مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
11. ما ذكر في يحيى بن زكريا ﵇
یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا ذکر
ترقیم عوامۃ: 32563 ترقیم الشثری: -- 34068
٣٤٠٦٨ - حدثنا وكيع بن الجراح عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس ﴿لم نجعل له من قبل سميا﴾ [مريم: ٧] ، قال: لم يسم احد قبله يحيى (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مضطرب، رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه الحاكم ٣/ ٤٠٣ (٣٤٠٧)، والفريابي في التفسير كما في تغليق التعليق ٤/ ٣٣.
عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرمایا { لَمْ نَجْعَلْ لَہُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا } کی تفسیر یہ ہے کہ آپ سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34068]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34068، ترقيم محمد عوامة 32563)
ترقیم عوامۃ: 32564 ترقیم الشثری: -- 34069
٣٤٠٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: مثله.
مجاہد سے بھی اس جیسی روایت منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34069]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34069، ترقيم محمد عوامة 32564)
ترقیم عوامۃ: 32565 ترقیم الشثری: -- 34070
٣٤٠٧٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن سليمان العبدي عن رجل منهم يقال له مهدي عن عكرمة ﴿وآتيناه الحكم صبيا﴾ قال: [ (اللب) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (اللت)، هكذا نقطة تحت ونقطتين فوق.
مہدی عکرمہ سے { وَآتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا } کا معنی نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد عقل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34070]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34070، ترقيم محمد عوامة 32565)
ترقیم عوامۃ: 32566 ترقیم الشثری: -- 34071
٣٤٠٧١ - حدثنا كيع عن سفيان عن رجل عن مجاهد ﴿وآتيناه الحكم صبيا﴾ [مريم: ١٢] ، قال] (١) : القرآن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
مجاہد { وَآتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا } کا معنی نقل کرتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34071، ترقيم محمد عوامة 32566)
ترقیم عوامۃ: 32567 ترقیم الشثری: -- 34072
٣٤٠٧٢ - حدثنا ابن عيينة عن منصور ابن صفية عن امه قال: دخل ابن عمر المسجد وابن الزبير مصلوب، فقالوا: (هذه) (١) اسماء، (قال) (٢) : فاتاها فذكرها ووعظها وقال لها: إن (الجيفة) (٣) (ليست) (٤) بشيء، وإنما الارواح عند الله فاصبري واحتسبي، (فقالت) (٥) : وما يمنعني من الصبر، وقد اهدي راس يحيى بن زكريا إلى بغي من بغايا بني إسرائيل (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، م]: (هوذه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) كذا في النسخ، ولعلها: الجثة، فقد وردت بلفظ: (الجثث) في مصادر التخريج وأحكام تمني الموت للشيخ محمد بن عبد الوهاب ص ٤٥، والآيات البينات للألوسي ص ٥٢، وتاريخ الإسلام ٥/ ٣٥٨، وسير أعلام النبلاء ٢/ ٢٩٥، وتهذيب الأسماء ٢/ ٥٩٨.
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (ليس).
(٥) في [هـ]: (قالت).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٦٩/ ٢٦، والفاكهي في أخبار مكة ٢/ ٣٧٦، وابن حزم في المحلى ١/ ٢٢، والفصل ٤/ ٥٧، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٤٠.
منصور بن صفیہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکایا ہوا تھا، لوگ کہنے لگے کہ یہ حضرت اسماء تشریف فرما ہیں، آپ ان کے پاس گئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ جسم کوئی چیز نہیں بلکہ اللہ کے پاس تو روحیں پہنچتی ہیں، اس لیے تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، انہوں نے فرمایا کہ مجھے صبر سے کیا چیز روکے گی جبکہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ کو دیا گیا تھا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34072، ترقيم محمد عوامة 32567)
ترقیم عوامۃ: 32568 ترقیم الشثری: -- 34073
٣٤٠٧٣ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن ابيه قال: ما قتل يحيى بن زكريا إلا في امراة بغي قالت لصاحبها: لا ارضى عنك حتى تاتيني براسه، قال: فذبحه ⦗٥٣٤⦘ فاتاها براسه في (طشت) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (طست)، وهما لغتان في نوع من الآنية، انظر: عون المعبود ١/ ١٣٠، وحاشية الطحطاوي ١/ ٤٦١.
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ایک زانیہ عورت کی خاطر قتل کیا گیا تھا جس نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ میں تجھ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گی جب تک تو میرے پاس ان کا سر نہ لائے، کہتے ہیں کہ اس نے ان کو ذبح کیا اور ایک طشت میں اس کے پاس ان کا سر لے آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34073]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34073، ترقيم محمد عوامة 32568)
ترقیم عوامۃ: 32569 ترقیم الشثری: -- 34074
٣٤٠٧٤ - حدثنا جرير عن الاعمش عن مجاهد في قوله: ﴿لم نجعل له من قبل سميا﴾ قال: مثله (في) (١) الفضل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (من).
مجاہد سے { لَمْ نَجْعَلْ لَہُ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا } کی تفسیر میں منقول ہے کہ اس سے مراد ان جیسی فضیلت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34074]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34074، ترقيم محمد عوامة 32569)
ترقیم عوامۃ: 32570 ترقیم الشثری: -- 34075
٣٤٠٧٥ - حدثنا ابو خالد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن عمرو قال: ما من احد إلا وقد اخطا او هم بخطيئة، ليس يحيى بن زكريا ثم قرا: ﴿وسيدا وحصورا﴾، ثم رفع من الارض شيئا ثم قال: ما كان معه إلا مثل هذا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن جرير ٣/ ٢٥٥، والحاكم ٢/ ٤٠٤ (٣٤١١)، وابن عساكر ٦٤/ ١٧٤.
سعید بن مسیب حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر شخص نے یا تو غلطی کی یا غلطی کا ارادہ کیا سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے، پھر آپ نے پڑھا { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } پھر زمین سے ایک چیز اٹھائی اور فرمایا کہ ان کے پاس اس سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34075]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34075، ترقيم محمد عوامة 32570)
ترقیم عوامۃ: 32571 ترقیم الشثری: -- 34076
٣٤٠٧٦ - حدثنا وكيع عن شريك عن سالم عن سعيد: ﴿ (وسيدا) (١) وحصورا﴾ [آل عمران: ٣٩] ، قال: الحليم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سيدًا).
حضرت سعید سے { وَسَیِّدًا وَحَصُورًا } کا معنی منقول ہے، ”بردبار“۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34076]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34076، ترقيم محمد عوامة 32571)
ترقیم عوامۃ: 32572 ترقیم الشثری: -- 34077
٣٤٠٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال:"ما من احد إلا وقد اخطا (او) (١) هم بخطيئة إلا يحيى بن زكريا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (و).
(٢) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (٢٢٩٤)، والحاكم ٢/ ٥٩١، وعبد بن حميد (٦٦٥)، والطبراني (١٢٩٣٣)، والبزار (٢٣٥٩/ كشف)، وأبو يعلى (٢٥٤٤)، والبيهقي ١٠/ ١٨٦، وابن عدي ٢/ ٤٠٧.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی 5 سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہر شخص نے یا توغلطی کی یا غلطی کا ارادہ کیا، سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34077]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34077، ترقيم محمد عوامة 32572)