🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب ما أعطى الله تعالى محمدا ﷺ
وہ فضیلتیں جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32326 ترقیم الشثری: -- 33829
٣٣٨٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا شعبة عن قتادة عن انس عن اسيد بن ⦗٤١٨⦘ (حضير) (١) قال: قال رسول الله ﷺ] (٢) :"إنكم سترون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الحضير).
(٢) في [أ، ب]: سقط ما بين المعكوفين.
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٠٥٧)، ومسلم (١٨٤٥).

حضرت اسید بن حضیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب تم میرے بعد ترجیح دیکھو گے، پس صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33829، ترقيم محمد عوامة 32326)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32327 ترقیم الشثری: -- 33830
٣٣٨٣٠ - [حدثنا عفان حدثنا وهيب حدثنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد قال: قال رسول الله ﷺ للانصار:"إنكم ستلقون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٠)، ومسلم (١٠٦١).

حضرت عبد اللہ بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ تم عنقریب میرے بعد ترجیح دیکھو گے، پس صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33830، ترقيم محمد عوامة 32327)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32328 ترقیم الشثری: -- 33831
٣٣٨٣١ - حدثنا عفان حدثنا وهيب ثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم عن ابن ابي مليكة عن عائشة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إني على الحوض انتظر من يرد علي الحوض" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٩٤)، وأحمد (٢٤٩٠١).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میں حوض پر پانی پینے کے لئے آنے والوں کا منتظر ہوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33831، ترقيم محمد عوامة 32328)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32329 ترقیم الشثری: -- 33832
٣٣٨٣٢ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن ابي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن ابي ذر قال: قلت: يا رسول الله، ما آنية الحوض؟ قال:"والذي نفسي بيده لآنيته اكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في الليلة المظلمة المصحية، من شرب منها لم يظما، عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى ايلة، ماؤه اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠٠)، وأحمد (٢١٣٢٧).
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حوض کے برتن کیسے ہوں گے؟ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں، اور اس کے ستاروں سے مراد صاف آسمان والی رات کے ستارے ہیں، جس نے اس سے پی لیا وہ پیاسا نہ ہوگا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کی طرح عمان سے أیلہ کی درمیانی مسافت جتنی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33832]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33832، ترقيم محمد عوامة 32329)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32330 ترقیم الشثری: -- 33833
٣٣٨٣٣ - حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن سالم بن ابي الجعد عن معدان بن ابي طلحة اليعمري عن ثوبان مولى رسول الله ﷺ ان النبي ﷺ قال:"انا ⦗٤١٩⦘ عند عقر حوضي، اذود عنه الناس لاهل (اليمن إني) (١) لاضربهم بعصاي حتى (ترفض) (٢) "، قال فسئل (نبي الله) (٣) ﷺ عن سعة الحوض، فقال:"هو ما بين مقامي هذا إلى عمان ما بينهما شهر او نحو ذلك"، فسئل نبي الله ﷺ عن شرابه فقال:"اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل، يصب فيه ميزابان مداده او مدادهما من الجنة احدهما ورق والآخر ذهب" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) أي: تسيل، وفي [أ، ب، هـ]: (يرفض)، وزاد في [هـ] بعدها: (عليهم).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٠١)، وأحمد (٢٢٤٤٧).

حضرت ثوبان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ میں اپنے حوض کے پانی پینے کی جگہ ہوں گا، اور اہل یمن کے لیے لوگوں کو دور ہٹاؤں گا یہاں تک کہ لوگ چھٹ جائیں گے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی وسعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ میری اس جگہ سے عمّان کی درمیانی مسافت تک ہے، ان دونوں علاقوں کے درمیان ایک ماہ یا اس کے قریب مسافت ہے، پھر نبی 5 سے اس کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گریں گے جن کا بہاؤ جنت سے ہوگا، ایک پرنالہ چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33833]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33833، ترقيم محمد عوامة 32330)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32331 ترقیم الشثری: -- 33834
٣٣٨٣٤ - حدثنا عفان حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن ابي بكرة ان رسول الله ﷺ قال:"ليردن على الحوض رجال ممن صحبني ورآني حتى إذا رفعوا (١) اختلجوا دوني، فلاقولن: رب اصحابي، فليقالن: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (إليَّ).
(٢) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤٩٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٦٥)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢٩٣، وتمام (٣٨٧)، وابن بشكوال في ذيل جزء بقي (٥٥)، وابن عبد البر في التمهيد ٢/ ٢٩٢، والطبراني في مسند الشاميين (٢٦٦٠)، وابن عساكر ٣٦/ ٨.

حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حوض پر بہت سے لوگ آئیں گے جو میرے ساتھ رہے ہوں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا ہوگا، یہاں تک کہ جب وہ میری طرف اٹھائے جائیں گے تو ان کو مجھ سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں، اللہ فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات جاری کی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33834]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33834، ترقيم محمد عوامة 32331)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32332 ترقیم الشثری: -- 33835
٣٣٨٣٥ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا ابو حيان عن ابي زرعة عن ابي هريرة قال: اتي رسول الله ﷺ يوما بلحم فرفعت إليه الذراع، وكانت تعجبه، (فنهس منها نهسة) (١) ثم قال:"انا سيد الناس يوم القيامة؛ وهل تدرون بم ذاك؟ يجمع الله يوم ⦗٤٢٠⦘ القيامة الاولين والآخرين في صعيد واحد، (فيسمعهم) (٢) الداعي، (و) (٣) ينفذهم البصر وتدنو الشمس، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون، فيقول بعض الناس لبعض (٤) : الا ترون ما قد بلغكم، الا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: ابوكم آدم (فياتون) (٥) (آدم) (٦) فيقولون: يا آدم انت ابو البشر، خلقك الله (٧) بيده، ونفخ فيك من روحه وامر الملائكة فسجدوا لك، اشفع لنا إلى ربك (٨) ، الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم: إن ربي (قد) (٩) (غضب اليوم غضبا) (١٠) لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى نوح، فياتون نوحا فيقولون: يا نوح انت اول الرسل إلى اهل الارض، وسماك الله (١١) عبدا شكورا، اشفع لنا إلى ربك الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا (إليه) (١٢) ؟ فيقول لهم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي، نفسي نفسي، اذهبوا إلى ⦗٤٢١⦘ غيري، اذهبوا إلى إبراهيم، فياتون إبراهيم، فيقولون: يا إبراهيم، انت نبي الله وخليله من اهل الارض، اشفع لنا إلى ربك (١٣) الا ترى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وذكر كذباته، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى موسى، فياتون موسى فيقولون: يا موسى انت رسول الله (١٤) ، فضلك الله برسالته وبتكليمه على الناس، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى إلى ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم موسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، وإني قتلت نفسا لم اومر بقتلها، نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى عيسى، فياتون عيسى فيقولون: يا عيسى انت رسول الله، وكلمت الناس في المهد، وكلمته القاها إلى مريم وروح منه، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى (١٥) ما نحن فيه، الا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب (اليوم) (١٦) غضبا لم يغضب قبله مثله، ولا يغضب بعده مثله، -ولم يذكر له ذنبا- نفسي نفسي، اذهبوا إلى غيري، اذهبوا إلى محمد ﷺ، فياتوني فيقولون: يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء وغفر (الله لك) (١٧) ما تقدم من ذنبك وما تاخر، اشفع لنا إلى ربك، الا ترى ما نحن فيه؟ الا ترى ما قد بلغنا؟ فانطلق فآتي تحت العرش فاقع ساجدا لربي، ثم يفتح الله علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لاحد قبلي، ثم قيل: يا محمد ارفع راسك، ⦗٤٢٢⦘ (سل) (١٨) تعطه، اشفع تشفع، فارفع راسي فاقول: يا رب امتي يارب (١٩) امتي، فيقال: يا محمد، ادخل من امتك (الجنة) (٢٠) من لا حساب (عليهم) (٢١) من الباب الايمن من ابواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الابواب"، ثم قال:"والذي نفس محمد بيده إن ما بين المصراعين من (مصارع) (٢٢) الجنة لكما بين مكة وهجر او كما بين مكة وبصرى" (٢٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (نهش نهشًا).
(٢) في [هـ]: (فليسمعهم).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (ألا ترى ما نحن فيه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٧) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٩) سقط من: [أ، ب، هـ].
(١٠) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(١١) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) زيادة ﷿ في: [أ، ب].
(١٤) زيادة في [أ، ب]: ﷺ.
(١٥) في [س]: زيادة (إلى).
(١٦) سقط من: [ط].
(١٧) في [أ، ب، ط]: (لك اللَّه).
(١٨) في [أ، ب، جـ]: (وسل)، وفي [م]: زيادة (مراتي).
(١٩) في [جـ]: زيادة (يا رب).
(٢٠) في [هـ]: (الجنة من أمتك).
(٢١) في [جـ، م]: (عليه).
(٢٢) في [هـ]: (مصاريع).
(٢٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٤٠)، ومسلم (١٩٤).

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا، آپ کو اس کا بازو کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک مرتبہ نوچا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا، اور تم جانتے ہو کہ یہ کس طرح ہوگا؟ اللہ قیامت کے دن اولین و آخرین کو ایک میدان میں جمع فرمائیں گے، پس ایک پکارنے والے کی پکار ان کو سنوائیں گے اور ان کی نظریں تیز ہوجائیں گی، اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو اتنی تکلیف اور غم ہوگا کہ جس کی ان کے اندر طاقت نہ ہوگی، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی طرف تمہاری سفارش کرے؟ (٢) چناچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں، وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ کے اندر اپنی جانب سے روح پھونکی، اور ملائکہ کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ ہماری مصیبت کو نہیں دیکھتے؟ وہ فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصہ میں ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، اور اس کے بعد کبھی نہ ہوں گے، اور اللہ نے مجھے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، مجھے تو اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، (٣) چناچہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے نوح! آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں، اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے، ہمارے لئے اپنے رب کی طرف سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ نوح علیہ السلام ان سے فرمائیں گے کہ میرے رب آج ایسے غصے میں ہیں کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھے اور کبھی آج کے بعد نہ ہوں گے، اور میرے پاس ایک دعا کا اختیار تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کردی، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٤) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے اس کے خلیل ہیں، ہمارے لئے اپنے رب کے ہاں سفارش فرمائیں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم پر کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ ابراہیم علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا، اور نہ کبھی اس کے بعد اس جیسے غصے میں ہوگا، اور وہ اپنے جھوٹ ذکر فرمائیں گے، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور ہم کلامی کے ذریعے فضیلت بخشی، ہمارے لیے اپنے رب کی طرف سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ موسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب ایسے غصے میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے نہ تھا او کبھی اس کے بعد نہ ہوگا، اور میں نے ایک ایسی جان کو قتل کیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں تھا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس جاؤ، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٦) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ نے لوگوں سے پن گھوڑے میں بات کی، اور آپ اللہ کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا، اور اس کی روح ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج ایسے غصے میں ہے کہ اس سے پہلے ایسے غصے میں نہیں تھا اور نہ اس کے بعد ایسے غصے میں ہوگا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کوئی گناہ ذکر نہیں فرمایا، مجھے اپنی جان کی امان چاہیے، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم محمد 5 کے پاس چلے جاؤ۔ (٧) چناچہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے ہیں، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کیجیے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمیں کیا مصیبت آ پڑی ہے؟ میں عرش کے نیچے جاؤں گا اور اپنے رب کو سجدہ کرنے کے لئے گر جاؤں گا، پھر اللہ میرا سینہ کھولیں گے، اور مجھے اپنی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے کسی کو القاء نہیں فرمائی ہوگی، پھر کہا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجیے، آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبو [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33835]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33835، ترقيم محمد عوامة 32332)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32333 ترقیم الشثری: -- 33836
٣٣٨٣٦ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن ابي عثمان عن (سلمان) (١) قال: تعطى الشمس يوم القيامة حر عشر سنين، ثم (تدنى) (٢) من جماجم الناس حتى (تكون) (٣) قاب قوسين، (فيعرقون) (٤) حتى يرشح العرق قامة في الارض ثم يرتفع حتى يغرغر الرجل، قال سلمان: حتى يقول الرجل: غر غر، فإذا (راوا) (٥) ما هم فيه، قال بعضهم لبعض: الا ترون ما انتم فيه، ائتوا اباكم آدم فليشفع لكم إلى ربكم، فياتون آدم فيقولون: يا ابانا، انت الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه واسكنك جنته، قم فاشفع لنا إلى ربنا فقد ترى ما نحن فيه، فيقول: لست ⦗٤٢٣⦘ (هناك) (٦) ولست بذاك، فاين الفعلة، فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول: ائتوا عبدا جعله الله شاكرا، فياتون نوحا فيقولون: يا نبي الله، انت الذي جعلك الله شاكرا، وقد ترى ما نحن فيه، (فقم) (٧) (فاشفع لنا إلى ربك) (٨) فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون إلى من تامرنا؟ فيقول: [ائتوا خليل الرحمن إبراهيم، فياتون إبراهيم فيقولون: يا خليل الرحمن، قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى (ربك) (٩) ، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟] (١٠) فيقول: [ائتوا موسى عبدا اصطفاه الله برسالته وبكلامه، فياتون موسى فيقولون: قد ترى ما نحن فيه فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: ليست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول] (١١) : ائتوا كلمة الله وروحه عيسى (ابن مريم) (١٢) فياتون عيسى فيقولون: يا كلمة الله وروحه، قد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: لست هناك ولست بذاك، فاين الفعلة؟ فيقولون: إلى من تامرنا؟ فيقول: ائتوا عبدا فتح الله به وختم، وغفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر، (ويجيء) (١٣) في هذا اليوم (آمنا) (١٤) ، فياتون محمدا ﷺ (١٥) فيقولون: يا نبي الله (انت ⦗٤٢٤⦘ الذي) (١٦) فتح الله بك وختم، وغفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، وجئت في هذا اليوم آمنا، وقد ترى ما نحن فيه، فاشفع لنا إلى ربنا، فيقول: انا صاحبكم فيخرج (يحوش) (١٧) الناس حتى ينتهي إلى باب الجنة، فياخذ بحلقة في الباب من ذهب، فيقرع الباب فيقال: من هذا؟ (فيقال) (١٨) : محمد، قال: (فيفتح) (١٩) له فيجيء حتى يقوم بين يدي الله فيستاذن (في السجود) (٢٠) فيؤذن له، فيسجد فينادى: يا محمد، ارفع راسك، سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، قال: فيفتح الله عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لاحد من الخلائق، قال: فيقول:"رب امتي امتي"، ثم يستاذن في السجود فيؤذن له فيسجد، فيفتح الله عليه من الثناء والتحميد والتمجيد ما لم يفتح لاحد من الخلائق، وينادى: يا محمد (يا محمد) (٢١) ارفع راسك سل تعطه، واشفع تشفع، وادع تجب، فيرفع راسه (فيقول) (٢٢) :"يا رب امتي امتي"، -مرتين او ثلاثا- قال سلمان: فيشفع في كل من كان في قلبه مثقال حبة من حنطة من إيمان، او مثقال شعيرة من إيمان، او مثقال حبة خردل من إيمان، فذلكم المقام المحمود (٢٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (سليمان).
(٢) في [أ]: (تدن)، وفي [هـ]: (تدنو).
(٣) في [هـ]: (يكون).
(٤) في [هـ]: (فيغرقون).
(٥) في [هـ]: (رأوه).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، هـ]، وفي [جـ]: (قم).
(٨) سقط من: [أ، ب]، وسقط من: [جـ، م]: (إلى ربك).
(٩) في [ك]: (ربنا).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، جـ].
(١١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(١٢) سقط من: [م].
(١٣) في [أ، ب، هـ]: (ونحن).
(١٤) في [هـ]: (أمناء).
(١٥) في [هـ]: زيادة (فيأتون محمدًا).
(١٦) سقط من: [أ، هـ].
(١٧) في [أ، ب]: (محق)، وفي [هـ]: (من بين)، وفي [س]: (يحوس)، وفي [ط]: (يجوس)؛ وانظر: المطالب العالية ١٨/ ٥٨٦ (٤٥٧٥).
(١٨) في [أ، هـ]: (فيقول).
(١٩) في [أ، ب]: (فيستفتح).
(٢٠) في [أ، ب]: (بالسجود).
(٢١) سقط من: [أ، هـ].
(٢٢) في [أ، ب، هـ]: (ويقول).
(٢٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٨٥٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧)، وابن المبارك في الزهد (٣٤٧)، وهناد (٣٣٢).

حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج کو دس سال کی گرمی دے دی جائے گی، پھر اس کو لوگوں کے سروں کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہ دو کمانوں کے درمیانی فاصلے کی دوری پر ہوگا، چناچہ لوگوں کو پسینہ آئے گا یہاں تک کہ پسینہ زمین میں قد آدم ہوجائے گا، پھر بلند ہوگا یہاں تک کہ آدمی ”غر غر“ کہے گا، سلمان فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ آدمی غر غر کہنے لگے گا، جب وہ اپنی حالت دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو کہیں گے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تم کس حالت میں ہو؟ اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سفارش کرے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے باپ! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور آپ میں روح پھونکی، اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، اٹھیے اور ہمارے لئے سفارش کیجئے، کیا آپ ہماری حالت کو دیکھ رہے ہیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبہ کا نہیں، تو میں ایسا کس طرح کروں؟ وہ کہیں گے کہ پھر آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے۔ (٢) چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہی ہیں جن کو اللہ نے شکر گذار قرار دیا ہے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، اٹھیے اور ہمارے لیے سفارش کیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میرا یہ مرتبہ نہیں، پس میں یہ کیسے کروں، وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٣) چناچہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے خلیل! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں کیسے یہ کام کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم موسیٰ کے پاس جاؤ، جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے لیے چنا تھا۔ (٤) چناچہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، اور کہیں گے کہ آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، میں ایسا کیسے کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اللہ کے کلمہ اور اس کی روح عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ (٥) چناچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے کلمہ اور اے روح اللہ! آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں پس ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کر دیجئے، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں اور میں اس مرتبے کا نہیں، ایسا کیسے کروں؟ وہ کہیں گے کہ آپ ہمیں کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں؟ وہ فرمائیں گے کہ تم اس بندے کے پاس جاؤ جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے، اور وہ اس دن امن کے ساتھ آئیں گے۔ (٦) چناچہ وہ محمد 5 کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے نبی 5! آپ ہی ہیں جس کے ذریعے اللہ نے کھولا اور جس کے ذریعے مہر لگائی، اور آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے، اور اس دن آپ امن کے ساتھ آئے، اور آپ ہماری حالت دیکھ رہے ہیں، پس ہمارے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ چناچہ آپ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے نکلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر آئیں گے، اور درواز میں لگے ہوئے سونے کے حلقے کو پکڑیں گے اور دروازہ کھٹکھٹائیں گے، پس کہا جائے گا یہ کون ہے؟ جواب دیا جائے گا کہ یہ محمد ہیں، کہتے ہیں کہ پھر آپ کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا، پھر آپ آئیں گے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، اور سجدے کی اجازت چاہیں گے، اور آپ کو اجازت دی جائے گی تو آپ سجدہ کریں گے، چناچہ آپ کو پکارا جائے گا اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے، آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، کہتے ہیں کہ پھر اللہ آپ کے دل پر ایسی حمدو ثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، آپ فرمائیں گے اے رب! میری اُمت، میری امت، پھر سجدے کی اجازت مانگیں گے، پھر آپ کو اجازت دی جائے گی اور آپ سجدہ کریں گے، پھر اللہ آپ کے دل میں ایسی حمد وثناء القاء فرمائیں گے جو مخلوقات میں سے کسی کو القاء نہیں ہوئی ہوگی، اور پکارا جائے گا اے محمد! اے محمد! اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو دیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، اور دعا کیجئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی، آپ اپنا سر اٹھائیں گے اور فرمائیں گے اے رب! میری امت، میری امت، دو یا تین مرتبہ، حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ آپ کی س [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33836]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33836، ترقيم محمد عوامة 32333)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32334 ترقیم الشثری: -- 33837
٣٣٨٣٧ - حدثنا (يحيى بن آدم) (١) (ثنا) (٢) إسرائيل عن ابي إسحاق عن عبد الله ابن غالب عن حذيفة قال: سيد ولد آدم يوم القيامة محمد ﷺ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من: [جـ، ب]: (حدثنا ابن آدم).
(٢) في [أ، ب]: (عن).
(٣) حسن؛ عبد اللَّه بن غالب صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٢٩٥)، ومسدد والحارث كما في إتحاف الخيرة (٨٥٤٩ - ٨٥٥١)، وأخرجه مرفوعًا الحاكم ٤/ ٥٧٣، والطبراني في الأوسط (١٥٦٢)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٤٩.

عبد اللہ غالب روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اولاد آدم کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33837]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33837، ترقيم محمد عوامة 32334)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32335 ترقیم الشثری: -- 33838
٣٣٨٣٨ - حدثنا محمد بن بشر ثنا سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن انس عن النبي ﷺ قال:"يجتمع المؤمنون يوم القيامة فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا -ويلهمون ذلك- فاراحنا من مكاننا هذا، فياتون فيقولون له: يا آدم، انت ابو البشر! وخلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه، وعلمك اسماء كل شيء، فاشفع لنا إلى ربنا يرحنا من مكاننا هذا، قال: لست (هناكم) (١) ، ويشكو إليهم او يذكر خطيئته التي اصاب، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا نوحا فإنه اول رسول ارسل إلى اهل الارض، فياتون نوحا، فيقول: لست (هناكم) (٢) ، ويذكر سؤاله ربه ما ليس له به علم، فيستحيي ربه، ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فياتونه فيقول: لست (هناكم) (٣) ، ولكن ائتوا موسى (عبدا) (٤) كلمه الله واعطاه التوراة، فياتونه فيقول: لست (هناكم) (٥) ويذكر لهم قتل النفس بغير نفس، فيستحيي ربه من ذلك، ولكن ⦗٤٢٦⦘ ائتوا (٦) عبد الله ورسوله وكلمة الله وروحه، فياتون عيسى فيقول: لست (لذاكم) (٧) ولست هناكم، ولكن ائتوا محمدا (عبدا) (٨) (٩) غفر الله (له) (١٠) ما تقدم من ذنبه وما تاخر، فياتوني -قال الحسن (١١) : - قال: فانطلق فامشي بين سماطين من المؤمنين، انقطع قول الحسن -فاستاذن على ربي فيؤذن لي، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ان يدعني فيقال: او يقول: ارفع راسك قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم اعود إليه (الثانية) (١٢) ، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقول مثل قوله الاول: قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا، فادخلهم الجنة ثم اعود إليه ثالثة، فإذا رايت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني فيقال: سل تعطه واشفع تشفع، فارفع راسي فاحمده تحميدا يعلمنيه فاشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم اعود إليه في الرابعة فاقول: يا رب ما بقي إلا من حبسه القرآن (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (هناك).
(٢) في [أ، ب]: (هناك).
(٣) في [أ، ب]: (هناك).
(٤) في [جـ]: (عبد).
(٥) في [أ، ب]: (هناك).
(٦) في [هـ]: زيادة (عيسى).
(٧) في [جـ]: (كذاكم)، وفي [هـ]: (لذاكم).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) زيادة في [ب]: ﷺ.
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) عند النسائي (١١٢٤٣): (قال سعيد)، فذكر هذا الحرف عن الحسن: (فأمشي بين سماطين من المؤمنين)، ثم عاد إلى حديث أنس، وبنحوه في مسند أحمد (١٢١٧٤)، والسنة لابن أبي عاصم (٨٠٨).
(١٢) في [هـ]: (ثانية).
(١٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٧٦)، ومسلم (١٩٣).

حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی 5 نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤمنین جمع ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے سامنے سفارشی پیش کریں۔ ”اس بات کا ان کو القاء ہوگا“ تو اللہ ہمیں اس جگہ راحت عطا فرما دیں گے، چناچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں اور اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں، کہ وہ اس جگہ سے ہمیں آرام بخشیں، وہ فرمائیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے شکایت ذکر کریں گے یا اپنی غلطی بیان کریں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی، اور اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اہل زمین کی طرف بھیجا گیا، چناچہ وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور وہ اپنے رب سے اس سوال کا ذکر کریں گے جس کا ان کو علم نہیں تھا، اور اپنے رب سے شرمائیں گے لیکن تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، وہ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا اور ان کو توراۃ عطا فرمائی، وہ ان کے پاس جائیں گے لیکن وہ کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں، اور ان سے بغیر کسی جان کے عوض کے ایک جان کو قتل کرنے کا ذکر فرمائیں گے اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے، لیکن تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمہ اور روح اللہ کے پاس جاؤ، وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کے لئے نہیں، اور میرا یہ مقام نہیں، لیکن تم محمد 5 کے پاس جاؤ جن کے پچھلے اور اگلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیے ہیں، حسن فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں مؤمنین کی دو قطاروں کے درمیان چلوں گا، ”حسن کا قول ختم ہوگیا۔ ‘ ‘ پھر اپنے رب سے اجازت مانگوں گا اور مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ تعالیٰ جتنا عرصہ چاہیں گے مجھے اس حال میں چھوڑیں گے، پھر کہا جائے گا، یا پھر کہیں گے کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمد کروں گا جو مجھے اللہ سکھائیں گے، پس میری شفاعت قبول کی جائے گی، اللہ مجھے ایک حد بیان فرمائیں گے اور میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا، جب اپنے رب کو دیکھوں گا سجدے میں گر جاؤں گا، اللہ مجھے کافی عرصہ اس حال میں رکھیں گے، پھر پہلے کی طرح فرمائیں گے کہ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اور ایسی حمد کروں گا جو اللہ مجھے سکھائیں گے، پھر کہا جائے گا مانگیے آپ کو دیا جائے گا، اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا، پھر اللہ میرے لئے ایک حد قائم فرمائیں گے اور میں ان کو جنت میں داخل کروں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کی طرف لوٹ کر آؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب! ان لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا جن کو قرآن نے روک لیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 33838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33838، ترقيم محمد عوامة 32335)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں