مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
ترقیم عوامۃ: 32776 ترقیم الشثری: -- 34285
٣٤٢٨٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن فطر عن ابي إسحاق عن ابي عبد الله الجدلي قال: قالت لي ام سلمة: يا ابا عبد الله ايسب رسول الله ﷺ فيكم ثم لا تغيرون؟ قال: قلت: ومن يسب رسول الله ﷺ؟ قالت: يسب علي ومن يحبه، وقد ⦗٧٣⦘ كان رسول الله ﷺ (١) يحبه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [م].
(٢) ضعيف؛ لاحتمال كون رواية فطر عن أبي إسحاق بعد اختلاطه، وأخرجه أحمد (٦٧٤٨)، والحاكم ٣/ ١٢١، والطبراني ٢٣/ (٧٣٧)، وأبو يعلى (٧٠١٣)، والنسائي (٨٤٧٦).
حضرت ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے ابو عبد اللہ! تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کیا جاتا ہے پھر بھی تم لوگ غیرت نہیں کھاتے؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: کون شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرسکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان سے محبت کرنے والوں کو سب و شتم کیا جاتا ہے۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34285]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34285، ترقيم محمد عوامة 32776)
ترقیم عوامۃ: 32777 ترقیم الشثری: -- 34286
٣٤٢٨٦ - حدثنا خالد بن مخلد عن ابن فضيل عن ابي نصر عن مساور الحميري عن امه عن ام سلمة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا يبغض عليا مؤمن، ولا يحبه منافق" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة مساور الحميري وأمه، أخرجه أحمد وابنه (٢٦٥٠٧)، والترمذي (٣٧١٧)، وأبو يعلى (٦٩٠٤)، والطبراني ٢٣/ (٨٨٥).
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مومن علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34286]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34286، ترقيم محمد عوامة 32777)
ترقیم عوامۃ: 32778 ترقیم الشثری: -- 34287
٣٤٢٨٧ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا (عمار) (١) عن الاعمش عن المنهال عن عبد الله بن الحارث عن علي قال: إنما مثلنا في هذه الامة كسفينة نوح و (كتاب) (٢) حطة في بني إسرائيل (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حماد).
(٢) في [أ، ب]: (كباب).
(٣) حسن؛ معاوية بن هشام صدوق.
حضرت عبد اللہ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بیشک ہماری مثال اس امت میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے۔ اور بنی اسرائیل میں پائے جانے والے مغفرت کے دروازے کی سی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34287]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34287، ترقيم محمد عوامة 32778)
ترقیم عوامۃ: 32779 ترقیم الشثری: -- 34288
٣٤٢٨٨ - حدثنا إسحاق بن منصور (عن) (١) سليمان بن قرم عن عاصم عن (زر) (٢) قال: قال علي: لا يحبنا منافق، ولا يبغضنا مؤمن (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قال: حدثنا)، وسقط (عن).
(٢) في [ب]: (ذر).
(٣) ضعيف؛ لضعف رواية عاصم عن زر.
حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی منافق ہم سے محبت نہیں کرے گا اور کوئی بھی مومن ہم سے بغض نہیں رکھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34288]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34288، ترقيم محمد عوامة 32779)
ترقیم عوامۃ: 32780 ترقیم الشثری: -- 34289
٣٤٢٨٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثني محمد بن طلحة (١) عن ابي عبيدة بن الحكم الازدي يرفع حديثه ان النبي ﷺ قال لعلي:" (٢) ستلقى بعدي جهدا"، قال: ⦗٧٤⦘ يا رسول الله في سلامة في ديني؟ قال:"نعم في سلامة من دينك" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو ابن مصرف كما في الشريعة (١٨١٣)، والخراج (١٩٥)، وتغليق التعليق ٣/ ٣٠٢.
(٢) في [م]: زيادة (إنك).
(٣) مرسل مجهول؛ أبو عبيدة بن الحكم الأزدي مجهول وليس صحابيًا.
حضرت ابو عبیدہ بن حکم الازدی رحمہ اللہ مرفوع حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: عنقریب تو میرے بعد ایک جدوجہد کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: اے اللہ کے رسول 5! یہ جدو جہد میرے دین کی سلامتی کے بارے میں ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تیرے دین کی حفاظت کے بارے میں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34289]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34289، ترقيم محمد عوامة 32780)
ترقیم عوامۃ: 32781 ترقیم الشثری: -- 34290
٣٤٢٩٠ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا علي بن زيد عن عدي بن ثابت عن البراء قال: عنا مع رسول الله ﷺ في سفر، قال: فنزلنا بغدير خم قال: فنودي الصلاة جامعة، وكسح لرسول الله ﷺ تحت شجرة (فصلى) (١) الظهر فاخذ بيد علي فقال:"الستم تعلمون اني اولى بالمؤمنين من انفسهم"، قالوا: بلى، قال:"الستم تعلمون اني اولى (بكل) (٢) (مؤمن) (٣) من (نفسه) (٤) "، قالوا: (بلى) (٥) قال: فاخذ بيد علي فقال:"اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه"، قال: فلقيه عمر بعد ذلك فقال: هنيئا لك يا ابن ابي طالب، اصبحت وامسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (صلى).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (بالمؤمنين).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (أنفسهم).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٨٤٧٩)، والنسائي في الكبرى (٨٤٨٣)، وابن ماجه (١١٦)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد الفضائل (١٠٤٢)، والدولابي في الأسماء والكنى ١/ ١٦٠، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٦٣).
حضرت عدی بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم لوگوں نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ پس ندا لگائی گئی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ اور ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ صاف کی گئی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: کیا تم لوگوں کو علم نہیں کہ میں سب مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہوں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا: کیوں نہیں! راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے اللہ! میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! جو شخص اس کو دوست رکھے پس تو بھی اس کو دوست رکھ۔ اور جو اس سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی فرما۔ راوی فرماتے ہیں: اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہان سے ملے اور فرمایا: اے ابو طالب کے بیٹے! تمہیں مبارک ہو۔ تم نے ہر مومن مرد اور مومن عورت کا دوست ہونے کی حالت میں صبح و شام کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34290]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34290، ترقيم محمد عوامة 32781)
ترقیم عوامۃ: 32782 ترقیم الشثری: -- 34291
٣٤٢٩١ - حدثنا ابو الجواب قال: حدثنا يونس بن ابي إسحاق عن (ابي إسحاق) (١) (البراء) (٢) بن عازب قال: بعث رسول الله ﷺ جيشين، على احدهما علي بن ابي طالب، وعلى الآخر خالد بن الوليد، فقال: (إن كان (قتال) (٣) فعلي ⦗٧٥⦘ على الناس"، فافتتح (علي) (٤) حصنا، فاتخذ جارية لنفسه، فكتب خالد (بسواته) (٥) ، فلما قرا رسول الله ﷺ الكتاب قال:"ما تقول في رجل (يحب الله ورسوله) (٦) ، ويحبه الله ورسوله؟" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [ب]: (إسرائيل).
(٣) في [أ، ب، م]: (قتل).
(٤) في [أ، ب]: (عليًا).
(٥) في [أ، هـ]: (يسوء به).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) معلول، أكثر الروايات أن خالدًا رجع عند مجيء علي ﵄، أخرجه الترمذي (١٧٠٤)، والروياني (٣٠٩)، واللالكائي (٢٦٣٦)، وابن عساكر ٤٢/ ١٩٦.
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور دوسرے لشکر پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو، پھر ارشاد فرمایا: اگر لڑائی ہو تو اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں پر امیر ہوں گے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ کو فتح کرلیا۔ اور ایک باندی کو اپنے لیے خاص کرلیا اس پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر اس بات کی حضور 5 کو خبر دی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط پڑھا تو ارشاد فرمایا: تم کیا کہتے ہو ایسے شخص کے بارے میں جو اللہ اور ا س کے رسول 5 کو محبوب رکھتا ہے۔ اور اللہ اور اس کا رسول 5 اس کو محبو ب رکھتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34291]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34291، ترقيم محمد عوامة 32782)
ترقیم عوامۃ: 32783 ترقیم الشثری: -- 34292
٣٤٢٩٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن عطية بن سعد قال: دخلنا على جابر بن عبد الله وهو شيخ كبير وقد سقط حاجباه على عينيه قال: فقلت اخبرنا عن هذا الرجل علي بن ابي طالب قال: فرفع حاجبيه بيديه ثم قال: ذاك من خير البشر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف عطية العوفي.
حضرت عطیہ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ وہ بہت بوڑھے تھے اور ان کی پلکیں ان کی آنکھوں پر گری ہوئی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اس شخص یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلائیے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے دونوں پلکوں کو اٹھایا پھر ارشاد فرمایا:: یہ تو خیر البشر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34292]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34292، ترقيم محمد عوامة 32783)
ترقیم عوامۃ: 32784 ترقیم الشثری: -- 34293
٣٤٢٩٣ - حدثنا عفان قال: ثنا جعفر بن سليمان قال: حدثني يزيد الرشك عن مطرف عن عمران بن حصين قال: بعث رسول الله ﷺ سرية واستعمل عليهم عليا، فصنع علي شيئا انكروه، فتعاقد اربعة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه (وسلم) (١) (ان يعلموه) (٢) ، (وكانوا إذا قدموا من سفر بداوا برسول الله ﷺ) (٣) ، فسلموا عليه ونظروا إليه، ثم ينصرفون إلى رحالهم قال: فلما قدمت السرية سلموا على رسول الله ﷺ (٤) فقام احد الاربعة فقال: يا رسول الله الم تر ان ⦗٧٦⦘ عليا صنع كذا وكذا، فاقبل إليه رسول الله يعرف الغضب في وجهه فقال:"ما تريدون من علي ما تريدون من علي؟ علي مني وانا من علي، وعلي ولي كل مؤمن بعدي" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ب]: زيادة (وسلم).
(٥) معلول، جعفر بن سليمان صدوق روى ما يؤيد بدعته فلا تقبل روايته، والحديث أخرجه أحمد (١٩٩٢٨)، والترمذي (٣٧١٢)، وابن حبان (٦٩٢٩)، والنسائي في الكبرى (٨١٤٦)، والطيالسي (٨٢٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٢٩٨)، وأبو يعلى (٣٥٥)، والطبراني ١٨/ (٢٦٥)، والحاكم ٣/ ١١٠، وابن عدي ٢/ ٥٦٨، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٢٩٤، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٠٦٠).
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا کام کیا جس کو لوگوں نے ناپسند کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے۔ اور یہ لوگ جب سفر سے واپس آگئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلانے کا ارادہ کیا۔ پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھا پھر لوگ اپنے کجاو وں کی طرف پلٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں: کہ جب سارے لشکروا لے آگئے۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کرلیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول 5! آپ کی کیا رائے ہے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو؟! تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو؟! علی رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں علی رضی اللہ عنہ سے ہوں اور علی رضی اللہ عنہ میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34293، ترقيم محمد عوامة 32784)
ترقیم عوامۃ: 32785 ترقیم الشثری: -- 34294
٣٤٢٩٤ - حدثنا جعفر بن عون قال: ثنا (شقيق) (١) بن ابي عبد الله قال: حدثنا ابو بكر بن خالد بن عرفطة قال: اتيت سعد بن مالك بالمدينة فقال: ذكر لي انكم تسبون عليا؟ قال: قد فعلنا، قال: فلعلك قد سببته؟ قال: قلت: معاذ الله، قال: فلا تسبه، فلو وضع المنشار على مفرقي على ان اسب عليا ما سببته ابدا، بعد ما سمعت من رسول الله ﷺ ما سمعت (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (سفيان)، وانظر: المطالب العالية (٣٩٣٩).
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن خالد بن عرفطة، أخرجه النسائي (٨٤٧٧)، وأبو يعلى (٧٧٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٥٣)، والضياء (١٠٧٧)، والدورقي في مسند سعد (١١٢)، والبخاري في الكنى ص ١١، والمزي ١٢/ ٥٥٥، وابن عساكر ٤٢/ ٤١٢.
حضرت ابوبکر بن خالد بن عُرْفطہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں آیا، تو انہوں نے کہا: مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ تم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: شاید کہ تم بھی ان کو گالیاں دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی پناہ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کبھی ان کو گالی مت دینا۔ پس اگر میرے سر کے درمیان میں آرا رکھ دیا جائے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دوں! میں کبھی بھی ان کو گالی نہیں دوں گا اس حدیث کے سننے کے بعد جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34294، ترقيم محمد عوامة 32785)