🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم
جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37772 ترقیم الشثری: -- 39378
٣٩٣٧٨ - حدثنا وكيع عن نافع بن عمر عن رجل عن ابي بكر انهما لما انتهيا (إلى الغار) (١) قال: إذا (جحر) (٢) قال: فالقمه ابو بكر (٣) رجله فقال: يا رسول الله إن كانت لدغة او لسعة كانت بي (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [ب، جـ]: (حجرًا).
(٣) في [جـ، ي]: زيادة ﵁.
(٤) مجهول؛ لإبهام راويه، أخرجه ابن عساكر ٣٠/ ٨١، واللالكائي (٢٤٢٥).

حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ جب یہ دونوں (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر) غار کے پاس پہنچے۔ فرماتے ہیں: وہاں پر سوراخ تھے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوبکر نے اس سوراخ میں اپنی ایڑی کو داخل کرلیا۔ اور فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر کوئی ڈسنے یا ڈنک مارنے والا ہو تو مجھے ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39378]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39378، ترقيم محمد عوامة 37772)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37773 ترقیم الشثری: -- 39379
٣٩٣٧٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن (سماك) (١) عن (سعيد) (٢) بن جبير عن ابن عباس: ﴿كنتم خير امة اخرجت للناس﴾ [آل عمران: ١١٠] قال: هم الذين هاجروا مع محمد ﷺ إلى المدينة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ي]: (سعيد).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه عبد الرزاق في التفسير ١/ ١٣٠، وأحمد (٤٦٣)، وابن جرير في التفسير ٤/ ٤٣، والنسائي (١١٠٧٢)، والحاكم ٢/ ٢٩٤، والضياء في المختارة ١٠/ (١٨٣)، والطبراني (١٢٣٠٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٩)، والحارث (٧٠٧/ بغية)، والصيداوي في معجم الشيوخ (٨٤)، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٦، والخطيب في الموضح ٢/ ٤٤١.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما { کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39379، ترقيم محمد عوامة 37773)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37774 ترقیم الشثری: -- 39380
٣٩٣٨٠ - حدثنا وكيع عن موسى بن علي بن رباح عن ابيه قال: سمعت مسلمة بن مخلد يقول: ولدت حين قدم النبي ﷺ وقبض وانا ابن (عشر) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ق]: (عشرة).
(٢) صحيح؛ أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٨٦٥)، والطبراني ١٩ (١٠٦٠)، وأبو يعلى في الكبير كما في المطالب (٤٠٩٣)، وابن عساكر ٥٨/ ٦٠، والخطيب في الكفاية ص ٥٧.

حضرت مسلمہ بن مخلَّد فرماتے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میری ولادت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں دس سال کا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39380]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39380، ترقيم محمد عوامة 37774)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37775 ترقیم الشثری: -- 39381
٣٩٣٨١ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمع انسا يقول قدم رسول الله ﷺ المدينة وانا ابن عشر، وقبض وانا ابن عشرين، وكن امهاتي يحتثنني على خدمته (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٠٢٩)، وأحمد ٣/ ١١٠، وبنحوه البخاري (٥١٦٦).
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39381، ترقيم محمد عوامة 37775)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37776 ترقیم الشثری: -- 39382
٣٩٣٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن ابيه ان رسول الله ﷺ لما هاجر إلى المدينة هو وابو بكر وعامر بن فهيرة قال: استقبلتهم هدية طلحة إلى ابي بكر في الطريق فيها ثياب بيض فدخل رسول الله ﷺ وابو بكر فيها المدينة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي.
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور عامر بن فہیرہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ کہتے ہیں: تو حضرت طلحہ کا ہدیہ راستہ میں حضرت ابوبکر کو ملا جس میں سفید کپڑے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر ان کپڑوں میں مدینہ میں داخل ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39382، ترقيم محمد عوامة 37776)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37777 ترقیم الشثری: -- 39383
٣٩٣٨٣ - حدثنا خالد بن مخلد عن علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن ابيه عن اسماء ابنة ابي بكر انها هاجرت إلى رسول الله ﷺ وهي حبلى بعبد الله بن الزبير، فوضعته بقباء فلم ترضعه حتى اتت به النبي ﷺ، فاخذه فوضعه في حجره فطلبوا تمرة ليحنكوه حتى وجدوها فحنكوه، فكان اول شيء دخل بطنه (ريق) (١) رسول الله ﷺ وسماه عبد الله (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (رين).
(٢) حسن؛ خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٣٩٠٩)، ومسلم (٢١٤٦).

حضرت اسما بنت ابی بکر روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کو حمل میں اٹھائے ہوئے تھی۔ پس قباء کے مقام پر یہ حمل وضع ہوا۔ تو انہوں نے نومولود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے تک دودھ پلایا، یہاں تک کہ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اسے اپنی گود مبارک میں رکھا۔ لوگوں نے کھجور کی تلاش شروع کی۔ تاکہ اس کو تحنیک دے سکیں۔ پس سب سے پہلی شئی جو ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھوک تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39383، ترقيم محمد عوامة 37777)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37778 ترقیم الشثری: -- 39384
٣٩٣٨٤ - حدثنا جعفر بن عون عن ابي العميس عن الحسن بن سعد عن عبد الرحمن بن عبد الله قال: قال عبد الله: إن اول من هاجر من هذه الامة (غلامان) (١) من قريش (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عثمان).
(٢) صحيح؛ سمع عبد الرحمن من أبيه على الصحيح.

حضرت عبد الرحمان بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں۔ اس امت میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے دو قریشی نوجوان تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39384، ترقيم محمد عوامة 37778)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37779 ترقیم الشثری: -- 39385
٣٩٣٨٥ - حدثنا ابو اسامة عن ابي هلال عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قلت له: ما فرق ما بين المهاجرين الاولين والآخرين؟ قال: فرق ما بينهما القبلتان، فمن صلى مع رسول الله ﷺ القبلتين فهو من المهاجرين الاولين.
حضرت قتادہ، سعید بن مسیب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: پہلے مہاجرین اور بعد کے مہاجرین میں حدِ فاصل کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل دو قبلے ہیں۔ پس جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو وہ مہاجرین اولین میں سے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39385، ترقيم محمد عوامة 37779)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37780 ترقیم الشثری: -- 39386
٣٩٣٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: اخبرنا ثابت عن انس ان ابا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان ابو بكر يختلف إلى الشام، فكان يعرف وكان النبي ﵊ لا يعرف، فكانوا يقولون: يا ابا بكر من هذا الغلام بيهت يديك؟ قال: (هاد) (١) يهديني السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة نزلا الحرة و (بعثا) (٢) إلى الانصار فجاؤوا، قال: فشهدته يوم دخل المدينة فما رايت يوما كان احسن ولا اضوا من يوم دخل علينا فيه، وشهدت يوم مات فما رايت يوما كان اقبح ولا اظلم من يوم مات فيه ﷺ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (هذا).
(٢) في [س]: (بعثنا)، وفي [ح]: (بعث).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٠٦٣)، وأخرج بعضه ابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، والحاكم ٣/ ٥٧، والدارمي (٨٨)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، والبغوي (٣٨٣٤).

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر، مکہ سے لے کر مدینہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف تھے۔ اور حضرت ابوبکر شام کی طرف آیا جایا کرتے تھے۔ تو آپ پہچانے جاتے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ تو لوگ پوچھتے تھے۔ اے ابوبکر! آپ کے آگے یہ نوجوان کون ہیں؟ حضرت ابوبکر فرماتے۔ یہ رہبر ہیں مجھے راستہ دکھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب دونوں مدینہ کے قریب پہنچے۔ دونوں حرہ میں اترے۔ انصار کی طرف کسی کو بھیجا گیا تو وہ بھی تشریف لے آئے۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ میں نے اس دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ خوبصورت اور روشن نہیں دیکھا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اور پھر جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی میں تب بھی حاضر تھا تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ بُرا اور اندھیرے والا نہیں دیکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39386]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39386، ترقيم محمد عوامة 37780)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں