🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3806 ترقیم الرسالہ : -- 3867
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نَا مُعَلَّى، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، نَا مُغِيرَةُ، حَدَّثَنِي قُثَمُ مَوْلَى عَبَّاسٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ابْنَةَ عَلِيٍّ، وَامْرَأَةَ عَلِيٍّ النَّهْشَلِيَّةَ" .
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کے ساتھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک اہلیہ، جو نہشل قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں، کے ساتھ شادی کر لی تھی (یعنی انہوں نے ایک لڑکی اور اس کی سوتیلی ماں کے ساتھ شادی کی تھی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3867]
ترقیم العلمیہ: 3806
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1010، 1011، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14063، 14064، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3867، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13965، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16671»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3807 ترقیم الرسالہ : -- 3868
نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدٌ، نَا مُعَلَّى، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ،" أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يُقَالُ لَهُ: جَبَلَةُ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ، وَابْنَةٍ مِنْ غَيْرِهَا" ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَكْرَهُهُ.
محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں: مصر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی، جن کا نام حبلہ تھا، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور اس شخص کی دوسری بیوی سے بیٹی کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ ایوب نامی راوی بیان کرتے ہیں: حسن بصری نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3868]
ترقیم العلمیہ: 3807
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3868، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3808 ترقیم الرسالہ : -- 3869
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نَا أَبُو حُذَيْفَةَ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" الْخُلْعُ فُرْقَةٌ، وَلَيْسَ بِطَلاقٍ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: خلع علیحدگی ہوتا ہے، یہ طلاق نہیں ہوتا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3869]
ترقیم العلمیہ: 3808
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3869، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18766، 19566»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3809 ترقیم الرسالہ : -- 3870
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ بَعْدَ تَطْلِيقَتَيْنِ وَخُلْعٍ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے دوسرے سے میاں بیوی کو اکٹھا کر دیا تھا، جن کے درمیان پہلے دو طلاقیں اور خلع ہو چکا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3870]
ترقیم العلمیہ: 3809
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1453، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3870»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3810 ترقیم الرسالہ : -- 3871
نَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَشْكُو زَوْجَهَا، فَقَالَ: رُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَتْ: نَعَمْ وَزِيَادَةً، قَالَ: أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلا" ، خَالَفَهُ الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَسْنَدَهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ. وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
عطاء بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے اپنے شوہر کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا باغ اسے واپس کر دو (جو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا، اور خلع حاصل کر لو)۔ وہ عورت بولی: ٹھیک ہے، میں اس کے ساتھ مزید بھی دوں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزید (ادائیگی) کی ضرورت نہیں ہے۔ ولید نے ابن جریح کے حوالے سے مختلف سند نقل کی ہے، انہوں نے اسے عطاء کے حوالے سے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے، تاہم اس کا مرسل ہونا درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3871]
ترقیم العلمیہ: 3810
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1428، 1435، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14961، 14962، 14963، 14964، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3630، 3871، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11840، 11842، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18829، 18836، وأبو داود فى "المراسيل"، 235، 237، 238»
«قال الدارقطني: أسنده الوليد عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس والمرسل أصح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 244)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3811 ترقیم الرسالہ : -- 3872
نَا نَا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُمْهَانَ مَوْلَى الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أُمِّ بَكْرَةَ الأَسْلَمِيَّةِ ،" أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ هِيَ تَطْلِيقَةٌ، إِلا أَنْ يَكُونَا سَمَّيَا شَيْئًا فَهُوَ عَلَى مَا سَمَّيَاهُ" .
جمہان بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدہ ام بکرہ اسلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے خلع حاصل کر لیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایک طلاق شمار ہو گی، البتہ اگر ان دونوں نے کچھ اور طے کر لیا ہو، تو وہ ان کے طے کیے ہوئے مطابق (شمار ہو گا)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3872]
ترقیم العلمیہ: 3811
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1446، 1447، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14976، 14981، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3872، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11760، 11811، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18743، 18744، 18745، 18763»
«قال أحمد بن حنبل: ضعفه بجمهان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 415)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3812 ترقیم الرسالہ : -- 3873
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ" فِي الْمُخْتَلِعَةِ: يَخْتَلِعُ بِمَا دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلع حاصل کرنے والی عورت اپنے پرندے سے کم قیمت والی چیز کے عوض میں بھی خلع حاصل کر سکتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3873]
ترقیم العلمیہ: 3812
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1432، 1438، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14968، 14969، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3873، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11851، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18741، 18843، 18844»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں