🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32757 ترقیم الشثری: -- 34265
٣٤٢٦٥ - حدثنا شريك عن ابي (إسحاق) (١) عن عاصم بن ضمرة قال: خطب الحسن بن علي حين قتل علي فقال: يا اهل الكوفة، او يا اهل العراق، لقد كان بين اظهركم رجل قتل الليلة او اصيب اليوم لم يسبقه الاولون بعلم، (ولا يدركه الآخرون) (٢) ، كان النبي ﷺ إذا بعثه في سرية كان جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره، فلا يرجع حتى يفتح الله عليه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) مضطرب؛ اضطرب أبو إسحاق في إسناده، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٠٢٦)، وأبو يعلى (٦٧٥٨)، وابن حبان (١٩٣٦)، وابن سعد ٣/ ٣٨، والنسائي في الكبرى (٨٤٠٨)، والطبراني (٢٧١٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٥، وسيأتي ١٢/ ٧٤ [٣٤٢٧٦].

حضرت عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا: اے کوفہ والو یا یوں فرمایا: اے عراق والو! تحقیق تمہارے سامنے ایک آدمی تھا جس کو رات کو شہید کردیا گیا یا یوں فرمایا: کہ جو آج فوت ہوگیا۔ پہلے لوگ اس سے علم میں نہیں بڑھے اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کے علم کو پاسکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو کسی لشکر میں بھیجتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی دائیں طرف ہوتے تھے اور حضرت میکائیل اس کی بائیں طرف ہوتے۔ پس وہ شخص واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرما دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34265، ترقيم محمد عوامة 32757)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32758 ترقیم الشثری: -- 34266
٣٤٢٦٦ - حدثنا (عبد الله) (١) بن نمير قال: اخبرنا الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: ذكر عنده قول الناس في علي فقال: قد جالسناه ⦗٦٦⦘ وواكلناه وشاربناه وقمنا له على الاعمال، فما سمعته يقول شيئا مما (يقولون) (٢) ، إنما يكفيكم ان تقولوا: ابن عم رسول الله ﷺ (٣) (٤) وختنه وشهد بيعة الرضوان وشهد بدرا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (تقولون).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [أ] زيادة: (والد مسلم).
(٥) صحيح.

حضرت عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں کی باتیں ذکر کی گئیں تو انہوں نے فرمایا: ہم لوگ آپس میں بیٹھے ہیں ہم نے اکٹھے کھایا پیا ہے۔ اور ہم ان کے اعمال پر رضا مند ہیں پس میں نے تو کبھی بھی نہیں سنی وہ بات جو لوگ کہتے ہیں۔ بیشک تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم یوں کہہ دیا کرو۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اور ان کے داماد ہیں وہ بیعت الرضوان کے موقع پر حاضر تھے اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34266، ترقيم محمد عوامة 32758)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32759 ترقیم الشثری: -- 34267
٣٤٢٦٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن ابي منين وهو يزيد بن كيسان عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: قال (رسول الله) (١) ﷺ:"لادفعن الراية (اليوم) (٢) إلى رجل يحب الله ورسوله"، قال: فتطاول القوم فقال:"اين علي؟" فقالوا: يشتكي عينيه، فدعاه فبزق في كفيه ومسح بهما عين علي ثم دفع إليه الراية ففتح الله عليه يومئذ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (النبي).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (٨١٥١)، وابن حبان (٦٩٣٣)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٢٥، وإسحاق (٢١٩)، ويعلي ويزيد ثقتان، وقد ورد الخبر بطريق آخر من حديث أبي هريرة، أخرجه مسلم (٢٤٠٥)، وورد من حديث أبي حازم عن سهل بن سعد، أخرجه البخاري (٢٨٤٧).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ضرور بالضرور آج ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس لوگ قدم اونچے کرکے اپنے آپ کو ظاہر کرنے لگے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کی دونوں آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب مبارک ڈالا اور اس کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کو مسلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا دیا۔ پس اسی دن اللہ نے ان کو فتح عطا فرما دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34267، ترقيم محمد عوامة 32759)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32760 ترقیم الشثری: -- 34268
٣٤٢٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: بينما النبي ﷺ (١) عنده نفر من اصحابه، فارسل إلى نسائه فلم يجد عند امراة منهن شيئا، فبينما هم كذلك إذ هم بعلي قد اقبل (شعشا) (٢) مغبرا، على عاتقه قريب من صاع من تمر قد عمل بيده، فقال النبي ﷺ:"مرحبا بالحامل والمحمول"، ثم اجلسه ⦗٦٧⦘ فنفض عن راسه التراب، ثم قال:"مرحبا بابي تراب"، فقربه فاكلوا حتى صدروا، ثم ارسل إلى نسائه كل واحدة منهن طائفة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [هـ]: (أشعث).
(٣) مرسل ضعيف؛ ابن أبي ليلى تابعي، ويزيد ضعيف.

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس کھانے کا پیغام بھیجا لیکن کسی بھی بیوی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی نہ ملی۔ تو اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو غبار آلود اور پراگندہ حال میں تھے اور ان کے کندھے پر ایک صاع کے قریب کھجوریں تھیں۔ جو انہوں نے مزدوری کر کے حاصل کی تھیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش آمدید بوجھ اٹھانے والے کو اور اٹھائے ہوئے بوجھ کو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے سر سے مٹی جھاڑی پھر ارشاد فرمایا: خوش آمدید ابوتراب! پھر انہوں نے کھجوروں کو قریب کیا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو بھی اس میں سے حصہ بھیجا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34268، ترقيم محمد عوامة 32760)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32761 ترقیم الشثری: -- 34269
٣٤٢٦٩ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان النبي ﷺ دفع الراية إلى (علي) (١) فقال:" (لادفعنها) (٢) إلى رجل يحب الله ورسوله، (ويحبه الله ورسوله) (٣) "، قال: فتفل في عينيه وكان ارمد، (قال) (٤) : (ودعا) (٥) له ففتحت عليه خيبر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رجل).
(٢) في [هـ]: (لأدفعها).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (فدعا).
(٦) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.

حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا: میں ایسے شخص کو جھنڈا دے رہا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5 اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب ڈالا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ اور ان کے لیے دعا فرمائی پس اللہ نے ان کو خیبر میں فتح دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34269، ترقيم محمد عوامة 32761)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32762 ترقیم الشثری: -- 34270
٣٤٢٧٠ - حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن عمر بن اسيد عن ابن عمر قال: (قال عمر بن الخطاب -او قال ابي) (١) : لقد اوتي علي بن ابي طالب ثلاث خصال؛ لان تكون لي واحدة منهن احب إلي من حمر النعم، (زوجه) (٢) ابنته فولدت له، وسد الابواب إلا بابه، واعطاه الحربة يوم خيبر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، م].
(٢) في [أ، ب]: (زوجته).
(٣) ضعيف؛ لضعف هشام بن سعد، أخرجه أحمد (٤٧٩٧)، وابن عساكر ٤٢/ ١٢١، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣٢٨، وابن الأثير ٣/ ٣٢٨.

حضرت عمر بن اسید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کو تین خصوصیات عطا کی گئیں۔ مجھے ان میں سے ایک کا مل جانا میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی جس سے ان کی اولاد بھی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دروازے بند کروا دیے سوائے ان کے دروازے کے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34270، ترقيم محمد عوامة 32762)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32763 ترقیم الشثری: -- 34271
٣٤٢٧١ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني اياس ابن سلمة قال: اخبرني ابي ان رسول الله ﷺ ارسله إلى علي فقال:"لاعطين ⦗٦٨⦘ الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله"، قال: فجئت به اقوده ارمد، قال: فبصق رسول الله ﷺ في عينيه، ثم اعطاه الراية، وكان الفتح على يديه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٠٩)، ومسلم (١٨٠٧).
حضرت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضر ت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ اور ارشاد فرمایا: میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول 5! ا س سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پس میں ان کو لایا اس حال میں کہ میں ان کو راستہ دکھانے کے لیے آگے چل رہا تھا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا پھر ان کو جھنڈا مرحمت فرمایا۔ اور اسی دن اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34271، ترقيم محمد عوامة 32763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32764 ترقیم الشثری: -- 34272
٣٤٢٧٢ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن صدقة بن سعيد عن جميع بن عمير قال: دخلت على عائشة انا و (امي) (١) وخالتي فسالناها كيف كان علي عنده؟ فقالت: تسالوني عن رجل وضع يده من رسول الله ﷺ موضعا لم (يضعها) (٢) احد، وسالت نفسه في يده ومسح بها وجهه ومات، فقيل: اين (تدفنوه) (٣) فقال علي: ما في الارض بقعة احا إلى الله من بقعة قبض فيها نبيه، فدفناه (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (يضعه).
(٣) في [ط، هـ]: (يدفنوه).
(٤) ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو يعلى (٤٨٦٥)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٩٤.

حضرت جُمَیع بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ اور میری خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ہم نے ان سے پوچھا: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مقام تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تم نے مجھ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نبی 5 کے بدن پر ایسی جگہ ہاتھ رکھا جہاں کسی نے بھی نہیں رکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ان ہاتھ میں نکلی کہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ پوچھا گیا: تم لوگ نبی 5 کو کہاں دفن کرو گے؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک زمین کا کوئی ٹکڑا اس حصہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اس نبی 5 کی وفات ہوئی۔ لہٰذا ہم نے اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کردی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34272]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34272، ترقيم محمد عوامة 32764)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32765 ترقیم الشثری: -- 34273
٣٤٢٧٣ - حدثنا محمد بن بشر عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن صفية بنت شيبة قالت: قالت عائشة: خرج النبي ﷺ غداة وعليه مرط مرجل من شعر اسود، فجاء الحسن فادخله معه، ثم جاء حسين فادخله معه، ثم جاءت فاطمة فادخلها، ثم جاء علي فادخله، ثم قال: ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا﴾ (١) [الاحزاب: ٣٣] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ مصعب بن شيبة صدوق، أخرجه مسلم (٢٤٢٤)، وأحمد (٢٥٢٩٥).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کالی چادر تھی جس پر اونٹوں کے کجاوے کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ پس حضرت حسن رضی اللہ عنہائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس میں داخل کیا۔ پھر حضرت حسین رحمہ اللہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی، اے نبی 5 کے گھر والو اور پاک کر دے تمہیں پوری طرح۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34273]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34273، ترقيم محمد عوامة 32765)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32766 ترقیم الشثری: -- 34274
٣٤٢٧٤ - حدثنا محمد بن مصعب عن الاوزاعي عن شداد ابي عمار قال: دخلت على واثلة وعنده قوم فذكروا فشتموه، فشتمته معهم، فقال: الا اخبرك بما سمعت من رسول الله ﷺ؟ قلت: بلى، قال: اتيت فاطمة اسالها عن علي فقالت: توجه إلى رسول الله ﷺ فجلس، فجاء رسول الله ﷺ ومعه علي وحسن وحسين ⦗٦٩⦘ كل واحد منهما آخذ بيده، (حتى دخل) (١) فادنى عليا وفاطمة فاجلسهما بين يديه، و (اجلس) (٢) حسنا وحسينا كل واحد منهما على فخذه، ثم لف عليهم ثوبه او قال: (كساء) (٣) ، ثم تلا هذه الآية: ﴿إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت (٤) ﴾، ثم قال:"اللهم هولاء اهل بيتي، واهل بيتي احق" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (الحسن).
(٣) في [هـ]: (كساءه).
(٤) في [أ، ب] زيادة: (ويطهركم تطهيرًا).
(٥) حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه أحمد (١٦٨٨)، والحاكم ٢/ ٤١٦، والبخاري في التاريخ ٨/ ١٨٧، وابن حبان (٦٩٧٦)، وأبو يعلى (٧٤٨٦)، والطبراني ٢٢/ (١٦٠)، وابن جرير في التفسير ٢٢/ ٧، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٣)، والبيهقي ٢/ ٤١٦، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٤).

حضرت شداد ابو عمارہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ ان کے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پس ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پھر ان کو سب و شتم کرنے لگے تو میں نے بھی ان کے ساتھ ان کو برا بھلا کہا۔ تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس حدیث کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور سنائیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا: تو وہ فرمانے لگیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ہیں پس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں درآنحالیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بٹھایا یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر اپنا کپڑا یا چادر ڈال دی۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبی 5 کے گھر والو! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور میرے گھر والے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34274]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34274، ترقيم محمد عوامة 32766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں