مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36453 ترقیم الشثری: -- 38040
٣٨٠٤٠ - حدثنا حسين بن علي عن ابي موسى قال: قال الحسن: من اشراط - (او اقتراب) (١) - الساعة ان ياتي الموت خياركم فيلقطهم كما يلقط احدكم اطائب الرطب من الطبق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (واقتراب).
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا: قرب قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ موت تم میں سے بہتر لوگوں کو آئے اور ان کو اس طرح اچک لے جس طرح تم میں سے کوئی پلیٹ میں سے عمدہ کھجوریں اٹھا لیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38040]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38040، ترقيم محمد عوامة 36453)
ترقیم عوامۃ: 36454 ترقیم الشثری: -- 38041
٣٨٠٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن سلام بن مسكين قال: قال الحسن: اهينوا (١) الدنيا، فوالله (لاهنا) (٢) ما تكون إذا اهنتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (هذه).
(٢) في [ع]: (ما أهنا).
حضرت سلام بن مسکین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا: تم دنیا کی اہانت کرو۔ خدا کی قسم! یہ تم پر اتنی ہی ہلکی ہوگی جتنا تم اس کو ہلکا کرو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38041]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38041، ترقيم محمد عوامة 36454)
ترقیم عوامۃ: 36455 ترقیم الشثری: -- 38042
٣٨٠٤٢ - حدثنا محمد بن ابي عدي عن يونس عن الحسن قال: صوامع المؤمنين بيوتهم.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل ایمان کے عبادت خانے ان کے گھر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38042، ترقيم محمد عوامة 36455)
ترقیم عوامۃ: 36456 ترقیم الشثری: -- 38043
٣٨٠٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن (حسين) (١) عن الحسن في قوله: ⦗٥٦٣⦘ ﴿فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة﴾ (قال: الجنة) (٢) ، ﴿وظاهره من قبله العذاب﴾ [الحديد: ١٣] قال: النار.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حسن).
(٢) سقط من: [أ، ب].
حضرت حسن سے ارشادِ خداوندی { فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیہِ الرَّحْمَۃُ } کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد جنت ہے۔ اور { وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ } سے مراد جہنم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38043، ترقيم محمد عوامة 36456)
ترقیم عوامۃ: 36457 ترقیم الشثری: -- 38044
٣٨٠٤٤ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن الحسن: ﴿ (يومئذ) (١) يتذكر الإنسان وانى له الذكرى (٢٣) يقول ياليتني قدمت لحياتي﴾ [الفجر: ٢٣ - ٢٤] ، قال: علم والله (انه) (٢) (صادف) (٣) هنالك حياة طويلة لا موت فيها، (آخر ما) (٤) عليه (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (يوم).
(٢) في [ع]: (إني).
(٣) في [أ، ع، هـ]: (صادق).
(٤) في [هـ]: (أحسن مما).
(٥) أخرجه أحمد في الورع (ص ٥٩)، وابن المبارك في الزهد (١٥)، وورد من طريق الحسن عن أنس مرفوعًا، أخرجه الحاكم ٤/ ٣٥٩، وورد عن الحسن مرسلًا، أخرجه البيهقي في الشعب (٩٦٢).
حضرت حسن سے ارشادِ خداوندوی { یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الإِنْسَاْن وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْت لِحَیَاتِی } کے بارے میں روایت ہے۔ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! وہ یہ بات جان لے گا کہ یہاں ایسی لمبی زندگی شروع ہونے والی ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38044، ترقيم محمد عوامة 36457)
ترقیم عوامۃ: 36458 ترقیم الشثری: -- 38045
٣٨٠٤٥ - حدثنا معاوية بن هشام (قال: حدثنا) (١) سفيان عن ابي حازم عن الحسن قال: ياتي على الناس زمان يكون حديثهم في مساجدهم امر (دنياهم) (٢) ، ليس لله (فيه) (٣) فيه حاجة، فلا تجالسوهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (دنيا).
(٣) كذا في النسخ، وفي المصادر: (فيهم).
حضرت حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں اپنی دنیا کے امور کی بات کریں گے۔ اس میں خدا کے لیے کوئی حاجت نہیں ہوگی۔ پس تم ان کی مجلس اختیار نہ کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38045]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38045، ترقيم محمد عوامة 36458)
ترقیم عوامۃ: 36459 ترقیم الشثری: -- 38046
٣٨٠٤٦ - حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن (الحسن) (١) في قوله: ﴿فلا يخرجنكما من الجنة فتشقى﴾ [طه: ١١٧] ، قال: عنى به شقاء الدنيا فلا تلقى بن آدم إلا شقيا ناصيا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسين).
حضرت حسن سے ارشاد خداوندی { فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقَی } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں۔ اس سے خدا کی مراد ”دنیا کی بدبختی“ ہے۔ پس تو کسی ابن آدم کو نہیں ملے گا مگر یہ کہ وہ بدبخت اور نامراد ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38046]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38046، ترقيم محمد عوامة 36459)
ترقیم عوامۃ: 36460 ترقیم الشثری: -- 38047
٣٨٠٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن ابي موسى قال: قرا الحسن هذه الآية: ﴿وكان ابوهما صالحا﴾ [الكهف: ٨٢] ، قال: ما اسمعه ذكر في ولدهما خيرا حفظهما الله بحفظ ابيهما.
حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہ آیت { وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا } تلاوت کی۔ فرمایا: میں نے یہ بات سنی کہ اللہ نے ان کے بچے میں خیر کا ذکر کیا ہو۔ اللہ نے ان کی حفاظت ان کے والد کی وجہ سے فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38047]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38047، ترقيم محمد عوامة 36460)
ترقیم عوامۃ: 36461 ترقیم الشثری: -- 38048
٣٨٠٤٨ - حدثنا ابن علية ومحمد بن ابي عدي عن حبيب بن شهيد عن الحسن قال: لا إله إلا الله ثمن الجنة.
حضرت حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ جنت کی قیمت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38048]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38048، ترقيم محمد عوامة 36461)
ترقیم عوامۃ: 36462 ترقیم الشثری: -- 38049
٣٨٠٤٩ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن ابي خالد ان الحسن كان يقول: اتقوا فيما حرم الله عليهم، واحسنوا فيما رزقهم.
حضرت اسماعیل بن ابی خالد سے روایت ہے کہ حضرت حسن کہا کرتے تھے۔ جو چیز اللہ نے لوگوں پر حرام کی ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جو چیز اللہ نے لوگوں کو دی ہے اس میں اچھائی کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38049]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38049، ترقيم محمد عوامة 36462)