مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
15. ما ذكر في أبي بكر الصديق ﵁
ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 32616 ترقیم الشثری: -- 34121
٣٤١٢١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن بن عبيد الله قال: حدثنا الحر ابن (صياح) (١) عن عبد الرحمن بن الاخنس النخعي عن سعيد بن زيد قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعلي في الجنة وعثمان في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد بن ابي وقاص في الجنة، ولو شئت لسميت التاسع" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) بالياء كما في توضيح المشتبه ٥/ ٣٩٩، وفي [أ، ب]: (صباح)، وفي [هـ]: (الصباح).
(٢) مجهول؛ عبد الرحمن بن الأخنس مجهول، أخرجه أحمد (١٦٣١)، والنسائي في الكبرى (٨١٥٦)، وأبو داود (٤٦٤٩)، والترمذي (٣٧٥٧)، والشاشي (١٩٢)، والطيالسي (٢٣٦)، وأبو يعلى (٩٧١)، وابن أبي عصام في السنة (١٤٣٠)، وابن حبان (٦٩٩٣)، والطبراني في الأوسط (٨٦٩)، والضياء (١٠٩٠)، والمزي ١٦/ ٥٠٤.
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ابوبکر جنت میں ہے، عمر جنت میں ہے، علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہے، عثمان جنت میں ہے، طلحہ جنت میں ہے، زبیر جنت میں ہے، اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جنت میں ہے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جنت میں ہے، اور اگر میں چاہوں تو نویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34121]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34121، ترقيم محمد عوامة 32616)
ترقیم عوامۃ: 32617 ترقیم الشثری: -- 34122
٣٤١٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مسعر عن ابي عون الثقفي عن ابي صالح الحنفي عن علي بن ابي طالب قال: قيل لي ولابي بكر الصديق يوم بدر: مع احدكما جبريل، ومع الآخر ميكائيل وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال او يقف في الصف (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢٥٧)، والحاكم ٣/ ١٣٤، وابن أبي عاصم في السنة (١٢١٧)، والبزار (٧٢٩)، وأبو يعلى (٣٤٠)، وابن سعد ٣/ ١٧٥.
حضرت ابو صالح حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: مجھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے غزوہ بدر کے دن کہا گیا: تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل ہیں۔ اور حضرت اسرافیل عظیم فرشتہ ہیں جو قتال کے لیے حاضر ہیں یا فرمایا: کہ وہ صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34122]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34122، ترقيم محمد عوامة 32617)
ترقیم عوامۃ: 32618 ترقیم الشثری: -- 34123
٣٤١٢٣ - حدثنا ابو معاوية عن السري بن يحيى عن بسطام بن مسلم قال: بعث رسول الله ﷺ عمرو بن (العاص) (١) على سرية فيها ابو بكر وعمر، فلما قدموا اشتكى ابو بكر وعمر (عمرا) (٢) ، (فقال) (٣) رسول الله ﷺ:"لا ⦗١٦⦘ (يتامر) (٤) (عليكما) (٥) احد بعدي" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (العاصي).
(٢) أي: عمرو بن العاص، وفي [أ، هـ]: (عمروًا).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (وقال).
(٤) في [هـ]: (يتأمرن).
(٥) في [أ، ب]: (عليكم).
(٦) مرسل؛ بسطام تابعي.
حضرت بسطام بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس جب وہ لوگ واپس آئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضر ت عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں پر میرے بعد کسی کو بھی امیر نہیں بنایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34123]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34123، ترقيم محمد عوامة 32618)
ترقیم عوامۃ: 32619 ترقیم الشثری: -- 34124
٣٤١٢٤ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: قال عمر: وددت اني من الجنة حيث ارى ابا بكر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ میں جنت کے ایسے حصہ میں ہوں جہاں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ سکوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34124، ترقيم محمد عوامة 32619)
ترقیم عوامۃ: 32620 ترقیم الشثری: -- 34125
٣٤١٢٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رجل لعمر: يا خير الناس، فقال: إني لست بخير الناس، فقال: والله ما رايت (قط رجلا) (١) خيرا منك، قال: ما رايت ابا بكر؟ قال: لا، قال: لو قلت: نعم، لعاقبتك، قال: وقال عمر: (من بلهم) (٢) بيني وبين ابي بكر، يوم من ابي بكر خير من آل عمر (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رجلًا قط).
(٢) كذا في النسخ، وفي كنز العمال ١٢/ ٢٢٣: (لم فرقتم).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یوں پکارا: اے لوگوں میں سے بہترین شخص! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا میں لوگوں میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔ پھر اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم میں نے تو کبھی بھی آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص نہیں دیکھا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا؟ اس نے کہا: نہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو کہتا: جی ہاں! تو میں تجھے ضرور سزا دیتا۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر کی زندگی کا ایک دن عمر کی ساری آل کے اعمال سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34125، ترقيم محمد عوامة 32620)
ترقیم عوامۃ: 32621 ترقیم الشثری: -- 34126
٣٤١٢٦ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا إسماعيل عن قيس قال: قال (عمرو: واي) (١) الناس احب إليك يا رسول الله؟ قال:" (لم) (٢) "؟ قال: (لنحب) (٣) من تحب، قال:"احب الناس إلي عائشة"، قال: لست اسالك عن النساء، إنما اسالك ⦗١٧⦘ عن الرجال فقال (مرة:"ابوها"، وقال مرة:"ابو بكر") (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عمر: وأي)، وفي [م]: (عمر أي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ق، م، هـ]: بياض.
(٣) في [أ، ب]: (لتحب).
(٤) في [أ، ب]: (تقديم وتأخير).
(٥) مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الحاكم ٤/ ١٢، وابن عساكر ٣٠/ ١٣٥، وابن سعد ٨/ ٦٧، وأحمد في فضائل الصحابة (٦٧٢)، وقد أخرجه متصلًا من حديث عمرو بن العاص ابن حبان (٧١٠٦)، والنسائي (٨١٠٦)، والترمذي (٣٨٨٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٠٤).
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول 5! لوگوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: تاکہ ہم بھی اس سے محبت رکھیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ پسند ”عائشہ رضی اللہ عنہا“ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں سے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ان کے والد اور ایک مرتبہ فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34126]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34126، ترقيم محمد عوامة 32621)
ترقیم عوامۃ: 32622 ترقیم الشثری: -- 34127
٣٤١٢٧ - حدثنا يزيد قال: اخبرنا العوام عن (ابن) (١) ابي الهذيل قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من احد (امن) (٢) علينا في ذات يده من ابي بكر، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابا بكر؛ ولكن اخي وصاحبي وعلى ديني، وصاحبكم قد اتخذ خليلا" -يعني نفسه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ق، م، هـ]، وهو عبد اللَّه بن أبي الهذيل.
(٢) في [جـ]: (من).
(٣) مرسل؛ ابن أبي الهذيل تابعي، وقد ورد من حديث ابن أبي الهذيل عن أبي الأحوص عن ابن مسعود، أخرجه مسلم (٢٣٨٣).
حضرت ابو الھذیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:: کوئی ایک بھی مجھ پر ابوبکر سے زیادہ احسان کرنے والا نہیں ہے اپنی ذات سے بھی زیادہ، اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔ لیکن وہ میرے دینی بھائی اور ساتھی ہیں، اور تمہارے ساتھی کو یقینا دوست بنا لیا گیا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34127]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34127، ترقيم محمد عوامة 32622)
ترقیم عوامۃ: 32623 ترقیم الشثری: -- 34128
٣٤١٢٨ - حدثنا ابو داود (١) عمر بن سعد عن بدر بن عثمان عن عبيد الله بن (مروان) (٢) عن ابي عائشة عن ابن عمر قال: خرج إلينا رسول الله ﷺ ذات غداة فقال:"رايت آنفا كاني اعطيت المقاليد والموازين، فاما المقاليد فهذه المفاتيح (٣) ، فوضعت في كفة ووضعت امتي في كفة فرجحت بهم، ثم جيء بابي بكر فرجح، ثم جيء بعمر فرجح، ثم جيء بعثمان فرجح، ثم رفعت"، قال: فقال له رجل: ⦗١٨⦘ فاين نحن؟ قال:"حيث جعلتم انفسكم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (و).
(٢) في [أ، ب]: (غزوان).
(٣) في [هـ]: زيادة (وأما الموازين فهي التي تزنون بها).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبيد اللَّه بن مروان وأبي عائشة، أخرجه أحمد (٥٤٦٩)، وعبد بن حميد (٨٥٠)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (٢٢٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣٨)، والآجري في الشريعة (١٣٣٣)، وابن عساكر ٣٨/ ١١٦.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: میں نے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ مجھے چابیاں اور ترازو دیا گیا، بہرحال چابیاں وہ تو یہ ہیں۔ پھر مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھ دیا گیا پس میرا پلڑا جھک گیا۔ پھر ابوبکر کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عثمان کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ راوی فرماتے ہیں پس ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تم اپنے آپ کو رکھو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34128، ترقيم محمد عوامة 32623)
ترقیم عوامۃ: 32624 ترقیم الشثری: -- 34129
٣٤١٢٩ - حدثنا قبيصة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابيه قال: وفدنا إلى معاوية، قال: فما اعجب بوفد ما اعجب بنا، فقال: يا ابا بكرة حدثني بشيء سمعته من رسول الله ﷺ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول، وكانت تعجبه الرؤيا يسال عنها فسمعته يقول:"رايت ميزانا (انزل) (١) من السماء فوزنت فيه انا وابو بكر فرجحت بابي بكر، ثم وزن ابو بكر وعمر فرجح ابو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول الله ﷺ:"خلافة (و) (٢) نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٣) في اقفيتنا فاخرجنا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (نزل).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [م، هـ]: (فزخ).
(٤) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤٤٥)، وأبو داود (٤٦٣٥)، والطيالسي (٨٦٦)، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ١٠٠، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٣٥٥، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣٢)، والبزار (٣٥٦٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٣٤٨)، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٣٤٢، وبعضه ورد عند الترمذي (٢٢٨٧)، والنسائي في الكبرى (٨١٣٦)، والحاكم ٣/ ٧٠.
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کوئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا۔ پھر فرمایا: اے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ جب ان سے خوابوں کے بارے میں پوچھا جاتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا، پس اس میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو میر پلڑا ابوبکر سے بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر کا عمر کے ساتھ وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ترازو کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت اور نبوت ہوگی پھر اللہ جس کو چاہیں گے ملک عطا فرما دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: پس ہمیں گدی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34129، ترقيم محمد عوامة 32624)
ترقیم عوامۃ: 32625 ترقیم الشثری: -- 34130
٣٤١٣٠ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن محمد قال: ذكر (رجلان عثمان) (١) ⦗١٩⦘ فقال احدهما: قتل شهيدا، فتعلق به الآخر فاتى به عليا فقال: (إن) (٢) هذا يزعم ان عثمان بن عفان قتل شهيدا، قال: قلت: (ذلك؟) (٣) قال: نعم، اما تذكر يوم اتيت النبي ﷺ وعنده ابو بكر وعمر وعثمان فسالت النبي ﷺ فاعطاني، وسالت ابا بكر فاعطاني، وسالت عمر فاعطاني، وسالت عثمان فاعطاني، فقلت: يا رسول الله ادع الله ان يبارك لي قال:"ومالك لا يبارك لك وقد اعطاك نبي وصديق وشهيدان" فقال علي: دعه دعه دعه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ، هـ]: (ذاك).
(٤) مرسل؛ محمد تابعي، أخرجه ابن أبي عمر كما في المطالب (٣٩٠٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٩٦، وبحشل في تاريخ واسط ص ٢١٠، وأبو يعلى (١٦٠١)، وابن الأثير في أسد الغابة ٦/ ٤٧١.
حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پس ان میں سے ایک کہنے لگا۔ ان کو شہید کردیا گیا، تو دوسرا اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہنے لگا: بلاشبہ یہ شخص کہتا ہے کہ یقینا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تھا! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے یہ کہا ہے؟ اس شخص نے کہا: جی ہاں! کہا آپ رضی اللہ عنہ کو یاد نہیں وہ دن جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ م آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا: اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا: اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا: اور میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا کیا۔ پس میں نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول 5! میرے لیے برکت کی دعا فرما دیجئے اللہ مجھے برکت عطا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے برکت کیوں نہیں دی جائے گی حالانکہ تجھے ایک نبی، اور ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا کیا ہے؟! پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، اس کو چھوڑ دو، اس کو چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34130، ترقيم محمد عوامة 32625)