مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر في فتنة الدجال
یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
ترقیم عوامۃ: 38629 ترقیم الشثری: -- 40261
٤٠٢٦١ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى عن الحضرمي بن لاحق عن ابي صالح عن عائشة ام المؤمنين قالت: (دخل) (١) علي النبي ﷺ وانا ابكي، فقال:"ما يبكيك؟" (فقلت) (٢) : يا رسول الله، ذكرت الدجال، قال:"فلا تبكي فإن يخرج وانا حي اكفيكموه، (وإن امت) (٣) فإن ربكم ليس (باعور) (٤) ، وإنه يخرج معه (يهود) (٥) اصبهان، فيسير حتى ينزل (بضاحية) (٦) ⦗٣٢٥⦘ المدينة، ولها يومئذ سبعة ابواب، على كل باب (ملكان) (٧) ، فيخرج إليه شرار اهلها، فينطلق حتى ياتي (٨) لد، فينزل عيسى بن مريم (٩) فيقتله، ثم يمكث عيسى في الارض اربعين سنة او (قريبا) (١٠) من اربعين سنة إماما عادلا وحكما مقسطا" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (دخلت).
(٢) في [ع]: (فقالت).
(٣) في [ب]: (وإذا مت).
(٤) في [ب]: (أعور).
(٥) سقط من: [أ، س].
(٦) في [ع]: (بناحية).
(٧) في [هـ]: (مكان).
(٨) في [س]: زيادة (باب).
(٩) في [جـ]: زيادة ﵉.
(١٠) في [ع]: (قريب).
(١١) حسن؛ الحضرمي صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٤٦٧)، وابن حبان (٦٨٢٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٩٩٦)، والشاشي (٦٨٧)، وابن منده (١٠٥٥).
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں رو رہی تھی انہوں نے پوچھا تمہیں کونسی چیز رلا رہی ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے تذکرے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ رو اگر وہ میری زندگی میں نکلا تو میں تمہاری کفایت کرونگا اور اگر میری وفات ہوجائے تو بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے بلاشبہ اصبہان کے یہود نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ کے بیرونی کنارے میں آئے گا اور اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے مدینہ کے شریر لوگ اس کی طرف نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مقام لد پر پہنچے گا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال کا عرصہ ٹھہریں گے یا راوی فرماتے ہیں یوں فرمایا کہ چالیس سال کے قریب کا زمانہ امام عادل اور انصاف کرنے والے فیصل بن کر ٹھہریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40261]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40261، ترقيم محمد عوامة 38629)
ترقیم عوامۃ: 38630 ترقیم الشثری: -- 40262
٤٠٢٦٢ - (١) شبابة عن ليث بن سعد عن (يزيد) (٢) بن ابي حبيب عن ربيعة بن لقيط التجيبي عن ابن حوالة الازدي عن النبي ﷺ انه قال:"من نجا من ثلاث فقد نجا" -قالها ثلاث مرات- قالوا: وما ذاك يا رسول الله؟ قال:"موتي، والدجال، ومن قتل خليفة مصطبر بالحق يعطيه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (حدثنا).
(٢) في [أ، ب، ع، هـ]: (زيد).
(٣) حسن؛ ربيعة صدوق وثقه العجلي وابن حبان ورى عنه جمع، وصحح له الحاكم، أخرجه أحمد (٢٢٤٨٨)، والحاكم ٣/ ١٠١، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٧)، وابن قانع ٢/ ٨٩، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٣٩٢، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٢٢٠، والضياء في المختارة ٩/ (٢٤٢)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٩٢، وابن شبه (١٨٨٣)، والحارث (٧٧٩/ بغية).
حضرت ابن حوالہ ازدی، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا جو آدمی تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا یہ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا صحابہ نے عرض کیا یہ کیا چیزیں ہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری وفات اور دجال اور ایسے خلیفہ کا قتل جو حق پر جمنے والا اور حق دینے والا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40262]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40262، ترقيم محمد عوامة 38630)
ترقیم عوامۃ: 38631 ترقیم الشثری: -- 40263
٤٠٢٦٣ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن خالد عن عبد الله بن (شقيق) (١) عن عبد الله بن سراقة عن ابي عبيدة قال: سمعت (رسول الله) (٢) ﷺ يقول:"إنه لم يكن نبي بعد نوح إلا وقد انذر قومه الدجال، وإني ⦗٣٢٦⦘ انذركموه"، وصفه لنا رسول الله ﷺ وقال:"سيدركه بعض من رآني، او سمع كلامي"، قالوا: يا رسول الله، كيف قلوبنا يومئذ؟ (امثلها) (٣) اليوم؟ قال: (او (خيرا) (٤) " (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (شفيق).
(٢) في [ع]: (النبي).
(٣) في [جـ]: (مثلها).
(٤) في [ع]: (خير).
(٥) حسن؛ عبد اللَّه بن سراقة صدوق، أخرجه أحمد (١٦٩٣)، وأبو داود (٤٧٥٦)، والترمذي (٢٢٣٤)، والحاكم ٤/ ٥٤٢، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (٥٩٥)، وأبو يعلى (٨٧٥)، وابن حبان (٦٧٧٨).
ابو عبیدہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا حضرت نوح کے بعد ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے۔ اور بلاشبہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں (راوی فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں بیان کیا اور ارشاد فرمایا عنقریب اسے پائے گا وہ شخص جس نے مجھے دیکھا یا فرمایا جس نے میرے کلام کو سنا صحابہ کرام نے عرض کیا اس وقت ہمارے قلوب کیسے ہوں گے کیا آج کے دن جیسے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے بہتر ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40263]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40263، ترقيم محمد عوامة 38631)
ترقیم عوامۃ: 38632 ترقیم الشثری: -- 40264
٤٠٢٦٤ - قال: وحدثنا (ابو بكر) (١) قال: حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن ابيه عن مكحول عن جبير بن نفير عن مالك بن (يخامر) (٢) عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله ﷺ:"عمران بيت المقدس خراب يثرب، وخراب يثرب خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح القسطنطينية، (وفتح القسطنطينية) (٣) خروج الدجال"، ثم يضرب بيده على فخذ الذي حدثه او (٤) منكبيه ثم قال:"إن هذا (هو) (٥) الحق كما انك هاهنا، او كما انت قاعد" -يعني معاذا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هذا هو المؤلف ابن أبي شيبة، والقائل حدثنا هو بقي.
(٢) في [ب]: (يخام).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ع]: زيادة (قال).
(٥) سقط من: [جـ، س، ع].
(٦) ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن بن ثابت، وأخرجه أحمد ٥/ ٢٣٢ (٢٢٠٧٦)، وأبو داود (٤٢٩٤)، والطبراني ٢٠/ (٢١٤)، والبغوي في الجعديات (٣٤٠٥)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٠/ ٢٢٣، والطحاوي في شرح المشكل ١/ ٤٥٠، والداني (٤٥٩).
حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی ہے اور یثرب کی بربادی بڑی لڑائی کا (جو رومیوں کے ساتھ ہوگی) ظاہر ہونا ہے اور بڑی لڑائی کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کی ران یا فرمایا اس کے دونوں کندھوں پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا یہ حق ہے جیسے تم یہاں ہو یا فرمایا جیسے تم بیٹھے ہو مراد حضرت معاذ خود تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40264، ترقيم محمد عوامة 38632)
ترقیم عوامۃ: 38633 ترقیم الشثری: -- 40265
٤٠٢٦٥ - حدثنا اسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن ابي نضرة قال: اتينا عثمان بن ابي (العاص) (١) [في يوم جمعة لنعرض مصحفا لنا بمصحفه، فجلسنا إلى رجل يحدث، ثم جاء عثمان بن ابي (العاص) (٢) ] (٣) فتحولنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يكون للمسلمين ثلاثة امصار: (مصر) (٤) (بملتقى) (٥) البحرين، ومصر بالجزيرة، (ومصر) (٦) بالشام، (فيفزع) (٧) الناس ثلاث فزعات فيخرج الدجال في (اعراض) (٨) جيش (ينهزم) (٩) من قبل المشرق، (فاول مصر (يرده) (١٠) المصر الذي) (١١) بملتقى البحرين فيصير اهله ثلاث فرق: فرقة تقيم (و) (١٢) (تقول) (١٣) (نشامه) (١٤) (وننظر) (١٥) ما هو؟ ⦗٣٢٨⦘ و (فرقة) (١٦) تلحق بالاعراب، وفرقة (تلحق) (١٧) بالمصر الذي يليهم، (١٨) [ومعه سبعون الفا عليهم (السيجان) (١٩) فاكثر (اتباعه) (٢٠) اليهود والنساء، ثم ياتي المصر الذي يليهم فيصير اهله ثلاث فرق: فرقة (تقيم) (٢١) وتقول (نشامه) (٢٢) وننظر ما هو؟ وفرقة تلحق بالاعراب، وفرقة تلحق بالمصر الذي يليهم] (٢٣) ، ثم ياتي الشام (فينحاز) (٢٤) المسلمون إلى عقبة افيق يبعثون سرحا لهم فيصاب (سرحهم) (٢٥) ، ويشتد ذلك عليهم، وتصيبهم مجاعة شديدة وجهد حتى إن احدهم ليحرق وتر قوسه فياكله، فبينما هم كذلك إذ نادى مناد من (السحر) (٢٦) : يا ايها الناس، اتاكم الغوث -ثلاث مرات، فيقول بعضهم لبعض: إن هذا الصوت لرجل شبعان، فينزل عيسى بن مريم (٢٧) عند صلاة الفجر فيقول له امير الناس: تقدم -يا روح الله- فصل بنا، فيقول: إنكم -معشر هذه الامة- امراء بعضكم على بعض، تقدم انت فصل ⦗٣٢٩⦘ بنا، فيتقدم الامير فيصلي بهم، فإذا انصرف اخذ عيسى (٢٨) حربته فيذهب نحو الدجال، فإذا رآه ذاب كما يذوب الرصاص، ويضع حربته بين (ثدييه) (٢٩) فيقتله، ثم ينهزم اصحا (به) (٣٠) " (٣١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع، هـ]: (العاصي).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [ع]: (بملتقا).
(٦) في [ع]: (مصرع).
(٧) في [ب]: (فليفزع).
(٨) في [ع]: (اعتراض).
(٩) في [س]: (سيهزم).
(١٠) في [ب]: (برد).
(١١) في [س]: (وقال: مصر يرد المصر الذي).
(١٢) سقط من: [س].
(١٣) في [ب]: (يقول).
(١٤) في [س]: (بشامة)، أي: نقرب منه لنعرف حاله.
(١٥) في [أ، س، ع]: (تنظر).
(١٦) في [س]: (فرقته).
(١٧) في [أ، ب]: (تقيم).
(١٨) في [ع]: زيادة (ثم في الشام).
(١٩) في [س]: (التيجان).
(٢٠) في [ب، س]: (تباعه).
(٢١) في [ع]: (يقيم).
(٢٢) في [س]: (بشامة)، وفي [ع]: (تشامة).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢٤) في [أ، ب، س]: (فيجاز).
(٢٥) في [جـ]: (مرحهم).
(٢٦) في [ع]: (التسجر).
(٢٧) في [جـ]: زيادة (عليما السلام).
(٢٨) في [جـ]: زيادة ﵇.
(٢٩) في [ط، هـ]: (ثندوته).
(٣٠) سقط من: [س].
(٣١) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه أحمد (١٧٩٠٠)، والحاكم ٤/ ٤٧٨، والطبراني (٨٣٩٢).
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم جمعے والے دن حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس آئے تا کہ ہم اپنے (لکھے ہوئے) صحیفے کا انکے صحیفے کے ساتھ موازنہ کریں پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص تشریف لائے ہم ان کے گرد جمع ہوگئے حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ایک شہر تو دو سمندروں کے سنگھم پر ہوگا اور ایک شہر جزیرہ میں ہوگا ایک شہر شام میں ہوگا پس لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر دجال جنگی لشکروں میں نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھاجائے گا پہلا شہر جس میں وہ جائے گا وہ شہر ہوگا جو دو سمندروں کے سنگھم میں پر ہوگا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں ہوجائیں گے ایک گروہ وہاں اقامت اختیار کرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہو کر دیکھتے ہیں وہ کیا ہے اور ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور ایک گروہ ساتھ والے شہر میں چلاجائے گا اس کے (یعنی دجال کے ساتھ) ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر سبز چادریں ہوں گی اس کے اکثر متبعین یہودی اور عورتیں ہوں گی پھر ان کے پاس والے شہر میں آئے گا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو وہیں ٹھہرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہوں گے اور دیکھیں گے وہ کیا ہے ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور تیسرا گروہ اپنے پاس والے شہر میں چلا جائے گا پھر شام جائے گا مسلمان عقبہ افیق مقام میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنے مویشیوں کو بھیجیں گے ان کے مویشیوں کو نقصان پہنچے گا یہ بات ان پر گراں ہوجائے گی ان کو سخت بھوک اور مشقت پہنچے گی یہاں تک کہ ان میں ایک اپنی کمان کی تانت کو جلائے گا اور اسے کھالے گا لوگ اس حالت پر ہوں گے سحر کے وقت ایک پکارنے والا پکارے گا اے لوگو تمہاری مدد آگئی یہ تین مرتبہ ندا دے گا وہ ایک دوسرے سے کہیں گے بلاشبہ یہ آواز ایک سیر شدہ آدمی کی آواز ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور ان سے لوگوں کے امیر کہیں گے اے روح اللہ! آگے بڑھیں ہمیں نماز پڑھائیں (ان سے) حضرت عیسیٰ فرمائیں گے تم اس امت کی جماعت ایک دوسرے پر امراء ہو تم آگے بڑھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ وہ امیر آگے بڑھیں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے عیسیٰ اپنا نیزہ پکڑیں گے اور دجال کی طرف جائیں گے وہ دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے اس کے سینے کے درمیان اپنا نیزہ رکھیں گے اور اسے قتل کردیں گے پھر اس کے ساتھی شکست خوردہ ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40265، ترقيم محمد عوامة 38633)
ترقیم عوامۃ: 38634 ترقیم الشثری: -- 40266
٤٠٢٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (حشرج) (١) قال: حدثنا سعيد ابن جمهان عن سفينة قال: خطبنا رسول الله ﷺ فقال:"إنه لم يكن نبي إلا حذر الدجال امته، هو اعور العين اليسرى، بعينه اليمنى ظفرة غليظة، بين عينيه: كافر معه واديان احدهما (جنة) (٢) والآخر نار، فجنته نار وناره (جنة) (٣) ، ومعه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الانبياء، احدهما عن يمينه والآخر عن شماله، فيقول لاناس: الست بربكم؟ (الست) (٤) احى واميت؟ فيقول له احد الملكين: كذبت؛ فما يسمعه احد من الناس إلا صاحبه، فيقول صاحبه: صدقت، فيسمعه الناس فيحسبون إنما صدق الدجال، وذلك فتنة، ثم يسير حتى ياتي المدينة فلا يؤذن له فيها، فيقول: هذه قرية ذاك الرجل، ثم يسير حتى ياتي الشام، فيقتله الله عند عقبة افيق" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (حثرج).
(٢) في [ب]: (حنية)، وفي [س]: (الجنة).
(٣) في [س]: (جنته).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) ضعيف؛ رواية حشرج عن سعيد متكلم فيها، أخرجه أحمد (٢١٩٢٩)، والطيالسي (١١٠٦)، وإبراهيم الحربي في غريب الحديث ٣/ ١١٢، والطبراني (٦٤٤٥).
حضرت سفینہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا بلا شبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں ایک موٹا سا ناخنہ ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوا) ہے اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ان میں ایک جنت اور دوسری آگ اس کی جنت آگ ہے اور اس کی آگ جنت ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ میں سے دو فرشتے ہوں گے جو انبیاء میں سے دو نبیوں کے مشابہہ ہوں گے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کی بائیں جانب ہوگا وہ لوگوں سے کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا میں زندہ نہیں کرتا اور مارتا نہیں دو فرشتوں میں سے ایک کہے گا تو نے جھوٹ کہا پس لوگوں میں سے کوئی ایک اس کی بات نہیں سنے گا مگر اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ) وہ اپنے ساتھی (فرشتے سے) سے کہے گا تو نے سچ کہا لوگ اس کی بات سن لیں گے اور اور یہ گمان کریں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ آزمائش ہوگی پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ کہے گا یہ تو اس آدمی کی بستی ہے چلے گا یہاں تک کہ شام جائے گا پس اللہ تعالیٰ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40266، ترقيم محمد عوامة 38634)
ترقیم عوامۃ: 38635 ترقیم الشثری: -- 40267
٤٠٢٦٧ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن حميد بن هلال عن ابي قتادة عن (اسيد) (١) بن جابر قال: هاجت ريح حمراء بالكوفة، فجاء رجل ليس له هجيرى إلا: يا عبد الله بن مسعود جاءت الساعة، قال: وكان عبد الله متكئا فجلس فقال: إن الساعة لا تقوم حتى (لا) (٢) يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة، وقال: عدو يجمعون لاهل (الإسلام) (٣) ويجمع لهم اهل الإسلام، ونحا بيده نحو (الشام) (٤) ، قلت: الروم تعني؟ قال: نعم، فيكون عند (ذلكم) (٥) القتال ردة شديد (ة) (٦) ، (فيشرط) (٧) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (٨) إلا غالبة، فيقتتلون حتى (يحجز) (٩) بينهم الليل، (فيفيء) (١٠) هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة ثم (يشرط) (١١) المسلمون شرطة للموت لا (ترجع) (١٢) إلا غالبة، فيقتتلون (١٣) حتى (يمسوا) (١٤) ⦗٣٣١⦘ فيفئ هؤلاء وهؤلاء كل غير (١٥) غالب؛ وتفنى الشرطة، فإذا كان اليوم الرابع نهد إليهم جند اهل الإسلام، (فيجعل) (١٦) الله (المدبرة) (١٧) عليهم فيقتتلون مقتلة عظيمة، اما قال: لا يرى مثلها، او قال: (لم) (١٨) ير مثلها حتى ان الطير (ليمر) (١٩) بجنباتهم ما يخلفهم حتى يخر ميتا، فيتعاد بنو الاب كانوا (مائة) (٢٠) فلا يجدونه بقي منهم إلا الرجل الواحد، فباي غنيمة يفرح، او باي ميراث يقاسم، فبينما هم كذلك إذ سمعوا (بباس) (٢١) هو اكبر من ذلك إذ جاءهم الصريخ ان الدجال قد خلف في ذراريهم، فرفضوا (ما) (٢٢) في ايديهم (ويقبلون) (٢٣) فيبعثون عشرة فوارس طليعة، فقال رسول الله ﷺ:"إني لاعرف اسماءهم واسماء ابائهم والوان خيولهم، هم خير فوارس على ظهر الارض -او قال-: هم (من) (٢٤) خير فوارس على ظهر الارض" (٢٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ الخطية، وفي مسند ابن أبي شيبة (٢٩٠)، وفي [هـ]: (أسير)، وهو كذلك في صحيح مسلم (٢٨٩٩)، ومسند أحمد ١/ ٤٣٥ (٤١٤٦)، والمستدرك ٤/ ٥٢٣ (٨٤٧١)، ومسند أبي يعلى (٥٢٥٣)، وصحيح ابن حبان (٦٧٨٦) و (٥٣٨١).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [س]: (الشام).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (والسيماء).
(٥) في [ط، هـ]: (ذاكم).
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [هـ]: (فيشترط).
(٨) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (يرجع).
(٩) في [ب]: (الحجر).
(١٠) في [أ، ب، س]: (فبقى).
(١١) في [أ، ب، هـ]: (يشترط).
(١٢) في [ب، جـ، س، ع]: (يرجع).
(١٣) في [ع]: زيادة (فقتلة عظيمة).
(١٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (يمسون).
(١٥) في [س]: زيادة (ذي).
(١٦) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (فجعل).
(١٧) في [جـ]: (الدائرة).
(١٨) في [ع]: (لا).
(١٩) في [س]: (لنميز).
(٢٠) في [س، ع]: (ماية).
(٢١) في [س]: بياض.
(٢٢) سقط من: [س].
(٢٣) في [ب]: (يقتلون).
(٢٤) سقط من: [س].
(٢٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٩٩)، وأحمد (٣٦٤٣) و (٤١٤٦).
حضرت اسیر بن جابر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کوفہ میں سرخ ہواچلی ایک صاحب آئے ان کی عادت نہیں تھی مگر یہ کہ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ٹیک لگائے بیٹھے تھے پس بیٹھ گئے اور فرمایا بلاشبہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غنیمت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جائے گا اور فرمایا دشمن ہوں گے جو اہل اسلام کے لیے جمع ہوجائیں گے اور اہل اسلام ان کے مقابلے کے لیے ہوں گے اور ہاتھ سے اشارہ کیا شام کی طرف (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا آپ کی مراد روم ہے انہوں نے نے فرمایا ہاں لڑائی اس وقت زور پر ہوگی مسلمان موت کی شرط قائم کرلیں گے کہ نہیں لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ رات ان کے درمیان حائل ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ لڑائی سے لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پس جب چوتھا دن ہوگا اہل اسلام کا لشکر ان پر حملہ کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان (دشمنان اسلام) پر شکست مقررکر دیں گے ان کے درمیان زبردست لڑائی ہوگی جس کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی یہاں تک کہ پرندہ ان پر سے گزرے گا ان سے آگے نہیں بڑھے گا یہاں تک کہ مر کر گرجائے گا ایک باپ کی اولاد جو سو ہوگی وہ واپس لوٹیں گے ان میں سے صرف ایک آدمی بچے گا کس غنیمت پر خوشی ہوگی اور کونسی میراث تقسیم ہوگی۔ اس اثناء میں کہ وہ اسی طرح ہوں گے کہ ناگاہ اس سے بڑی لڑائی کے بارے میں سنیں گے ایک چیخنے والا ان کے پاس آئے گا اور (کہے گا) کہ دجال اپنی ذریت میں موجود ہے جو چیزیں ان کے قبضے میں ہوں گی انہیں چھوڑ کر متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو بطور دشمن کے حالات معلوم کرنے والوں کے پاس بھیجے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ میں ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کو اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو بھی پہچانتا ہوں وہ زمین کی پشت پر بہترین شہ سواروں میں ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40267، ترقيم محمد عوامة 38635)
ترقیم عوامۃ: 38636 ترقیم الشثری: -- 40268
٤٠٢٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"يمكث ⦗٣٣٢⦘ (ابوا) (١) الدجال ثلاثين عاما لا يولد لهما، (ثم يولد لهما) (٢) غلام (اعور) (٣) اضر شيء واقله نفعا، تنام عيناه ولا ينام قلبه"، ثم نعت (ابويه) (٤) فقال:"ابوه رجل طوال ضرب اللحم طويل الانف، كان انفه منقار، وامه امراة (فرضاخية) (٥) عظيمة الثديين" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (أبو).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) في [أ، ب]: (أغور).
(٤) في [ع]: (أبوه).
(٥) في [هـ]: (فرغانية).
(٦) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (٢٠٤١٨)، والترمذي (٢٢٤٨)، والطيالسي (٨٦٥)، والبزار (٣٦٢٨).
حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے والدین تیس سال تک ٹھہریں گے ان کی اولاد نہیں ہوگی پھر ان کا کانا بیٹا پیدا ہوگا جس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم ہوگا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کا دل نہیں سوئے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے ماں باپ کے بارے میں بتلایا اور ارشاد فرمایا اس کا باپ لمبا اور دبلا اور لمبے ناک والا ہوگا گویا کہ اس کا ناک چونچ کی (کی طرح) ہوگا اور اس کی ماں بڑے پستانوں والی ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40268، ترقيم محمد عوامة 38636)
ترقیم عوامۃ: 38637 ترقیم الشثری: -- 40269
٤٠٢٦٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا شيبان عن يحيى عن ابي سلمة قال: سمعت ابا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"الا احدثكم عن الدجال حديثا ما حدثه نبي (١) قومه: إنه اعور وإنه يجيء معه بمثل الجنة والنار، فالتي يقول: هي الجنة، هي النار، وإني انذركم (به) (٢) كما انذر به نوح قومه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (قبله).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٣٨)، ومسلم (٢٩٣٦).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ارشاد سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی حدیث نہ سناؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے بیان نہیں کی بلاشبہ وہ کانا ہے اور بلاشبہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم کی مثل آئے گی جس کے بارے میں وہ کہے گا وہ جنت ہے وہ آگ ہوگی اور میں تمہیں اس سے ایسے ڈراتا ہوں جیسے نوح نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40269، ترقيم محمد عوامة 38637)
ترقیم عوامۃ: 38638 ترقیم الشثری: -- 40270
٤٠٢٧٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن ابيه عن ابي بكرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، لها (يومئذ) (١) سبعة (ابواب) (٢) ، لكل باب ملكان" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٢٦)، وأحمد (٢٠٤٧٥).
حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مدینہ منورہ میں مسیح دجال کا رعب و دبدبہ داخل نہ ہوگا مدینہ کے اس وقت سات دروازے ہوں گے ہر دروازے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40270، ترقيم محمد عوامة 38638)