🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. مَا جَاءَ فِي الْإِحْرَامِ
باب: حالت احرام کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2436 ترقیم الرسالہ : -- 2468
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے اور جس شخص کو تہبند نہ ملے، وہ شلوار پہن لے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2468]
ترقیم العلمیہ: 2436
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1179، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9159، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2467، 2468، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14689»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2437 ترقیم الرسالہ : -- 2469
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالُوا: نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" . وَقَالَ الْعَبَّاسُ: الْمُحْرِمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ لَبِسَ الْخُفَّيْنِ، وَيَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ. قَالَ: وَقَالَ عَمْرٌو: انْظُرُوا أَيُّهُمَا كَانَ قَبْلُ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے، البتہ ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ عباس نامی راوی بیان کرتے ہیں: محرم کو اگر جوتے نہ ملیں، تو وہ موزے پہن لے، البتہ وہ ان دونوں کو اس طرح کاٹ لے کہ وہ دونوں ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ عمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: تم اس بات کا جائزہ لو کہ کون سی روایت پہلے ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث یا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2469]
ترقیم العلمیہ: 2437
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 134، 366، 1542، 1838، 1842، 5794، 5802، 5805، 5806، 5847، 5852، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1177،، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 660، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2597، 2598، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3761، 3782، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1823، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2929، 2930، 2932،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2469، 2472، 2473، 2478، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4540»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2438 ترقیم الرسالہ : -- 2470
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے اور جس شخص کو تہبند نہ ملے، وہ شلوار پہن لے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2470]
ترقیم العلمیہ: 2438
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1740، 1841، 1843، 5804، 5853، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1178، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2681، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3781، 3782، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2673، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1829، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 834، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2931، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 474،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2464، 2465، 2466، 2470، 2471، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1873»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2439 ترقیم الرسالہ : -- 2471
نا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نا الْفِرْيَابِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِزَارٌ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَعْلانِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ" . سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَجُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ: مَاذَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَبْلَ الإِحْرَامِ بِالْمَدِينَةِ. وَحَدِيثُ شُعْبَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ هَذَا بَعْدَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس تہبند نہ ہو، وہ شلوار پہن لے اور جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن لے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مسجد میں بلند آواز میں دریافت کیا: حالت احرام والا شخص کون سے کپڑوں کو ترک کرے؟ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ بات احرام باندھنے سے قبل مدینہ منورہ کی ہے۔ جبکہ دیگر راویوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے وہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنی تھی، لہٰذا یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث کے بعد کی ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2471]
ترقیم العلمیہ: 2439
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1740، 1841، 1843، 5804، 5853، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1178، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2681، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3781، 3782، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2673، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1829، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 834، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2931، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 474،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2464، 2465، 2466، 2470، 2471، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1873»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2440 ترقیم الرسالہ : -- 2472
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے، البتہ وہ انہیں ٹخنوں تک نیچے سے کاٹ لے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2472]
ترقیم العلمیہ: 2440
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 134، 366، 1542، 1838، 1842، 5794، 5802، 5805، 5806، 5847، 5852، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1177،، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 660، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2597، 2598، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3761، 3782، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1823، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2929، 2930، 2932،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2469، 2472، 2473، 2478، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4540»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2441 ترقیم الرسالہ : -- 2473
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ:" لا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ، وَلا الْعِمَامَةَ، وَلا السَّرَاوِيلَ، وَلا الْبُرْنُسَ، وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ، وَلا الزَّعْفَرَانُ، وَلا الْخُفَّيْنِ، إِلا لِمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ" . وَقَالَ يُوسُفُ: حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: حالت احرام والا شخص کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قمیص نہیں پہنے گا، عمامہ نہیں پہنے گا، شلوار نہیں پہنے گا، ٹوپی نہیں پہنے گا اور ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر ورس یا زعفران لگا ہوا ہے، وہ موزے نہیں پہنے گا، البتہ اسے اگر جوتے نہ ملیں، تو حکم مختلف ہے، جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن سکتا ہے، البتہ وہ ان دونوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ یوسف نامی راوی یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: ”انہیں کاٹ لے کہ وہ ٹخنوں کے نیچے تک ہو جائیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2473]
ترقیم العلمیہ: 2441
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 134، 366، 1542، 1838، 1842، 5794، 5802، 5805، 5806، 5847، 5852، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1177،، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 660، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2597، 2598، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3761، 3782، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1823، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2929، 2930، 2932،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2469، 2472، 2473، 2478، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4540»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2442 ترقیم الرسالہ : -- 2474
نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعْرَانَةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ إِلَى عُمَرَ أَنْ تَعَالَ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ، فَأَتَى رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ؟، إِذْ أنزل عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ كَذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا؟"، فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ، فَقَالَ:" أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا، وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا" قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ: ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا، غَيْرُ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ، وَلا أَحْسَبُهُ مَحْفُوظًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھوں، جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو، ایک مرتبہ جب ہم ”جعرانہ“ میں موجود تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، آپ ایک خیمے میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا: تم آگے آ جاؤ، میں نے اپنا سر اس خیمے میں داخل کیا، ایک شخص آیا، جس نے جبہ پہن کر عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرمائیں، جس نے حیے میں حرام کی نیت کر لی ہو۔“ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خراٹے لینا شروع کیا، اس کے بعد آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ نے دریافت کیا: ”وہ شخص کہاں ہے، جس نے ابھی مجھ سے سوال کیا تھا؟“ اس شخص کو لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک حیے کا تعلق ہے، تو اسے اتار دو اور جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے، تو اسے دھو لو اور پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے یہ بات بیان کی ہے: میرے علم کے مطابق کسی بھی شخص نے یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دوبارہ احرام باندھنے کی ہدایت کی، صرف نوح بن حبیب نامی راوی نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ الفاظ درست نہیں ہیں، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2474]
ترقیم العلمیہ: 2442
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1536، 1789، 1847، 4329، 4985، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1180،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1819، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 835، 836، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9189، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2474، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18231»
«قال ابن عبدالبر: لا خلاف بين أهل العلم بالحديث أنه حديث ثابت صحيح، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (2 / 249)»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2443 ترقیم الرسالہ : -- 2475
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْغُرَابَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حالت احرام والا شخص چوہے، بچھو، پاگل کتے اور کوے کو مار سکتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2475]
ترقیم العلمیہ: 2443
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1829، 3314، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1198،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2669، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5632، 5633، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 837، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1858، 1859، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2475، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24686»
«قال الدارقطني: وهو الصواب متصلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (15 / 27)»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2444 ترقیم الرسالہ : -- 2476
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ وَبَرَةَ ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الذِّئْبَ، وَالْغُرَابَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْفَأْرَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حالت احرام والا شخص بھیڑیے، کوے، چیل اور چوہے کو مار سکتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2476]
ترقیم العلمیہ: 2444
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1826، 1827، 1828، 3315، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1199، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3961، 3962، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1846، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1857، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3088، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 736، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2476، 2477، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4547»
«قال ابن حجر: إسناد ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 523)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2445 ترقیم الرسالہ : -- 2477
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2477]
ترقیم العلمیہ: 2445
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1826، 1827، 1828، 3315، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1199، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3961، 3962، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1846، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1857، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3088، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 736، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2476، 2477، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4547»
«قال ابن حجر: إسناد ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 523)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں