🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. كلام أبي ذر ﵁
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35827 ترقیم الشثری: -- 37409
٣٧٤٠٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن ابي ذر قال: والله لو تعلمون ما اعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا، ولو تعلمون ما اعلم ما انبسطتم إلى نسائكم، (ولا تقاررتم على) (١) فرشكم ولخرجتم ⦗٣٨٣⦘ إلى الصعدات تجارون وتبكون، والله لو ان الله خلقني يوم خلقني شجرة تعضد وتؤكل ثمرتي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ولا تقادرتم).
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٦٢٢.

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم وہ کچھ جانتے تو البتہ تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے اور اگر تم لوگ وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم اپنی عورتوں کی طرف ہاتھ نہ پھیلاتے اور تم اپنے بستروں پر اطمینان نہ کرتے اور تم گھاٹیوں کی طرف آوازیں بلند کرتے اور روتے ہوئے نکل جاتے۔ خدا کی قسم! اگر میری تخلیق کے دن مجھے ایک کٹنے اور کھائے جانے والا درخت بنادیا ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37409، ترقيم محمد عوامة 35827)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35828 ترقیم الشثری: -- 37410
٣٧٤١٠ - حدثنا ابو اسامة عن سفيان عن (ابي المحجل) (١) عن ابن عمران بن حطان عن ابيه قال: قال ابو ذر: الصاحب الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من صاحب السوء، (ومملي) (٢) الخير خير من الساكت، والساكت خير من (مملي) (٣) الشر، والامانة خير من الخاتم (٤) ، والخاتم خير من ظن السوء (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (أبي الحجل)، وفي [ع]: (ابن الحجل).
(٢) في [س]: (وعملي).
(٣) في [س]: (وعملي).
(٤) العلامة التي يقفل بها الحساب للأمن من التزوير.
(٥) مضطرب؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٣٨٧، والقضاعي في مسند الشهاب (١٢٦٦)، والدولابي في الكنى ٣/ ٩٨٩، والبيهقي في الشعب (٤٩٩٢)، وابن عساكر ٥٩/ ٣٥٦، والخرائطي في المنتقى (٣٧٢)، والخطابي في العزلة (ص ٤٩)، وابن أبي الدنيا في العزلة (١٢١)، وابن ناصر الدين في توضيح المشتبه ٥/ ٣٨٠، وأبو هلال العسكري في جمهرة الأمثال ٢/ ٣٣٠.

حضرت حطان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ساتھی، تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی، برے ساتھی سے بہتر ہے اور خیر کا املاء کروانے والا ساکت سے بہتر ہے اور ساکت، شر کے املاء کروانے والے سے بہتر ہے۔ اور امانت، خاتم سے بہتر ہے اور خاتم برے گمان سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37410]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37410، ترقيم محمد عوامة 35828)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35829 ترقیم الشثری: -- 37411
٣٧٤١١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن ابيه عن ابي ذر قال: ذو الدرهمين يوم القيامة اشد حسابا من ذي الدرهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٤٧)، وابن المبارك (٥٥٥)، وهناد (٥٩١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٦٤، والبيهقي في الشعب (١٠٦٤٧)، وابن أبي الدنيا في إصلاح المال (٣١).
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دو درہموں والا شخص بروز قیامت ایک درہم والے سے شدید حساب میں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37411]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37411، ترقيم محمد عوامة 35829)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35830 ترقیم الشثری: -- 37412
٣٧٤١٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم التيمي عن ابيه عن ابي ذر قال: قيل له الا تتخذ ارضا كما اتخذ طلحة والزبير، قال: فقال: وما اصنع بان اكون اميرا؟ وإنما يكفيني كل يوم شربة من ماء او نبيذ او لبن وفي الجمعة قفيز من قمح (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٤٨)، وهناد (٥٦٤)، وأبو نعيم ١/ ١٦٢، وابن عساكر ٦٦/ ٢٠٣، والبيهقي في الشعب (١٠٦٥٠)، والدينوري (٩٠٧).
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ جس طرح حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے زمین بنائی ہے آپ کیوں نہیں بنا لیتے؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا: میں امیر ہو کر کیا کروں گا؟ مجھے تو روزانہ کے لیے ایک گھونٹ پانی یا نبیذ کا ایک گھونٹ یا دودھ کا گھونٹ کافی ہے اور ہر جمعہ کے لیے ایک قفیز گندم کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37412]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37412، ترقيم محمد عوامة 35830)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35831 ترقیم الشثری: -- 37413
٣٧٤١٣ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن عمرو بن ميمون عن ابيه عن رجل من بني سليم يقال له عبد الله بن سيدان قال: صحبت ابا ذر فقال لي: الا اخبرك بيوم حاجتي، إن يوم حاجتي يوم اوضع في حفرتي، فذلك يوم حاجتي (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن سيدان، أخرجه ابن عساكر ٦٦/ ٢٠٥.
حضرت عبداللہ بن سیدان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے مجھے کہا کیا میں تمہیں اپنی حاجت کا دن نہ بتاؤں؟ بیشک میری حاجت کا دن وہ ہے جب مجھے میری قبر میں رکھا جائے گا۔ پس یہ میری حاجت کا دن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37413]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37413، ترقيم محمد عوامة 35831)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35832 ترقیم الشثری: -- 37414
٣٧٤١٤ - حدثنا ابو معاوية عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن (خراش) (١) قال: رايت ابا ذر بالربذة وعنده امراة له سحماء او شحباء، (قال) (٢) وهو في (مظلة) (٣) سوداء قال: فقيل (له: يا) (٤) ابا ذر لو اتخذت امراة هي ارفع من هذه، قال: فقال: إني والله لان اتخذ امراة تضعني احب إلي من ان اتخذ امراة ترفعني، قالوا: يا ابا ذر إنك (امرؤ) (٥) ما (يكاد) (٦) يبقى لك ولد، (قال) (٧) : فقال: وإنا نحمد الله الذي ياخذهم منا في دار الفناء، و (يدخرهم) (٨) لنا في دار البقاء، قال: وكان يجلس على قطعة المسح والجوالق، قال: فقالوا: يا ابا ذر لو اتخذت بساطا هو الين من بساطك هذا، قال: فقال: اللهم غفرا، خذ ما (اوتيت) (٩) ، إنما خلقنا لدار لها نعمل وإليها نرجع (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (خدلس)
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، س]: (مظلمة).
(٤) سقط من [أ، ب، جـ].
(٥) في [أ، ب]: (مرزًا)، وفي [س]: (مرزؤٌ).
(٦) في [أ، ب]: (تكاد)
(٧) في [أ، ب]: (قال: فقال).
(٨) في [أ، ب، هـ]: (يدخر).
(٩) في [ع]: (أحويت).
(١٠) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه ابن سعد ٤/ ٢٣٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٦٠، (١٦٢٩)، وابن عساكر ٦٦/ ٢٠٥.

حضرت عبداللہ بن خراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں دیکھا ان کے ساتھ ایک سحماء یا شحباء عورت تھی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہایک سیاہ سائبان میں تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا۔ اگر آپ اس عورت سے بلند عورت رکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں کوئی ایسی عورت رکھوں جو مجھے نیچا رکھے یہ بات مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی عورت رکھوں جو مجھے بلند کرے۔ لوگوں نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ! آپ اولاد کی طرف سے غم زدہ ہیں۔ آپ کا کوئی بچہ باقی نہیں رہتا۔ راوی کہتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا: ہم اس اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں جو ہم سے دارالفناء میں بچے لیتا ہے اور ان کو ہمارے لیے دارالبقاء میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ٹاٹ اور بالوں سے بنے بچھونے پر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ! اگر آپ کوئی ایسا بچھونا بنا لیتے جو آپ کے اس بچھونے سے نرم ہوتا؟ اس پر انہوں نے فرمایا: اللَّہُمَّ غُفْرًا اے اللہ! مغفرت عطا فرما۔ مجھے جو دیا جائے وہ آپ لے لیں۔ کیونکہ ہم تو اس گھر کے لیے عامل پیدا کیے گئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37414]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37414، ترقيم محمد عوامة 35832)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35833 ترقیم الشثری: -- 37415
٣٧٤١٥ - حدثنا ابو معاوية عن الحسن (بن) (١) سالم بن ابي الجعد عن ابيه قال: بعث ابو الدرداء إلى ابي ذر رسولا، قال: فجاء الرسول فقال لابي ذر: إن اخاك ابا الدرداء يقرئك السلام، يقول لك: اتق الله و (خف) (٢) الناس، قال: فقال ابو ذر: مالي وللناس، وقد تركت لهم بيضاءهم وصفراءهم، ثم قال للرسول: انطلق إلى المنزل، قال: فانطلق معه، قال: فلما دخل بيته إذا (طعيم) (٣) في عباءة ليس بالكثير، وقد انتشر بعضه، (قال) (٤) : فجعل ابو ذر يكنسه ويعيده في العباءة، قال: ثم قال: إن من فقه المرء رفقه في معيشته، قال: ثم جيء بطعيم فوضع بين يديه، قال: فقال لي: كل، قال: فجعل الرجل يكره ان يضع يده في الطعام لما يرى من قلته، قال: فقال له ابو ذر: ضع يدك، فوالله لانا بكثرته اخوف مني بقلته، قال: فطعم الرجل، ثم رجع إلى ابي الدرداء فاخبره بما رد عليه، فقال ابو الدرداء: ما اظلت الخضراء ولا اقلت الغبراء على ذي لهجة اصدق منك يا ابا ذر (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [ط، هـ]: (حق).
(٣) في [س]: (طعيمة).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) منقطع؛ سالم بن أبي الجعد لم يدرك أبا الدرداء وأبا ذر، وأخرجه ابن أبي عاصم في الزهد (٦٨).

حضرت ابوالجعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا۔ قاصد آیا اور اس نے حضرت ابوذر کو کہا آپ کے بھائی حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہاپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ آپ سے کہتے ہیں اللہ سے ڈرو اور لوگوں سے مخفی رہو۔ اس پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے لوگوں سے کیا لینا ہے۔ میں نے ان کے لیے ان کی چاندی سونے کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے قاصد سے فرمایا۔ گھر کی طرف چلو۔ وہ آپ کے ہمراہ چل پڑا۔ پس جب وہ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو ایک چوغہ میں تھوڑی سی کھانے کی چیز تھی جو بکھری ہوئی تھی۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور اس کو چوغہ میں جمع کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: بیشک آدمی کی فقاہت میں سے اس کا اپنی معیشت کے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا ہے۔ پھر کچھ تھوڑا سا کھانا لایا گیا اور ان کے سامنے رکھا گیا۔ انہوں نے مجھے کہا کھاؤ۔ وہ آدمی اس کھانے میں ہاتھ ڈالنے کو ناپسند کرتا تھا۔ کیونکہ وہ تھوڑا دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا ہاتھ ڈالو خدا کی قسم! ہم کھانے کی قلت سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتے جتنا اس کی کثرت سے ہوتے ہیں۔ اس پر آدمی نے کھانا کھالیا پھر حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس واپس چلا گیا اور ان کو ساری حالت بیان کی۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ تجھ سے زیادہ سچے کسی آدمی پر کسی درخت نے سایہ نہیں کیا اور کسی زمین نے پناہ نہیں دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37415]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37415، ترقيم محمد عوامة 35833)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35834 ترقیم الشثری: -- 37416
٣٧٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن عمرو عن ابي بكر بن المنكدر قال: ارسل حبيب بن مسلمة وهو على الشام إلى ابي ذر بثلاثمائة دينار، فقال: استعن بها على حاجتك، فقال ابو ذر: ارجع بها، فما وجد احدا (اغر) (١) بالله منا، ما لنا (إلا) (٢) ظل نتوارى به، وثلة من غنم تروح علينا، ومولاة لنا ⦗٣٨٦⦘ تصدقت علينا بخدمتها، ثم إني لاتخوف الفضل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أكثر غرورًا، وفي [أ، ب، س]: (أغنى).
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) منقطع؛ أبو بكر بن المنكدر لم يدرك أبا ذر، أخرجه أبو نعيم ١/ ١٦١، وأحمد في الزهد (ص ١٤٧).

حضرت ابوبکر بن منذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حبیب بن مسلمہ نے … یہ شام پر حکمران تھے … حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف تین سو دینار بھیجے اور فرمایا: ان سے اپنی ضرورت میں مدد کرلینا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کو واپس لے جاؤ۔ ہم سے بڑھ کر کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ ہمیں تو صرف ایک سایہ چاہیے جس میں ہم سایہ حاصل کریں اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ہمیں راحت دیتا ہے اور ایک آزاد لونڈی ہے جو اپنی خدمات کا ہم پر صدقہ کرتی ہے پھر میں اس سے زیادہ چیز کا خوف کھاتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37416]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37416، ترقيم محمد عوامة 35834)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35835 ترقیم الشثری: -- 37417
٣٧٤١٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا (علي بن مسعدة قال: حدثنا) (١) عبد الله الرومي قال: دخلت على ام طلق وإنها حدثته انها دخلت على ابي ذر، فاعطته شيئا من دقيق وسويق، فجعله في طرف ثوبه وقال: ثوابك على الله، فقلت لها: يا ام طلق كيف رايت هيئة ابي ذر؟ فقالت: يا بني رايته شعثا شاحبا، ورايت في يده صوفا منفوشا وعودين قد خالف بينهما وهو يغزل من ذلك الصوف (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) مجهول؛ لجهالة أم طلق وعبد اللَّه الرومي، أخرجه ابن عساكر ٦٦/ ٢١٢، والدينوري في المجالسة (٢٨٥٩).

حضرت ام طلق بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت ابوذر کے پاس گئیں اور انہوں نے حضرت ابوذر کو کچھ آٹا اور ستو دئیے تو آپ نے ان کو اپنے کپڑوں کے کنارے میں باندھ لیا اور فرمایا: آپ کا ثواب اللہ پر ہے۔ میں (راوی) نے کہا: اے ام طلق! آپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حالت کیسی دیکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں نے ان کو پراگندہ بال اور اداس حالت میں دیکھا اور میں نے ان کے ہاتھ میں دھنی ہوئی اون دیکھی اور دو باہم الٹی لکڑیاں تھیں جن سے آپ اون کاتا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37417]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37417، ترقيم محمد عوامة 35835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35836 ترقیم الشثری: -- 37418
٣٧٤١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد الله بن الاقنع الباهلي عن الاحنف بن قيس قال: كنت جالسا في مسجد المدينة، فاقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه، حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، فثبت، وفروا، فقلت: من انت؟ فقال: ابو ذر صاحب رسول الله، (فقلت) (١) : ما يفر الناس منك؟ فقال: إني انهاهم عن الكنوز، فقلت: إن اعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها؟ قال: اما اليوم فلا، ولكنها يوشك ان تكون اثمان دينكم فدعوهم وإياها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فقال).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن الأقنع، أخرجه أحمد ٥/ ١٦٤ (١١٤٥١)، وابن عساكر ٦٦/ ٢١٢، والدينوري (٢٨٥٩)، والحاكم ٤/ ٥٢٢، وأصله عند البخاري (١٤٠٧)، ومسلم (٩٩٢).

حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی سامنے سے آیا جو حلقہ بھی اس کو دیکھتا تو وہ حلقہ بھاگ جاتا۔ یہاں تک کہ وہ آدمی اس حلقہ کے پاس آیا جس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ باقی لوگ فرار ہوگئے اور میں بیٹھا رہا۔ میں نے کہا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے کہا: لوگ آپ سے کیوں بھاگتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں ان کو خزانے جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا: (کیا) ہماری جاگیریں بہت زیادہ بلند ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ہم پر خوف ہے؟ انہوں نے کہا: آج تو یہ حالت نہیں ہے لیکن عنقریب ایسا ہوگا کہ تمہارے دین کی قیمت ہوگی پس تم ان کو چھوڑ دو اور ان سے بچو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37418]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37418، ترقيم محمد عوامة 35836)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں