مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. (كلام مسروق)
حضرت مسروق کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36021 ترقیم الشثری: -- 37605
٣٧٦٠٥ - حدثنا (عفان) (١) بن مسلم قال: حدثنا ابو عوانة عن مغيرة عن عامر ان رجلا كان يجلس إلى مسروق يعرف وجهه ولا يسمي اسمه قال: فشيعه، (قال) (٢) : فكان في آخر من ودعه فقال: إنك قريع القراء وسيدهم، وإن زينك لهم زين، وشينك لهم شين، فلا تحدثن نفسك بفقر ولا طول عمر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قتادة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
حضرت عامر سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پاس بیٹھتا تھا راوی اس کو شکل سے جانتا تھا لیکن نام سے واقف نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ آپ کی مشایعت میں نکلا۔ راوی کہتے ہیں وہ آپ کو الوداع کہنے والوں میں آخری تھا۔ تو اس نے کہا آپ سب قاریوں میں سے بڑے اور ان کے سردار ہیں۔ اور آپ کی زینت میں ان کی زینت ہے اور آپ کی بدصورتی، ان کی بدصورتی ہے۔ پس آپ اپنے نفس سے فقر اور لمبی عمر کی باتیں نہ کیا کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37605]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37605، ترقيم محمد عوامة 36021)
ترقیم عوامۃ: 36022 ترقیم الشثری: -- 37606
٣٧٦٠٦ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق قال: لما قدم من السلسلة اتاه اهل الكوفة واتاه ناس من التجار، فجعلوا يثنون عليه ويقولون: جزاك الله خيرا، ما كان (اعفك) (٢) عن اموالنا، فقرا هذه الآية: ﴿ (افمن) (٣) وعدناه وعدا حسنا فهو لاقيه كمن متعناه متاع الحياة الدنيا﴾ [القصص: ٦١] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ]: (أحفك).
(٣) في [هـ]: (فمن).
حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ مقام سلسلہ سے واپس آئے تو اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور ان کے پاس تاجر لوگ آئے اور آپ کی تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ دے۔ آپ ہمارے مالوں سے کس قدر مستغنی تھے۔ اس پر آپ نے یہ آیت پڑھی: { أَفَمَنْ وَعَدْنَاہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لاَقِیہِ کَمَنْ مَتَّعْنَاہُ مَتَاعَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا }۔ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا اور وہ اسے حاصل کرے گا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی میں فائدے کی چیزیں دے دی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37606]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37606، ترقيم محمد عوامة 36022)
ترقیم عوامۃ: 36023 ترقیم الشثری: -- 37607
٣٧٦٠٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مسلم عن مسروق قال: بحسب المرء من الجهل ان يعجب بعلمه، وبحسبه من العلم ان يخشى الله.
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آدمی کی جہالت کے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ آدمی اپنے علم پر عجب کرنے لگے اور آدمی کے علم کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37607]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37607، ترقيم محمد عوامة 36023)
ترقیم عوامۃ: 36024 ترقیم الشثری: -- 37608
٣٧٦٠٨ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن مسلم عن مسروق قال: كان رجل بالبادية له كلب وحمار وديك، قال: فالديك يوقظهم للصلاة، والحمار ينقلون عليه الماء، وينتفعون به ويحملون لهم خباءهم، والكلب يحرسهم، فجاء ثعلب فاخذ الديك فحزنوا لذهاب الديك، وكان الرجل صالحا فقال: عسى ان يكون خيرا، (قال) (١) : (فمكثوا) (٢) ما شاء الله ثم جاء ذئب، فشق بطن الحمار فقتله ⦗٤٤٩⦘ فحزنوا لذهاب الحمار، فقال الرجل الصالح: عسى ان يكون خيرا، ثم مكثوا بعد ذلك ما شاء الله، ثم اصيب الكلب، فقال الرجل الصالح: عسى ان يكون خيرا، فلما اصبحوا نظروا فإذا هو قد سبي من حولهم و (بقوا هم) (٣) ، قال: فإنما اخذوا اولئك بما كان عندهم من الصوت (والجلبة) (٤) ، ولم يكن عند اولئك شيء (يجلب) (٥) ، قد ذهب كلبهم وحمارهم وديكهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [ب]: (مكثوا).
(٣) في [أ، ب]: (بقوهم).
(٤) في [جـ]: (في الجاهلية).
(٥) سقط من: [س].
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگل میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک کتا، ایک گدھا اور ایک مرغا تھا۔ فرماتے ہیں: مرغا ان کو نماز کے لیے اٹھاتا تھا اور گدھے پر وہ پانی ادھر ادھر لے جاتے تھے اور اس سے منتفع ہوتے اور وہ ان کے لیے ان کے خیمہ کو اٹھاتا تھا۔ اور کتا ان کی حفاظت کرتا تھا۔ پھر ایک لومڑی آئی اور اس نے مرغا پکڑا۔ ان لوگوں کو مرغ کے چلے جانے کا غم ہوا لیکن وہ آدمی نیک تھا تو اس نے کہا ہوسکتا ہے کہ اس میں خیر ہو۔ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جتنی دیر اللہ نے چاہا اسی طرح رہے پھر بھیڑیا آیا تو اس نے گدھے کا پیٹ پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ چناچہ وہ لوگ گدھے کے جانے پر بھی غمگین ہوئے لیکن نیک آدمی نے کہا ہوسکتا ہے اسی میں خیر ہو۔ پھر کتا بھی مرگیا۔ تو اس مرد صالح نے کہا ہوسکتا ہے یہی بہتر ہو۔ پھر جب ان لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ ان کے اردگرد کے لوگ تو قید کرلیے گئے ہیں اور یہ بچ گئے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ لوگ اس لیے پکڑے گئے تھے کہ ان کے پاس آوازیں اور چیخ و پکار تھی۔ جبکہ ان لوگوں کے پاس کوئی شور مچانے والی چیز نہ تھی۔ ان کا کتا، گدھا اور مرغ تو مرگئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37608]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37608، ترقيم محمد عوامة 36024)
ترقیم عوامۃ: 36025 ترقیم الشثری: -- 37609
٣٧٦٠٩ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش (١) عن مسروق قال: خرج رجل صالح بصرة من دراهم في ظلمة الليل، فاراد ان يتصدق بها، فلقي رجلا كثير المال فاعطاها إياه، فلما (اصبح) (٢) (قال) (٣) : الا تعجبون لفلان وكثرة ماله، جاءه رجل بصرة دراهم (فاعطاها) (٤) إياه، فبلغ ذلك الرجل فشق عليه وقال: ما اراه تقبل مني حين اعطيتها هذا الرجل الغني، قال: وخرج ليلة اخرى بصرة فاعطاها امراة بغيا، فلما اصبحوا (قالوا) (٥) : الا تعجبون إلى فلانة! جاءها فلان بصرة فاعطاها، وهي لا تمنع (رجلها) (٦) من احد، فبلغه ذلك فشق عليه وقال: ما اراه تقبل مني، قال: فاتي في المنام فقيل له: قد (تقبل) (٧) منك ما اعطيت هذا الغني، فإنا اردنا ان نريه ⦗٤٥٠⦘ ان في الناس من يتصدق، فيرغب في ذلك، واما المراة فإنها إنما تبغي من الحاجة فاردنا ان نعفها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن مسلم).
(٢) في [ط، هـ]: (أصبحوا).
(٣) في [ط، هـ]: (قالوا).
(٤) في [أ، ب، ع]: (أعطاه).
(٥) في [أ، ب]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ع]: (رحلها).
(٧) في [جـ، س]: (قبل).
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرد صالح رات کے اندھیرے میں درہموں کی تھیلی لے کر نکلا۔ وہ اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کو ایک کثیر المال شخص ملا اس آدمی نے یہ دراہم کی تھیلی اس کو دے دی۔ جب صبح ہوئی تو شور ہوا۔ فلاں آدمی اور اس کے مال پر تم لوگ تعجب نہیں کرتے۔ اس کے پاس کوئی آدمی درہموں کی تھیلی لے کر آیا اور وہ اس کو دے گیا۔ یہ بات اس دینے والے کو پہنچی تو اس پر بہت شاق گزرا اس نے کہا میرا خیال نہیں ہے کہ جب میں نے تھیلی اس مالدار کو دے دی ہے تو میری طرف سے یہ قبول ہوا ہوگا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں یہ آدمی ایک رات پھر تھیلی لے کر نکلا اور اس نے یہ تھیلی ایک زانیہ عورت کو دے دی۔ لوگوں نے جب صبح کی تو کہنے لگے۔ فلانی عورت پر تمہیں تعجب نہیں ہے۔ اس کے پاس فلاں آیا اور اس کو تھیلی دے گیا حالانکہ یہ عورت تو کسی کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکتی۔ اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس کو بہت شاق گزرا اس نے کہا: میرا خیال نہیں ہے کہ یہ صدقہ میری طرف سے قبول ہوا ہوگا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں پھر اس آدمی کو خواب آیا اور اس کو کہا گیا تم نے غنی کو جو صدقہ دیا وہ بھی تم سے قبول ہوگیا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو یہ بات دکھائیں کہ صدقہ کرنے والے لوگ بھی ہیں تاکہ اس کو بھی اس کا شوق ہو اور جو عورت تھی وہ صرف ضرورت کی وجہ سے زنا کرتی تھی۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو عفیفہ بنائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37609]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37609، ترقيم محمد عوامة 36025)
ترقیم عوامۃ: 36026 ترقیم الشثری: -- 37610
٣٧٦١٠ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن انس بن سيرين قال: كان مسروق يصلي حتى تجلس امراته خلفه تبكي.
حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسروق اس حد تک نماز پڑھتے کہ ان کی بیوی ان کے پیچھے بیٹھ کر رونے لگتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37610]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37610، ترقيم محمد عوامة 36026)
ترقیم عوامۃ: 36027 ترقیم الشثری: -- 37611
٣٧٦١١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الاعمش عن طلحة (عن) (١) ابن (عميرة) (٢) عن مسروق قال: ود اهل البلاء يوم القيامة ان جلودهم كانت تقرض بالمقاريض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س، ط]: (عمرة)، وانظر: الكفاية للخطيب ١/ ١٤٧.
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مصیبتوں والے لوگ قیامت کے دن اس بات کو پسند کریں گے کہ ان کو قینچیوں سے کاٹا جاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37611]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37611، ترقيم محمد عوامة 36027)