Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ وُجُوبِ زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالْمَاشِيَةِ وَالثِّمَارِ وَالْحُبُوبِ
باب سونے ‘ چاندی ‘ جانور ‘ پھلوں ‘ اناج میں زکوۃ کی فرضیت
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1873 ترقیم الرسالہ : -- 1896
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى . ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا نِصْفَ دِينَارٍ، وَمِنَ الأَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا" .
عبداللہ بن واقد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیس دینار میں سے نصف دینار اور ہر چالیس دینار میں سے ایک دینار (یعنی اڑھائی فیصد زکوٰۃ) وصول کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1896]
ترقیم العلمیہ: 1873
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحيح، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1791، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1897،»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، (ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 813)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1874 ترقیم الرسالہ : -- 1897
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةِ دِرْهَمٍ زَكَاةٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِذَا تَمَّتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَإِذَا زَادَتْ فَعَلَى نَحْوِ ذَلِكَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ١٩٠ درہم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو وہ کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)، جب وہ پورے ٢٠٠ ہو جائیں گے، تو ان میں سے ٥ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اس سے زیادہ ہوں گے، پھر اسی حساب سے ادائیگی لازم ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1897]
ترقیم العلمیہ: 1874
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2262، 2270، 2284، 2297، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2476، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1572، بدون ترقيم، 1574، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 620، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1669، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1790، 1813، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1898، 1899، 1892،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 54، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 299»
«قال الدارقطني: الصواب وقفه على علي رضي الله عنه البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 554)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1875 ترقیم الرسالہ : -- 1898
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَاتِبُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو يَعْقُوبَ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ شَيْءٌ فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہر چالیس درہموں میں سے دسویں حصے کا چوتھائی حصہ (یعنی اڑھائی فیصد) وصول کرو، ٢٠٠ سے کم (درہموں میں) کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، جب وہ ٢٠٠ ہو جائیں گے، تو ان میں پانچ درہموں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اس سے زیادہ ہوں گے، تو ادائیگی اسی حساب سے لازم ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1898]
ترقیم العلمیہ: 1875
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2262، 2270، 2284، 2297، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2476، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1572، بدون ترقيم، 1574، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 620، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1669، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1790، 1813، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1898، 1899، 1892،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 54، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 299»
«قال الدارقطني: الصواب وقفه على علي رضي الله عنه البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 554)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1876 ترقیم الرسالہ : -- 1899
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ، وَلا يَحِلُّ فِي الإِبِلِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گندم اور کھجور میں زکوٰۃ اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ پانچ وسق کی مقدار تک نہ پہنچ جائیں اور چاندی میں زکوٰۃ اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک پانچ اوقیہ نہ ہو جائے اور اونٹوں میں زکوٰۃ اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1899]
ترقیم العلمیہ: 1876
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1405، 1447، 1459، 1484، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 979،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 832، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3268، 3275، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2444، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1558، 1559، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 626، 627، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1673، 1674، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1793، 1799، 1832، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1900، 1906، 1923، 1925، 1926، 2030، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11187»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1877 ترقیم الرسالہ : -- 1900
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ اونٹوں سے کم پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1900]
ترقیم العلمیہ: 1877
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1405، 1447، 1459، 1484، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 979،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 832، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3268، 3275، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2444، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1558، 1559، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 626، 627، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1673، 1674، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1793، 1799، 1832، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1900، 1906، 1923، 1925، 1926، 2030، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11187»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1878 ترقیم الرسالہ : -- 1901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1901]
ترقیم العلمیہ: 1878
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 980، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2298، 2299، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1457، 1464، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1794، 1833، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1902، 1907، 1923، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14379، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 1808»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1879 ترقیم الرسالہ : -- 1902
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ شَيْءٌ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْءٌ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالا مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَيْءٌ، وَالْعُشْرُ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَمَا سُقِيَ سَيْحًا فَفِيهِ الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد، اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: پانچ سے کم اونٹوں میں (زکوٰۃ کی) ادائیگی لازم نہیں ہوتی، چالیس سے کم بکریوں میں لازم نہیں ہوتی، تیس سے کم گائے میں ادائیگی لازم نہیں ہوتی، بیس مثقال سے کم سونے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، دو سو درہم سے کم (چاندی) میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، پانچ وسق سے کم (اناج میں) کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، جبکہ عشر کھجور، انگور، گندم، جو میں سے وصول کیا جائے گا، جس کو قدرتی طریقے سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی اور جس کو ڈول کے ذریعے (مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا ہے، اس میں عشر کے نصف حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1902]
ترقیم العلمیہ: 1879
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1903، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9953، 9996، 10104، 10116، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 891، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10173»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 335)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں