مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
62. كلام الحسن البصري
حضرت حسن بصری کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36344 ترقیم الشثری: -- 37930
٣٧٩٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن الحسن قال: كان اصحاب رسول الله ﷺ إذا التقوا يقول الرجل لصاحبه: هل اتاك انك وارد؟ فيقول: نعم، فيقول: هل اتاك انك خارج منها؟ فيقول: لا، فيقول: ففيم الضحك إذن! (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣١١)، وابن جرير في التفسير ١٦/ ١١٢، والثعلبي في التفسير ٦/ ٢٢٦.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م جب باہم ملتے تو ایک آدمی، اپنے ساتھی سے کہتا۔ کیا تمہیں یہ بات پہنچی ہے کہ تم وارد ہوگے۔ وہ کہتا ہے ہاں۔ پھر پہلا پوچھتا۔ کیا تمہیں یہ بات بھی پہنچی ہے کہ تم اس سے خارج ہو؟ وہ کہتا۔ نہیں۔ اس پر پہلا کہتا۔ تو تب پھر کس بات کی وجہ سے ہنسی ہے؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37930، ترقيم محمد عوامة 36344)
ترقیم عوامۃ: 36345 ترقیم الشثری: -- 37931
٣٧٩٣١ - حدثنا ابو اسامة عن ابي هلال قال: حدثني داود صاحب البصري ان الحسن قال: وايم الله ما من عبد قسم له رزق يوم بيوم فلم يعلم انه قد خير له إلا عاجز او (غبي) (١) الراي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (عيني).
حضرت حسن بصری کے ساتھی حضرت داود کہتے ہیں کہ حضرت حسن نے فرمایا: خدا کی قسم! کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس کے لیے روز، روز کا رزق تقسیم کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کے لیے بہتر کیا گیا ہے۔ مگر عاجز اور کم ذہن۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37931]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37931، ترقيم محمد عوامة 36345)
ترقیم عوامۃ: 36346 ترقیم الشثری: -- 37932
٣٧٩٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا مبارك عن الحسن قال: والله ما هي باشر ايام المؤمن (١) : ايام قرب له فيها من اجله، وذكر ما نسي من معاده، وكفرت بها خطاياه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) يريد أيام المرض.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم! یہ مومن کے بدترین ایام نہیں ہوتے۔ وہ ایام جس میں اس کے لیے اس کی مہلت کو قریب کیا جاتا ہے اور جس میں اس کو اپنے معاد میں سے بھولی ہوئی بات یاد آجاتی ہے اور جن دنوں میں اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37932]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37932، ترقيم محمد عوامة 36346)
ترقیم عوامۃ: 36347 ترقیم الشثری: -- 37933
٣٧٩٣٣ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا حميد عن الحسن قال: ما رايت احدا اشد توليا من قارئ إذا تولى.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قاری کے واپس پلٹنے سے زیادہ واپس پلٹنے والے کو نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37933]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37933، ترقيم محمد عوامة 36347)
ترقیم عوامۃ: 36348 ترقیم الشثری: -- 37934
٣٧٩٣٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا علي بن زيد (و) (١) ثابت وحميد عن الحسن انه قال: (على) (٢) [الصراط حسك وسعدان، ⦗٥٣٨⦘ (الزلالون) (٣) والزلالات يومئذ كثير.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [أ]: (الزلالون).
حضرت حسن کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: پل صراط پر کانٹے اور خار دار پودے ہیں۔ اس دن پھسلنے والے مرد وعورت بہت زیادہ ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37934]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37934، ترقيم محمد عوامة 36348)
ترقیم عوامۃ: 36349 ترقیم الشثری: -- 37935
٣٧٩٣٥ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن هشام عن الحسن] (١) قال: إن الرجل ليطلب الباب من العلم فيعمل (به) (٢) ، فيكون خيرا له من الدنيا لو كانت له فجعلها في الآخرة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].
(٢) سقط من: [ب].
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آدمی علم کا ایک باب حاصل کرتا ہے پھر اس پر عمل کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اس تمام دنیا سے بہتر ہے جو اس کو ملے اور وہ اس کو اپنی آخرت کے لیے دے دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37935]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37935، ترقيم محمد عوامة 36349)
ترقیم عوامۃ: 36350 ترقیم الشثری: -- 37936
٣٧٩٣٦ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: اخبرني عبيد الله بن شميط بن عجلان قال: اخبرني ابي انه سمع الحسن يقول: إن المؤمن يصبح حزينا ويمسي حزينا، ويكفيه ما يكفي العنيزة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
حضرت حسن فرماتے ہیں بلاشبہ مومن صبح بھی غمگین حالت میں کرتا ہے اور مومن شام بھی غمگین حالت میں کرتا ہے اور مومن کو وہی کافی ہے جو عنیزہ کو کافی ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37936]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37936، ترقيم محمد عوامة 36350)
ترقیم عوامۃ: 36351 ترقیم الشثری: -- 37937
٣٧٩٣٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا ايوب قال: سمعت الحسن يقول: إذا رايت الرجل ينافس في الدنيا فنافسه في الآخرة.
حضرت ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو کہتے سنا کہ جب تو کسی آدمی کو دنیا میں رغبت کرتا دیکھے تو تو اس سے آخرت میں رغبت کیا کر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37937]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37937، ترقيم محمد عوامة 36351)
ترقیم عوامۃ: 36352 ترقیم الشثری: -- 37938
٣٧٩٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن (ابي) (١) الاشهب عن الحسن: ﴿إن عذابها كان غراما﴾ [الفرقان: ٦٥] ، قال: علموا (٢) ان كل غريم (مفارق) (٣) غريمه إلا غريم جهنم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: سقط، وفي [جـ]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (اعلموا).
(٣) في [ب]: (مفازق).
حضرت حسن سے {إنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا } کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں جان لو کہ ہر قرض خواہ، اپنے مقروض کی جان چھوڑ دیتا ہے۔ سوائے جہنم کے غریم (قرض خواہ) کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37938]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37938، ترقيم محمد عوامة 36352)
ترقیم عوامۃ: 36353 ترقیم الشثری: -- 37939
٣٧٩٣٩ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن قرة قال: سمعت الحسن يقول: ﴿ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدي الناس﴾، قال: افسدهم الله بذنوبهم في بر ⦗٥٣٩⦘ الارض وبحرها باعمالهم الخبيثة: ﴿لعلهم يرجعون﴾ [الروم: ٤١] ، (يرجع) (١) من بعدهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ترجع).
حضرت قرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن کو کہتے سنا: { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ } فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے گندے عملوں کی وجہ سے خشک اور تر زمین میں ان کے لیے فساد برپا کردیا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ یعنی ان کے بعد والے رجوع کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37939]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37939، ترقيم محمد عوامة 36353)