مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
15. ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32586 ترقیم الشثری: -- 34091
٣٤٠٩١ - حدثنا ابو معاوية ووكيع عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن ابي الاحوص عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إني ابرا إلى كل خليل من (خلته) (١) غير ان الله اتخذ صاحبكم خليلا، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا"، إلا ان وكيعا قال: من (خله) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (خليله).
(٢) في [أ، ب، م]: (خلة).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٣٨٣)، وأحمد (٣٥٨٠).
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا میں ہر دوست کی دوستی سے بیزار ہوں مگر یہ کہ بلاشبہ اللہ نے تمہارے ساتھی کو دوست بنایا ہے۔ اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دوست بنایا۔ اور حضرت وکیع رضی اللہ عنہ نے من خلہ کے الفاظ نقل فرمائے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34091، ترقيم محمد عوامة 32586)
ترقیم عوامۃ: 32587 ترقیم الشثری: -- 34092
٣٤٠٩٢ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن عكرمة قال: قال ابن عباس: في (الجد) (١) (اما) (٢) الذي قال رسول الله ﷺ:"لو كنت متخذا من هذه الامة خليلا، لاتخذته" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: بياض، فراغ، وفي [هـ]: (أبي بكر)، وانظر: المسند (٣٣٨٥)، وتاريخ دمشق ٣٠/ ٢٤٠، والسنة لابن أبي عاصم (١٢٢٨).
(٢) في [جـ، م]: (ما).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٦٦)، وأحمد (٣٣٨٥).
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جَدْ کے بارے میں ارشاد فرمایا: کہ وہ شخص جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اس امت میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے باپ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34092، ترقيم محمد عوامة 32587)
ترقیم عوامۃ: 32588 ترقیم الشثری: -- 34093
٣٤٠٩٣ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن عطية عن ابي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ:"إن اهل الدرجات العلى ليرون من هو اسفل منهم كما (ترون) (١) الكوكب الطالع في الافق من آفاق السماء وإن ابا بكر وعمر (منهم) (٢) وانعما" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (يرون).
(٢) في [أ، جـ، ط، هـ]: (منهما).
(٣) ضعيف؛ لضعف عطية، والخبر أخرجه البخاري (٣٢٥٦)، ومسلم (٢٨٣١).
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک جنت میں بلند درجے والے لوگوں کو ان سے نچلے طبقہ والے لوگ ایسے ہیں دیکھیں گے جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ اور بلاشبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہان لوگوں میں سے ہوں گے اور اچھی زندگی میں ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34093، ترقيم محمد عوامة 32588)
ترقیم عوامۃ: 32589 ترقیم الشثری: -- 34094
٣٤٠٩٤ - حدثنا يونس بن محمد قال: ثنا فليح بن سليمان عن سالم ابي النضر عن عبيد بن حنين (وبسر) (١) بن (سعيد) (٢) عن ابي سعيد الخدري قال: خطب رسول الله ﷺ الناس فقال:"إن امن الناس علي في صحبته وماله ابو بكر، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت ابا بكر، ولكن اخوة الإسلام ومودته، لا يبقى في المسجد باب إلا سد إلا باب ابي بكر" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، م]: (بشير).
(٢) في [أ، ب، م، هـ]: (سعد).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٦٤)، ومسلم (٢٣٨٢).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا: اور کہا: یقینا لوگوں میں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے اپنی محبت اور مال کے اعتبار سے ابوبکر ہیں۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن ان سے اسلامی اخوت اور محبت ہے۔ اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34094، ترقيم محمد عوامة 32589)
ترقیم عوامۃ: 32590 ترقیم الشثری: -- 34095
٣٤٠٩٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ما نفعني مال ما نفعني مال ابي بكر"، قال: فبكى ابو بكر فقال: هل انا ومالي إلا لك يا رسول الله (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٧٤٤٦)، والنسائي في الكبرى (٨١١٠)، وابن ماجه (٩٤)، والترمذي (٣٦٦١)، وابن حبان (٦٨٥٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٢٩)، والطحاوي ٤/ ١٥٨، والخطيب ٢/ ١٣٥.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا۔ راوی فرماتے ہیں: یہ بات سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ پھر فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! میں اور میرا مال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی ہے! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34095، ترقيم محمد عوامة 32590)
ترقیم عوامۃ: 32591 ترقیم الشثری: -- 34096
٣٤٠٩٦ - حدثنا شريك عن اشعث (بن) (١) ابي الشعثاء عن الاسود بن هلال ان اعرابيا قال لهم: شهدت صلاة (الصبح) (٢) مع (النبي) (٣) ﷺ ذات يوم فاقبل على الناس بوجهه فقال:"رايت اناسا من امتي البارحة وزنوا، فوزن ابو بكر فوزن، ثم وزن عمر فوزن" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (الفجر).
(٣) في [أ، ب]: (رسول اللَّه).
(٤) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (١٦٦٠٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣٧)، وابن عساكر ٣٩/ ١١٥.
حضرت اسود بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے ان کو بیان کیا! کہ میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرہ کے ساتھ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں نے گزشتہ رات دیکھا کہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا گیا۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ وزن دار ہوگیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ بھی وزن دار ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34096، ترقيم محمد عوامة 32591)
ترقیم عوامۃ: 32592 ترقیم الشثری: -- 34097
٣٤٠٩٧ - حدثنا عفان قال: ثنا همام قال: ثنا ثابت عن انس ان ابا بكر حدثه قال: قلت للنبي ﷺ ونحن في الغار: لو ان احدهم ينظر إلى قدميه لابصرنا تحت قدميه فقال:"يا ابا بكر، ما ظنك باثنين الله ثالثهما" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٦٣)، ومسلم (٢٣٨١)، وأحمد (١١).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اس حال میں کہ ہم غار میں تھے۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو وہ ہمیں اپنے پیروں کے نیچے دیکھ لے گا! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! تمہارا کیا گمان ہے ان دو کے بارے میں جن کا تیسرا اللہ ہو؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34097، ترقيم محمد عوامة 32592)
ترقیم عوامۃ: 32593 ترقیم الشثری: -- 34098
٣٤٠٩٨ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ابي مالك الاشجعي عن سالم قال: قلت لابن الحنفية: ابو بكر كان اول القوم إسلاما، قال: لا، قلت: (مم) (١) (علا) (٢) (٣) ابو بكر و (بسق) (٤) حتى لا يذكر غير ابي بكر فقال: كان افضلهم إسلاما حين اسلم حتى لحق بالله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (هما)، وفي [جـ، م]: (مما)، وفي [هـ]: (فبما).
(٢) في [جـ]: (على).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (و).
(٤) في [أ، ب]: بياض، فراغ، وفي [هـ]: (سبق)، وفي [ط]: (بشق).
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں! میں نے عرض کیا! کیوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بلند درجہ والے اور شہرت یافتہ ہوگئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور ذکر ہی نہیں ہوتا؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آپ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے افضل تھے اسلام کے اعتبار سے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہاللہ سے جا ملے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34098، ترقيم محمد عوامة 32593)
ترقیم عوامۃ: 32594 ترقیم الشثری: -- 34099
٣٤٠٩٩ - حدثنا ابن علية عن خالد عن ابي قلابة قال: قال رسول الله ﷺ:"ارحم امتي (١) ابو بكر" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (بأمتي).
(٢) مرسل؛ أبو قلابة تابعي، أخرجه الخطيب في الفصل ٢/ ٦٨٣، وورد من حديث أبي قلابة عن أنس مرفوعًا، أخرجه أحمد (١٢٩٠٤)، والترمذي (٣٧٩١)، والنسائي (٨٢٤٢)، وابن ماجه (١٥٤)، وابن حبان (٧١٣١)، وابن سعد ٣/ ١٧٦، والبغوي في التفسير ٤/ ٢٠٧، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٢٧٩، والضياء (٢٢٤٠)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٤/ ٤٧٤، ورجح أبو أحمد الحاكم في معرفة علوم الحديث ص ١١٤٥ إرساله، وانظر: تاريخ دمشق ٥٨/ ٤٠٠.
حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34099]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34099، ترقيم محمد عوامة 32594)
ترقیم عوامۃ: 32595 ترقیم الشثری: -- 34100
٣٤١٠٠ - حدثنا مروان بن (معاوية) (١) عن عوف عن الحسن ان النبي ﷺ نعت ⦗٨⦘ يوما الجنة وما فيها من الكرامة، (فقال) (٢) فيما يقول:"إن فيها لطيرا امثال البخت"، فقال ابو بكر: يا رسول الله إن تلك (الطير) (٣) ناعمة، فقال النبي ﷺ (٤) :"يا ابا بكر من ياكل منها انعم منها، والله يا ابا بكر، إني لارجو ان تكون ممن ياكل منها" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (معادة).
(٢) في [م]: (قال).
(٣) في [م]: (لطير).
(٤) في [م]: ﵇.
(٥) مرسل؛ الحسن تابعي، وبنحوه أخرجه أحمد (١٣٣١١)، والضياء (١٦١٤)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٣)، والحاكم ٢/ ٥٣٧، والترمذي (٢٥٤٢)، وابن جرير ٣٠/ ٣٢٤.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن جنت میں اور اس میں پائی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا: بلاشبہ اس میں پائے جانے والے پرندے خراسانی اونٹ کے مانند ہوں گے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! کیا وہ پرندے موٹے بھی ہوں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! جو ان کو کھائے گا تو وہ اس سے خوش ہوگا۔ اللہ کی قسم! اے ابوبکر! میں امید کرتا ہوں کہ تم ان پرندوں کے کھانے والوں میں سے ہو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34100]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34100، ترقيم محمد عوامة 32595)