مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
71. (حديث) إبراهيم
حضرت ابراہیم نخعی کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36536 ترقیم الشثری: -- 38124
٣٨١٢٤ - حدثنا ابو اسامة ان الحسن بن الحكم حدثه قال: سمعت حمادا يقول: سمعت إبراهيم يقول: لو ان عبدا اكتتم بالعبادة كما يكتتم بالفجور، لاظهر الله ذلك منه.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر بندہ عبادت کو بھی اسی طرح چھپائے جس طرح گناہ کو چھپاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر بھی اسے ظاہر کردے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38124]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38124، ترقيم محمد عوامة 36536)
ترقیم عوامۃ: 36537 ترقیم الشثری: -- 38125
٣٨١٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا ⦗١٧⦘ (يستحبون) (١) الزيادة ويكرهون النقصان، و (يقولون) (٢) : (شيء) (٣) ديمة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يستحيون).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (يقول).
(٣) سقط من: [س].
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف عبادت میں زیادہ کو مستحب قرار دیتے تھے اور کمی کو مکروہ بتاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38125]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38125، ترقيم محمد عوامة 36537)
ترقیم عوامۃ: 36538 ترقیم الشثری: -- 38126
٣٨١٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن سوقة قال: زعموا ان إبراهيم كان يقول: (كنا) (١) إذا حضرنا جنازة، او سمعنا بميت يعرف ذلك فينا اياما، لانا قد عرفنا انه قد نزل به امر (صيره) (٢) إلى الجنة او (٣) النار، وانكم (تحدثون) (٤) (في) (٥) جنائزكم بحديث دنياكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: (سيصره).
(٣) في [جـ، ع]: زيادة (إلى).
(٤) في [هـ]: (تتحدثون).
(٥) في [هـ]: (أفي).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی جنازہ میں شریک ہوتے یا کسی کے انتقال کے بارے میں سنتے تو کئی دن تک ہم پر اس کے اثرات رہتے۔ کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اب اس پر ایسا معاملہ وقوع پذیر ہوچکا ہے جو اسے جنت یا جہنم میں لے جاسکتا ہے۔ اور تم جنازوں میں دنیا کی باتیں کرتے ہو! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38126]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38126، ترقيم محمد عوامة 36538)
ترقیم عوامۃ: 36539 ترقیم الشثری: -- 38127
٣٨١٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن إبراهيم قال: (بينا) (١) رجل عابد عند امراة، إذ عمد فضرب بيده على فخذها، قال: فاخذ (يده) (٢) فوضعها في النار حتى (نشت) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بينما).
(٢) في [هـ]: (بيده).
(٣) أي: خرج صوت بسبب الاحتراق، وفي [س]: (نست).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک عبادت گزار آدمی ایک عورت کے پاس تھا، اس کے دل میں برا خیال آیا اور اس نے عورت کی ران پر ہاتھ لگایا، پھر اسے تنبہ ہوا اور اس نے اپنے اس ہاتھ کو آگ میں رکھا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ جل کر راکھ ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38127]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38127، ترقيم محمد عوامة 36539)
ترقیم عوامۃ: 36540 ترقیم الشثری: -- 38128
٣٨١٢٨ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن خالد بن حوشب قال: قال إبراهيم: (١) قلما قرات هذه الآية إلا (ذكرت برد الشراب) (٢) : ﴿وحيل بينهم وبين ما يشتهون﴾ [سبا: ٥٤] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (قال).
(٢) كذا في حلية الأولياء ٤/ ٢٢٨، وعند ابن سعد ٦/ ٢٧٩: (إلا ذكرت الماء البارد)، ومراده أن أهل النار يشتهون الماء كما قالوا: ﴿أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ﴾ [الأعراف: ٥٠] انظر: الدر المنثور ٣/ ٤٦٩.
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کبھی بھی میں یہ آیت پڑھتا ہوں مجھے ٹھنڈا پانی یاد آجاتا ہے { وَحِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُونَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38128]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38128، ترقيم محمد عوامة 36540)
ترقیم عوامۃ: 36541 ترقیم الشثری: -- 38129
٣٨١٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زكريا العبدي عن إبراهيم انه بكى في مرضه فقالوا له: يا ابا عمران ما يبكيك؟ فقال: (و) (١) كيف لا ابكي وانا انتظر رسولا من ربي (ليبشرني) (٢) إما بهذه وإما بهذه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [هـ]: (يبشرني).
حضرت ابراہیم نخعی اپنے مرض الوفات میں روئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ اے ابو عمران! آپ کو کس چیز نے رلایا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں کیوں نہ روؤں حالانکہ میں اپنے رب کے قاصد کا انتظار کررہا ہوں تاکہ وہ مجھے یا تو اس چیز کی (جنت کی) یا اس چیز کی (جہنم کی) بشارت دے! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38129]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38129، ترقيم محمد عوامة 36541)
ترقیم عوامۃ: 36542 ترقیم الشثری: -- 38130
٣٨١٣٠ - حدثنا ابو اسامة (عن سفيان) (١) عن واصل قال: راى إبراهيم امير حلوان يمر بدوابه في زرع فقال: الجور في (الطريق) (٢) خير من الجور في الدين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ط، هـ]: (طريق).
حضرت واصل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نخعی نے حلوان کے امیر کو دیکھا کہ وہ اپنی سواریوں کو کھیت میں سے لے کر گزر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ راستہ میں ظلم کرنا دین میں ظلم کرنے سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38130]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38130، ترقيم محمد عوامة 36542)
ترقیم عوامۃ: 36543 ترقیم الشثری: -- 38131
٣٨١٣١ - حدثنا (جرير) (١) عن منصور عن إبراهيم في قوله: ﴿حميما وغساقا﴾ [النبا: ٢٥] ، قال: (الغساق) (٢) ما (يتقطع) (٣) من جلودهم وما يسيل من بشرهم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (جوير).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب، ع]: (ينقطع).
(٤) أي: جلودهم.
حضرت ابراہیم قرآن مجید کی آیت { حَمِیمًا وَغَسَّاقًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غساق وہ چیز ہے جو ان کی کٹی ہوئی کھالوں سے اس کی جلد پر بہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38131]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38131، ترقيم محمد عوامة 36543)
ترقیم عوامۃ: 36544 ترقیم الشثری: -- 38132
٣٨١٣٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم [ومجاهد: ﴿ينبا الإنسان يومئذ بما قدم واخر﴾ [القيامة: ١٣] قالا: باول عمله (وآخره) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (وبآخره).
حضرت ابراہیم اور حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { یُنَبَّأُ الإِنْسَان یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ انسان کے اس کے اول وآخر اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38132، ترقيم محمد عوامة 36544)
ترقیم عوامۃ: 36545 ترقیم الشثری: -- 38133
٣٨١٣٣ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم] (١) : ﴿ (ولنذيقنهم) (٢) من العذاب الادنى دون العذاب الاكبر﴾ [السجدة: ٢١] قال: اشياء يصابون بها في الدنيا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (ولنذيقهم).
حضرت ابراہیم قرآن مجید کی آیت { وَلَنُذِیقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَی دُونَ الْعَذَابِ الأَکْبَرِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جو انہیں دنیا میں پیش آئیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38133]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38133، ترقيم محمد عوامة 36545)