مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر في فتنة الدجال
یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
ترقیم عوامۃ: 38619 ترقیم الشثری: -- 40251
٤٠٢٥١ - (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان عن فرات عن ابي الطفيل عن ابي (سريحة) (٢) حذيفة بن اسيد قال: اطلع علينا رسول الله ﷺ فقال:"لا تقوم الساعة حتى (تكون) (٣) عشر آيات" -ذكر طلوع الشمس من مغربها والدجال (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، ع، هـ].
(٢) في [ب]: (شريحة).
(٣) في [ب، ع]: (يكون).
(٤) صحيح؛ والرفع زيادة من ثقة، أخرجه مسلم (٢٩٠١)، وأحمد (١٦١٤٤).
حضرت ابو سریحہ حذیفہ رضی اللہ عنہ بن اسد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوجائں ہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا تذکرہ فرمایا اور دجال کا تذکرہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40251، ترقيم محمد عوامة 38619)
ترقیم عوامۃ: 38620 ترقیم الشثری: -- 40252
٤٠٢٥٢ - (حدثنا) (١) مروان بن معاوية عن (مجالد) (٢) عن ابي الوداك عن ابي سعيد الخدري عن النبي ﷺ انه قال:"انا اختم الف نبي او اكثر، (ما بعث) (٣) الله (من) (٤) نبي إلى قومه إلا حذرهم الدجال، وإنه قد بين لي ما لم يبين لاحد قبلي، انه اعور وإن الله ليس باعور، وإنه اعور عين اليمنى، لا حدقة له، جاحظة؛ (والاخرى) (٥) كانها كوكب دري، و (إنه) (٦) يتبعه من كل قوم يدعونه بلسانهم إلها" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، ع].
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) في [س]: (فابعث اللَّه)، وسقط لفظة الجلالة من: [أ، ب].
(٤) في [ب]: (إلى).
(٥) في [أ]: (فالأخرى).
(٦) في [جـ]: (كان).
(٧) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (١١٧٦٩) ٣/ ٧٩، والحاكم ٢/ ٥٩٧، والخطيب في الفقيه والمتفقه ٢/ ٢٥٩، وبنحوه ابن عبد البر في التمهيد ٨/ ٣٣٤.
حضرت ابو سید خدری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ہزار نبیوں یا اس سے زیادہ فرمایا کے بعد آیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی اپنی قوم کی طرف نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس نے انہیں دجال سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے وہ بات بیان کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی ایک سے بھی بیان نہیں کی گئی بلاشبہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی دائیں آنکھ کانی ہے اس کی پتلی نہیں ہے اور ابھری ہوئی ہے اور دوسری ایسے ہے گویا کہ چمکتا ہوا روشن ستارہ ہر قوم میں سے جو اس کی پیروی کرینگے وہ اس کو اپنی زبان میں اِلٰہ کے ساتھ پکاریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40252، ترقيم محمد عوامة 38620)
ترقیم عوامۃ: 38621 ترقیم الشثری: -- 40253
٤٠٢٥٣ - (حدثنا) (١) يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن عون عن مجاهد قال: ذكروه -يعني الدجال عند ابن عباس، قال: مكتوب (بين) (٢) عينيه"ك ف ر"، قال: فقال (ابن عباس: لم) (٣) اسمعه يقول (ذاك) (٤) ، ولكنه قال: اما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم -قال يزيد: يعني النبي (ﷺ (٥) -، واما موسى فرجل آدم جعد طوال كانه من رجال (شنوءة) (٦) على (جمل) (٧) احمر (مخطوم) (٨) (بخلبة) (٩) ، فكاني انظر إليه قد انحدر من الوادي يلبي (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، ع].
(٢) في [س]: (من).
(٣) في [ط]: (عامر ألم).
(٤) في [هـ]: (ذلك).
(٥) في [ع]: ﵇، وفي [ط، هـ]: ﵊.
(٦) في [س]: (شتوة).
(٧) في [ط، هـ]: (جبل).
(٨) في [أ، ب]: (نحطم).
(٩) في [س]: (يخلبه).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٥٥)، ومسلم (١٦٦).
حضرت مجاہد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس دجال کا تذکرہ کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رہے ابراہیم تو ان کی شبیہ دیکھو اپنے صاحب میں یزید راوی کہتے ہیں کہ صاحب سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات ہے اور رہے موسیٰ تو وہ ایک گندمی رنگ کے گھنگریالے بالوں والے لمبے قد کے مرد ہیں گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلے کے مردوں میں سے ہیں سرخ اونٹ پر جس کی لگام خشک گھاس کی ہوگی پر سوار ہوں گے گویا کہ میں ان کو وادی سے تلبیہ پڑھتے ہوئے آتا دیکھ رہا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40253]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40253، ترقيم محمد عوامة 38621)
ترقیم عوامۃ: 38622 ترقیم الشثری: -- 40254
٤٠٢٥٤ - حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن (بهرام) (١) عن شهر بن حوشب عن اسماء ابنة يزيد قالت: قال رسول الله ﷺ:"ليس عليكم منه (باس) (٢) إن خرج وانا حي فانا حجيجه، وإن خرج (بعد موتي) (٣) فالثه خليفتي على كل مسلم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (جرام).
(٢) في [أ، ب]: (باش).
(٣) في [ع]: (بعدي).
(٤) حسن؛ شهر صدوق، صرح بالسماع عند الحميدي (٣٦٥)، وأخرجه أحمد (٢٧٥٨٠) والطبراني ٢٤/ (٤٤٦)، والحارث كما في زوائده (٧٨ (٣)، وعبد الرزاق (٢٠٨٢١)، والبغوي (٤٢٦٣)، وإسحاق (٢٢٦٩).
حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دجال سے تم پر کوئی خوف نہیں ہے اگر وہ نکلا میری زندگی میں تو میں اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں گا اور اگر وہ میری وفات کے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر محافظ ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40254، ترقيم محمد عوامة 38622)
ترقیم عوامۃ: 38623 ترقیم الشثری: -- 40255
٤٠٢٥٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"نعوذ بالله من فتنة المسيح الدجال" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه بنحوه البخاري (١٣٧٧)، ومسلم (٥٨٨).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم مسیح دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40255، ترقيم محمد عوامة 38623)
ترقیم عوامۃ: 38624 ترقیم الشثری: -- 40256
٤٠٢٥٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن انس ان النبي ﷺ قال:"الدجال اعور العين (اليمنى) (١) ، عليها ظفرة، مكتوب بين عينيه: كافر" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (اليمين).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٠٨١)، وأبو يعلى (٣٨٤٦)، والضياء (٢٠٢١)، والآجري في الشريعة ص ٣٧٥، والبغوي (٤٢٥٧)، وأصله عند البخاري (٧١٣١)، ومسلم (٢٩٣٣).
حضرت انس سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی آنکھ پر ناخنہ ہے (یعنی ایک بیماری جس میں آنکھ پر ناک کی طرح جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40256، ترقيم محمد عوامة 38624)
ترقیم عوامۃ: 38625 ترقیم الشثری: -- 40257
٤٠٢٥٧ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سماك (عن) (٢) عكرمة عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال:"إن الدجال اعور جعد هجان اقمر كان راسه (غصنة) (٣) شجرة، اشبه الناس بعبد العزى بن قطن، فاما (هلك) (٤) الهلك فإنه اعور، وإن الله ليس باعور" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (حسن).
(٢) في [س]: (ابن).
(٣) في [س، هـ]: (غضة)، وفي [أ، ب]: (غصن).
(٤) في [ع]: (أهلك).
(٥) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢١٤٨)، وابن حبان (٦٧٩٦)، والطبراني (١١٧١١)، والطيالسي (٢٦٧٨)، وابن خزيمة في التوحيد ص ٤٣، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٢٨٧، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٣٧٢.
حضرت عبداللہ بن عباس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال گھنگریالے بالوں والا بہت زیادہ سفید ہے اس کے سر کے بال گویا درخت کی شاخیں ہیں لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے بہت زیادہ مشابہہ ہے اگر لوگ اس کی مشابہت کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانے نہیں ہیں (مراد یہ ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں جہالت کی بناء پر تو پھر بھی وہ اپنے سے کانے پن کا عیب دور نہیں کرسکتا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک و منزہ ہیں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40257، ترقيم محمد عوامة 38625)
ترقیم عوامۃ: 38626 ترقیم الشثری: -- 40258
٤٠٢٥٨ - حدثنا شبابة قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: كان هشام بن عامر الانصاري يرى رجالا يتخطونه إلى عمران بن حصين ⦗٣٢٣⦘ وغيره من اصحاب النبي ﷺ (فغضب وقال: والله) (١) إنكم لتخطون إلى من لم يكن احضر لرسول الله ﷺ مني ولا اوعى لحديثه مني، لقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما بين (٢) خلق آدم إلى ان تقوم الساعة فتنة اكبر من فتنة الدجال" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [جـ]: زيادة (ابن).
(٣) صحيح؛ صرح حميد بسماعه من هشام عند أحمد (١٦٢٦١)، والحديث أخرجه مسلم (٢٩٤٦)، وأحمد (١٦٢٦٥).
حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ہشام بن عامر انصاری کچھ لوگوں کو دیکھتے تھے کہ وہ حضرت عمران بن حصین اور دوسرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے پاس جاتے تھے وہ غصے میں آگئے اور ارشاد فرمایا اللہ کی قسم تم ان لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ تو مجھ سے زیادہ حاضر باش تھے اور نہ ان کی احادیث کو مجھ سے زیادہ یادر کھنے والے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت آدم کی پیدائش اور قیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40258، ترقيم محمد عوامة 38626)
ترقیم عوامۃ: 38627 ترقیم الشثری: -- 40259
٤٠٢٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابي مالك الاشجعي عن ربعي عن حذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"لانا اعلم بما مع الدجال من (الدجال) (١) ، معه نهران يجريان احدهما راي العين ماء ابيض، والآخر راي العين نار (تاجج) (٢) ، فاما (٣) (ادرك) (٤) (احد) (٥) ذلك فليات (النار) (٦) الذي يراه (٧) ، فليغمض ثم ليطاطئ راسه (٨) ليشرب فإنه ماء بارد، وإن الدجال ممسوح العين، عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر، (يقرؤه) (٩) كل مؤمن: كاتب وغير كاتب" (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ع]: (الرجال).
(٢) في [جـ]: (تتاجج).
(٣) في [ع]: زيادة (منا).
(٤) في [أ]: (أدركا).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [هـ]: (النهر)، وفي [أ]: غير واضحة.
(٧) في [هـ]: زيادة (نارًا).
(٨) في [هـ]: زيادة (و).
(٩) في [أ، ب، جـ، س، ع، هـ]: (يقروه).
(١٠) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩٣٤)، وأحمد (٢٣٢٧٩)، وأصله عند البخاري (٣٤٥٠).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں اس فریب کو جو دجال کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ان میں سے ایک بظاہر دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی اور دوسری بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ معلوم ہوگی اگر کوئی اس صورتحال میں مبتلا ہو تو جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں چلاجائے اور آنکھیں بند کرے پھر پینے کے لیے سر جھکائے تو وہ ٹھنڈاپانی ہوگا اور بلاشبہ دجال مٹی ہوئی آنکھ والا ہے اس کی آنکھ پر موٹا ناخنہ سا ہوگا (ایک ظفرہ بیماری جس کی وجہ سے آنکھ پر ناک کی طرح کی جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جس کو ہر مومن پڑھ لے گا لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40259، ترقيم محمد عوامة 38627)
ترقیم عوامۃ: 38628 ترقیم الشثری: -- 40260
٤٠٢٦٠ - حدثنا حسين (بن علي) (١) عن زائدة عن منصور عن ربعي عن حذيفة عن النبي ﷺ (٢) قال:"لانا اعلم بما مع الدجال من الدجال (٣) (ان معه نارا) (٤) تحرق، ونهر ماء بارد، (فمن) (٥) ادركه منكم فلا يهلكن به (فليغمض) (٦) عينيه، وليقع في الذي يرى انه نار فإنه نهر ماء بارد" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ع]: ﵇.
(٣) في [ع]: زيادة (منه).
(٤) سقط من: [هـ]، وفي [ع]: (نار).
(٥) في [س]: (ومن).
(٦) في [هـ]: (فليغمضن).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٣٩٣ (٢٣٣٨٦)، والطبراني في الأوسط (٢٥٠٣)، وأبو داود (٤٢١٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٦٩١)، وابن منده في الإيمان (١٠٣٧)، وابن قتيبة في تأويل مختلف الحديث ص ١٨٦.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں دجال کے ساتھ جو فریب ہوگا اس کو خوب جانتا ہوں اس کے ساتھ جلانے والی آگ اور ٹھنڈے پانی کی نہر ہوگی پس تم میں کوئی اسے پالے تو اس کے ساتھ ہلاک نہ ہو اپنی آنکھیں بند کر کے جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں کود جائے بلاشبہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40260]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40260، ترقيم محمد عوامة 38628)