🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. كلام (أبي هريرة) ﵁
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35844 ترقیم الشثری: -- 37426
٣٧٤٢٦ - حدثنا ابو اسامة عن عمران بن زائدة بن نشيط عن ابيه عن ابي خالد الوالبي عن ابي هريرة قال: إن الله يقول: يا ابن آدم تفرغ (لعبادتي) (١) ⦗٣٩٠⦘ (املا) (٢) قلبك غنى، واسد فقرك، وإلا تفعل املا يديك شغلا ولا اسد فقرك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بعبادتي).
(٢) في [ك]: (أملي).
(٣) معلول؛ الصواب أنه مرفوع وليس موقوفًا؛ وهم فيه أبو أسامة، فقد رواه مرفوعًا أبو أحمد الزبيدي كما عند أحمد ٢/ ٣٥٨ (٨٦٩٦) وفي الزهد (ص ٣٦)، والحاكم ٢/ ٤٤٣، والبيهقي في الشعب (١٠٣٣٩)، وعيسى بن يونس عند ابن المبارك (٣٩٣)، والترمذي (٢٤٦٦)، وعبد اللَّه بن داود كما عند ابن ماجه (٤١٠٧)، والقزويني في التدوين ٢/ ٤٥١.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اے ابن آدم! تم میری عبادت کے لیے فارغ ہوجاؤ میں تمہارے دل کو غنا سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کو بند کردوں گا۔ وگرنہ میں تمہارے دونوں ہاتھوں کو مشغولیات سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37426]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37426، ترقيم محمد عوامة 35844)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35845 ترقیم الشثری: -- 37427
٣٧٤٢٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن ابي مالك الاشجعي عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: لا يقبض المؤمن حتى يرى البشرى، فإذا قبض نادى فليس في الدار دابة (صغيرة ولا كبيرة) (١) إلا هي تسمع صوته إلا الثقلين: الجن والإنس تعجلوا به إلى ارحم الراحمين، فإذا وضع على سريره قال: ما ابطا ما تمشون، فإذا ادخل في (لحده) (٢) اقعد فاري مقعده من الجنة وما اعد الله له، وملئ قبره من روح وريحان ومسك، قال: فيقول: يا رب قدمني، قال: فيقال: لم يان لك، (إن لك) (٣) اخوة واخوات لما (يلحقون) (٤) ، (و) (٥) لكن نم قرير العين، قال ابو هريرة: فوالذي نفسي بيده ما نام نائم شاب طاعم ناعم ولا فتاة في الدنيا (نومة) (٦) باقصر ولا احلى من نومته حتى يرفع راسه إلى البشرى يوم القيامة (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (كبيرة وصغيرة).
(٢) في [س]: (الحد).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ع]: (يلحقوا)، وفي [ط]: (يلحقوه).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ]: (المدني).
(٧) حسن؛ أبو خالد صدوق.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح قبض نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بشارت دیکھ لے۔ پھر جب اس کی روح قبض ہوتی ہے تو آواز دیتا ہے۔ گھر میں کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہیں ہوتا سوائے انس وجان کے مگر یہ کہ وہ اس کی آواز کو سن لیتا ہے۔ اس کو ارحم الراحمین کی طرف جلدی لے کر جاؤ۔ پھر جب اس کو تخت پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے تم لوگ کس قدر آہستہ چلتے ہو؟ پھر جب اس کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ اور اس کے لیے خدا کی طرف سے تیار سامان دکھایا جائے گا اور اس کی قبر کو رحمت، ریحان اور مشک سے بھر دیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے آگے بھیج دے۔ کہا جائے گا ابھی تیرا وقت نہیں ہے۔ تیرے کچھ بہن بھائی ہیں جو ابھی تک ساتھ نہیں ملے۔ لیکن تو آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے سوجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ کوئی کھاتا پیتا، ناز ونعم والا نوجوان لڑکا یا لڑکی دنیا میں اس قدر میٹھی اور مختصر نیند نہیں سوتی جیسی وہ نیند ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنا سر بشارت کے لیے بلند کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37427]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37427، ترقيم محمد عوامة 35845)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35846 ترقیم الشثری: -- 37428
٣٧٤٢٨ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: حدثنا ابن عون عن عبيد بن (باب) (١) قال: كنت افرغ على ابي هريرة من إداوة، فمر به رجل فقال: اين تريد يا فلان؟ قال: السوق، قال: إن استطعت ان تشتري الموت قبل ان ترجع فافعل، قال: ثم اقبل علي فقال: لقد خفت الله مما استعجل إليه قبل القدر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ثابت).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبيد بن باب، قال يعقوب في المعرفة: "ليس والد عمرو"، وكذا قال ابن معين ٤/ ١٠١، أخرجه ابن عساكر ٦٧/ ٣٧٩، وابن سعد ٤/ ٣٣٧، والبيهقي في الشعب (١٠٦٩٢)، وهناد (٥٤٤).

حضرت عبید بن باب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر مشکیزہ میں سے پانی ڈال رہا تھا کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے فلاں! کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: بازار کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم واپس آنے سے قبل موت کو خرید سکتے ہو تو خرید لو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تحقیق میں اللہ کا خوف رکھتا ہوں اس چیز سے جو تقدیر سے پہلے جلدی مانگی جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37428]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37428، ترقيم محمد عوامة 35846)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35847 ترقیم الشثری: -- 37429
٣٧٤٢٩ - حدثنا حفص بن غياث عن ابي مالك عن ابي حازم قال: مررت مع ابي هريرة على قبر دفن حديثا فقال: (لركعتان) (١) خفيفتان مما تحتقرون (زادهما هذا) (٢) هنا احب إلي من دنياكم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (كركعتان).
(٢) في [أ، هـ]: (هنا).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣١)، والطبراني في الأوسط (٩٢٠).

حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک تازہ دفن ہونے والے مردہ کی قبر پر سے گزرا تو آپ نے فرمایا: دو ہلکی رکعتیں جن کو تم حقیر سمجھتے ہو وہ اس کا زاد راہ ہوں تو یہ چیز مجھے تمہاری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37429]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37429، ترقيم محمد عوامة 35847)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35848 ترقیم الشثری: -- 37430
٣٧٤٣٠ - حدثنا (ابو خالد) (١) عن داود (عن علي) (٢) بن زيد عن (٣) (ابي) (٤) عثمان قال: بلغني عن ابي هريرة قال: إن الله يجزي المؤمن (بالحسنة) (٥) الف الف حسنة (٦) ، فاتيته فقلت: يا ابا هريرة إنه بلغني (انك) (٧) تقول: إن الله يجزئ المؤمن ⦗٣٩٢⦘ (بالحسنة) (٨) (الف الف حسنة) (٩) ، قال: (نعم) (١٠) ، والفي الف حسنة، وفي القرآن من ذلك ﴿إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها﴾ (فمن يدري تسمية تلك الاضعاف) (١١) : ﴿ويؤت من لدنه اجرا عظيما﴾ [النساء: ٤٠] ، قال: الجنة (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أبو داود عن خالد).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [جـ]: زيادة (علي).
(٤) في [جـ]: (ابن).
(٥) في [س]: (بالجنة).
(٦) في [س]: زيادة (قال: نعم).
(٧) في [س]: (أن).
(٨) في [س]: (بالحالف).
(٩) سقط من: [س].
(١٠) سقط من: [س].
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد ٢/ ٢٩٦ (٧٩٤٥) و ٢/ ٥٢١ (١٠٧٦٠) وابن جرير ٥/ ٩١، والبيهقي في الزهد (٧١٣).

حضرت ابوعثمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ بات پہنچی کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں کے ساتھ دیتے ہیں چناچہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ مومن کو ایک نیکی کا بدلہ ایک لاکھ نیکیوں میں دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں اور دو لاکھ بھی۔ قرآنِ کریم میں اس کے متعلق ہے {إنَّ اللَّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا } پس کون اس دو چند کی مقدار کو جانتا ہے؟ { وَیُؤْتِ مِنْ لَدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا } فرمایا: جنت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37430]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37430، ترقيم محمد عوامة 35848)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35849 ترقیم الشثری: -- 37431
٣٧٤٣١ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن ابي حازم قال: قال ابو هريرة: من كسا خلقا كساه الله به حريرا، ومن كسا جديدا كساه الله به استبرقا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابوحازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص پرانا کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس کے بدلہ میں ریشم پہنائے گا اور جو شخص نیا کپڑا پہنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض استبرق پہنائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37431]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37431، ترقيم محمد عوامة 35849)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35850 ترقیم الشثری: -- 37432
٣٧٤٣٢ - حدثنا وكيع عن فضيل بن غزوان عن ابي حازم عن ابي هريرة ان رجلا من (الانصار) (١) اذنه (٢) ضيف، فلم يكن عنده إلا قوته وقوت صبيانه، فقال لامراته: نومي الصبية واطفئي السراج، قال: فنزلت هذه الآية: ﴿ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فاولئك هم المفلحون﴾ [الحشر: ٩] (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أنصار).
(٢) أي: جاءه ضيف مستأذنا يطلب الضيافة، وعند الترمذي (٣٣٠٤): (بات به).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٩٨)، ومسلم (٢٠٥٤).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی کے پاس ایک مہمان نے اجازت طلب کی۔ اس انصاری کے پاس صرف اپنے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا تھا۔ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: بچوں کو سلا دو اور چراغ بجھا دو۔ راوی کہتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37432]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37432، ترقيم محمد عوامة 35850)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35851 ترقیم الشثری: -- 37433
٣٧٤٣٣ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الاعمش ⦗٣٩٣⦘ عن ابي صالح عن ابي هريرة (قال) (٢) : إذا مات الميت تقول الملائكة: ما قدم؟ ويقول الناس: ما ترك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ.
(٢) في [أ، ب]: (يقول).
(٣) صحيح؛ أخرجه مرفوعًا البيهقي في الشعب (١٠٤٧٥).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میت مرجاتی ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس نے آگے کیا بھیجا؟ اور لوگ کہتے ہیں اس نے پیچھے کیا چھوڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37433]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37433، ترقيم محمد عوامة 35851)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35852 ترقیم الشثری: -- 37434
٣٧٤٣٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عاصم عن عبيد مولى ابي رهم قال: مررت مع ابي هريرة على نخل فقال: اللهم اطعمنا من (ثمر) (١) لا (تؤبره) (٢) بنو آدم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ثمره)، وفي [ع]: (تمر).
(٢) في [ط، هـ]: (يأبره).
(٣) مجهول؛ لجهالة عبيد.

حضرت عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے ہمراہ ایک کھجور کے درخت کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا: اے اللہ! ہمیں وہ کھجور کھلا جس کو بنی آدم نے نہ لگایا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37434، ترقيم محمد عوامة 35852)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35853 ترقیم الشثری: -- 37435
٣٧٤٣٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر قال: حدثنا محمد بن عبد الرحمن مولى طلحة عن عيسى بن طلحة عن ابي هريرة قال: لا تطعم النار رجلا بكى من خشية الله ابدا حتى يرد اللبن في الضرع، ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في منخري رجل مسلم ابدا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه النسائي ٦/ ١٢، ووكيع في الزهد (٢٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٨٠١)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٠٥٦٠)، والترمذي (١٦٣٣)، وابن حبان (٤٦٠٧)، والحاكم ٤/ ٢٦٠، وهناد في الزهد (٤٦٥)، وابن المبارك في الجهاد (٣٠)، والحميدي (١٠٩١)، والبغوي (٤١٦٨).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص خوفِ خدا کی وجہ سے رویا اس کو جہنم کی آگ تب تک نہ کھائے گی جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ چلا جائے اور کسی بندہ مسلم کے نتھنوں میں راہ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہوسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37435، ترقيم محمد عوامة 35853)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں