🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. في أمر القادسية وجلولاء
جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34448 ترقیم الشثری: -- 36019
٣٦٠١٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا حنش بن الحارث قال: سمعت ابي يذكر قال: قدمنا من اليمن، نزلنا المدينة فخرج علينا عمر فطاف في النخع ⦗٢٩⦘ ونظر إليهم فقال: يا معشر النخع إني ارى (الشرف) (١) فيكم متربعا، فعليكم بالعراق وجموع فارس، فقلنا: يا امير المؤمنين لا بل الشام نريد الهجرة إليها، قال: لا بل العراق، فإني قد رضيتها لكم، قال: حتى قال بعضنا: يا امير المؤمنين لا إكراه في الدين، قال: (فلا) (٢) إكراه في الدين، عليكم بالعراق، قال: فيها جموع العجم، ونحن الفان وخمسمائة، قال: فاتينا القادسية فقتل من النخع واحد، وكذا وكذا رجلا من سائر الناس ثمانون (٣) ، فقال عمر: ما شان النخع، اصيبوا من بين سائر الناس، افر الناس عنهم؛ قالوا: لا بل ولو اعظم الامر (وحدهم) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: بالغ الشرف، وفي [أ، ب]: (السرور).
(٢) في [س]: (بل).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٤) في [جـ]: (وسدهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة والد حنش.

حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب ہم یمن سے واپس آئے اور مدینہ منور ہ ٹھہرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے قبیلہ نخع والوں میں ایک چکر لگایا اور ان سے فرمایا کہ اے نخع والو! میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ تم عراق یافارس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین! ہم تو شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں عراق ٹھیک ہے۔ میں تمہارے لئے عراق سے راضی ہوں۔ ہم میں سے بعض نے کہا کہ اے امیر المومنین! دین میں سختی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ دین میں سختی نہیں ہے تمہارے لئے عراق ٹھیک ہے۔ اس میں عجم کی جماعتیں ہیں اور ہم صرف اڑھائی ہزار ہیں۔ پھر ہم قادسیہ آئے اور نخعی لوگوں میں سے صرف ایک آدمی شہید ہوا جبکہ باقی لوگوں میں سے اسی افراد مارے گئے۔ حضرت عمر کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا نخعی لوگوں نے کیا کیا کہ باقی لوگوں میں سے وہی شہید ہوئے، کیا لوگ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ لوگوں نے بتایا نہیں بلکہ وہ مشکل کاموں میں اپنی مرضی سے کودے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36019، ترقيم محمد عوامة 34448)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34449 ترقیم الشثری: -- 36020
٣٦٠٢٠ - حدثنا ابن إدريس عن حنش بن الحارث عن (ابيه) (١) قال: مرت النخع بعمر فاقامهم فتصفحهم وهم الفان وخمسمائة، وعليهم رجل يقال له ارطاة، فقال: إني لارى (السرو) (٢) فيكم متربعا سيروا إلى إخوانكم من اهل العراق، فقالوا: (لا) (٣) بل نسير إلى الشام، قال: سيروا إلى العراق، فقالوا: لا إكراه في الدين، فقال: سيروا إلى العراق، فلما قدموا العراق جعلوا يسحبون المهر فيذبحونه، فكتب إليهم اصلحوا فإن في الامر معقلا او نفسا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أمه).
(٢) أي: بالغ الشرف، وفي [أ، ب]: (السرور).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة والد حنش.

حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نخعی لوگوں کے پاس سے گزرے اور انہیں گنا تو وہ اڑھائی ہزار تھے۔ ان کے سربراہ کا نام ارطاۃ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھتا ہوں تم عراق میں اپنے بھائیوں کے پاس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو شام کی طرف جائیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عرا ق کی طرف جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عراق کی طرف جاؤ۔ پس وہ عراق کی طرف گئے تو انہوں نے وہاں گھوڑے کے بچے کو پکڑ کر ذبح کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر نے انہیں خط لکھا: تم درست ہو جاؤ۔ اس لیے کہ ایسے معاملہ میں جان اہم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36020]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36020، ترقيم محمد عوامة 34449)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34450 ترقیم الشثری: -- 36021
٣٦٠٢١ - وسمعت ابا بكر بن عياش يقول: كانت بنو اسد يوم القادسية اربعمائة، وكانت (بجيلة) (١) ثلاثة آلاف، وكانت النخع الفين وثلاثمائة، وكانت (كندة) (٢) نحو النخع، وكانوا كلهم عشرة آلاف، ولم (يكن) (٣) في القوم احد اقل من مضر (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بخيلة).
(٢) في [هـ]: (لثره).
(٣) في [أ]: (لكن)، وفي [ب]: (يكن)، وفي [هـ]: (تكن).
(٤) منقطع؛ أبو بكر بن عياش لم يدركهم.

حضرت ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں بنو اسد چار سو، بجیلہ تین ہزار، نخعی دو ہزار تین سو، اور کندہ والے بھی اتنے ہی تھے۔ یہ سب لوگ کل دس ہزار تھے اور لوگوں میں قبیلہ مضر سے کم کوئی نہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36021]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36021، ترقيم محمد عوامة 34450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34451 ترقیم الشثری: -- 36022
٣٦٠٢٢ - سمعت ابا بكر: ان عمر فضلهم، فاعطى بعضهم الفين، وبعضهم ستمائة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو بكر لا يروي عن عمر.
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے انہیں زیادہ دیا بعض کو دو ہزار اور بعض کو چھ سو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36022]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36022، ترقيم محمد عوامة 34451)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34452 ترقیم الشثری: -- 36023
٣٦٠٢٣ - وذكر ابو بكر بن عياش في قوله: ﴿فسوف ياتي الله بقوم يحبهم ويحبونه﴾ [المائدة: ٥٤] ، قال: اهل القادسية.
حضرت ابوبکر بن عیاش قرآن مجید کی آیت { فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قادسیہ والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36023، ترقيم محمد عوامة 34452)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34453 ترقیم الشثری: -- 36024
٣٦٠٢٤ - حدثنا ابو اسامة عن (مسعر) (١) عن ابي بكر بن عمرو بن عتبة قال: كتب عمر إلى (سعد) (٢) وغيره من امراء الكوفة: اما بعد فقد جاءني ما بين (العذيب) (٣) وحلوان، وفي ذلكم ما يكفيكم إن اتقيتم واصلحتم، قال: وكتب: اجعلوا بينكم وبين العدو (مفازة) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سعد).
(٢) في [جـ]: (جعد).
(٣) في [جـ]: (العذب).
(٤) في [أ، ب]: (معاده).
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي شهاب عمرو بن عتبة.

حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت سعد اور کوفہ کے دوسرے امراء کو خط لکھا کہ میرے پاس عذیب اور حلوان کے درمیان کا علاقہ آیا ہے۔ یہ تمہارے لئے کافی ہے اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور درستی سے چلو۔ اور اپنے اور اپنے دشمنوں کے درمیان خلا رکھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36024]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36024، ترقيم محمد عوامة 34453)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34454 ترقیم الشثری: -- 36025
٣٦٠٢٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا مسعر عن عون (بن) (١) عبد الله قال: مر على رجل يوم القادسية وقد انتثر بطنه او قصبه، قال لبعض من مر عليه: ضم إلي (منه) (٢) ، ادنو قيد رمح او رمحين في سبيل الله، قال: فمر عليه وقد فعل.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].

حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک مسلمان مجاہد کاپیٹ پھٹ گیا تھا اور اس کی انتڑیاں باہرنکل آئی تھیں۔ اس نے اپنے پاس سے گزرنے والے ایک شخص سے کہا کہ میری انتڑیوں کو اندرکردو اور مجھے چلاؤ تاکہ میں اللہ کے راستے میں تھوڑا اور آگے بڑھ سکوں۔ چناچہ اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36025، ترقيم محمد عوامة 34454)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34455 ترقیم الشثری: -- 36026
٣٦٠٢٦ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق قال: رايت اصحاب عبيد يشربون نبيذ القادسية وفيهم عمرو بن ميمون.
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے عبید کے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ قادسیہ کی نبیذ پی رہے تھے اور ان میں عمرو بن میمون بھی تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36026، ترقيم محمد عوامة 34455)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34456 ترقیم الشثری: -- 36027
٣٦٠٢٧ - حدثنا حميد (عن) (١) (حسن) (٢) عن مطرف عن بعض اصحابه قال: اشترى طلحة بن (عبيد الله) (٣) ارضا من (النشاستج) (٤) (نشاستج) (٥) بني طلحة، هذا الذي عند (السيلحين) (٦) فاتى عمر فذحص ذلك له فقال: إني اشتريت ارضا معجبة، فقال (٧) عمر: ممن اشتريتها؟ امن اهل الكوفة؟ قال: اشتريتها من اهل القادسية، قال طلحة: وكيف (اشتريها) (٨) من اهل القادسية كلهم؟ قال: إنك لم تصنع شيئا، إنما هي فيء (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط]: (بن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (حسين).
(٣) في [أ، ب]: (عبد اللَّه).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (نساتجح).
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: بياض.
(٦) في [أ، ب، جـ]: (السلحين).
(٧) في [هـ]: زيادة (له).
(٨) في [أ، ب]: (اشتريتها).
(٩) مجهول؛ لإبهام بعض رواته.

حضرت مطرف نقل کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کوفہ میں سیلحین سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔ پھر وہ حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں نے ایک عمدہ اور خوبصورت زمین خریدی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے کس سے خریدی ہے؟ کوفہ والوں سے؟ کیا تم نے قادسیہ والوں سے خریدی ہے؟ حضرت طلحہ نے کہا کہ میں نے تمام قادسیہ والوں سے خریدی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم نے کچھ نہیں کیا یہ تو مال غنیمت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36027]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36027، ترقيم محمد عوامة 34456)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34457 ترقیم الشثری: -- 36028
٣٦٠٢٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن ليث عمن يذكر ان اهل القادسية رغموا الاعاجم حتى قاتلوا ثلاثة ايام.
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے مجاہدین نے عجمیوں کو مقابلے کی دعوت دی اور ان سے تین دن تک لڑائی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36028]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36028، ترقيم محمد عوامة 34457)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں