سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. بَابُ التَّسْلِيمِ فِي الْجِنَازَةِ وَاحِدًا وَالتَّكْبِيرِ أَرْبَعًا وَخَمْسًا وَقِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ
باب نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا جائے گا ‘ چاریاپانچ تکبیریں کہی جائیں گی اور سورہ فاتحہ پڑھی جائے
ترقیم العلمیہ : 1793 ترقیم الرسالہ : -- 1817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَرِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَسَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں چار تکبیریں پڑھیں اور ایک سلام پھیرا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1817]
ترقیم العلمیہ: 1793
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1336، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1565، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7082، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1817، 1842، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11549، 11620، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4673»
«قال الحاکم: صحيح، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 18)»
«قال الحاکم: صحيح، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 18)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1794 ترقیم الرسالہ : -- 1818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ، وَيَحْيَى بْنُ زَيْدِ بْنِ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ ، قَالا: نا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، ثنا الْفُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَزَرِيُّ ، كَذَا قَالَ الْفَحَّامُ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ آخِرُ مَا كَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ عُمَرُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عُمَرَ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَلِيٍّ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحُسَيْنُ عَلَى الْحَسَنِ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَتِ الْمَلائِكَةُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَرْبَعًا" . إِنَّمَا هُوَ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری مرتبہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں اور فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں۔ اس روایت کا راوی فرات بن سائب متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1818]
ترقیم العلمیہ: 1794
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1428، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1504، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7049، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1818، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11661، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5474»
«قال الدارقطني: الفرات بن السائب متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 267)»
«قال الدارقطني: الفرات بن السائب متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 267)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1795 ترقیم الرسالہ : -- 1819
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ:" صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَقَرَأَ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ، أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ" .
طلحہ بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک نماز جنازہ پڑھائی، تو انہوں نے اس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی۔ میں نے اس سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے۔ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) مکمل سنت یہ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1819]
ترقیم العلمیہ: 1795
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1335، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3071، 3072، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1986، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3198، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1026، 1027، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1495، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1819، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 2864، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2661»
«قال الترمذي: صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 241)»
«قال الترمذي: صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 241)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1796 ترقیم الرسالہ : -- 1820
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نُغَسِّلُ الْمَيِّتَ فَمِنَّا مَنْ يَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لا يَغْتَسِلُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم میت کو غسل دیتے ہیں، تو ہم میں سے کوئی غسل کر لیتا ہے اور کوئی غسل نہیں کرتا (یعنی میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا لازم نہیں ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1820]
ترقیم العلمیہ: 1796
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1489، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1820، وقال ابن حجر: إسناده صحيح تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 132/2»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 1797 ترقیم الرسالہ : -- 1821
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ، ثنا إِسْحَاقُ الشَّهِيدِيُّ ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا" . وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ایوب بن نعمان بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے اس میں پانچ تکبیریں کہیں۔ راوی نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1821]
ترقیم العلمیہ: 1797
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 957،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3069، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1981، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3197، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1023، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1505، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7042، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1821، 1822، 1824، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19580»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1798 ترقیم الرسالہ : -- 1822
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَلَنْ نَدَعَهَا لأَحَدٍ" .
ایوب بن سعید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ تکبیریں کہی تھیں، اس لیے ہم کسی بھی شخص کی وجہ سے انہیں ترک نہیں کریں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1822]
ترقیم العلمیہ: 1798
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 957،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3069، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1981، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3197، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1023، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1505، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7042، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1821، 1822، 1824، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19580»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1799 ترقیم الرسالہ : -- 1823
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ سِتًّا، وَعَلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ خَمْسًا، وَعَلَى سَائِرِ النَّاسِ أَرْبَعًا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے اہل بدر پر چھ تکبیریں کہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پانچ تکبیریں کہی تھیں اور دیگر تمام لوگوں پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1823]
ترقیم العلمیہ: 1799
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7045، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1823، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11573، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2851»
ترقیم العلمیہ : 1800 ترقیم الرسالہ : -- 1824
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الشَّهِيدِيُّ ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نا لَيْثٌ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا، وَقَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَإِنِّي لا أَدَعُهَا لأَحَدٍ بَعْدَهُ" .
مرقع نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے اس میں پانچ مرتبہ تکبیر کہی، انہوں نے یہ بتایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ مرتبہ تکبیر کہی تھی، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی شخص کی وجہ سے انہیں ترک نہیں کروں گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1824]
ترقیم العلمیہ: 1800
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 957،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3069، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1981، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3197، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1023، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1505، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7042، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1821، 1822، 1824، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19580»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1801 ترقیم الرسالہ : -- 1825
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى مَوْلَى حُذَيْفَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ مَوْلايَ وَوَلِيِّ نِعْمَتِي الْعَبْدِ الصَّالِحِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَقَالَ:" مَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے آقا (سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ) جو ایک نیک آدمی ہیں، ان کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیر کہی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ: ”مجھے کوئی وہم لاحق نہیں ہوا، بلکہ میں نے اسی تکبیر ادا کی ہے، جیسے میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تکبیر کہی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1825]
ترقیم العلمیہ: 1801
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1825، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23930، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11570، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2828»
ترقیم العلمیہ : 1802 ترقیم الرسالہ : -- 1826
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَلَمَّا كَبَّرَ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى قَرَأَ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى أَسْمَعَ مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ: ثُمَّ تَابَعَ تَكْبِيرَهُ حَتَّى إِذَا بَقِيَتْ تَكْبِيرَةٌ وَاحِدَةٌ تَشَهَّدَ تَشَهُّدَ الصَّلاةِ، ثُمَّ كَبَّرَ وَانْصَرَفَ" .
عبید بن سباق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جنازہ پڑھائی۔ جب انہوں نے پہلی تکبیر کہی، تو اس کے بعد انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ ان کی آواز ان کے پیچھے موجود لوگوں تک آئی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے، یہاں تک کہ ایک تکبیر باقی رہ گئی، تو انہوں نے نماز کے تشہد کے الفاظ پڑھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور نماز کو ختم کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1826]
ترقیم العلمیہ: 1802
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7061، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1826، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11510، 11517»