مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36463 ترقیم الشثری: -- 38050
٣٨٠٥٠ - حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن: ﴿ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة﴾ [البقرة: ٢٠١] ، قال: في الدنيا العلم والعبادة، وفي الآخرة الجنة.
حضرت حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: دنیا میں علم اور عبادت اور آخرت میں جنت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38050]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38050، ترقيم محمد عوامة 36463)
ترقیم عوامۃ: 36464 ترقیم الشثری: -- 38051
٣٨٠٥١ - حدثنا حفص بن غياث عن اشدث عن الحسن: ﴿ولا تنس نصيبك من الدنيا﴾ [القصص: ٧٧] ، قال: قدم الفضل، وامسك ما يبلغك.
حضرت حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَنْسَ نَصِیبَک مِنَ الدُّنْیَا } کے بارے میں روایت ہے فرمایا: اضافی چیز آگے بھیج دو اور اتنی چیز روکو جو تمہیں (منزل پر) پہنچا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38051]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38051، ترقيم محمد عوامة 36464)
ترقیم عوامۃ: 36465 ترقیم الشثری: -- 38052
٣٨٠٥٢ - حدثنا حفص عن اشعث عن الحسن: ﴿يسعى نورهم بين ايديهم وبايمانهم﴾ [الحديد: ١٢] ، قال: على الصراط يوم القيامة.
حضرت حسن سے ارشادِ باری تعالیٰ { یَسْعَی نُورُہُمْ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ } کے بارے میں روایت ہے۔ فرمایا: قیامت کے دن پل صراط پر یہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38052]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38052، ترقيم محمد عوامة 36465)
ترقیم عوامۃ: 36466 ترقیم الشثری: -- 38053
٣٨٠٥٣ - [حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: قرا الحسن حتى بلغ: ﴿ (ولا) (١) يذكرون الله إلا قليلا﴾ [النساء: ١٤٢] ، قال: إنما (قل) (٢) لانه كان (لغير) (٣) الله] (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [س]: (قتل).
(٣) في [س]: (بغير).
(٤) سقط الخبر من: [أ، ب].
حضرت ابوالاشہب سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے قرأت شروع کی یہاں تک کہ { وَلاَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ إِلاَّ قَلِیلاً } تک پہنچے۔ فرمایا: یہ تھوڑے صرف اس لیے ہیں کہ یہ غیر اللہ کے لیے (بہت) ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38053]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38053، ترقيم محمد عوامة 36466)
ترقیم عوامۃ: 36467 ترقیم الشثری: -- 38054
٣٨٠٥٤ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: قرا الحسن: ﴿التائبون العابدون﴾ [التوبة: ١١٢] ، قال: تابوا من الشرك، وبرئوا من النفاق.
حضرت ابوالاشہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے قرآن مجید کی آیت { التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ } تلاوت کی تو فرمایا: انہوں نے شرک سے توبہ کی اور وہ نفاق سے بری ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38054]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38054، ترقيم محمد عوامة 36467)
ترقیم عوامۃ: 36468 ترقیم الشثری: -- 38055
٣٨٠٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا ابو عقيل (بشير) (١) بن عقبة قال: سمعت الحسن يقول العلماء: ثلاثة منهم عالم لنفسه ولغيره، (فذلك) (٢) افضلهم (وخيرهم) (٣) (ومنهم عالم لنفسه فحسن) (٤) ، ومنهم عالم لا لنفسه ولا لغيره فذلك (شرهم) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر).
(٢) في [أ، ب]: (فذاك).
(٣) في [جـ]: (وأخيرهم).
(٤) في [س]: تقديم وتأخير.
(٥) في [جـ]: (أشرهم).
حضرت حسن فرماتے ہیں۔ علماء تین طرح کے ہیں۔ بعض وہ علماء ہیں جو اپنے نفس کے لیے اور دوسروں کے لیے عالم ہیں۔ یہ علماء میں سے افضل اور بہتر ہیں۔ اور بعض وہ علماء ہیں جو اپنے نفس کے لیے عالم ہیں۔ یہ بھی بہتر ہیں۔ اور بعض علماء وہ ہیں جو نہ اپنے نفس کے لیے ہیں اور نہ کسی غیر کے لیے۔ یہ علماء میں سے بدترین ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38055]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38055، ترقيم محمد عوامة 36468)
ترقیم عوامۃ: 36469 ترقیم الشثری: -- 38056
٣٨٠٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابو الاشهب عن الحسن قال: من استطاع منكم (ان) (١) يكون إماما لاهله، إماما (لحيه، إماما) (٢) لمن وراء ذلك فليفعل، فإنه ليس (شيء) (٣) يؤخذ عنك إلا كان لك فيه نصيب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [س]: (بشيء).
حضرت حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم میں سے جو شخص اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے اہل کا، اپنے قبیلہ کا اور ان سے آگے والے لوگوں کا امام ہو تو اس کو یہ کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ تم سے جو چیز بھی لی جائے گی اس میں تمہارا حصہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38056، ترقيم محمد عوامة 36469)
ترقیم عوامۃ: 36470 ترقیم الشثری: -- 38057
٣٨٠٥٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن (الحسن) (١) قال: ادركت اقواما يعزمون على اهاليهم (ان لا) (٢) يردوا سائلا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسين).
(٢) في [. . . .]: تقديم وتأخير
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو پایا ہے جو اپنے گھر والوں کو اس بات پر پکا کرتے تھے کہ وہ کسی سائل کو واپس نہیں کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38057]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38057، ترقيم محمد عوامة 36470)
ترقیم عوامۃ: 36471 ترقیم الشثری: -- 38058
٣٨٠٥٨ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن (الحسن) (١) انه تلا: ﴿ (واسالهم) (٢) عن ⦗٥٦٦⦘ القرية التي كانت حاضرة البحر إذ يعدون في السبت إذ تاتيهم حيتانهم يوم سبتهم شرعا﴾ [الاعراف: ١٦٣] الآية، قال: كان حوت حرمه الله (عليهم) (٣) في يوم، (واحله) (٤) لهم في سوى ذلك، (فكان) (٥) ياتيهم في اليوم الذي حرم عليهم كانه المخاض، ما يمتنع من احد، فجعلوا يهمون ويمسكون حتى اخذوه، فاكلوا -والله- بها اوخم اكلة اكلها قوم (قط) (٦) ابقى خزيا في الدنيا واشد عقوبة في الآخرة، وايم الله للمؤمن اعظم حرمة عند الله من حوت ولكن الله جعل موعد قوم الساعة والساعة ادهى وامر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسين).
(٢) في [جـ]: (وسلهم).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (راحة)، وفي [جـ]: (راحلهم)، وفي [س]: (راحاته).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (كان).
(٦) في [أ، ط، هـ]: (لوط).
حضرت حسن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے { وَاسْأَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِی کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ إذْ یَعْدُونَ فِی السَّبْتِ إذْ تَأْتِیہِمْ حِیتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا } پوری آیت تلاوت کی۔ تو فرمایا: یہ ایک مچھلی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک دن ان پر حرام کیا تھا اور اس کے علاوہ بقیہ دنوں میں اس کو لوگوں کے لیے حلال کیا تھا۔ پس یہ مچھلی ان کے پاس اس دن حاملہ اونٹنی کی طرح کی آجاتی تھیں۔ جو کسی کو نہیں روکتی تھی۔ چناچہ ان لوگوں نے ارادہ کیا اور (اس کو) روکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو پکڑ لیتے اور پھر کھالیتے۔ خدا کی قسم! اس کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں ہے جو لوگوں نے کبھی کھایا ہو۔ اس نے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب کو چھوڑ دیا۔ اور خدا کی قسم! مومن تو خدا کے ہاں مچھلی سے زیادہ حرمت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے قیامت کے دن کا وعدہ کر رکھا ہے اور قیامت زیادہ وحشت ناک اور ہو کر رہنے والی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38058]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38058، ترقيم محمد عوامة 36471)
ترقیم عوامۃ: 36472 ترقیم الشثری: -- 38059
٣٨٠٥٩ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن محمد قال: كنا نتحدث ان العبد إذا اراد الله به -اظنه قال: خيرا- جعل له زاجرا من نفسه يامره بالخير وينهاه عن المنكر.
حضرت محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یہ بات کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے اس کے اپنے نفس کی طرف سے ایک زاجر مقرر کردیتے ہیں جو اس کو خیر کا حکم دیتا ہے اور اس کو منکر سے روکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38059، ترقيم محمد عوامة 36472)