🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. كلام لقمان ﵇
سیدنا لقمان علیہ السلام کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35432 ترقیم الشثری: -- 37008
٣٧٠٠٨ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا يحيى بن عيسى عن الاعمش عن مجاهد قال: كان لقمان ﵇ (٢) عبدا اسود عظيم الشفتين (مشقق) (٣) القدمين.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ع]: (متشقق)، وفي [س]: (تشقق).

حضرت مجاھد فرماتے ہیں: حضرت لقمان علیہ السلام سیاہ رنگت والے غلام تھے، ان کے ہونٹ موٹے تھے اور پاؤں میں پھٹن (رہا کرتی) تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37008]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37008، ترقيم محمد عوامة 35432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35433 ترقیم الشثری: -- 37009
٣٧٠٠٩ - حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن ابي مليكة عن عبيد بن عمير قال: (قال) (١) لقمان لابنه: يا بني لا (يعجبك) (٢) (رجل) (٣) رحب الذراعين بالدم، فإن له عند الله قاتلا لا يموت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [س]: (تعجبك).
(٣) سقط من: [هـ].

حضرت عبید بن عمیر کہتے ہیں: حضرت لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! کوئی خون سے بھرا ہوا طاقتور آدمی تمہیں تعجب میں مبتلا نہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے ایک ایسا قاتل متعین ہے جو کبھی نہیں مرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37009]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37009، ترقيم محمد عوامة 35433)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35434 ترقیم الشثری: -- 37010
٣٧٠١٠ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن محمد بن واسع ان لقمان كان يقول لابنه: يا بني اتق الله، لا (تري) (١) الناس انك تخشى وقلبك فاجر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (تر)، وفي [س]: (يرى).
حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں: حضرت لقمان رحمہ اللہ اپنے بیٹے سے فرمایا کرتے تھے: اے میرے بیٹے تو اللہ تعالیٰ سے ڈر (تاکہ) لوگ تجھے اس حالت میں نہ دیکھیں کہ تو (بظاہرتو اللہ تعالیٰ سے) ڈرتا ہو اور تیرا دل گناہوں سے بھرا ہوا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37010]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37010، ترقيم محمد عوامة 35434)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35435 ترقیم الشثری: -- 37011
٣٧٠١١ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: حدثني خالد بن (باب) (١) الربعي -قال جعفر (٢) وكان يقرا الكتب ان لقمان كان عبدا حبشيا نجارا، وان سيده قال (له) (٣) : اذبح لي شاة، (قال) (٤) : فذبح له شاة فقال: ائتني باطيبها مضغتين، (٥) فاتاه باللسان والقلب، قال: فقال: ما كان فيها شيء اطيب من هذين؟ قال: لا، فسكت عنه ما سكت، ثم قال: اذبح لي شاة، فذبح له شاة (قال) (٦) : الق اخبثها مضغتين، فالقى اللسان والقلب، فقال له: قلت لك ائتني باطيبها (مضغتين) (٧) فاتيتني باللسان والقلب، ثم قلت لك: الق اخبثها مضغتين، فالقيت اللسان والقلب، (فقال) (٨) : ليس شيء اطيب منهما إذا طابا، ولا (اخبث) (٩) منهما إذا خبثا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (ثابت)، وانظر: التاريخ الكبير ٣/ ١٤١، والجرح والتعديل ٣/ ٣٢٢، والإكمال ١/ ١٦١، والثقات ٦/ ٢٥١، وأخرجه ابن جرير ٢/ ٦٧١، والثعلبي في التفسير ٧/ ٣١٦.
(٢) هو أبو الأشهب.
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قال).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ط، هـ]: (قال).
(٩) في [جـ]: (خبثا).

حضرت جعفر جو کہ کتابوں کا مطالعہ کرنے والے تھے فرماتے ہیں: بیشک لقمان رحمہ اللہ حبشہ کے رہنے والے بڑھئی غلام تھے: (ایک مرتبہ) ان کے آقا نے ان سے کہا: میرے لئے بکری ذبح کرو۔ جعفر کہتے ہیں: انہوں نے ان کے لئے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا: اس کے دو بہترین اعضاء میرے لئے لے آؤ۔ تو وہ اس کے پاس دل اور زبان لے آئے۔ جعفر کہتے ہیں: ان کے آقا نے کہا: کیا اس کے اندر اس سے بہتر کوئی چیز نہ تھی؟ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں۔ تو ان کا آقا خاموش ہوگیا اور کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔ پھر (ایک دن) ان کے آقا نے کہا: میرے لئے بکری ذبح کرو۔ تو انہوں نے بکری ذبح کردی۔ ان کے آقا نے کہا: اس کے دو بد ترین اعضاء نکال دو۔ تو انہوں نے اس کا دل اور زبان نکال دی۔ ان کے آقا نے کہا: میں نے تم سے کہا دو بہترین اعضاء لے آؤ تو تم دل اور زبان لے آئے پھر میں نے تم سے کہا کہ اس کے دو بدترین اعضاء لے آؤ تو تم پھر دل اور زبان لے آئے (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے فرمایا: جب دل اور زبان پاکیزہ ہوں تو ان سے بہتر کوئی چیز (جسم میں) نہیں ہے۔ اور جب دل اور زبان برے ہوں تو ان سے بدتر کوئی چیز (جسم) میں نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37011]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37011، ترقيم محمد عوامة 35435)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35436 ترقیم الشثری: -- 37012
٣٧٠١٢ - حدثنا شبابة (عن شعبة) (١) عن يسار قال: قيل للقمان: ما حكمتك؟ قال: لا اسال عما كفيت، ولا اتكلف ما لا يعنيني.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
حضرت سیارکہتے ہیں: حضرت لقمان رحمہ اللہ سے عرض کیا گیا: آپ کی حکمت (و دانائی کا حاصل) کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں اس چیز کا سوال نہیں کرتا جس کی مجھے حاجت نہ ہو۔ اور ایسا کام نہیں کرتا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37012]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37012، ترقيم محمد عوامة 35436)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35437 ترقیم الشثری: -- 37013
٣٧٠١٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا إسماعيل المكي ومبارك عن الحسن قال: قال لقمان لابنه: يا بني حملت الجندل والحديد فلم ار (شيئا) (١) اثقل من جار سوء، وذقت (المرار كله) (٢) فلم ار (شيئا) (٣) امر من (التجبر) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [جـ]: (المرأة)، وفي [أ، ب]: (المرارة كلها).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [هـ]: (الفقر)، نقلًا من الدرر المنثور ٥/ ٥١٦ و ٥١٨، وكذلك شعب الإيمان (٤٨٩١).

حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں نے پتھر اور لوہا اٹھایا ہے، مگر برے پڑوسی سے زیادہ وزنی (یعنی تکلیف دہ) چیز کوئی نہیں دیکھی۔ اور میں نے ہر کڑوی چیز کا ذائقہ دیکھا ہے، مگر تکبر سے زیادہ کڑوی چیز کوئی نہیں دیکھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37013]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37013، ترقيم محمد عوامة 35437)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35438 ترقیم الشثری: -- 37014
٣٧٠١٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حاتم بن وردان قال: حدثنا يونس عن الحسن قال: سال موسى جماعا (من) (١) العمل (٢) (فقيل) (٣) (له) (٤) : انظر ما تريد (٥) (يصاحبك) (٦) (به) (٧) الناس (تصاحب الناس به) (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عن).
(٢) أي: عملًا يجمع خصال الخير
(٣) في [أ، ب]: (فقال).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: زيادة (أن).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (أيصاحبك).
(٧) في [أ، ب]: (فيه).
(٨) سقط من: [س].

حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسی بات کے بارے میں سوال کیا جو تمام اعمال کی جامع ہو (کہ اس کے مفہوم میں تمام بھلائیاں شامل ہوجائیں)۔ تو انہیں جواب ملا: غور کیجئے کہ آپ اپنے ساتھ لوگوں کا کیسا معاملہ پسند فرماتے ہیں، پھر لوگوں کے ساتھ بھی ویساہی معاملہ کیجئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37014]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37014، ترقيم محمد عوامة 35438)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35439 ترقیم الشثری: -- 37015
٣٧٠١٥ - حدثنا معاوية بن هشام (قال) (١) : حدثنا سفيان (عن) (٢) اسلم المنقري عن حبيب بن ابي ثابت قال: كان حاجبا يعقوب قد وقعا على عينيه، فكان يرفعهما بخرقة، فقيل له ما بلغ بك هذا؟ (٣) قال: طول الزمان وكثرة الاحزان، ⦗٢٤٨⦘ فاوحى الله إليه يا يعقوب شكوتني؟ قال: (يا) (٤) رب خطيئة اخطاتها فاغفرها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [هـ]: (بن).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (يا يعقوب).
(٤) سقط من: [س].

حضرت حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: حضرت یعقوب علیہ السلام کے ابرو آپ کی آنکھوں پر جھک گئے تھے۔ آپ کپڑے کی ایک دھجی سے انہیں اٹھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان سے عرض کیا گیا: آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: لمبی عمر اور غموں کی کثرت (کی وجہ سے)۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے یعقوب علیہ السلام آپ نے میری شکایت کی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! یہ بہت بڑی خطا ہے جو مجھ سے سرزد ہوگئی۔ بس آپ میری مغفرت فرما دیجئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37015]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37015، ترقيم محمد عوامة 35439)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35440 ترقیم الشثری: -- 37016
٣٧٠١٦ - حدثنا سعيد بن شرحبيل عن ليث بن سعد عن عقيل عن ابن شهاب قال: جلست يوما إلى ابي إدريس الخولاني وهو يقص فقال: الا (اخبرك) (١) من كان اطيب الناس طعاما [فلما راى الناس قد (نظروا) (٢) إليه قال: إن يحيى بن زكريا كان اطيب الناس طعاما] (٣) ، إنماكان ياكل مع الوحش كراهة ان يخالط الناس في معايشهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (أخبركم).
(٢) في [س]: (صاروا).
(٣) سقط من: [س].

حضرت ابن شھاب کہتے ہیں: ایک دن میں ابو ادریس خولانی کے پاس بیٹھا تھا اور وہ گفتگو کر رہے تھے۔ چناچہ فرمانے لگے: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ عمدہ غذا استعمال کرنے والی ہستی کون سی تھی؟ اس پر انہوں نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ پایا تو فرمایا: یحییٰ بن زکریا i سب سے بہتر غذا استعمال فرماتے تھے، ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ جانوروں کی معیت میں کھاپی لیا کرتے تھے، کیونکہ وہ یہ بات ناپسند فرماتے تھے لوگوں کی (ناجائز) کمائیوں میں شریک ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37016]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37016، ترقيم محمد عوامة 35440)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35441 ترقیم الشثری: -- 37017
٣٧٠١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عوانة قال: حدثنا حبيب بن ابي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: (لقد) (١) قال موسى ﵇ (٢) : ﴿رب إني لما انزلت إلي من خير فقير﴾ [القصص: ٢٤] وهو اكرم خلقه عليه، ولقد كان افتقر إلى شق تمرة، ولقد اصابه الجوع حتى (لزق) (٣) بطنه (بظهره) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [س، ع، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (ألصق)، وفي [جـ، غ]: (الزمن).
(٤) في [أ، ب]: (على ظهره).
(٥) صحيح؛ أخرجه الضياء في المختارة ١٠/ (١٥٠)، وابن عساكر ٦١/ ٣٥.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تحقیق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے رب بیشک میں اس اچھی چیز کا محتاج ہوں جو آپ میری طرف اتاریں حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ معزز تھے۔ اور یقینی بات ہے کہ آپ کے پاس کھجورکا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ تھا۔ اور بھوک کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ آپ کا پیٹ کمر سے جا لگا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37017]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37017، ترقيم محمد عوامة 35441)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں