🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. كلام عكرمة
حضرت عکرمہ کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36662 ترقیم الشثری: -- 38251
٣٨٢٥١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن ابي ثامر زعم ان امراة قالت: والله لا يعذبني الله ابدا، ما سرقت، ولا زنيت، ولا قتلت ولدي، ولا اتيت ببهتان يفترينه بين ايديهن وارجلهن، فرات في المنام انه قيل لها: (قومي) (١) إلى مقعدك من النار يا مقللة الكثير (و) (٢) مكثرة القليل، وآكلة لحم الجار (الغريب) (٣) بالغيب، قالت: يا رب بل اتوب، بل اتوب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قولي).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (بالغريب)، وفي [ع]: (القريب).

حضرت ابوثامر فرماتے ہیں کہ غالباً کسی عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب نہیں دیں گے کیونکہ میں نے نہ کبھی چوری کی اور نہ ہی کبھی زنا کیا اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی اولاد کو قتل کیا اور نہ میں نے کوئی اپنی طرف سے الزام تراشا ہے تو اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا جا رہا ہے کہ ”اٹھ اور اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے اے کم کو زیادہ اور زیادہ کو کم کرنے والی، اے پوشیدہ طور پر غریب پڑوسی کا گوشت کھانے والی، تو اس نے عرض کی کہ اے میرے رب بلکہ میں رجوع کرتی ہوں، میں رجوع کرتی ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38251، ترقيم محمد عوامة 36662)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36663 ترقیم الشثری: -- 38252
٣٨٢٥٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت ان ابا ثامر [ (راى) (١) فيما يرى النائم: ويل (للمتسمنات) (٢) من فترة في العظام يوم القيامة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]): (يرى).
(٢) في [س]: (للمستمنات).

حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ابوثامر نے خواب میں دیکھا کہ ہلاکت ہے ان عورتوں کے لیے قیامت کے دن جو کمزور ہڈیوں کے باوجود موٹی بنتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38252، ترقيم محمد عوامة 36663)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36664 ترقیم الشثری: -- 38253
٣٨٢٥٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (ان) (١) ابا ثامر] (٢) كان رجلا عابدا، فنام ذات ليلة قبل ان يصلي العشاء، فاتاه ملكان او رجلان في منامه، فقعد احدهما عند راسه، والآخر (عند) (٣) رجليه، فقال الذي عند راسه للذي عند رجليه: الصلاة قبل النوم [ترضي الرحمن وتسخط الشيطان، وقال الذي عند رجليه للذي عند راسه: (إن) (٤) النوم قبل الصلاة] (٥) يرضي الشيطان ويسخط الرحمن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بن).
(٢) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [أ].
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].

حضرت ثابت سے مروی ہے کہ ابوثامر ایک عابد آدمی تھے تو ایک دن نماز عشاء پڑھنے سے قبل سوگئے۔ تو ان کے پاس دو فرشتے آئے یا دو آدمی خواب میں آئے اور ایک ان میں ان کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر سر والے نے پاؤں والے سے کہا کہ سونے سے قبل نماز پڑھنا رحمن کو راضی کرتا ہے اور شیطان کو ناراض کرتا ہے۔ اور پاؤں والے نے سر والے سے کہا کہ نماز سے قبل سوجانا یہ شیطان کو راضی کرتا ہے اور رحمن کو ناراض کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38253، ترقيم محمد عوامة 36664)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36665 ترقیم الشثری: -- 38254
٣٨٢٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت البناني عن صلة بن اشيم انه قال: والله ما ادري (باي) (١) يومي انا اشد فرحا: يوم ابا كر فيه إلى ذكر الله (او يوم) (٢) خرجت فيه لبعض حاجتي فعرض لي ذكر الله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بالي).
(٢) في [س]: (أيوم).

حضرت صلہ بن اشیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ان دو دنوں میں سے کون سا میرے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہے۔ ایک وہ دن کہ جب میں اللہ کے ذکر سے دن کی ابتداء کروں اور ایک وہ دن کہ جب میں اپنی کسی حاجت کے لیے نکلوں تو مجھے اللہ کا ذکر درپیش ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38254، ترقيم محمد عوامة 36665)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36666 ترقیم الشثری: -- 38255
٣٨٢٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان ابو رفاعة العدوي يقول: (ما عزبت) (١) (عني) (٢) سورة البقرة منذ علمنيها (رسول) (٣) الله اخذت معها ما اخذت من القرآن، وما ان وجعت ظهري من قيام ليل قط (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: (ما عربت).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٥٩)، وابن سعد ٧/ ٦٩، والمروزي في التهجد (٤٥٤).

حضرت ابورفاعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سے مجھ کو رسول اللہ e نے سورة بقرہ سکھائی ہے اس وقت سے مجھے یہ سورت بھولی نہیں ہے اور جو کچھ میں نے پورے قرآن میں پایا وہ اس سورة میں بھی مذکور ہے اور میں نے کبھی بھی رات کے قیام کی وجہ سے کمر کی تکلیف محسوس نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38255، ترقيم محمد عوامة 36666)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36667 ترقیم الشثری: -- 38256
٣٨٢٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليمان عن) (١) حميد (بن هلال) (٢) قال: قال صلة: رايت ابا رفاعة بعد ما اصيب في النوم على ناقة سريعة، وانا على جمل ثقال (قطوف) (٣) ، وانا اجد على اثره، قال: فيعرجها علي (فاقول) (٤) (الآن) (٥) اسمعه الصوت (فيسرحها) (٦) ، وانا (اتبع) (٧) (اثره) (٨) ، (قال) (٩) : فاولت (رؤلاي) (١٠) ان آخذ طريق ابي رفاعة، فانا اكد (بعده العمل) (١١) كدا (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (عن).
(٣) في [أ، ب]: (فطوف).
(٤) في [أ، ب]: (يقول).
(٥) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٦) في [ط، هـ]: (فيسرجها).
(٧) في [أ، ب]: (أتتبع).
(٨) في [هـ]: (أثرها).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) في [س]: (الرؤيا).
(١١) في [أ، ب]: (العمل بعده).
(١٢) انظر الخبر في: المعجم الكبير للطبراني (١٢٨٣)، والجهاد لابن المبارك (١٥٨)، والتاريخ الكبير ٢/ ١٥١، وطبقات ابن سعد ٧/ ٦٩، والمنامات لابن أبي الدنيا (٢٥٦).

حضرت صلہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت ابو رفاعہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہوں اور میں ایک بوجھل اونٹ پر ہوں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں۔ وہ مجھے لے کر جھول رہا ہے۔ میرے اس خواب کی یہ تعبیر کی گئی کہ میں ابو رفاعہ کی پیروی کروں گا اور اس میں مشقت اٹھاؤں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38256، ترقيم محمد عوامة 36667)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36668 ترقیم الشثری: -- 38257
٣٨٢٥٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: حدثنا حميد بن هلال قال: كان ابو رفاعة -او رجل منهم- يسخن في السفر لاصحابه الماء ويعمد إلى البارد فيتوضا به ثم يقول: (احسوا) (١) من هذا (فساحس) (٢) من هذا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فاحسنوا).
(٢) في [هـ]: (فسأحسن).

حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت ابو رفاعہ سفر میں اپنے ساتھیوں کے لیے پانی گرم کرتے تھے اور خود ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے تھے۔ پھر فرماتے کہ تم اسے محسوس کرو اور میں اسے محسوس کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38257، ترقيم محمد عوامة 36668)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36669 ترقیم الشثری: -- 38258
٣٨٢٥٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان قال: قال ثابت: قال مطرف: إن كان احد من هذه الامة ممتحن القلب (١) لقد كان مذعور لممتحن القلب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: صافي القلب.
حضرت مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس امت میں کوئی صاف اور پاکیزہ دل والا آدمی ہوتا تو وہ مذعور ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38258، ترقيم محمد عوامة 36669)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36670 ترقیم الشثری: -- 38259
٣٨٢٥٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن ثابت قال: قال مطرف: رآني انا ومذعورا رجل فقال: من سره ان ينظر إلى رجلين من اهل الجنة فلينظر إلى هذين، فسمعها مذعور فرايت (الكراهية) (١) في (وجهه) (٢) ، ثم قال: اللهم إنك تعلمنا ولا يعلمنا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (الكراهة).
(٢) في [س]: (وجههم).
(٣) ورد بعده في [هـ]: (تم بحمد اللَّه ﷾ الجزء الثالث عشر، ويليه إن شاء اللَّه الجزء الرابع عشر، وأوله باب: "ما قالوا في البكاء من خشية اللَّه" من كتاب الزهد).

حضرت مطرف رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ میں اپنے آپ کو اور مذعور کو ایک آدمی شمار کرتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ جس کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ دو جنتی آدمیوں کو دیکھے تو وہ ان دونوں کو دیکھ لے۔ اس بات کو مذعور نے سن لیا تو میں نے ناپسندیدگی کے اثرات ان کے چہرے پر دیکھے۔ تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو ہم کو جانتا ہے اور یہ ہم کو نہیں جانتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38259، ترقيم محمد عوامة 36670)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں