🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. في أمر القادسية وجلولاء
جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34438 ترقیم الشثری: -- 36009
٣٦٠٠٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن حبيب بن ابي ثابت عن نعيم بن ابي (هند) (١) قال: قال رجل يوم القادسية: اللهم إن (حدية) (٢) (سوداء) (٣) (بذية) (٤) ، (فزوجني) (٥) اليوم من الحور العين، ثم تقدم فقتل، قال: فمروا عليه وهو معانق رجل عظيم (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (كند)، وسقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (حربة).
(٣) في [ب]: (سود).
(٤) في [هـ]: غير منقوطة، وفي [س]: (حدية).
(٥) في [أ، ب]: (في وحي).
(٦) منقطع، نعيم لم يدرك ذلك، أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٣٢)، والبيهقي في شعب الإيمان (٤٣١٢).

حضرت نعیم بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک آدمی نے دعا کی کہ اے اللہ! میری بیوی حدیہ کالی اور دیہاتن ہے آج میری شادی موٹی آنکھوں والی حور سے کردے۔ پھر وہ میدان جنگ میں آگے بڑھا اور شہید ہوگیا۔ جب لوگوں کا اس کی نعش کے پاس سے گزر ہوا تو وہ ایک بہت بڑے پہلوان سے لپٹا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36009، ترقيم محمد عوامة 34438)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34439 ترقیم الشثری: -- 36010
٣٦٠١٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: مروا على رجل يوم القادسية وقد قطعت يداه ورجلاه وهو يفحص وهو يقول: ﴿مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئك رفيقا﴾ [النساء: ٦٩] ، قال: فقال: من انت يا عبد الله؟ قال: انا امرؤ من الانصار (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع، سعد بن إبراهيم لم يدرك ذلك.
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ قادسیہ کی جنگ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے تھے۔ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے: { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } ان کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں ایک انصاری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36010، ترقيم محمد عوامة 34439)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34440 ترقیم الشثری: -- 36011
٣٦٠١١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن سعد بن عبيدة عن البراء قال: امرني عمر ان انادي بالقادسية لا ينبذ في دباء ولا (حنتم) (١) ولا مزفت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خنتم).
(٢) صحيح.

حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے حکم دیا کہ میں قادسیہ میں یہ اعلان کروں کہ کدو کے بنے ہوئے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول چڑھے برتن میں نبیذ نہیں بنائی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36011، ترقيم محمد عوامة 34440)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34441 ترقیم الشثری: -- 36012
٣٦٠١٢ - حدثنا ابو معاوية (عن الاعمش) (١) عن شقيق قال: جاءنا كتاب ابي بكر بالقادسية، وكتب عبد الله بن الارقم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من النسخ، وأثبت مما مضى في كتاب الأدب.
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٦/ ٩٦، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات (٨٨٠).

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ قادسیہ میں ہمارے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور وہ حضرت عبد اللہ بن ارقم نے لکھا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36012]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36012، ترقيم محمد عوامة 34441)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34442 ترقیم الشثری: -- 36013
٣٦٠١٣ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن الاسود بن قيس العبدي عن شبر بن علقمة قال: لما كان يوم القادسية قام رجل من اهل فارس فدعا إلى المبارزة فذكر من عظمه، فقام إليه رجل قصير يقال له شبر بن علقمة، قال: فقال له الفارسي: هكذا -يعني احتمله ثم ضرب به الارض فصرعه، قال: فاخذ شبر خنجرا كان مع الفارسي، فقال به في بطنه هكذا -يعني فحصحصه، قال: ثم انقلب عليه فقتله، ثم جاء بسلبه إلى سعد فقوم باثني (عشر) (١) الفا فنفله سعد (إياه) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة شبر بن علقمة، أخرجه الشافعي في السنن (٦١٧)، وسعيد بن منصور (٢٦٩٣)، والبيهقي ٦/ ٣١١، وعبد الرزاق (٩٤٧٣)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٢٦٧، وابن حبان في الثقات ٤/ ٣٧١، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٤١٩.

حضرت شبر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں اہل فارس کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلے کی دعوت دی۔ اس نے اپنی بہادری کا ذکر کیا۔ پھر ایک چھوٹے قد کے آدمی جن کا نام شبر بن علقمہ تھا۔ وہ اس کی طرف آگے بڑھے، اس فارسی پہلوان نے شبر کو اٹھا کر زمین پردے مارا۔ شبر نے اس فارسی پہلوان کا خنجر پکڑا، اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ پھر اسے مار ڈالا۔ پھر اس کا سامان لے کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم کی قیمت لگائی اور اسے مال غنیمت کے طور پردے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36013، ترقيم محمد عوامة 34442)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34443 ترقیم الشثری: -- 36014
٣٦٠١٤ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن الاسود بن قيس عن شبر بن علقمة قال: بارزت رجلا يوم القادسية من الاعاجم فقتلته واخذت سلبه فاتيت به سعدا، فخطب سعد اصحابه ثم قال: هذا سلب شبر وهو خير من اثني عشر الف درهم، وإنا قد نفلناه إياه (٢)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) مجهول؛ لجهالة شبر بن علقمة، وانظر: ما قبله.

حضرت شبر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ قادسیہ میں ایک عجمی سے لڑائی کی اور اسے قتل کردیا۔ پھر میں اس کا سامان لے کر حضرت سعد بن ابی وقاص کے پا س آیا۔ حضرت سعد نے اپنے ساتھیوں میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ شبر کالایا ہوا سامان ہے اور بارہ ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اور ہم نے اسے مال غنیمت کے طور پردے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36014]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36014، ترقيم محمد عوامة 34443)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34444 ترقیم الشثری: -- 36015
٣٦٠١٥ - حدثنا هشيم عن حصين عمن شهد القادسية قال: بينا رجل يغتسل إذ فحص له الماء (و) (١) التراب عن لبنة من ذهب، فاتى سعدا فاخبره فقال: اجعلها في غنائم المسلمين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) مجهول؛ لإبهام بعض رواة الخبر.

حضرت حصین جنگ قادسیہ میں شریک ہونے والے ایک مجاہد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی غسل کررہا تھا کہ اسے پانی میں سونے کی ایک اینٹ ملی، وہ اس نے لا کر حضرت سعد کو دے دی۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ اسے مال غنیمت میں رکھ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36015]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36015، ترقيم محمد عوامة 34444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34445 ترقیم الشثری: -- 36016
٣٦٠١٦ - حدثنا عباد عن (حصين) (١) عمن ادرك ذاك ان رجلا اشترى جارية من المغنم، قال: فلما رات انها قد (خلصت) (٢) له اخرجت حليا كثيرا كان معها، قال: فقال الرجل: ما ادري ما هذا، حتى اتى سعدا (فاساله فاتاه) (٣) فساله فقال: اجعله في غنائم المسلمين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ص]: (حسين).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (أخلصت).
(٣) زيادة من: [جـ].
(٤) مجهول؛ لإبهام شيخ حصين.

حضرت حصین جنگ قادسیہ میں شریک ہونے والے ایک مجاہد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مال غنیمت سے ایک باندی خریدی۔ جب باندی نے دیکھا کہ وہ اس کی ہوچکی ہے تو اس نے بہت سا زیور نکال کر اسے دے دیا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس زیور کا کیا حکم ہے۔ پھر وہ حضرت سعد کے پاس لے کر آیا اور اس کے بارے میں سوال کیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے مال غنیمت میں رکھ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36016]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36016، ترقيم محمد عوامة 34445)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34446 ترقیم الشثری: -- 36017
٣٦٠١٧ - حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن حبيب بن ابي ثابت عن الاسود بن مخرمة قال: باع سعد طستا بالف درهم من رجل من اهل الحيرة، فقيل له: إن عمر بلغه هذا عنك فوجد عليك، قال: فلم يزل يطلب إلى النصراني حتى رد عليه الطست واخذ (١) الالف (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عليه).
(٢) مجهول؛ لجهالة الأسود.

حضرت اسود بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے اہل حیرہ کے ایک آدمی سے ایک طشت ایک ہزار درہم کا خریدا۔ انہیں بتایا گیا کہ حضرت عمر کو اس بات کی اطلاع ہوئی ہے اور وہ آپ پر سخت ناراض ہیں۔ اس کے بعد حضرت سعد اس نصرانی کو تلاش کرتے رہے اور اسے ڈھونڈ کر طشت اسے واپس دیا اور ایک ہزار درہم حاصل کئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36017، ترقيم محمد عوامة 34446)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34447 ترقیم الشثری: -- 36018
٣٦٠١٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا (الصباح) (١) بن ثابت قال: ثنا اشياخ الحي قال جرير بن عبد الله (٢) : لقد اتى على نهر القادسية ثلاث ساعات من النهار ما (تجري) (٣) إلا بالدم مما قتلنا من المشركين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ص، ع، هـ]: (الصباغ).
(٢) في [ب، جـ]: زيادة (قال).
(٣) في [أ، ب]: (يجري).
(٤) مجهول؛ لإبهام بعض رواته.

حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک دن قادسیہ کے دریا میں تین گھنٹے تک پانی کی جگہ خون بہتا رہا اور یہ ان مشرکوں کا خون تھا جنہیں ہم نے قتل کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36018]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36018، ترقيم محمد عوامة 34447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں