مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
4. في أمر القادسية وجلولاء
جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
ترقیم عوامۃ: 34468 ترقیم الشثری: -- 36039
٣٦٠٣٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم الاحول قال: (سال) (١) (صبيح) (٢) ابا عثمان النهدي وانا اسمع فقال له: هل ادركت النبي ﷺ؟ قال: نعم، اسلمت على عهد النبي ﷺ، واديت إليه ثلاث صدقات ولم القه، وغزوت على ⦗٣٥⦘ عهد عمر غزوات، شهدت فتح القادسية وجلولاء (وتستر) (٣) ونهاوند واليرموك وآذربيجان ومهران ورستم، فكنا ناكل السمن ونترك الودك، فسالته عن الظروف، فقال: لم نكن نسال عنها -يعني طعام المشركين (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (شيخ).
(٣) في [أ، ب]: (وتسرد).
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٧/ ٩٧، والخطيب في التاريخ ١٠/ ٢٠٤، والعجلي في معرفة الثقات ٢/ ٤١٦، وابن عساكر ٣٥/ ٤٧٤، وابن عبد البر في الاستيعاب ٢/ ٨٥٤.
حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ صبیح نے ابو عثمان نہدی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لایا تھا اور تین مرتبہ آپ کی طرف زکوٰۃ بھی بھجوائی تھی، لیکن میری حضور سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مختلف لڑائیوں میں حصہ لیا، میں قادسیہ، جلولائ، تستر، نہاوند، یرموک، آذربائیجان، مہران اور رستم کی لڑائی میں شریک رہا۔ ہم چربی کھایا کرتے تھے اور تیل چھوڑ دیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے مشرکین کے برتنوں میں کھانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ان کے بارے میں سوال نہیں کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36039]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36039، ترقيم محمد عوامة 34468)
ترقیم عوامۃ: 34469 ترقیم الشثری: -- 36040
٣٦٠٤٠ - حدثنا عائذ بن حبيب عن اشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: ضرب يوم القادسية للعبيد بسهامهم كما ضرب للاحرار (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ذلك.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں قادسیہ میں آزاد لوگوں کی طرح غلاموں کو بھی حصہ دیا گیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36040، ترقيم محمد عوامة 34469)
ترقیم عوامۃ: 34470 ترقیم الشثری: -- 36041
٣٦٠٤١ - حدثنا الفضل بن دكين عن جعفر عن ميمون قال: لما جاء وفد القادسية حبسهم ثلاثة ايام لم ياذن لهم، ثم اذن لهم، قال: يقولون: التقينا فهزمنا، بل الله الذي هزم وفتح (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ ميمون لم يدرك ذلك.
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جب قادسیہ کا وفد آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین دن تک انہیں ملاقات کی اجازت نہ دی، پھر انہیں اجازت دی تو فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ ہم لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست دی حالانکہ فتح اور شکست دینے والا تو اللہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36041، ترقيم محمد عوامة 34470)
ترقیم عوامۃ: 34471 ترقیم الشثری: -- 36042
٣٦٠٤٢ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا الصلت بن بهرام حدثنا (جميع) (١) بن عمير (التيمي) (٢) عن عبد الله بن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من الغنائم باربعين الفا، فقدمت بها على عمر فقال: ما هذا؟ قلت: ابتعت من الغنائم باربعين الفا، فقال: يا صفية (احفظي) (٣) بما قدم به عبد الله (بن عمر) (٤) ، عزمت عليك ان تخرجي منه شيئا، قالت: يا امير المؤمنين، وإن كانت غير طيب، قال: ذاك لك، ⦗٣٦⦘ قال: فقال لعبد الله بن عمر: ارايت (لو) (٥) انطلق بي إلى النار اكنت (مفتدي) (٦) ، قلت: نعم ولو بكل شيء اقدر عليه، قال: فإني كانني شاهدك يوم جلولاء وانت تبايع (الناس) (٧) ويقولون: هذا عبد الله بن عمر صاحب رسول الله ﷺ وابن امير المؤمنين واكرم اهله عليه، و (انت) (٨) كذلك قال: فإن (يرخصوا) (٩) عليك بمائة احب إليهم من ان يغلوا عليكم بدرهم، وإني (مخاصم) (١٠) ، وساعطيك من الربح افضل ما يربح رجل من قريش، اعطيك ربح الدرهم (درهما) (١١) ، قال: فخلى علي سبعة ايام ثم دعا التجار فباعه باربعمائة الف، فاعطاني ثمانين الفا، وبعث بثلاثمائة الف وعشرين الفا إلى سعد، فقال: اقسم هذا المال بين الذين شهدوا الوقعة، فإن كان (مات فيهم) (١٢) احد فابعث بنصيبه إلى ورثته (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (حميد).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (الليثي)، وفي [جـ، س، ص، ع]: (البتي)؛ والمثبت هو الموافق لكتب التراجم.
(٣) في [س]: (احتفظي).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب]: (إن).
(٦) في [أ، هـ]: (مقتدي).
(٧) سقط من: [أ، هـ].
(٨) زيادة من: [هـ].
(٩) في [أ، ب]: (ترخصوا).
(١٠) في [هـ]: (قاسم).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ب]: (مات منهم).
(١٣) ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٣٨)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٢٣.
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جلولاء کی جنگ میں شریک ہوا اور میں نے مال غنیمت سے چالیس ہزار حاصل کئے۔ پھر میں نے وہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے مال غنیمت سے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اے صفیہ! جو چیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لائے ہیں اس کی حفاظت کرو۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم نے اس میں سے کچھ نہیں نکالنا۔ انہوں نے کہ اے امیر المومنین! اگر کوئی چیز غیر طیب ہو تو؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ (٢) پھر حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اگر مجھے آگ کی طرف لے جایا جارہا ہو تو کیا تم یہ چیز فدیہ دے کر مجھے چھڑاؤ گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور ایسا کروں گا بلکہ ہر وہ چیز جو میرے پاس ہو میں فدیے میں دے دوں گا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ جلولاء کی جنگ میں لوگوں نے تمہارا خیال رکھا، تمہارے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ امیر المومنین کے بیٹے ہیں، ان کے معزز ترین فرد ہیں اور آپ واقعی ایسے ہیں۔ وہ آپ کو سو درہم کی رعایت کریں یہ انہیں زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ وہ آپ سے ایک درہم زیادہ وصول کریں۔ میں تقسیم کرتا ہوں میں تمہیں قریش کے ہر آدمی سے زیادہ نفع دوں گا۔ پھر آپ نے تاجروں کو بلایا اور ان کی چیزیں چار لاکھ کی بیچ دیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اسی ہزار دیئے اور تین لاکھ بیس ہزار حضرت سعد کو بھجوا دیئے اور فرمایا کہ یہ مال ان مجاہدین میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے۔ اگر ان میں سے کوئی مرچکا ہو تو اس کے ورثہ کو دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36042، ترقيم محمد عوامة 34471)
ترقیم عوامۃ: 34472 ترقیم الشثری: -- 36043
٣٦٠٤٣ - حدثنا ابو المورع عن مجالد عن الشعبي قال: لما فتح سعد جلولاء اصاب المسلمون ثلاثين الف الف، قسم للفارس ثلاثة آلاف مثقال، وللراجل الف مثقال (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف مرسل؛ الشعبي تابعي ومجالد ضعيف.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد نے جلولاء کو فتح کیا تو مسلمانوں کو لاکھوں کے حساب سے مال غنیمت حاصل ہوا۔ آپ نے گھڑ سوار کو تین ہزار اور پیدل کو ایک ہزار مثقال عطا فرمائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36043، ترقيم محمد عوامة 34472)
ترقیم عوامۃ: 34473 ترقیم الشثری: -- 36044
٣٦٠٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: اتي (١) عمر بغنائم من غنائم جلولاء فيها ذهب وفضة، فجعل يقسمها بين الناس، فجاء ابن له يقال له عبد الرحمن فقال: يا امير المؤمنين اكسني خاتما، فقال: اذهب إلى امك تسقيك شربة من سويق، قال: فوالله ما اعطاه شيئا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
(٢) ضعيف؛ لحال هشام بن سعد.
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء کا مال غنیمت لایا گیا اس میں سونا اور چاندی بھی موجود تھے۔ آپ وہ مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کررہے تھے کہ ان کے ایک بیٹے جن کا نام عبد الرحمن تھا، وہ آئے اور عرض کیا اے امیر المومنین! مجھے ایک انگوٹھی دے دیجئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں ستو کا شربت پلائے گی۔ آپ نے انہیں کچھ نہ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36044، ترقيم محمد عوامة 34473)
ترقیم عوامۃ: 34474 ترقیم الشثری: -- 36045
٣٦٠٤٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا هشام بن سعد قال: ثنا زيد بن اسلم عن ابيه قال: سمعت عبد الله بن الارقم صاحب بيت مال المسلمين يقول لعمر بن الخطاب: يا امير المؤمنين عندنا حلية من حلية جلولاء وآنية ذهب وفضة (فر) (١) (فيها) (٢) رايك، فقال: إذا رايتني فارغا (فآذني) (٣) فجاء يوما فقال: إني اراك اليوم فارغا يا امير المؤمنين قال: ابسط لي نطعا في الجسر، فبسط له نطعا، ثم اتى بذلك المال فصب عليه فجاء فوقف عليه (ثم قال) (٤) : اللهم إنك ذكرت هذا المال فقلت: ﴿زين للناس حب الشهوات من النساء والبنين والقناطير المقنطرة من الذهب﴾ [آل عمران: ١٤] ، وقلت: ﴿لكيلا تاسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم﴾ [الحديد: ٢٣] ، اللهم إنا لا نستطيع إلا ان نفرح بما زينت لنا، اللهم (٥) انفقه في حق واعوذ بك من شره (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) فعل أمر من الرؤية، وفي أكثر النسخ: (فرأى).
(٢) في [أ، ب]: (فيه).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (فأتني).
(٤) في [أ، ب]: (فقال).
(٥) في [هـ]: زيادة (فاجعلني).
(٦) ضعيف؛ لحال هشام بن سعد.
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ارقم مسلمانوں کے بیت المال کے امیر تھے۔ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین! ہمارے پاس جلولاء کا زیور اور وہاں کے سونے و چاندی کے برتن ہیں۔ ان کے بارے میں اپنی رائے فرمادیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم مجھے فارغ دیکھو تو اس بارے میں بتانا۔ ایک دن وہ حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر المومنین! آج آپ فارغ ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایک چٹائی بچھاؤ۔ ایک چٹائی بچھائی گئی اور اس پر وہ سارا مال ڈالا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ تو نے اس مال کا ذکر کیا ہے اور تو نے فرمایا ہے { زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ } اور تو نے فرمایا ہے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ، وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمَ } اے اللہ ہمارے بس میں یہ نہیں ہے کہ ہم اس چیز پر خوش نہ ہوں جو تو نے ہمارے لیے مزین فرمائی ہے۔ اے اللہ اسے حق کے راستے میں خرچ فرما اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36045، ترقيم محمد عوامة 34474)
ترقیم عوامۃ: 34475 ترقیم الشثری: -- 36046
٣٦٠٤٦ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا إسرائيل عن (ابي) (١) إسحاق عن سمرة بن (جعونة) (٢) العامري قال: اصبت قباء منسوجا بالذهب (٣) من ديباج يوم جلولاء فاردت بيعه فالقيته على منكبي، فمررت بعبد الله بن عمر فقال: تبيع القباء؟ قلت: نعم، قال: بكم؟ قلت: بثلاثمائة درهم، قال: إن ثوبك لا يسوى ذلك، وإن شئت اخذت، قلت: قد شئت قال: فاخذه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]، وانظر: التاريخ الكبير ٤/ ٢٥٦، والجرح والتعديل ٤/ ١٥٥، والإصابة ٣/ ٢٦٣.
(٢) في [أ، ب، جـ]: (معاوية).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (والفضة).
(٤) مجهول؛ لجهالة سمرة بن جعونة.
حضرت سمرہ بن جعونہ عامری فرماتے ہیں کہ مجھے جلولاء کی لڑائی میں ریشم کی بنی ہوئی اور سونے کی کڑھائی شدہ ایک قباء ملی۔ میں نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا اور اسے اپنے کندھے پر رکھا۔ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اس قباء کو بیچنا چاہتے ہو؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انہوں نے پوچھا کہ کتنے میں بیچو گے۔ میں نے کہا کہ تین سو درہم میں۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارایہ کپڑا اتنے کا نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو میں لے لوں۔ میں نے کہا میں چاہتا ہوں پھر انہوں نے وہ قباء لے لی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36046، ترقيم محمد عوامة 34475)
ترقیم عوامۃ: 34476 ترقیم الشثری: -- 36047
٣٦٠٤٧ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي قال: ثنا حبان عن مجالد عن الشعبي قال: اتي عمر من جلولاء بستة، (آلاف) (١) الف، ففرض العطاء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ع، هـ]: (ألف).
(٢) ضعيف منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر، ومجالد ضعيف.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء سے ساٹھ لاکھ آئے۔ آپ نے اس میں سے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36047، ترقيم محمد عوامة 34476)
ترقیم عوامۃ: 34477 ترقیم الشثری: -- 36048
٣٦٠٤٨ - حدثنا هشيم قال: اخبرنا يونس بن (عبيد) (١) الله قال: ثنا الحكم بن الاعرج قال: سالت ابن عمر عن المسح على الخفين، (فقال) (٢) : اختلفت انا وسعد في ذلك ونحن بجلولاء (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبد)، والذي في كتب التراجم: (يونس بن عبيد).
(٢) في [ط، هـ]: (قال).
(٣) صحيح.
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جلولاء میں میرے اور حضرت سعد کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36048، ترقيم محمد عوامة 34477)