مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
135. في أمان المرأة والمملوك
خاتون اور غلام کا امان دینا
ترقیم عوامۃ: 34068 ترقیم الشثری: -- 35622
٣٥٦٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج عن الوليد بن ابي مالك عن عبد الرحمن بن (مسلمة) (١) ان رجلا آمن قوما وهو مع عمرو بن العاص وخالد بن الوليد وابي عبيدة بن الجراح، فقال عمرو وخالد: لا نجير من اجار، فقال ابو عبيدة: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يجير على المسلمين بعضهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (سلمة).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (١٦٩٥)، وأبو يعلى (٨٧٦)، والعقيلي ٢/ ٣٤٤، والبزار (١٢٨٨)، وابن عساكر ٣٥/ ٤٠٥، وابن عبد البر في الاستذكار ٥/ ٣٧.
حضرت عبدالرحمن بن مسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کو امن (پناہ) دیا، اور وہ حضرت عمرو بن عاص، حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، حضرت عمرو اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہم تو اس کو پناہ نہیں دیں گے جس کو وہ پنا دے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے رسول اکرم 5 سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سے جو شخص کسی کو پناہ دے دے اس کو پناہ دی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35622]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35622، ترقيم محمد عوامة 34068)
ترقیم عوامۃ: 34069 ترقیم الشثری: -- 35623
٣٥٦٢٣ - حدثنا ابو خالد (عن حجاج) (١) عن الوليد بن ابي مالك عن عبد الرحمن بن سلمة عن ابي عبيدة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يجير على الناس بعضهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، وعبد الرحمن بن مسلمة وقيل بن سلمة، وانظر: ما قبله.
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم 5 سے سنا آپ نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جو کسی کو پناہ دے اس کو پناہ حاصل ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35623]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35623، ترقيم محمد عوامة 34069)
ترقیم عوامۃ: 34070 ترقیم الشثری: -- 35624
٣٥٦٢٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (الحجاج بن ارطاة عن) (١) الوليد ابن ابي مالك عن القاسم بن عبد الرحمن عن ابي امامة عن النبي ﷺ قال:"يجير على المسلمين الرجل منهم" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من مسند ابن أبي شيبة كما في المطالب العالية (٢٠٣٩)، وإتحاف الخيرة (٦١٧٤)، ومعجم الطبراني الكبير (٧٩٠٨).
(٢) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه أحمد (٢٢١٥٥)، والطبراني (٧٩٠٧).
حضرت ابو امامہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35624، ترقيم محمد عوامة 34070)
ترقیم عوامۃ: 34071 ترقیم الشثری: -- 35625
٣٥٦٢٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن ابي هند عن ابي مرة مولى عقيل بن ابي طالب عن ام هانئ ابنة ابي طالب قالت: لما فتح ⦗٤٤٩⦘ رسول الله ﷺ مكة فر (إلي) (١) رجلان من احمائي فاجرتهما -او كلمة تشبهها- فدخل علي اخي علي بن ابي طالب فقال: لاقتلنهما (قالت) (٢) : فاغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول الله ﷺ باعلى مكة فقال:"مرحبا و (اهلا) (٣) بام هانئ، ما جاء بك؟" (قالت) (٤) : قلت: يا نبي الله، فر إلي رجلان من احمائي فدخل علي اخي علي بن ابي طالب فزعم انه قاتلهما، فقال:"لا، قد اجرنا من اجرت، وامنا من امنت" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (قال).
(٣) في [ب]: (هلا).
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، وأخرجه مسلم (٣٣٦)، كتاب صلاة المسافرين (٨١)، وأحمد (٢٦٨٩٢).
حضرت ابو مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح فرمایا: تو حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند کے دو رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پنادہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا: میں ان کو ضرور قتل کروں گا، حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا اور میں رسول اکرم 5 کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: خوش آمدید ام ھانی رضی اللہ عنہا! خیریت سے تشریف لائی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے نبی 5! میرے خاوند کے خاندان کے دو شخص بھاگ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو پناہ دے دی، میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: نہیں (ان کو قتل نہیں کیا جائے گا) جس کو تو نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی اور جس کو تو نے امن دیا ا س کو ہم نے بھی امن دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35625]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35625، ترقيم محمد عوامة 34071)
ترقیم عوامۃ: 34072 ترقیم الشثری: -- 35626
٣٥٦٢٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن (ابن) (١) إسحاق عن سعيد بن ابي هند عن ابي مرة عن ام هانئ قال: حدثتني قالت: فر إلي رجلان من احمائي يوم الفتح، فاجرتهما فدخل (علي) (٢) اخي فقال: لاقتلنهما، فاغلقت عليهما، ثم اتيت النبي ﷺ قال:"مرحبا واهلا (بام) (٣) هانئ ما جاء بك؟" فاخبرته فقال:"قد اجرنا من اجرت وامنا من امنت"، قالت: فجئت فمنعتهما (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [جـ، س]: (يا أم).
(٤) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه مسلم (٣٣٦)، وأحمد (٢٦٨٩٦).
حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے اس کے آخر میں اضافہ ہے کہ پھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان کو قتل کرنے سے منع کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35626]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35626، ترقيم محمد عوامة 34072)
ترقیم عوامۃ: 34073 ترقیم الشثری: -- 35627
٣٥٦٢٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن الاعمش عن إبراهيم عن الاسود عن ⦗٤٥٠⦘ عائشة قالت: إن كانت المراة [لتاجر على القوم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه أبو داود (٢٧٦٤)، والنسائي (٨٦٨٣)، وعبد الرزاق (٩٤٣٧)، وأبو عبيد في الأموال (٤٩٨)، وسعيد بن منصور (٢٦١١)، والبيهقي ٨/ ١٩٤، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ١٨٨، والطيالسي (١٣٩٧).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں، کہ اگر خاتون کسی قوم کو پناہ دے تو ان کو پناہ حاصل ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35627، ترقيم محمد عوامة 34073)
ترقیم عوامۃ: 34074 ترقیم الشثری: -- 35628
٣٥٦٢٨ - حدثنا ابن عيينة عن منصور عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: إن كانت المراة] (١) لتاجر على المسلمين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) صحيح؛ وانظر: ما قبله.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35628، ترقيم محمد عوامة 34074)
ترقیم عوامۃ: 34075 ترقیم الشثری: -- 35629
٣٥٦٢٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن عاصم بن سليمان) (١) عن فضيل بن زيد الرقاشي وقد كان غزا على عهد عمر بن الخطاب سبع غزوات قال: بعث عمر جيشا فكنت في ذلك الجيش، فحاصرنا اهل (سرتاح) (٢) ، فلما راينا انا سنفتحها من يومنا ذلك قلنا نرجع فنقيل ثم نخرج فنفتحها، فلما رجعنا تخلف (عبد) (٣) (من عبيد المسلمين) (٤) فراطنهم فراطنوه، فكتب لهم كتابا في صحيفة ثم شده في سهم فرمى به إليهم فخرجوا، فلما (رجعنا) (٥) من العشي وجدناهم قد خرجوا، قلنا لهم ما لكم؟ قال: امنتمونا، قلنا: ما فعلنا، إنما الذي امنكم عبد لا يقدر على شيء فارجعوا حتى نكتب إلى عمر بن الخطاب، فقالوا: ما نعرف عبدكم من حركم، ما نحن براجعين إن ⦗٤٥١⦘ شئتم فاقتلونا (وإن شئتم ففوا لنا) (٦) ، قال: فكتبنا إلى عمر فكتب عمر: ان عبد المسلمين من المسلمين، ذمته ذمتهم، قال: فاجاز عمر امانه (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ]، وفي [هـ]: (عن عاصم الأحول).
(٢) في تاريخ خليفة ص ١٤٠: (صهرتاج)، وانظر: معجم البلدان ٣/ ٤٣٦، وتاريخ دمشق ١٤/ ٤١٥.
(٣) في [أ، ب]: (عبده).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [ط]: (رحنا).
(٦) سقط من: [أ].
(٧) صحيح؛ فضيل ثقة، أخرجه عبد الرزاق (٩٤٣٦)، وسعيد بن منصور (٢٦٠٨)، والبيهقي ٨/ ١٩٤، وابن سعد ٧/ ١٢٩، وابن الجوزي في التحقيق (١٨٩١)، وأبو عبيد في الأموال (٥٠٠).
حضرت فضیل بن زید الرقاشی رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سات غزوات میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی اس لشکر میں شریک تھا ہم نے اھل سھر یاج کا محاصرہ کرلیا، جب ہم نے دیکھا کہ آج ان کو فتح کرلیں گے، ہم نے کہا: واپس لوٹتے ہیں اور کچھ آرام کر کے تازہ دم ہو کر آ کر اس کو فتح کرلیں گے، جب ہم لوگ وہاں سے واپس لوٹے تو مسلمانوں میں ایک غلام ان کے پیچھے آیا اور اس نے ان کے ساتھ عجمی میں گفتگو کی، اور ان کو ایک صحیفہ میں امان (پناہ) لکھ کر اس کو تیر کے ساتھ باندھ کر ان کی طرف پھینک دیا۔ ہم لوگ جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ قلعہ سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں نے ہمیں امن دے دیا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز ایسا نہیں کیا ہے، بیشک تم لوگوں کو ایک غلام نے امن دیا ہے جو خود کسی چیز پر قادر نہیں ہے، تم لوگ واپس ہوجاؤ یہاں تک کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر ان کی رائے دریافت کرلیں، انہوں نے کیا کہ ہم تمہارے آزاد میں تمہارے غلاموں کو نہیں جانتے ہم واپس جانے والے نہیں ہیں، اب اگر تم چاہو تو ہمیں قتل کرو اور اگر چاہو تو در گزر کردو، فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صورت حال لکھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا: مسلمانوں کا غلام بھی مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے امان کو نافذ فرما دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35629، ترقيم محمد عوامة 34075)
ترقیم عوامۃ: 34076 ترقیم الشثری: -- 35630
٣٥٦٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: امان المراة والمملوك جائز.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت اور غلام کا امان دینا ٹھیک اور جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35630، ترقيم محمد عوامة 34076)
ترقیم عوامۃ: 34077 ترقیم الشثری: -- 35631
٣٥٦٣١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) شريك عن عاصم بن ابي النجود عن زر ابن حبيش عن عمر قال: إن كانت المراة لتاجر على المسلمين (فيجوز امانهم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نا).
(٢) في [هـ]: (فتجوز أمانها).
(٣) ضعيف؛ لضعف رواية عاصم عن زر.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مسلمانوں میں سے کوئی خاتون امان دے دے تو اس کا امان دینا درست ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35631، ترقيم محمد عوامة 34077)