🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2991 ترقیم الرسالہ : -- 3024
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَصْنَعُ الطَّعَامَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ هَذَا يَوْمًا وَهَذَا يَوْمًا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي، قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرَكَ طَعَامُنَا، قَالَ: فَقَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الأُخْرَى، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى السَّاقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ، قَالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، هَذِهِ أَوْبَاشُ قُرَيْشٍ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا، ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا، قَالَ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَمْ يُشْرِفْ لَهُمْ أَحَدٌ إِلا أَنَامُوهُ، قَالَ: وَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَيْهِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ فَلا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ"، قَالَ: فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، كَلا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ" .
عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں: ہم ایک وفد کی شکل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم میں سے کوئی ایک شخص کھانا تیار کرتا تھا، پھر اپنے ساتھیوں کی دعوت کرتا تھا، ایک دن ایک شخص یہ کام کرتا، دوسرے دن دوسرا کر لیتا، جب میری باری آئی، میں نے کہا: اے ابوہریرہ! آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنانی ہے، جب تک کھانا نہیں آتا؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لشکر کے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے دونوں حصوں میں ایک کا امیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو مقرر کیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دوسرے حصے کا مقرر کیا، لشکر کے پیچھے والے حصے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو وادی کے نشیبی حصے میں تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! انصار کو میرے پاس بلاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں بلایا، تو وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار! یہ قریش کے اوباش لوگ کل جب تمہارے سامنے آئیں، تو تم انہیں پیس دینا ہے، ہماری تمہاری ملاقات صفا (پہاڑی) پر ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، اگلے دن جس شخص نے مقابلے کے لیے آنے کی کوشش کی، انہوں نے اسے مار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا (پہاڑی) پر تشریف لے آئے اور اس پر کھڑے ہوئے، ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر قریش کو اسی طرح مارا جاتا رہا، تو آج کے بعد قریش (کا نام و نشان) نہیں رہے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا، اسے امان ہے، جو شخص اپنا ہتھیار ڈال دے گا، اسے بھی امان ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصار نے یہ کہا: اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے، اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں وحی نازل کی گئی، آپ نے ارشاد فرمایا: اے انصار! تم نے یہ کہا ہے: اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہو گئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہو گیا ہے، یاد رکھنا! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں یہ بات کہی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3024]
ترقیم العلمیہ: 2991
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1780،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2758،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4760، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2341، 2898، والنسائى فى ((الكبریٰ)) برقم: 11234، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1871، 1872، 3024، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3023، 3024، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8037»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2992 ترقیم الرسالہ : -- 3025
ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ سُرَّقٍ ، قَالَ:" كَانَ لِرَجُلٍ مَالٌ عَلَيَّ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ دَيْنٌ، فَذَهَبَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصِبْ لِي مَالا، فَبَاعَنِي مِنْهُ، أَوْ بَاعَنِي لَهُ" ، خَالَفَهُ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
سراقہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی شخص کا کچھ مال دینا تھا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: کسی شخص کا قرض دینا تھا)، وہ شخص مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میرا جو بھی مال تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس شخص کو (ادائیگی) کے لیے فروخت کر دیا۔ زید بن اسلم کے دونوں بیٹوں نے اسے نقل کرنے میں مختلف بات نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3025]
ترقیم العلمیہ: 2992
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7154، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11392، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3025، 3027، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 6149»
«قال البيهقي: ومدار حديث سرق على هؤلاء وكلهم ليسوا بأقوياء عبد الرحمن بن عبد الله وابنا زيد وإن كان الحديث عن زيد عن ابن البيلماني فابن البيلماني ضعيف في الحديث وفي إجماع العلماء على خلافه وهم لا يجمعون على ترك رواية ثابتة دليل على ضعفه أو نسخه إن كان ثابتا، سنن البيهقي الكبرى: (6 / 50) برقم: (11392)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2993 ترقیم الرسالہ : -- 3026
ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعَ رَجُلا يُنَادِي آخَرَ، يَقُولُ: يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا سُرَّقٌ؟ فَقَالَ: سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ يَطْلُبُنِي، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدِي عَلَيْهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ:" اطْلُبْهُ"، قَالَ: فَوَجَدَنِي فَأَتَى بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي، فَقَالَ:" أَعْطِهِ ثَمَنَهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَهْلَكْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَنْتَ سُرَّقٌ"، ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ:" اذْهَبْ فَبِعْهُ فِي السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ"، فَأَقَامَنِي فِي السُّوقِ فَأَعْطَى فِيَّ ثَمَنًا، فَقَالَ لِلْمُشْتَرِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: أُعْتِقُهُ، فَأَعْتَقَنِي الأَعْرَابِيُّ .
زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، انہوں نے کسی شخص کو سنا، جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا: اے سراق، اے سراق! تو زید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا: سراق سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے، میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا، میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کر دیا، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تھا، تو لوگوں نے اس سے کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤ۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے تلاش کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! یہ وہ شخص ہے، جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قیمت ادا کرو۔ تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ تو مجھ سے ضائع ہو گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سراق ہو! پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا: تم جاؤ، اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو۔ تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا، میری جو قیمت لگائی گئی، تو اس نے خریدار سے دریافت کیا: تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے بتایا: میں اسے آزاد کر دوں گا۔ تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3026]
ترقیم العلمیہ: 2993
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2343، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3026، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1875»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2994 ترقیم الرسالہ : -- 3027
ثنا عَلِيٌّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا زيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا، يُقَالُ لَهُ: سُرَّقٌ ، فَقُلْتُ:" مَا هَذَا الاسْمُ؟، فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ، قُلْتُ: لِمَ سَمَّاكَ؟، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدُمُ فَبَايَعُونِي فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" أَنْتَ سُرَّقٌ، وَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: أُعْتِقُهُ، قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ مِنْكَ فِي الأَجْرِ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي" .
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا، جن کا نام سراق تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کیا نام ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: میرا یہ نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، میں اسے ترک نہیں کروں گا، میں نے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ تو انہوں نے بتایا: میں مدینہ منورہ آیا اور میں نے لوگوں کو بتایا کہ میرا مال آ رہا ہے، ان لوگوں نے میرے ساتھ کچھ سودے کیے، میں نے انہیں ادائیگیاں کرنی تھیں، وہ مال مجھ سے ضائع ہو گیا، وہ لوگ مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے فرمایا: تم سراق ہو! پھر آپ نے مجھے چار اونٹنیوں کے عوض میں فروخت کروا دیا، ان قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے دریافت کیا: تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے بتایا: میں اسے آزاد کر دوں گا۔ تو ان لوگوں نے کہا: ہمیں بھی اجر کی اتنی ضرورت ہے، جتنی تمہیں ہے۔ تو ان لوگوں نے مل کر مجھے آزاد کر دیا، لیکن میرا یہ نام باقی رہ گیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3027]
ترقیم العلمیہ: 2994
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7154، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11392، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3025، 3027، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 6149»
«قال ابن عدي: عبد الرحمن بن عبد الله بعض ما يرويه منكر مما لا يتابع عليه وهو في جملة من يكتب حديثه من الضعفاء، الكامل في الضعفاء: (5 / 485)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2995 ترقیم الرسالہ : -- 3028
ثنا الْقَاسِمُ ، وَالْحُسَيْنُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيِّ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، نَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قِيلَ: أَيْنَ تَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مَنْزِلِكُمْ؟، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا، لا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے عرض کی گئی: یا رسول اللہ! آپ کہاں پڑاؤ کریں گے، کیا اپنے گھر میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل (بن ابوطالب) نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ (کیونکہ) کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بنتا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3028]
ترقیم العلمیہ: 2995
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1351، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2985، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2962، 4200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4241،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2107، 2107 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2729، 2730، 2942،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3028، 3029، 3030، 3031، 4065، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 551،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22161»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2996 ترقیم الرسالہ : -- 3029
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَخْرَمِيُّ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا: نَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مِيرَاثٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کل آپ کہاں پڑاؤ کریں گے؟ اگر اللہ نے چاہا (راوی بیان کرتے ہیں: یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے وراثت میں ہمارے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3029]
ترقیم العلمیہ: 2996
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1351، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2985، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2962، 4200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4241،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2107، 2107 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2729، 2730، 2942،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3028، 3029، 3030، 3031، 4065، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 551،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22161»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2997 ترقیم الرسالہ : -- 3030
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَتَنْزِلُ دَارَكَ بِمَكَّةَ؟، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟" ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا، لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرِينَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:" وَكَانُوا فِي ذَلِكَ يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا سورة الأنفال آية 74 إِلَى قَوْلِهِ: مِنْ وَلايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنفال آية 72".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام کریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا جگہ چھوڑی ہے؟ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ وہ اور طالب دونوں (ابوطالب کے وارث ہوئے تھے) جبکہ سیدنا علی اور سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہما ان کے وارث نہیں ہوئے تھے کیونکہ یہ دونوں حضرات مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اہل علم اللہ کے اس فرمان سے یہ مراد لیتے ہیں: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا۔ یہ آیت یہاں تک ہے: ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3030]
ترقیم العلمیہ: 2997
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1351، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2985، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2962، 4200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4241،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2107، 2107 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2729، 2730، 2942،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3028، 3029، 3030، 3031، 4065، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 551،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22161»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2998 ترقیم الرسالہ : -- 3031
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ وَزَادَ، ثم قال: " نَحْنُ نَازِلُونَ خَيْفَ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ" .
یہی روایت زہری سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ہم خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے، جہاں قریش نے کفر پر ثابت قدم رہنے کی قسم اٹھائی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3031]
ترقیم العلمیہ: 2998
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1351، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1026، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2985، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5149، 6033، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2962، 4200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4241،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2107، 2107 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2729، 2730، 2942،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3028، 3029، 3030، 3031، 4065، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 551،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22161»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں