🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. كلام عبيد بن عمير
حضرت عبید بن عمیر کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36158 ترقیم الشثری: -- 37742
٣٧٧٤٢ - حدثنا عبد الله بن (نمير) (١) عن عبد الملك عن عطاء عن عبيد (بن) (٢) عمير قال: إن إبراهيم يقال له يوم القيامة (٣) : ادخل الجنة من اي ابواب الجنة شئت، قال: فيقول: يا رب والدي؟ فيقال له: إنه ليس منك، فإذا الح في المسالة قيل له: دونك (اباك) (٤) ، قال: فيلتفت فإذا هو ضبع فيقول: مالي فيه من حاجة، فتطيب نفسه عنه، فينطلق بإبراهيم إلى الجنة، وينطلق بابيه إلى النار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عمير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: زيادة (يقال له يوم القيامة).
(٤) في [جـ]: (أبوك).

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن کہا جائے گا۔ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازے سے آپ چاہو جنت میں داخل ہوجاؤ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابراہیم کہیں گے۔ اے میرے پروردگار! میرے والد؟ حضرت ابراہیم سے کہا جائے گا یہ تیرے ساتھ والوں میں سے نہیں ہے۔ لیکن جب حضرت ابراہیم سوال کرنے میں اصرار کریں گے تو ان سے کہا جائے گا۔ اپنے والد کو دیکھو۔ راوی کہتے ہیں پس جب وہ دیکھیں گے تو وہ بجو بنا ہوگا۔ اس پر حضرت ابراہیم کہیں گے مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر ان کا دل ان سے بےپروا ہوجائے گا۔ اور حضرت ابراہیم جنت کی طرف لے جائے جائیں گے اور ان کے والد کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37742، ترقيم محمد عوامة 36158)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36159 ترقیم الشثری: -- 37743
٣٧٧٤٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن حكيم بن جبير عن مجاهد عن عبيد بن عمير (قال) (١) : يجيء فقراء المهاجرين يوم القيامة (تقطر) (٢) رماحهم وسيوفهم دما، قال: فيقال لهم: كما انتم حتى (تحاسبوا) (٣) ، قال: فيقولون: وهل اعطيتمونا شيئا تحاسبونا عليه؟ قال: فينظر في ذلك فلا يوجد إلا اكوارهم التي هاجروا عليها، قال: فيدخلون الجنة قبل (الناس) (٤) بخمسمائة (عام) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [ب]: (يقطر).
(٣) في [جـ]: (تحاسبون)، وفي [ع]: زيادة (عليه).
(٤) في [جـ]: (الجنة).
(٥) سقط من: [ط، هـ].

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء اس حال میں آئیں گے کہ ان کے نیزے اور ان کی تلواریں خون ٹپکا رہی ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں ان سے کہا جائے گا۔ تم اسی حالت میں رہو یہاں تک کہ تم سے حساب لیا جائے۔ راوی کہتے ہیں وہ عرض کریں گے۔ کیا آپ نے ہمیں کچھ دیا ہے کہ جس کا آپ حساب لیں گے؟ راوی کہتے ہیں پس اس معاملہ میں دیکھا جائے گا تو ان کے پاس صرف وہ برتن ہوں گے جن میں انہوں نے ہجرت کے سفر میں زاد راہ رکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس یہ لوگ جنت میں باقی لوگوں سے پانچ سو سال قبل داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37743، ترقيم محمد عوامة 36159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36160 ترقیم الشثری: -- 37744
٣٧٧٤٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي راشد عن عبيد بن عمير: ﴿ (فإنه) (١) كان للاوابين غفورا﴾ [الإسراء: ٢٥] ، (قال) (٢) : الاواب الذي يتذكر ذنوبه في الخلاء فيستغفر منها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أن).
(٢) سقط من: [ب، ط، هـ].

حضرت عبید بن عمیر سے {إِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُورًا } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں: اواب: وہ آدمی ہوتا ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے اور پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37744، ترقيم محمد عوامة 36160)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36161 ترقیم الشثری: -- 37745
٣٧٧٤٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما اراد الله ان يهلك اصحاب الفيل بعث عليهم طيرا (انشئت) (١) من البحر امثال الخطاطيف كل طير منها يحمل ثلاثة احجار مجزعة (٢) : حجرين في رجليه و (حجرا) (٣) في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم، ثم صاحت والقت ما في ارجلها ومناقيرها، فما يقع (حجر) (٤) على راس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج من الجانب الآخر، قال: وبعث الله ريحا شديدة فضربت الحجارة فزادتها شدة فاهلكوا جميعا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نشبت).
(٢) أي: حادة.
(٣) في [جـ، س]: (حجر).
(٤) في [ع]: (حجزًا).

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر سمندر سے پیدا کردہ ابابیلوں کے مثل پرندے بھیجے۔ ان میں سے ہر ایک پرندے نے تین سفید و سیاہ پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ دو پتھر اس کے پنجوں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس یہ پرندے آئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان اصحاب الفیل کے سروں پر صف بنا لی پھر چیخ ماری اور اپنی چونچوں اور پنجوں میں موجود پتھروں کو گرا دیا۔ جو پتھر بھی کسی آدمی کے سر پر لگتا وہ اس کی دبر سے باہر نکل آتا اور جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا دوسرے حصہ سے باہر آجاتا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شدید ہوا بھیجی جو پتھروں پر لگی تو اس نے (ان کی) شدت کو اور زیادہ کردیا پس وہ سارے لوگ ہلاک ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37745، ترقيم محمد عوامة 36161)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں