمد عوامة 32306)
ترقیم عوامۃ: 32307 ترقیم الشثری: -- 33810
٣٣٨١٠ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن مندل عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد ابن عمير عن ابي ذر قال: خرجت في طلب رسول الله ﷺ فوجدته يصلي، فانتظرته حتى صلى، فقال:"اوتيت الليلة خمسا لم يؤتهن نبي قبلي: نصرت بالرعب فيرعب العدو (مني) (١) مسيرة شهر، وارسلت إلى الاحمر والاسود، وجعلت لي الارض طهورا ومسجدا، واحلت لي الغنائم ولم تحل لاحد كان قبلي، وقيل: سل تعطه فاختباتها فهي نائلة منكم من لم يشرك بالله" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (من).
(٢) ضعيف؛ لضعف مندل، أخرجه أحمد (٢١٢٩٩)، وأبو داود (٤٨٩)، وابن حبان (٦٤٦٢)، والحاكم ٢/ ٤٢٤، والدارمي (٢٤٦٧)، والطيالسي (٤٧٢)، والبزار (٤٠٧٧)، وابن صالحد في زوائد زهد ابن المبارك (١٠٦٩)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٢٧٧، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ٤٧٣، واللالكائي (١٤٤٩).
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، پس میں آپ کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے نماز پڑھ لی، پھر آپ نے فرمایا: مجھے اس رات پانچ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، پس دشمن ایک مہینے کی مسافت پر مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، اور مجھے سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، اور میرے لئے زمین کو پاک کرنے والا اور نماز کی جگہ بنادیا گیا ہے، اور میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا، اور کہا گیا کہ آپ سوال کریں آپ کو عطا کیا جائے گا، میں نے اس کو ذخیرہ کرلیا، پس یہ تم میں سے ہر اس شخص کو پہنچنے والا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33810]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33810، ترقيم محمد عوامة 32307)
ترقیم عوامۃ: 32308 ترقیم الشثری: -- 33811
٣٣٨١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن المختار عن انس قال: قال النبي ﷺ:"انا اول شفيع في الجنة"، وقال:"ما صدق (احد) (١) من الانبياء ما صدقت، وإن من الانبياء لنبيا ما صدقه من امته إلا رجل واحد" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (نبي).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٦)، وأحمد (١٢٤١٩)، وأصله عند البخاري (٦٥٦٥).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میں جنت میں پہلا شفیع ہوں، اور فرمایا کہ کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی میری کی گئی، اور انبیاء میں ایسے نبی بھی ہیں جن کی تصدیق ان کی امت میں ایک سے زائد آدمی نے نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33811]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33811، ترقيم محمد عوامة 32308)
ترقیم عوامۃ: 32309 ترقیم الشثری: -- 33812
٣٣٨١٢ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن مجاهد: ﴿عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا﴾ [الإسراء: ٧٩] قال: يقعده على العرش (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ ليث ضعيف، والمشهور أن المقام المحمود هو مقام الشفاعة، وهذا هو تفسير مجاهد للآية الثابت عنه كما في تفسير ابن جرير ١٥/ ١٤٤، وتفسير مجاهد ١/ ٣٦٩.
مجاہد فرماتے ہیں کہ { عَسَی أَنْ یَبْعَثَک رَبُّک مَقَامًا مَحْمُودًا } کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش پر بٹھائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33812]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33812، ترقيم محمد عوامة 32309)
ترقیم عوامۃ: 32310 ترقیم الشثری: -- 33813
٣٣٨١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿وإن له عند (نا) (١) لزلفى﴾ [ص: ٢٥] ، قال: ذكر الدنو منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: سقطت (نا).
عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ { وَإِنَّ لَہُ عنْدَنَا لَزُلْفَی } میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا ذکر فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33813]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33813، ترقيم محمد عوامة 32310)
ترقیم عوامۃ: 32311 ترقیم الشثری: -- 33814
٣٣٨١٤ - حدثنا الثقفي عن حميد عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"دخلت الجنة فإذا انا بنهر يجري، حافاته خيام اللؤلؤ، فضربت بيدي إلى الطين فإذا مسك اذفر"، قال:"فقلت لجبريل ما هذا؟" قال: (هذا) (١) الكوثر الذي اعطاك الله ﷿ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نهر).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٠٠٨)، وابن حبان (٦٤٧٣)، والحاكم ١/ ٧٩، وأبو يعلى (٣٨٢٣)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٦)، والبغوي (٤٣٤٣)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٦١٢)، وهناد (١٣٤)، والآجري في الشريعة ص ٣٩٦، والخطيب ١١/ ٤٥، وأصله عند مسلم (٤٠٠).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے، میں نے مٹی میں اپنا ہاتھ مارا تو خوشبودار مشک تھی، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ کوثر ہے جو اللہ عزوجلّ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33814]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33814، ترقيم محمد عوامة 32311)
ترقیم عوامۃ: 32312 ترقیم الشثری: -- 33815
٣٣٨١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن المختار عن انس بن مالك قال: بينا رسول الله ﷺ بين اظهرنا إذ اغفى إغفاءة ثم رفع راسه متبسما فقلنا: ما (لك) (١) يا رسول الله؟ قال:"نزلت علي آنفا سورة فقرا: بسم الله الرحمن الرحيم ﴿إنا اعطيناك الكوثر (١) فصل لربك وانحر (٢) إن شانئك هو الابتر﴾، ثم قال:"اتدرون ما ⦗٤١٤⦘ الكوثر؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، قال:"فإنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير، هو حوض ترد عليه يوم القيامة امتي، آنيته عدد النجوم، فيختلج العبد منهم، فاقول: رب، انه من اصحابي، فيقول: لا، إنك لا تدري ما احدث بعدك" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أضحكك).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٠٠)، وأحمد (١١٩٩٦)، وأصله في البخاري (٦٥٨٢).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے تھے کہ آپ کو ایک اونگھ آئی، پھر آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، ہم نے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا َ؟ فرمایا کہ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا {إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إنَّ شَانِئَک ہُوَ الأَبْتَرُ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا کہ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت سی خیر ہے، اور وہ حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں، پس ایک بندہ اس سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب! بیشک یہ میرے ساتھیوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، نہیں تم نہیں جانتے کہ اس نے تمہارے بعد کیا بدعت جاری کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33815]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33815، ترقيم محمد عوامة 32312)
ترقیم عوامۃ: 32313 ترقیم الشثری: -- 33816
٣٣٨١٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن خولة بنت حكيم قالت: قلت: يا رسول الله، إن لك حوضا؟ قال:"نعم، واحب من ورده الي قومك" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) معلول؛ أخطأ فيه أبو خالد، أخرجه أحمد (٢٧٣١٥)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٠٤) والآحاد (٣٢٦٧)، والطبراني ٢٤/ (٥٩٠)، وورد الخبر من طريق خولة بنت قيس بن فهد، أخرجه الطبراني ٢٤/ (٥٨٨)، وأحمد (٢٧٣١٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٠٥).
خولہ بنت حکیم کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ کا کوئی حوض ہے؟ فرمایا جی ہاں! اور اس پر آنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33816]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33816، ترقيم محمد عوامة 32313)
ترقیم عوامۃ: 32314 ترقیم الشثری: -- 33817
٣٣٨١٧ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن المهاجر بن المسمار عن عامر بن (سعد) (١) قال: (كتبت) (٢) إلى جابر بن سمرة: اخبرني بشيء سمعته من رسول الله ﷺ، قال: فكتب (إلي) (٣) : سمعته يقول:"انا الفرط على الحوض" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سعيد).
(٢) في [أ، ب]: (كتب).
(٣) في [هـ]: (أني).
(٤) حسن؛ المهاجر صدوق، أخرجه مسلم (١٨٢١)، وأحمد وابنه (٢٠٨٦٢).
عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے جاببر بن سمرہ کو لکھا کہ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر پہلے سے پہنچنے والا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33817]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33817، ترقيم محمد عوامة 32314)
ترقیم عوامۃ: 32315 ترقیم الشثری: -- 33818
٣٣٨١٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن إسماعيل عن قيس عن (الصنابح) (١) قال: (سمعته يقول) (٢) : سمعت رسول الله ﷺ يقول:"انا ⦗٤١٥⦘ فرطكم على الحوض" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الصفائح)، وفي [هـ]: (الصنابحي).
(٢) في [جـ]: تكررت.
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٩٠٦٩)، وابن ماجه (٣٩٤٤)، وابن حبان (٦٤٤٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٣٩)، والحميدي (٧٨٠)، والبخاري في الصغير ١/ ١٦٨، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٢٢٠، وابن قانع ٢/ ٢٣، وابن بشكوال في الحوض (٤٦)، والطبراني (٧٤١٦)، وابن الأثير ٣/ ٣٥، وأبو يعلى (١٤٥٤).
صُنابح فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میں تمہارے لیے حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33818، ترقيم محمد عوامة 32315)