مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36482 ترقیم الشثری: -- 38070
٣٨٠٧٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام قال: حدثنا زيد بن اسلم عن عطاء ابن يسار عن كعب قال: (يؤتى) (١) بالرئيس في الخير يوم القيامة، فيقال (له) (٢) : اجب ربك، فينطلق به إلى ربه فلا يحجب عنه، (٣) فيؤمر به إلى الجنة فيرى منزله ومنازل اصحابه الذين كانوا يجامعونه على الخير ويعينونه عليه، فيقال (له) (٤) : هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان، (فيرى) (٥) (ما اعد الله) (٦) (٧) في الجنة من الكرامة، ويرى منزلته (افضل) (٨) من منازلهم، ويكسى من ثياب الجنة ويوضع على راسه تاج، و (يعلقه) (٩) من ريح الجنة، ويشرق وجهه حتى يكون مثل القمر، قال همام: احسبه قال: ليلة البدر. ⦗٥٦٩⦘ قال: فيخرج فلا يراه اهل ملا إلا قالوا: اللهم اجعله منهم، حتى ياتي اصحابه الذين كانوا يجامعونه (على الخير) (١٠) ويعينونه عليه فيقول: ابشر يا فلان فإن الله (١١) اعد لك في الجنة كذا، واعد لك في الجنة كذا وكذا، فما (زال) (١٢) يخبرهم بما اعد الله لهم في الجنة من الكرامة حتى يعلو وجوههم من البياض مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس ببياض وجوههم (فيقولون) (١٣) : هؤلاء اهل الجنة. ويؤتى بالرئيس في الشر فيقال له: اجب ربك، فينطلق به إلى ربه، فيحجب عنه، ويؤمر به إلى النار، فيرى (منزله) (١٤) ومنازل اصحابه، فيقال: هذه منزلة فلان وهذه منزلة فلان فيرى ما اعد الله له فيها من الهوان، ويرى منزلته شرا من منازلهم، (قال) (١٥) : فيسود وجهه وتزرق عيناه، ويوضع على راسه قلنسوة من نار، فيخرج فلا يراه اهل ملا إلا تعوذوا بالله منه، فياتي اصحابه الذين كانوا يجامعونه على الشر ويعينونه عليه، قال: فيقولون: نعوذ بالله منك، قال: فيقول: ما اعاذكم الله مني؟ فيقول لهم: اما تذكر يا فلان كذا وكذا؟ فيذكرهم الشر الذي وكانوا يجامعونه ويعينونه عليه، فما زال يخبرهم بما اعد الله لهم في النار حتى يعلو وجوههم من السواد مثل ما علا وجهه، فيعرفهم الناس بسواد وجوههم (فيقولون) (١٦) : (هؤلاء) (١٧) اهل النار.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يعطى).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ع]: زيادة (فينطلق).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، س، ع]: (يرى).
(٦) في [س]: (ما عد اللَّه).
(٧) في [هـ]: زيادة (له).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [أ، ط، هـ]: (يغلفه).
(١٠) سقط من: [أ].
(١١) في [هـ]: زيادة (قد).
(١٢) في [ع]: (يزال).
(١٣) في [أ، جـ، س، ع]: (فيقول).
(١٤) في [س]: (منزلته).
(١٥) سقط من: [س].
(١٦) في [س]: (فيقول).
(١٧) سقط من: [ع].
حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن خیر میں سرداری کرنے والے ایک سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ اپنے رب کو جواب دو۔ پھر اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا اور اس سے حجاب نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا چناچہ وہ اپنی اور اپنے ساتھ خیر کے کاموں میں معاونت اور ہاتھ بٹانے والوں کی منزلیں دیکھے گا۔ اور اس کو کہا جائے گا یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے۔ چناچہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں عزت ومقام تیار کیا ہوگا یہ اس کو دیکھے گا۔ اور یہ اپنی منزل کو دیگر لوگوں کی منزلوں سے افضل دیکھے گا۔ اور اس کو جنت کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور اس کے سر پر تاج رکھا جائے گا اور اس پر جنت کی ہوا چڑھائی جائے گی۔ اور اس کے چہرے کو اتنا چمکایا جائے گا کہ وہ چاند کی طرح ہوجائے گا ہمام راوی کا کہنا ہے۔ میرے خیال میں استاد نے کہا تھا۔ ماہِ تمام کی طرح … ہوجائے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ باہر آئے گا۔ اس کو جو لوگ بھی دیکھیں گے وہ یہی کہیں گے۔ اے اللہ اس کو ان میں سے کردے یہاں تک کہ یہ ان لوگوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ کارخیر میں معاونت اور شرکت کرتے تھے۔ اور کہے گا۔ اے فلاں! تجھے خوشخبری ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے جنت میں ایسی ایسی تیاری کر رکھی ہے۔ اور تیرے لیے جنت میں یہ، یہ تیار کیا ہے۔ پس وہ ان لوگوں کو ان نعمتوں کے بارے میں بتاتا رہے گا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں بنا رکھی ہیں یہاں تک کہ ان کے چہروں پر بھی ایسی ہی سفیدی چڑھ جائے گی جیسی اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی ہوگی۔ چناچہ لوگ انہیں ان کے چہروں کی سفیدی سے پہچانیں گے اور کہیں گے۔ یہ لوگ اہل جنت ہیں۔ (اور شریروں کے سردار کو لایا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا۔ تو اپنے رب کو جواب دے۔ پس اس کو اس کے رب کی طرف لے جایا جائے گا۔ پھر اس سے پردہ کردیا جائے گا اور اس کو جہنم کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ (وہاں) اپنی اور اپنے ساتھیوں کی منزل دیکھے گا۔ اس کو کہا جائے گا۔ یہ فلاں کی منزل ہے اور یہ فلاں کی منزل ہے پس وہ وہاں خدا کی طرف سے تیار کردہ ذلت کو دیکھے گا اور وہ اپنی منزل دیگر تمام لوگوں سے بدتر دیکھے گا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور اس کے سر پر آگ کی ٹوپی رکھی جائے گی۔ پھر یہ باہر آئے گا تو اس کو جو جماعت بھی دیکھے گی وہ اس سے خدا کی پناہ مانگے گی۔ پھر وہ اپنے ان ساتھیوں کے پاس آئے گا جو اس کے ساتھ شر میں معاونت وشرکت کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ لوگ کہیں گے۔ ہم تجھ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ کہے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ سے پناہ نہ دے پھر یہ ان سے کہے گا۔ اے فلاں! یہ یہ بات یاد کر۔ چناچہ یہ ان کو وہ تمام شرارتیں یاد دلائے گا جس کو یہ سب اکٹھے اور باہم معاونت سے کرتے تھے۔ یہ انہیں جہنم میں ان کے لیے تیار شدہ عذاب کی بات کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اس کے چہرے پر چڑھی ہوئی سیاہی کی طرح ان کے چہرے پر بھی سیاہی چڑھ جائے گی اور لوگ ان کو ان کے چہرے کی سیاہی کی وجہ سے پہچان لیں گے اور لوگ کہیں گے۔ یہ جہنم والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38070]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38070، ترقيم محمد عوامة 36482)
ترقیم عوامۃ: 36483 ترقیم الشثری: -- 38071
٣٨٠٧١ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن عروة قال: قال لنا ابي: إذا راى احدكم شيئا من زينة الدنيا وزهرتها، فليات اهله (فيامرهم) (١) بالصلاة وليصطبر عليها، فإن الله قال لنبيه: (و) (٢) ﴿ (لا تمدن عينيك) (٣) إلى (ما) (٤) متعنا به ازواجا منهم﴾ [الحجر: ٨٨] ثم قرا إلى آخر الآية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فيأمر أهله).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [هـ].
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں، میرے والد صاحب نے کہا تھا: جب تم میں سے کوئی دنیا کی زینت اور خوب صورتی کو دیکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے اور ان کو نماز پڑھنے اور اس پر ٹھہرنے کا حکم دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی 5 سے فرمایا: { وَلاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْک إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہِ أَزْوَاجًا مِنْہُمْ } پھر آپ رحمہ اللہ نے آخر تک یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38071]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38071، ترقيم محمد عوامة 36483)
ترقیم عوامۃ: 36484 ترقیم الشثری: -- 38072
٣٨٠٧٢ - حدثنا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن ابيه قال: إذا رايت الرجل يعمل الحسنة، فاعلم ان (لها عنده) (١) اخوات، (فإن الحسنة تدل على اختها، وإذا رايته يعمل السيئة فاعلم ان لها عنده اخوات) (٢) ، (فإن) (٣) السيئة تدل على اختها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (له عندها).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (وأن).
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب تم کسی آدمی کو نیکی کرتے دیکھو تو جان لو کہ اس کے پاس اور بھی نیکیاں ہیں کیونکہ نیکی، نیکی پر دلالت کرتی ہے۔ اور جب تم کسی آدمی کو گناہ کرتے دیکھو تو جان لو کہ اس کے پاس اور بھی گناہ ہیں کیونکہ گناہ گناہ پر دلالت کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38072]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38072، ترقيم محمد عوامة 36484)