🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32606 ترقیم الشثری: -- 34111
٣٤١١١ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن ابي جعفر عن الربيع قال: مكتوب في الكتاب الاول: مثل ابي بكر مثل القطر حيثما وقع نفع.
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: پہلی کتاب میں یوں لکھا ہوا تھا: ابوبکر کی مثال بارش کے قطرے کی سی ہے۔ جہاں بھی گرتا ہے فائدہ دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34111، ترقيم محمد عوامة 32606)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32607 ترقیم الشثری: -- 34112
٣٤١١٢ - حدثنا ابو معاوية عن سهيل عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"نعم الرجل ابو بكر، نعم الرجل عمر، (نعم الرجل) (١) ثابت بن قيس بن شماس، ونعم الرجل (٢) عمرو بن الجموح، ونعم الرجل ابو عبيدة بن الجراح" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: زيادة (معاذ بن) وهو كذلك في مصادر التخريج.
(٣) مرسل، أبو سهيل ذكوان تابعي، وورد من حديث أبي هريرة، أخرجه أحمد (٩٤٢١)، والترمذي (٣٧٩٥)، والنسائي (٨٢٣)، وابن حبان (٦٩٩٧)، والحاكم ٣/ ٢٣٣، والبخاري في الآحاد (٣٣٧)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٤٢، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٢٤)، وابن عساكر ٩/ ٨٥، والمزي ٤/ ٣٧٠، والقزويني في التدوين ٢/ ٣٠٠.

حضرت سھیل رحمہ اللہ کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابوبکر! اچھے آدمی ہیں۔ عمر اچھے آدمی ہیں، عمرو بن جموح اچھے آدمی ہیں، اور ابو عبیدہ بن جراح اچھے آدمی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34112]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34112، ترقيم محمد عوامة 32607)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32608 ترقیم الشثری: -- 34113
٣٤١١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جامع عن منذر عن ابن الحنفية قال: قلت لابي (من) (١) خير الناس بعد رسول الله ﷺ؟ قال: ابو بكر، قال: قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، قال: قلت: فانت؟ قال: (ابوك) (٢) رجل من المسلمين (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (مع).
(٢) في [أ، ب]: (أنا).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٧١)، وأبو داود (٤٦٢٩)، وأحمد في فضائل الصحابة (١٣٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٧٨، والطبراني في الأوسط (٤٧٧٢)، وابن عدي ٧/ ٢٦، والخطيب ١٣/ ٤٦٢، وابن عساكر ٣٠/ ٣٤٧، واللالكائي (٢٥١٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٠٧).

حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون تھا؟ انوہں نے فرمایا: ابوبکر تھے۔ میں نے پوچھا: پھر کون تھا؟ انہوں نے فرمایا: عمر تھے۔ میں نے پوچھا: اور آپ؟ انہوں نے فرمایا: تمہارا والد مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34113]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34113، ترقيم محمد عوامة 32608)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32609 ترقیم الشثری: -- 34114
٣٤١١٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا صدقة بن المثنى قال: سمعت ⦗١٢⦘ جدي (رياح) (٢) بن الحارث يذكر انه شهد المغيرة بن شعبة وكان بالكوفة في المسجد الاكبر، وكانوا اجمع ما كانوا يمينا وشمالا حتى جاء رجل من اهل المدينة يدعى سعيد بن زيد بن نفيل، فرحب به المغيرة واجلسه عند رجليه على السرير، فبينا هو على ذلك إذ دخل رجل من اهل الكوفة يدعى قيس بن علقمة، فاستقبل المغيرة فسب فسب، فقال له المدني: يا مغير بن شعب، من يسب هذا الشاب، قال: سب علي بن ابي طالب، قال له مرتين: يا مغير بن شعب (يا مغير بن شعب) (٣) الا اسمع اصحاب رسول الله ﷺ يسبون عندك لا تنكر ولا تغير، فإني اشهد على رسول الله ﷺ بما سمعت اذناي وبما وعى قلبي -فإني لن اروي (عنه) (٤) من بعده كذبا فيسالني عنه إذا لقيته- انه قال: ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف (في الجنة) (٥) وسعد في الجنة، وآخر تاسع لو اشاء ان اسميه لسميته؛ قال: فخرج اهل المسجد يناشدونه بالله: يا صاحب رسول الله ﷺ من التاسع؟ قال: نشدتموني بالله والله عظيم، انا تاسع المؤمنين ونبي الله ﷺ العاشر، ثم اتبعها والله لمشهد شهده الرجل منهم يوما واحدا في سبيل الله مع رسول الله ﷺ افضل من عمل احدكم ولو عمر عمر نوح (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (بشير).
(٢) في [هـ]: (رباح).
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (عليه).
(٥) سقط من: [م].
(٦) صحيح؛ رياح بن الحارث ثقة، أخرجه أحمد (١٦٢٩)، وأبو داود (٤٦٥٠)، وابن ماجه (١٣٣)، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٣٤)، والنسائي في الكبرى (٨٢١٩)، والشاشي (٢١٦)، وعبد اللَّه في زياداته على الفضائل (٩٠).

حضرت صدقہ بن مثنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حضرت ریاح بن حارث رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا۔ اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک بڑی مسجد میں تھے۔ اور سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں بائیں جمع تھے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص تشریف لائے جن کو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کے نام سے پکارا جا رہا تھا۔ پس حضر ت مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ نے ان کو خوش آمدید کہا۔ اور انہوں نے ان کو تخت پر اپنی ٹانگوں کے پاس بٹھا لیا۔ پس وہ اسی حالت میں تھے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کو قیس بن علقمہ کے نام سے پکارا جا رہا تھا داخل ہوا۔ تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا پس انہوں نے بھی سب و شتم کیا اور اس شخص نے بھی سب و شتم کیا۔ تو اس مدنی شخص نے ان سے کہا: اے مغیرہ بن شعبہ! یہ گالی دینے والا کس کو گالی دے رہا تھا؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا! اس مدنی نے ان کو دو مرتبہ کہا: اے مغیرہ بن شعبہ! اے مغیرہ بن شعبہ! خبردار کہ میں سن رہا ہوں کہ تیرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا بھلا کہا جا رہا ہے نہ تو تعجب کر رہا ہے اور نہ ہی تو غیرت کھا رہا ہے! میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بات کی کہ میرے دونوں کانوں نے سنا: اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا: یقینا ہرگز میں روایت نہیں کرتا ان کے چلے جانے کے بعد جھوٹ کے ڈر سے۔ پس وہ مجھ سے پوچھیں گے جب وہ مجھے ملیں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، اور عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں۔ طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہیں، اور سعد جنت میں ہیں۔ اور آخری نواں اگر میں اس کا نام لینا چاہوں تو میں اس کا نام لے سکتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر مسجد والے نکلے ان کو قسمیں دے کر پوچھ رہے تھے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی! نواں کون تھا؟ انہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے قسم دی اور اللہ بہت عظیم ہے۔ میں مومنوں میں سے نواں شخص ہوں۔ اور اللہ کے نبی 5 دسویں ہیں۔ پھر اس کے بعد بیان کیا: اللہ کی قسم وہ مقام جس میں صحابہ میں سے ایک آدمی اللہ کے راستہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا جہاں اس کا چہرہ خاک آلود ہوا ہو تو وہ تم میں سے ہر ایک کے عمل سے افضل ہوگا اگرچہ اس کو حضرت نوح علیہ السلام جتنی عمر دے دی گئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34114]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34114، ترقيم محمد عوامة 32609)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32610 ترقیم الشثری: -- 34115
٣٤١١٥ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"إن في الجنة طيرا امثال البخت ياتي الرجل فيصيب منها ثم (يذهب) (١) (كان) (٢) لم ينقص منها (شيئا) (٣) " فقال: ابو بكر: يا رسول الله إن تلك الطير ناعمة، قال:"ومن ياكله انعم منه، اما إنك ممن ياكلها" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (تذهب).
(٢) في [أ، ب]: (كأنه).
(٣) في [جـ، م]: (شيء).
(٤) مرسل مضطرب؛ الحسن تابعي، وعطاء اختلط، وأخرجه بنحوه أحمد (١٣٣١١)، والنسائي في الكبرى (١١٧٠٣)، والترمذي (٢٥٤٢)، والحاكم ٢/ ٥٣٧، وابن جرير في التفسير ٣٠/ ٣٢٤، والضياء في المختارة (١٦١٤).

حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا جنت میں خراسانی اونٹ کی مانند ایک پرندہ ہوگا۔ ایک آدمی آئے گا اور اس کو کھائے گا۔ پھر وہ پرندہ چلا جائے گا۔ گویا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی کم نہ ہوئی ہو، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! بلاشبہ وہ پرندہ تو بہت موٹا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جو شخص اس سے کھائے گا وہ زیادہ خوشحال ہوگا۔ تم اس کے کھانے والوں میں سے ہوگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34115]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34115، ترقيم محمد عوامة 32610)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32611 ترقیم الشثری: -- 34116
٣٤١١٦ - حدثنا ابو الاحوص عن حصين عن هلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم عن سعيد بن زيد قال: اشهد على تسعة انهم في الجنة، ولو شهدت على العاشر لصدقت، قال: قلت: وما ذاك؟ قال: كان رسول الله ﷺ على حراء وابو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد بن مالك وعبد الرحمن بن عوف، فقال رسول الله ﷺ:"اثبت حراء فإنه ليس عليك إلا نبي او صديق او شهيد"، قال: قلت: من العاشر؟ قال: انا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عبد اللَّه بن ظا لم صدوق، أخرجه أحمد (١٦٣٠)، وأبو داود (٤٦٤٨)، والترمذي (٣٧٥٧)، والنسائي في الكبرى (٨١٩٠)، وابن ماجه (١٣٤)، والحميدي (٨٤)، والحاكم ٣/ ٤٥٠، وابن حبان (٦٩٩٦)، وأبو يعلى (٩٦٩)، وابن عدي ٦/ ٢٢٤١، والعقيلي ٢/ ٢٦٨، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٢٦).
حضرت عبد اللہ بن ظالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نو لوگوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا وہ جنت میں ہوں گے اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دوں تو یقینا میں سچا ہوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا! وہ کون ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑی پر تھے اور ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حرائ! ٹھہر جاؤ، نہیں تم پر مگر ایک نبی یا صدیق یا شہید۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا: دسواں شخص کون تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34116]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34116، ترقيم محمد عوامة 32611)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32612 ترقیم الشثری: -- 34117
٣٤١١٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن ابي خالد ان عائشة نظرت إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا سيد العرب؟ قال:"انا سيد ولد آدم ولا فخر، ⦗١٤⦘ و (ابوك) (١) سيد كهول العرب" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أبو بكر).
(٢) مرسل؛ إسماعيل تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (٥٩٩)، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات (٧)، وابن عساكر ٣٠/ ١٨٢.

حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے عرب کے سردار! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پوری اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔ اور تیرے والد جنت کے بوڑھوں کے سردار ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34117]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34117، ترقيم محمد عوامة 32612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32613 ترقیم الشثری: -- 34118
٣٤١١٨ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق عن ابي جحيفة قال: قال علي: خير هذه الامة بعد نبيها ابو بكر، وبعد (ابي) (١) بكر عمر، ولو شئت ان احدثكم بالثالث لفعلت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (أبو).
(٢) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه من طريق المؤلف عبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (٨٣٦)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٠١)، وأخرجه البغوي في الجعديات (٢١٠٩)، وورد بنحوه عند الطبراني في الأوسط (٧٣٨٢)، وفراس (١٢)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٩٩، والخطيب ٨/ ١٧٧، وابن عساكر ١٣٩/ ١٥٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٢٩، واللالكائي ٧/ ١٣٢٧، والآجري في الشريعة (١٨١٠)، والدينوري في المجالسة (١٤٩).

حضرت ابو حجیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں کہ تیسرے شخص کے بارے میں بتاؤں تو میں ایسا کرسکتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34118]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34118، ترقيم محمد عوامة 32613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32614 ترقیم الشثری: -- 34119
٣٤١١٩ - حدثنا شريك عن عاصم عن ابي جحيفة عن علي مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ شريك صدوق، وانظر: ما قبله وأخرجه أحمد (٨٧١)، وابن عساكر (٣/ ٣٥٨)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (٤٠).
حضرت ابو حجیفہ رحمہ اللہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ما قبل والا فرمان اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34119]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34119، ترقيم محمد عوامة 32614)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32615 ترقیم الشثری: -- 34120
٣٤١٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله قال: مشيت مع النبي ﷺ إلى امراة رجل من الانصار، قال: فرشت له اصول نخل وذبحت لنا شاة، فقال رسول الله ﷺ:"ليدخلن رجل من اهل الجنة"، فدخل ابو بكر، ثم قال:"ليدخلن رجل من اهل الجنة"، فدخل عمر، ثم قال:"ليدخلن رجل من اهل الجنة"، ئم قال:"اللهم إن شئت جعلته عليا"، فدخل علي (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن محمد بن عقيل، أخرجه أحمد (١٥١٦٢)، والطبراني في الأوسط (٦٩٩٨)، والحاكم ٣/ ١٣٦، والطيالسي (١٦٧٤).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری آدمی کی بیوی کے پاس گیا تو ا س نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کی چھال سے بنی ہوئی دری بچھائی اور ہمارے لیے ایک بکری ذبح کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو یہ آدمی علی رضی اللہ عنہ کو بنا دے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34120]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34120، ترقيم محمد عوامة 32615)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں