مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. كلام عبيد بن عمير
حضرت عبید بن عمیر کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36148 ترقیم الشثری: -- 37732
٣٧٧٣٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير في قول الله (١) : ﴿مستهم الباساء والضراء﴾ [البقرة: ٢١٤] ، قال: الباساء: البؤس، والضراء: ⦗٤٧٨⦘ الضر، ثم قال: السراء: (٢) (الرخاء) (٣) والضراء: الشدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة ﷿.
(٢) في [س]: زيادة (لفظ الجلالة).
(٣) في [ع]: (الرجاء).
حضرت عبید بن عمیر سے ارشاد خداوندی { مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَائُ وَالضَّرَّائُ } کے بارے میں روایت ہے۔ الباساء سے مراد فقر ہے اور الضراء سے مراد تکلیف ہے۔ پھر فرمایا: السراء سے مراد نرمی ہے اور الضراء سے مراد سختی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37732]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37732، ترقيم محمد عوامة 36148)
ترقیم عوامۃ: 36149 ترقیم الشثری: -- 37733
٣٧٧٣٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن رجل عن عبيد بن عمير قال: كان لرجل ثلاثة اخلاء بعضهم اخص به من بعض، قال: فنزلت به نازلة فلقي اخص الثلاثة به فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا، وإني احب ان تعينني، قال: ما انا بالذي افعل، فانطلق إلى الذي يليه في الخاصة، فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا (فانا) (١) احب ان تعينني، فقال: انطلق معك حتى تبلغ المكان الذي تريد، فإذا بلغت رجعت وتركتك، فانطلق إلى (اخس) (٢) الثلاثة فقال: يا فلان إنه قد نزل بي كذا وكذا فانا احب ان تعينني، قال: انا اذهب معك حيثما ذهبت، وادخل (٣) حيثما دخلت، قال: فاما الاول فماله خلفه في اهله، فلم يتبعه منه (شيء) (٤) ، والثاني اهله (وعشيرته) (٥) ذهبوا به إلى قبره، ثم رجعوا وتركوه، والثالث عمله هو (معه) (٦) حيثما ذهب ويدخل معه حيث ما دخل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (وأنا).
(٢) في [أ، هـ]: (أخص)، وفي [أ]: (أحسن).
(٣) في [هـ]: زيادة (معك).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [جت]: (وعترته).
(٦) سقط من: [هـ].
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں: پس اس آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چناچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا: اے فلاں! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا: میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے پاس چلا گیا اور کہا: اے فلاں! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا: میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا: اے فلاں! معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا: میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں: پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37733]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37733، ترقيم محمد عوامة 36149)
ترقیم عوامۃ: 36150 ترقیم الشثری: -- 37734
٣٧٧٣٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير: ﴿يوم (ياتي) (١) بعض آيات ربك﴾ [الانعام: ١٥٨] ، قال: طلوع الشمس من مغربها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تأتي).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ { یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّک } کی تفسیر میں فرماتے ہیں: سورج کا غروب کی جگہ سے طلوع ہونا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37734]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37734، ترقيم محمد عوامة 36150)
ترقیم عوامۃ: 36151 ترقیم الشثری: -- 37735
٣٧٧٣٥ - حدثنا علي بن مسهر عن ابن جريج عن عطاء عن عبيد بن عمير قال: إن الله احل وحرم، فما احل فاستحلوه، وما حرم فاجتنبوه، وترك (من) (١) ذلك اشياء لم يحلها ولم يحرمها، فذلك عفو من الله عفاه ثم يتلو: ﴿ياايها الذين آمنوا لا تسالوا عن اشياء﴾ (إلى آخر) (٢) الآية [المائدة: ١٠١] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بين).
(٢) سقط من: [س].
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ پس جس چیز کو اللہ نے حلال کیا ہے تم اس کو حلال جانو اور جس چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے تم اس سے اجتناب کرو۔ اور ان میں سے بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے نہ ان کو حرام قرار دیا ہے اور نہ ان کو حلال قرار دیا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے معافی ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت تلاوت کی: { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَائَ…} آخر آیت تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37735]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37735، ترقيم محمد عوامة 36151)
ترقیم عوامۃ: 36152 ترقیم الشثری: -- 37736
٣٧٧٣٦ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حبيب عن عبيد بن عمير قال: لا يزال (لله في العبد حاجة) (١) ما كانت (٢) للعبد إلى الله حاجة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (اللَّه في حاجة اللَّه)، وسقط من: [س].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (في العبد).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بھی بندہ کی تب تک ضرورت رہتی ہے جب تک بندہ خدا کی طرف حاجت مند رہتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37736]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37736، ترقيم محمد عوامة 36152)
ترقیم عوامۃ: 36153 ترقیم الشثری: -- 37737
٣٧٧٣٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن قيس بن سعد عن عبيد بن عمير قال: إن اهل القبور (ليتوكفون) (١) (للميت) (٢) كما يتلقى الراكب (يسالونه) (٣) ، فإذا سالوه ما فعل فلان؟ ممن قد مات، فيقول: الم ياتكم؟ فيقولون: ﴿إنا لله وإنا إليه راجعون﴾ [البقرة: ١٥٦] ذهب به إلى امه الهاوية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: يتوقعون، وفي [هـ]: (ليتلقون).
(٢) في [هـ]: (الميت).
(٣) في [جـ، ع]: (يسأيلونه).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قبروں والے بھی میت کا اس طرح استقبال کرتے ہیں جس طرح کسی سوار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے سوال کرتے ہیں۔ پس جب وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا؟ جو لوگ مرگئے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو یہ میت کہتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اس پر وہ کہتے ہیں: إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ اس کو اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37737]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37737، ترقيم محمد عوامة 36153)
ترقیم عوامۃ: 36154 ترقیم الشثری: -- 37738
٣٧٧٣٨ - حدثنا عبد الله بن (نمير) (١) قال: حدثنا مالك بن مغول عن الفضل (عن) (٢) عبد الله بن عبيد بن عمير عن ابيه قال: إن القبر (ليقول) (٣) : يا ابن آدم ماذا ⦗٤٨٠⦘ اعددت لي؟ الم تعلم اني بيت الغربة، وبيت الوحدة، وبيت الاكلة، وبيت (الدود) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عمير).
(٢) في [ع]: (ابن).
(٣) في [ب]: (لتقول).
(٤) في [س]: (الدودة).
حضرت عبید بن عمیر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک قبر کہتی ہے۔ اے ابن آدم! تو نے میرے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں غربت کا گھر ہوں۔ تنہائی کا گھر ہوں۔ کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37738، ترقيم محمد عوامة 36154)
ترقیم عوامۃ: 36155 ترقیم الشثری: -- 37739
٣٧٧٣٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: إن كان نوح ليلقاه الرجل من قومه فيخنقه حتى يخر مغشيا عليه، قال: فيفيق (حين يفيق) (١) وهو يقول: رب اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح کو اپنی قوم میں سے ایسے آدمی سے بھی واسطہ پڑا کہ اس نے آپ علیہ السلام کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ آپ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ یہ کہہ رہے تھے۔ اے میرے پروردگار! میری قوم کو معاف کردے کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37739، ترقيم محمد عوامة 36155)
ترقیم عوامۃ: 36156 ترقیم الشثری: -- 37740
٣٧٧٤٠ - حدثنا وكيع (قال) (١) : حدثنا الاعمش عن مجاهد قال: سمعته يحدث عن عبيد بن عمير الليثي: إن قوم نوح لما اصابهم الغرق، (قال) (٢) : وكانت معه امراة معها صبي لها، قال: فرفعته إلى (حقوها) (٣) ، فلما بلغه الماء رفعته إلى صدرها، فلما بلغه الماء رفعته إلى (ثديها) (٤) ، فقال الله: لو كنت (راحما) (٥) منهم احدا (رحمتها) (٦) يعني برحمتها (الصبي) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [جـ]: (حقوبها).
(٤) في [أ، ب، س]: (ثدييها).
(٥) في [ع]: (راحمٌ).
(٦) في [س، ع]: (لرحمتها).
(٧) في [ع]: (لصبي).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ حضرت نوح کی قوم پر جب غرق کا سیلاب آیا کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے ہمراہ ایک عورت تھی جس کے پاس بچہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: اس عورت نے بچہ کو کمر تک اوپر اٹھایا۔ جب پانی کمر تک پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے سینہ تک بلند کرلیا پھر جب پانی سینہ کو پہنچا تو اس نے بچہ کو اپنے پستان تک بلند کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر میں ان لوگوں میں سے کسی پر رحم کرتا تو میں اس عورت پر رحم کرتا، یعنی اس کی طرف سے بچہ پر رحم کی وجہ سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37740، ترقيم محمد عوامة 36156)
ترقیم عوامۃ: 36157 ترقیم الشثری: -- 37741
٣٧٧٤١ - حدثنا وكيع (قال) (١) : حدثنا الاعمش عن (ابي) (٢) سفيان عن عبيد ابن عمير قال: إذا اراد الله بعبد خيرا فقهه في الدين والهمه رشده فيه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [هـ].
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتا ہے اور اس کو دین کی راہنمائی القاء کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37741، ترقيم محمد عوامة 36157)