🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. فضائل علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32747 ترقیم الشثری: -- 34255
٣٤٢٥٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن العلاء بن الصالح عن المنهال عن عباد بن عبد الله قال: سمعت عليا يقول: انا عبد الله واخو رسوله، وانا الصديق الاكبر، لا ⦗٦٢⦘ يقولها بعدي إلا كذاب مفتر، ولقد صليت قبل الناس بسبع سنين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف جدًا؛ عباد بن عبد اللَّه الأسدي متروك على الصحيح؛ أخرجه ابن ماجه (١٢٠)، والحاكم ٣/ ١١١، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٢٤)، والنسائي في الخصائص (٧)، والعقيلي ٣/ ١٣٧، والمزي ٢٢/ ٥١٣.
حضرت عباد بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور اس کے رسول 5 کا بھائی ہوں۔ اور میں صدیق اکبر ہوں۔ نہیں کہے گا اس بات کو میرے بعد مگر جھوٹا کذاب شخص۔ اور تحقیق میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34255، ترقيم محمد عوامة 32747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32748 ترقیم الشثری: -- 34256
٣٤٢٥٦ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن سلمة عن حبة العرني عن علي قال: انا اول رجل صلى مع رسول الله ﷺ (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال حبة، أخرجه أحمد (١١٩١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٩)، والنسائي في الخصائص (١)، وابن سعد ٣/ ٢١، وسيأتي ١٣/ ٥٠.
حضرت حبۃ العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں پہلا آدمی ہوں جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34256، ترقيم محمد عوامة 32748)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32749 ترقیم الشثری: -- 34257
٣٤٢٥٧ - حدثنا عبيد الله عن طلحة بن جبر عن المطلب بن عبد الله عن مصعب بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن عوف قال: لما افتتح رسول الله ﷺ مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها (تسع) (١) (عشرة) (٢) او ثماني عشرة، فلم يفتحها، ثم ارتحل روحة او غدوة فنزل ثم هجر ثم قال:"ايها الناس، إني فرط لكم، واوصيكم بعترتي خيرا، وإن موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة، او لابعثن إليكم رجلا مني او (كنفسي) (٣) فليضربن اعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، قال: فراى الناس انه ابو بكر او عمر فاخذ بيد علي فقال:"هذا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (سبع).
(٢) سقطت من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (لنفسي).
(٤) ضعيف جدًا، طلحة بن جبر متروك، أخرجه أبو يعلى (٨٥٩)، والحاكم ٢/ ١٢٠، والبزار (١٠٥٠)، وابن جرير في الجزء المفقود من تهذيب الآثار (٢١٦)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٣، والفاكهي (١٩٦٢)، وخليفة في التاريخ ص ٨٩، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة (٩٦٨).

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیا۔ لیکن اس کو فتح نہ کرسکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح یا شام کے وقت کوچ فرمایا: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو چلنے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بیشک میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا، اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔ اور تم سے وعدے کی جگہ حوض کوثر کا مقام ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یا پھر میں تمہاری طرف اپنے ایک آدمی کو بھیجوں گا۔ یا اپنے جیسے ایک آدمی کو بھیجوں گا۔ پس وہ ضرور بالضرور ان میں سے قتال کرنے والوں کی گردنوں کو مارے گا۔ اور ان کی اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: وہ شخص یہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34257، ترقيم محمد عوامة 32749)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32750 ترقیم الشثری: -- 34258
٣٤٢٥٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن ابي فاختة قال: حدثني هبيرة بن (يريم) (١) عن علي قال: اهدي إلى رسول الله ﷺ حلة مسيرة بحرير إما سداها حرير، او لحمتها، فارسل بها إلي، فاتيته فقلت: ما اصنع بها، البسها؟ فقال:"لا إني لما ارضى لك ما اكره لنفسي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (مريم).
(٢) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن ماجه (٣٥٩٦)، وسبق ٨/ ١٥٨، وأصله عند البخاري (٢٦١٤).

حضرت ہبیرہ بن یریم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ دیا گیا جو ریشم سے مزین تھا۔ یا تو اس کا تانا ریشم کا تھا یا اس کا بانا ریشم کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جوڑا مجھے بھیج دیا۔ میں وہ جوڑا لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اور میں نے دریافت کیا کہ میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اس کو پہن لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بیشک میں تیرے لیے وہ چیز پسند نہیں کرتا جو چیز میں اپنے لیے ناپسند کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34258، ترقيم محمد عوامة 32750)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32751 ترقیم الشثری: -- 34259
٣٤٢٥٩ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن ابي زياد عن ابي فاختة قال: حدثني جعدة بن هبيرة عن علي عن النبي ﷺ بنحو من حديث عبد الرحيم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٠)، والطبراني ٢٤/ (٨٨٧)، وانظر: ما قبله.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ما قبل والا ارشاد اس سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34259، ترقيم محمد عوامة 32751)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32752 ترقیم الشثری: -- 34260
٣٤٢٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن (ناجية) (١) بن كعب عن علي قال: لما مات ابو طالب اتيت النبي ﷺ (فقلت) (٢) : يا رسول الله إن عمك الشيخ الضال قد مات قال: فقال:"انطلق فواره ثم (لا تحدثن) (٣) شيئا حتى تاتيني"، قال: فواريته ثم اتيته فامرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما احب ان لي بهن ما على الارض (من) (٤) (شيء) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فاختة).
(٢) في [أ، ب]: (قلت).
(٣) في [أ، ب، جـ، هـ]: (لا تحدثني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (بشيء).
(٦) حسن؛ ناجية بن كعب صدوق، أخرجه أحمد وأبو داود (٣٢١٤)، والنسائي ٤/ ٧٩، وابن سعد ١/ ١٢٤، والبيهقي ٣/ ٣٩٨، والدارقطني في العلل ٤/ ١٤٦، والشافعي في مسنده ١/ ٢٠٧، وأبو يعلى (٤٢٣)، وابن الجارود (٥٥٠)، وعبد الرزاق (٩٩٣٦)، والبزار (٥٩٢).

حضرت ناجیۃ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول 5! بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کا حکم دیا۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34260]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34260، ترقيم محمد عوامة 32752)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32753 ترقیم الشثری: -- 34261
٣٤٢٦١ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن علي قال: قال لي النبي ﷺ:"انت مني وانا منك" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ هانئ بن هانئ صدوق، أخرجه أحمد (٩٣١)، والنسائي (٨٥٧٩)، وابن حبان (٧٠٤٦)، والحاكم ٣/ ١٢٠، والبزار (٧٤٤)، والبيهقي ١٠/ ٢٦٦، والضياء (٧٧٨).
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34261]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34261، ترقيم محمد عوامة 32753)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32754 ترقیم الشثری: -- 34262
٣٤٢٦٢ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق (١) زيد بن يثيع قال: بلغ عليا ان اناسا يقولون فيه، قال: فصعد المنبر فقال: انشد الله رجلا ولا انشده إلا من اصحاب محمد ﷺ سمع من النبي ﷺ شيئا إلا قام، فقام مما يليه ستة ومما يلي (سعيد) (٢) بن وهب ستة، فقالوا: نشهد ان رسول الله ﷺ قال:"من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زاد في [هـ]: (سعيد بن وهب عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، هـ]: (سعد).
(٣) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه النسائي (٨٤٧٣)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (٩٥٠)، والضياء (٤٦٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٧٠)، والبزار (٧٨٦)، وابن عساكر ٤٢/ ٢٠٩.

حضرت زید بن یثیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ چند لوگ ان کے بارے میں کچھ بات کر رہے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھ کر فرمانے لگے۔ میں محمد 5 کے اصحاب میں سے اس شخص کو قسم دیتا ہوں۔ جس نے نبی 5 سے میرے بارے میں کچھ سنا ہے۔ تو وہ کھڑا ہوجائے۔ پس چھ کے قریب لوگ کھڑے ہوگئے اور ان میں حضرت سعید بن وھب رضی اللہ عنہ چھٹے مل گئے۔ پھر ان سب لوگوں نے فرمایا: ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! تو بھی دوست رکھ! اس شخص کو جو اس سے دوستی رکھے۔ اور تو دشمنی کر اس شخص سے جو اس سے دشمنی رکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34262]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34262، ترقيم محمد عوامة 32754)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32755 ترقیم الشثری: -- 34263
٣٤٢٦٣ - حدثنا شريك عن ابي (يزيد) (١) الاودي عن ابيه قال: دخل ابو هريرة المسجد فاجتمعنا إليه فقام إليه شاب فقال: انشدك بالله اسمعت رسول الله ﷺ يقول:"من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه"، فقال: نعم، فقال: الشاب انا منك برئ، (اشهد انك قد) (٢) (عاديت من والاه وواليت من عاداه) (٣) ، قال: فحصبه الناس بالحصا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (زيد).
(٢) في [جـ]: بياض.
(٣) تقديم وتأخير في [أ، ب]: (واليت من عاداه، وعاديت من والاه).
(٤) ضعيف؛ لضعف أبي يزيد الأودي، أخرجه أبو يعلى (٦٤٢٣)، والبزار (٢٥٣١/ كشف)، والطبراني في الأوسط (١١١١)، وابن عدي ٣/ ٨٠، وابن عساكر ٤/ ١٢، وابن جرير كما في البداية والنهاية ٥/ ٢١٣.

حضرت ابو یزید الاودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے پھر ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! تو بھی اس کو دوست بنا جو علی رضی اللہ عنہ کو دوست رکھتا ہو۔ اور تو اس سے دشمنی کر جو شخص اس سے دشمنی رکھتا ہو؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! پھر وہ نوجوان کہنے لگا: میں آپ رضی اللہ عنہ سے بری ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ رضی اللہ عنہ نے دشمنی کی اس شخص سے جو ان کو دوست رکھتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے دوستی کی اس شخص سے جو ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس لوگوں نے اس نوجوان کو کنکریاں ماریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34263]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34263، ترقيم محمد عوامة 32755)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 32756 ترقیم الشثری: -- 34264
٣٤٢٦٤ - حدثنا شريك عن عياش العامري عن عبد الله بن شداد قال: قدم على رسول الله ﷺ وفد (آل) (١) سرح من اليمن، فقال لهم رسول الله ﷺ:"لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة ولتسمعن ولتطيعن، او (لابعثن) (٢) إليكم رجلا (كنفسي) (٣) يقاتل مقاتلتكم ويسبي ذراريكم، اللهم انا او كنفسي"، (ثم) (٤) اخذ بيد علي (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) في [جـ]: بياض.
(٣) في [هـ]: (لنفسي).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٠٢٤).

حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن کے سرح قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور بات سنو اور اطاعت کرو۔ یا پھر میں تمہاری طرف ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو میرے جیسا ہے وہ تمہارے لڑنے والوں سے قتال کرے گا اور تمہاری اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ اللہ کی قسم! وہ میں یا میرے جیسا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفضائل/حدیث: 34264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34264، ترقيم محمد عوامة 32756)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں