🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 263 ترقیم الرسالہ : -- 268
نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دو مرتبہ دھوئے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 268]
ترقیم العلمیہ: 263
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 185، 186، 191، 192، 197، 199، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 235،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 45، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 155، 156، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1077، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 651، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 97، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 118، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 405، 434، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 421، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 266، 267، 268، 269، 270، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16694»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 264 ترقیم الرسالہ : -- 269
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا سُفْيَانُ بِهَذَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو دو، دو مرتبہ دھویا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 269]
ترقیم العلمیہ: 264
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 185، 186، 191، 192، 197، 199، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 235،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 45، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 155، 156، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1077، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 651، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 97، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 118، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 405، 434، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 421، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 266، 267، 268، 269، 270، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16694»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 265 ترقیم الرسالہ : -- 270
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، بِالْمَدِينَةِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيَّ، أَتَى إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَدَعَا لَهُ بِتَوْرِ مَاءٍ، فَأَكْفَأَ التَّوْرَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، يُكْفِئُ التَّوْرَ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ فَغَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ثَلاثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ يَدٍ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ أَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ" .
عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عمرو بن ابوحسن مازنی، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ عمرو بن ابوحسن نے گزارش کی: کیا آپ ہمیں یہ کر کے دکھا سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ تو سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! پھر سیدنا عبداللہ نے پانی کا برتن منگوایا، انہوں نے اس برتن میں سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور دائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے برتن میں سے پانی اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کیے اور ایک چلو پانی لے کر اس کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر انہوں نے تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر ناک صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، ہر ایک بازو کو کہنیوں تک دھویا، پھر کچھ پانی لے کر اس کے ذریعے سر کا مسح کیا، وہ اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے، پھر پیچھے سے آگے کی طرف لائے، پھر انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 270]
ترقیم العلمیہ: 265
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 185، 186، 191، 192، 197، 199، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 235،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 45، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 155، 156، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1077، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 651، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 97، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 118، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 405، 434، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 421، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 266، 267، 268، 269، 270، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16694»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 266 ترقیم الرسالہ : -- 271
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوُضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْو وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ: هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلاةِ.
حمران بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک دن وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر انہوں نے وضو کیا، دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا اور پھر بائیں بازو کو بھی اسی طرح دھویا، پھر انہوں نے سر کا مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھویا اور پھر بائیں پاؤں کو بھی اس طرح دھویا، اور یہ بات بیان کی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے وضو کیا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ’جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر اٹھ کر دو نفل ادا کر لے، جن میں وہ اپنے خیالوں میں گم نہ رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دے گا۔‘ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: ہمارے علماء نے یہ بات بیان کی ہے: نماز کے لیے اچھی طرح وضو کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 271]
ترقیم العلمیہ: 266
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 226، 232، 245، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 83، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1489، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 360، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 84، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 106، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 31، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 285، 459، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 271، 283، 284، 285، 286، 287، 301، 302، 303، 304، 308، 367،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 35، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 515، 651، 755، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 407»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 267 ترقیم الرسالہ : -- 272
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَدَارَ الْمَاءَ عَلَى مِرْفَقَيْهِ" . ابْنُ عَقِيلٍ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو آپ اپنی کہنیوں تک پانی بہایا کرتے تھے۔ اس روایت کا راوی ابن عقیل مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 272]
ترقیم العلمیہ: 267
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 255، 256، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 272»
«قال ابن حجر: والقاسم متروك عند أبى حاتم وقال أبو زرعة منكر الحديث وكذا ضعفه أحمد وابن معين وانفرد ابن حبان بذكره فى الثقات، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:93/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 268 ترقیم الرسالہ : -- 273
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا أَبُو قِلابَةَ ، نا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّكَ خَاتَمَهُ" . مَعْمَرٌ وَأَبُوهُ ضَعِيفَانِ، وَلا يَصِحُّ هَذَا.
عبیداللہ نامی راوی نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو آپ (ہاتھ دھوتے ہوئے) اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔ اس روایت کا راوی معمر اور اس کا والد دونوں ضعیف ہیں اور یہ روایت مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 273]
ترقیم العلمیہ: 268
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 449، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 260، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 273، 311، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 956»
«قال ابن عدي: ولمعمر غير ما ذكرت ومنها الحديث ومقدار ما يرويه لا يتابع عليه، الكامل فى الضعفاء: 207/8»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 269 ترقیم الرسالہ : -- 274
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَمِّي ، نا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ:" هَلُمُّوا أَتَوَضَّأُ لَكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ حَتَّى مَسَّ أَطْرَافَ الْعَضُدَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَلِحْيَتِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ" .
حمران بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سنا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ آگے آئیں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق وضو کر کے آپ لوگوں کو دکھاؤں۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے کو دھویا، بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے کندھوں کے کناروں تک کو چھو لیا، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں ہاتھ کانوں اور داڑھی پر سے گزارے اور پھر دونوں پاؤں کو دھو لیا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 274]
ترقیم العلمیہ: 269
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 274»
«قال ابن حجر: إسناد حسن، فتح الباري شرح صحيح البخاري: 347/1»

الحكم على الحديث: إسناده حسن وأخرجه الدارقطني فى «سننه» برقم: 274] ¤[قال ابن حجر: إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں