🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. كلام أبي الدرداء ﵁
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35741 ترقیم الشثری: -- 37321
٣٧٣٢١ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن الغيرة عن حميد بن هلال قال: قال ابو الدرداء: إن اخوف ما اخاف إذا وقفت على الحساب ان يقال لي: قد علمت فما (عملت) (١) فيما علمت (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (علمت).
(٢) منقطع؛ حميد لم يسمع من أبي الدرداء، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٤٦٧)، وأبو نعيم ١/ ٢١٣، وابن المبارك في الزهد (٣٩)، وابن عساكر ٤٧/ ١٤٨، وابن سعد في الطبقات ٢/ ٣٥٧، والخطيب في اقتضاء العلم والعمل (٥٥)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٢، والبيهقي في الدخل (ص ٣١٦، ٤٨٩).

حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں حساب کے لیے کھڑا ہوں تو مجھے جس بات سے سب سے زیادہ خوف ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مجھے کہا جائے تحقیق تجھے علم تھا۔ پس جو تجھے علم تھا تو نے اس میں کیا عمل کیا ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37321، ترقيم محمد عوامة 35741)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35742 ترقیم الشثری: -- 37322
٣٧٣٢٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن الاعمش عن عمرو بن مرة او غيره عن سالم بن ابي الجعد قال: مر ثوران على ابي الدرداء وهما يعملان، فقام احدهما فقام الآخر، فقال ابو الدرداء: إن في هذا (لمعتبرا) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (المعتبر).
(٢) منقطع؛ سالم لم يدرك أبا الدرداء، أخرجه أبو نعيم ١/ ٢٠٩.

حضرت سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: دو بیل حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ دونوں کام میں جتے ہوئے تھے۔ پھر ان میں سے ایک کھڑا ہوا تو دوسرا بھی کھڑا ہوگیا اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا اس میں عبرت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37322، ترقيم محمد عوامة 35742)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35743 ترقیم الشثری: -- 37323
٣٧٣٢٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن الاعمش عن غيلان بن (بشر) (١) عن يعلى ابن الوليد قال: كنت امشي مع ابي الدرداء، قال: قلت: يا ابا الدرداء ما تحب لمن تحب؟ قال: الموت، قال: قلت (له) (٢) : (فإن) (٣) لم ⦗٣٥٤⦘ يمت؟ قال: يقل ماله وولده (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (بشير)، وفي [س]: (نسير).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [س].
(٤) مجهول؛ فيه انقطاع، غيلان ويعلى مجهولان، والأعمش لم يسمعه من غيلان كما في المعرفة، وأخرجه أحمد في الزهد (ص ١٣٩)، وهناد (٥٤٣)، والبخاري في التاريخ ٧/ ١٠٤، وابن سعد ٧/ ٣٩٢، ومسدد كما في المطالب (٣١١٥)، وابن جرير في مسند ابن عباس (٤٩٦)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٦٦، وابن عساكر ٤٧/ ١٦٢.

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن ولید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ! آپ کو جس سے محبت ہے اس کے لیے آپ کیا پسند کرتے ہیں؟ فرمایا: موت۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے آپ سے کہا: لیکن اگر وہ نہ مرے؟ فرمایا: اس کے بچے اور مال کم ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37323، ترقيم محمد عوامة 35743)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35744 ترقیم الشثری: -- 37324
٣٧٣٢٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن سعد الانصاري قال: حدثني عبد الله بن (يزيد) (١) بن ربيعة الدمشقي قال: قال ابو الدرداء: ادلجت ذات ليلة (إلى) (٢) المسجد، فلما دخلت مررت على رجل وهو ساجد وهو يقول: اللهم إني خائف مستجير فاجرني من عذابك، وسائل فقير فارزقني من فضلك، لا (بريء) (٣) من ذنب فاعتذر، ولا ذو قوة فانتصر، و (لكني) (٤) مذنب مستغفر، قال: فاصبح ابو الدرداء يعلمهن اصحابه إعجابا بهن (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (زبد).
(٢) في [أ، ب]: (في).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) في [ط، هـ]: (لكن).
(٥) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن يزيد، أخرجه ابن فضيل في الدعاء (٤٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٢٤.

حضرت عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک رات منہ اندھیرے مسجد کی طرف گیا۔ پس جب میں داخل ہوا تو میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا۔ وہ سجدہ میں تھا اور کہہ رہا تھا۔ اے اللہ! میں خوفزدہ ہوں، پناہ کا طالب ہوں پس تو مجھے اپنے عذاب سے پناہ دے دے۔ اور میں مانگنے والا فقیر ہوں پس تو مجھے اپنے فضل میں سے رزق دے دے۔ میں گناہ سے بری نہیں ہوں لیکن تو (میرا) عذر قبول کرلے اور نہ میں طاقت ور ہوں لیکن تو میری مدد فرما۔ بلکہ میں گناہگار اور معافی کا طلب گار ہوں۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت یہ کلمات اپنے شاگردوں کو سکھانے شروع کردئیے ان کو اچھا سمجھتے ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37324، ترقيم محمد عوامة 35744)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35745 ترقیم الشثری: -- 37325
٣٧٣٢٥ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: حدثنا شعبة قال: اخبرنا يزيد بن خمير الشامي (قال: اخبرني) (٢) سليمان بن مرثد قال: سمعت ابنة ابي الدرداء عن ابي الدرداء قال: لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا، ولخرجتم تبكون لا تدرون: تنجون او لا تنجون (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ع]: (بكر).
(٢) في [ب]: تكرر.
(٣) مجهول؛ لجهالة بنت أبي الدرداء وسليمان بن مرثد، أخرجه ابن أبي حاتم في العلل ٢/ ١٠٠، والعقيلي في الضعفاء ٢/ ١٤٢، وورد من حديث سليمان عن أبي الدرداء مرفوعًا، أخرجه الحاكم ٤/ ٣٥٦، وعبد بن حميد (٢١٠)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٤٣٣)، والبيهقي في الشعب (٧٩٣)، وابن عساكر ٥٢/ ٢١٦.

حضرت سلمان بن مرثد بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ا کہ انہوں نے فرمایا: اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو البتہ تم لوگ کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ اور تم روتے ہوئے نکل پڑو۔ تمہیں معلوم نہ ہو کہ تم نجات پاؤ گے کہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37325]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37325، ترقيم محمد عوامة 35745)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35746 ترقیم الشثری: -- 37326
٣٧٣٢٦ - حدثنا وكيع عن مسعر عن إبراهيم السكسكي قال: حدثنا اصحابنا عن ابي الدرداء قال: إن شئتم لاقسمن لكم: إن احب العباد إلى الله الذين يحبون الله (ويحببون) (١) الله إلى عباده (٢) والذين يراعون الشمس والقمر والنجوم (والاظلة) (٣) لذكر الله (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (يحبون).
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) في [ط]: (الأظلمة).
(٤) مجهول؛ لجهالة أشياخ إبراهيم، أخرجه ابن المبارك في الزهد (١٣٠٣)، والبيهقي في السنن ١/ ٣٧٩، والحاكم ١/ ١١٦، وابن حبان في الثقات ٧/ ٥١٩، وقد ورد من حديث إبراهيم عن أبي ابن أوفي مرفوعًا، أخرجه الحاكم ١/ ١١٥، والبيهقي ١/ ٣٧٩)، والبزار (٣٣٥١)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ٢٢٧، وابن النجار في ذيل بغداد ١٦/ ٢٢٧، والطبراني في الدعاء (١٨٧٦)، وابن أبي الدنيا في الأولياء (٢٨).

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں قسم کھا کر کہہ دیتا ہوں۔ بیشک اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں سے محبوب ترین وہ بندے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے بندوں کی محبت کرواتے ہیں۔ جو لوگ شمس وقمر اور ستاروں، سایوں کا خیال اللہ کے ذکر کی وجہ سے رکھتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37326، ترقيم محمد عوامة 35746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35747 ترقیم الشثری: -- 37327
٣٧٣٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن ابي (ليلى) (١) قال: كتب ابو الدرداء إلى مسلمة بن مخلد وهو امير بمصر: اما بعد فإن العبد إذا عمل بطاعة الله احبه الله، وإذا احبه الله حببه إلى خلقه، وإذا ابغضه (الله) (٢) بغضه إلى خلقه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ليلا).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٦٧٥)، ومسدد كما في المطالب العالية (٣١٨٠)، والخطيب في تاريخ بغداد ٦/ ١٥٣، وهناد (٥٢٥)، والبيهقي في الزهد (٧٩٧)، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ٢٤٠، وابن عساكر ٤٧/ ١٢٦.

حضرت ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا جبکہ وہ مصر کے امیر تھے۔ اما بعد! پس بیشک بندہ جب اللہ کی اطاعت والا عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں تو اس کو اپنی مخلوق میں محبوبیت عطا کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے بغض رکھتے ہیں تو اس کو اپنی مخلوق میں سے مبغوض بنا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37327، ترقيم محمد عوامة 35747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35748 ترقیم الشثری: -- 37328
٣٧٣٢٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن سالم بن ابي الجعد عن ابي الدرداء انه قال: مالي ارى علماءكم يذهبون، وارى جهالكم لا يتعلمون، اعلموا قبل ان يرفع العلم فإن رفع العلم ذهاب العلماء، مالي اراكم تحرصون على ما تكفل لكم به، وتضيعون ما وكلتم به، لانا اعلم بشراركم من البيطار بالخيل، هم الذين لا ⦗٣٥٦⦘ ياتون الصلاة إلا دبرا، ولا يسمعون القرآن إلا هجرا، ولا يعتق محررهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ سالم لم يدرك أبا الدرداء، أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٤٤)، والدارمي (٢٤٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢١٢، والبيهقي في المدخل (ص ٤٥٣)، والثعلبي في التفسير ٥/ ٣٠١، وابن عساكر ٤٧/ ١٣٢، وابن عبد البر في الجامع ١/ ١٥٦.
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہارے علماء کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جا رہے ہیں اور میں تمہارے جاہل لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ علم حاصل نہیں کرتے؟ علم کے اٹھائے جانے سے قبل علم حاصل کرو کیونکہ علم کا اٹھنا علماء کا جانا ہے۔ مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کے بارے میں حریص دیکھتا ہوں جو تمہارے سپرد کی گئی ہیں؟ میں تم میں شریر لوگوں کو اس سے زیادہ جانتا ہوں جتنا کہ جانوروں کا علاج کرنے والا گھوڑوں کو جانتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو وقت نکل جانے کے بعد پڑھتے ہیں اور قرآن مجید کو بےرخی کے ساتھ سنتے ہیں اور اپنے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37328، ترقيم محمد عوامة 35748)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35749 ترقیم الشثری: -- 37329
٣٧٣٢٩ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم قال: صعد رجل إلى ابي الدرداء وهو جالس فوق بيت يلتقط حبا قال: فكان الرجل استحيا منه فرجع، فقال ابو الدرداء: تعال فإن (من) (١) فقهك رفقك بمعيشتك (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) منقطع؛ سالم لم يدرك أبا الدرداء، أخرجه أحمد (٢١٦٩٥)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٥٦٤).

حضرت سالم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس اوپر گیا جبکہ وہ کمرے کے اوپر دانے چن رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں گویا کہ اس آدمی نے آپ سے حیا کرتے ہوئے واپسی کا راستہ لے لیا۔ اس پر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آجاؤ۔ کیونکہ تمہارا اپنی معیشت میں نرم برتاؤ تمہاری سمجھ داری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37329، ترقيم محمد عوامة 35749)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35750 ترقیم الشثری: -- 37330
٣٧٣٣٠ - حدثنا علي بن إسحاق عن (ابن) (١) مبارك عن عبد الرحمن بن يزيد (ابن) (٢) جابر قال: اخبرني إسماعيل بن عبيد الله قال: حدثتني ام الدرداء انه اغمي على ابي الدرداء فافاق، فإذا بلال ابنه عنده، فقال: قم فاخرج عني، ثم قال: من يعمل (لمثل) (٣) مضجعي هذا؟ (من يعمل لمثل مضجعي هذا؟) (٤) من يعمل لمثل ساعتي هذه؟ ﴿ونقلب افئدتهم وابصارهم كما لم يؤمنوا به اول مرة ونذرهم في طغيانهم يعمهون﴾ [الانعام: ١١٠] ، قالت: ثم يغمى عليه (فيلبث) (٥) لبثا ثم يفيق فيقول مثل ذلك، فلم يزل يرددها حتى قبض (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (عن).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) سقط من: [س، ط، هـ].
(٥) في [س]: (فلبث)، وفي [ع]: (فنلبث).
(٦) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢١٧، والبيهقي في الشعب (١٠٦٦٦)، وابن عساكر ٤٧/ ١٩٨، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (٢٦)، وابن الجوزي في الثبات (ص ١٢٩)، وابن زبر في وصايا العلماء (ص ٥٦).

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بےہوش ہوگئے پھر انہیں ہوش آیا تو ان کے بیٹے حضرت بلال ان کے پاس تھے۔ حضرت ابوالدرادء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اٹھو اور میرے پاس سے باہر چلے جاؤ۔ پھر فرمایا: میرے اس خواب گاہ کی طرح کس نے کام کیا ہے؟ میری اس گھڑی کی طرح کس نے کام کیا ہے؟ وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ آپ کچھ دیر گزارتے پھر آپ کو افاقہ ہوتا اور آپ پھر یہی بات دہراتے۔ چناچہ آپ یہ بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کی جان قبض ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37330، ترقيم محمد عوامة 35750)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں