سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب التسليم فى الجنازة واحدا والتكبير أربعا وخمسا وقراءة الفاتحة
باب نماز جنازہ میں ایک سلام پھیرا جائے گا ‘ چاریاپانچ تکبیریں کہی جائیں گی اور سورہ فاتحہ پڑھی جائے
ترقیم العلمیہ : 1801 ترقیم الرسالہ : -- 1825
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، نَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى مَوْلَى حُذَيْفَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ مَوْلايَ وَوَلِيِّ نِعْمَتِي الْعَبْدِ الصَّالِحِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَقَالَ:" مَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے آقا (سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ) جو ایک نیک آدمی ہیں، ان کی اقتداء میں ایک نماز جنازہ ادا کی، تو انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیر کہی، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ: ”مجھے کوئی وہم لاحق نہیں ہوا، بلکہ میں نے اسی تکبیر ادا کی ہے، جیسے میرے خلیل سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تکبیر کہی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1825]
ترقیم العلمیہ: 1801
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1825، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23930، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11570، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2828»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1825 in Urdu
عيسى البزاز ← حذيفة بن اليمان العبسي